| سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
حکمران اتحاد میں شامل دو بڑے پارٹنرز پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کی اعلی قیادت ان ممکنہ سیاسی منظر ناموں کے حوالے سے مکمل تاریکی میں ہے جو انتخابات کے بعد کے منظر میں چھائی ہوئی گہری بے یقینی کسی نہ کسی طرح چھٹنے پر سامنے آسکتی ہے۔ دونوں جماعتو ں کے اہم رہنماﺅں سے پس پردہ طویل بات چیت کے بعد ظاہر یہ ہوا ہے کہ آصف زرداری اور ان کے ایک یا دو غیر منتخب ساتھیوں کے سوا کسی کو بھی یہ معلوم نہیں ہے کہ سیاسی صورتحال کس جانب کا رخ کریگی، رائے ونڈ میں جاتی عمرہ سے سرگرم (ن) لیگ کی اعلی ترین قیادت حقیقی طور پر یہ محسوس اور اس کا شکوہ بھی کرتی ہے کہ آصف زرداری نے انہیں نہ صرف اپنے مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے بلکہ یوسف رضا گیلانی کی ”خیال کی جانے والی“ اتحادی حکومت کے زریعے کئے جانے والے بڑے انتظامی اور حکومتی فیصلوں بے خبر رکھا ہے۔
زرداری ہاﺅس میں بھی پیپلز پارٹی کی قیادت یکساں طور پر اندھیرے میں ہے کیونکہ زرداری کی طرف سے پیپلز پارٹی کے اعلی عہدیداروں میں سے کسی کو بھی اعتماد میں نہیں لیا جاتا اور اس کی بڑی وجہ اُس قیادت کے ساتھ بھروسے کی کمی ہے جو بےنظیر بھٹو کے قتل سے قبل زرداری نہیں بلکہ بےنظیر سے قریب تھی۔ وہ لوگ جو زرداری کے قریب تھے تمام جلاوطن تھے یا ان کے ذاتی دوست اور ان میں سے زیادہ تر غیر منتخب ہیں اور اہم عہدوں پر مسلط کئے گئے ہیں لہذا وہ اپنے باس کو جوابدہ ہیں اور جمہوری ڈھانچے میں حفظ مراتب کی کم ہی پرواہ کرتے ہیں۔ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو ضرورت پڑنے پر زرداری بریف کرتے ہیں اور تمام اہم احکامات نیا بادشاہ اہم عہدوں کو کنٹرول کرنے والے اپنے ”بندوں“ کے ذریعے جاری کرتا ہے جو وزیر اعظم کے ماتحت ہیں جبکہ وزیر اعظم سے اکثر صرف دستخط کرنے کے لئے ہی کہا جاتا ہے۔ غیر یقینی پر مبنی وہ بڑے معاملات جو منظر پر چھائے ہوئے ہیں یہ ہیں: کیا صدر پرویز مشرف کا مواخذہ ہوگا اور کب؟ معزول ججز بحال ہوں گے، کب اور کیسے؟ صدر کا مواخذہ ہوا تو کیا ہوگا اور مشرف کے بعد کی صورتحال سے اتحادی کس طرح نمٹیں گے؟ آئندہ صدر کون ہوگا اور کیا وہ اتفاق رائے سے منتخب ہوگا؟ کیا آئندہ صدر کے پاس پرویز مشرف جیسے ہی اختیارات ہوں گے؟ کیا تمام پی سی او ججز برقرار رہیں گے اور اگر نہیں تو کتنے اپنے فارغ ہوں گے؟ اگر پیپلز پارٹی نے ججوں کو بحال کرنے سے انکار کر دیا تو کیا ہوگا اور ن لیگ کس طرح کا ردعمل ظاہر کریگی؟ اگر نواز لیگ نے اتحاد توڑ کر اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کر لیا تو کیا ہوگا؟ کیا پیپلز پارٹی مشرف کی باقیات کے ساتھ، جس میں ق لیگ شامل ہے، اتحاد تشکیل دے گی اور اس نئے اتحاد کا پیپلز پارٹی کی سیاست پر کیا اثر پڑے گا؟ کیا مرکزی جماعتیں 90ءکی دہائی کی سیاست کی جانب لوٹ جائیں گی اور اس عمل میں ایک دوسرے کو تباہ کردیں گی اور کیا انہوں نے سیاسی اختلافات کے ہوتے ہوئے جیو اور جینے دو کا کوئی سبق سیکھا ہے؟ زرداری کے پارٹی اور حکومتی معاملات سے نمٹنے کے انوکھے انداز کی وجہ سے اگر پیپلز پارٹی ٹوٹ گئی تو کیا ہوگا؟ کیا پہلے صدر کا مواخذہ کرنے کا خیال اچھا ہوگا یا مواخذے سے قبل ججوں کو بحال کیا جائے؟ صدر یا اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے سیاسی نظام پر پلٹ کر حملہ کئے جانے سے قبل کتنے عرصے تک یہ بنیادی مسائل حل طلب رہ سکتے ہیں؟ ایک ایسی صورتحال میں کہ جب ان نامطلوب سوالات کی ایک طویل فہرست قابل بھروسہ جوابات کے انتظار میں ہے تو دیگر بڑے مسائل جن کا سینیٹ اور حکومت کو سامنا ہے انہیں چھوا نہیں گیا ہے اور ان میں سے کچھ اہم مسائل پر بے عملی کے نتیجے میں نہ صرف سیاسی نظام کی بساط لپیٹی جا سکتی ہے بلکہ اس سے قومی سلامتی اور یکجہتی بھی تباہ ہو سکتی ہے۔ اہم ترین مسائل یہ ہیں۔ صوبہ سرحد کے قبائلی علاقوں اور بندوبستی علاقوں حتی کہ پنجاب کے بھی کچھ حصوں میں تیزی اور خاموشی سے بڑھتی ہوئی طالبانیت کی نگرانی کون کر رہا ہے، کیونکہ معاملات کو ایک مرتبہ پھر فوج کے ہاتھ میں دے دینے سے کام نہیں چلے گا، فوج 8 سال تک تنہا اس سے نمٹتی رہی ہے اور ناکام ہوچکی ہے۔ طالبان کے نظریے اور پیغام کے خلاف مذہبی اور نظریاتی جوابی حملہ کہاں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ طالبان ایک خاص قسم کے اسلام کو آگے بڑھا رہے ہیں جبکہ ملک میں مسلمانوں کی عظیم اکثریت اس خاص برانڈ سے اتفاق نہیں رکھتی لیکن وہ خاموش تماشائی ہیں کیونکہ کسی نے نظریاتی سطح پر انہیں متحرک کرنے اور طالبان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اگر ہمارے اپنے طالبان کے خلاف فوجی اقدام ناکام ہو جاتا ہے اور خود کش حملوں کا ایک اور دور ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے تو ہماری سیاسی حکمت عملی کیا ہوگی؟ ملک کے اندرونی معاملات میں غیر ملکی مداخلت خصوصاً بڑھتی ہوئی امریکی دھمکیوں اور حملوں، اور جس کا موزوں طور پر مظاہرہ صدر حامد کرزئی کے نام سے کابل میں بیٹھے ہوئے کٹھ پتلی کی دھمکی سے ہوتا ہے، کے خلاف سیاسی اتفاق رائے کہاں ہے؟ گرتی ہوئی معاشی صورتحال جس کے ساتھ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمت تباہ کن عمل انگیزی کا کام کر رہی ہے اور ملک کی اسٹاک مارکیٹ کے کچھ مالیاتی ادارے جو پیپلز پارٹی کی اعلی شخصیت سے ڈیل کر چکے ہیں، کے اثر و رسوخ کے خلاف مشترکہ سیاسی اقدامات کہاں ہیں؟َ ان کے علاوہ بھی کئی مسائل ہیں لیکن مندرجہ بالا مسائل کسی بھی مضبوط اتحادی حکومت کو ہلانے اور جڑ سے اکھاڑنے کے لئے کافی ہیں لیکن ہمارے معاملے میں رہنما صورتحال سے تقریباً لاتعلق ہیں اور انہوں نے خود کو ان مسائل میں پھنسا لیا ہے جن کو وہ محض چند روز کے اندر تیزی اور آسانی سے حل کر سکتے تھے تاکہ بڑے سیاسی فیصلوں اور اقدامات کےلئے راستہ صاف ہو جاتا لیکن ان تمام مسائل، سوالات اور خطرات پر ہمارا جواب سادہ ساہے جو حقیقیت میں صرف ایک ہے، زرداری۔ ان کی صلاحیت اور زیرکی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ اعتماد کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ وہ ان میں سے زیادہ تر نازک محاذوں پر ناکام ہو جائیں گے۔ اس کا دیگر سیاسی جماعتوں اور ان کے اتحادی پارٹنر کےلئے کیا مطلب ہوگا یہ کسی کو نہیں معلوم لیکن نواز لیگ کی قیادت سخت پریشان ہے کہ اگر وہ ناکام ہوئے تو وہ پورے نظام کو اپنے ساتھ لے ڈوبیں گے۔ لہذا رائے ونڈ میں خوف اور تشویش کا گہرا احساس ہے کہ ایک طرف تو زرداری کو اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہیئے کہ وہ ناکام ہوں اور دوسری طرف انہیں کسی نہ کسی طرح یہ بات یقینی بنانا ہوگی کہ وہ مشکل صورتحال سے کامیابی سے نمٹیں اور معمولی کھیل کھیلنا بند کریں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں نواز لیگ کی قیادت کو بھی کچھ معلوم نہیں، کیونکہ پیپلز پارٹی کے رہنما انہیں ایک سے زائد مرتبہ ڈس چکے ہیں اور انہیں یہ نہیں معلوم کہ وہ خود کو ٹھنڈا رکھتے ہوئے کب تک صبر کے ساتھ ان کی صلاحیت کو آزماتے رہیں، رائے ونڈ کو ایک واضح پیغام بھی مل چکا ہے اور بلاشبہ کسی وضاحت کے بغیر کہ زرداری چاہتے ہیں کہ اب مشرف کے مواخذے کے عمل کو تیز کیا جائے اور ن لیگ کے رہنماوں پر یہ واضح نہیں ہے کہ وہ اس سے کس طرح نمٹیں کیونکہ انہیں پورے منصوبے کے بارے میں بریف نہیں کیا گیا ہے اور ان سے کسی نے یہ مشاورت نہیں کی کہ مواخذہ مکمل ہونے کے بعد کیا ہوگا۔ نواز لیگ کی اعلی قیادت کی جانب سے ایک ممکنہ راستہ جس پر غور کیا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ کسی تفصیل کی غیر موجودگی میں کیا رائے ونڈ کے لئے یہ عملی طور پر ممکن ہوگا کہ مواخذے کو جیسے کو تیسا کی بنیاد پر ججوں کی بحالی کے عمل سے منسلک کر دیا جائے لیکن کسی کو بھی یہ یقین نہیں ہے کہ اس سمت میں کوئی اقدام اچھا خیال ہے یا برا۔ درحقیقت پیپلز پارٹی کی پوری اعلی قیادت اور وفاقی حکومت ان اعلی سطح کے سیاسی معاملات سے آگاہ نہیں کیونکہ زرداری ہاﺅس کے خیال میں یہ مسخرے ہیں جن کا کام احکامات پر عمل کرنا ہے لیکن ن لیگ کی قیادت میں سے کچھ جو خطرناک ترین منظرنامہ دیکھتے ہیں وہ یہ ہے کہ ایک خوبصورت صبح جب کسی بھی وجہ سے صورتحال خراب ہوئی تو زرداری اور ان کے بیرون ملک سے آنے والے تمام جلاوطن ساتھی جو اب اہم عہدوں پر فائز ہیں اچانک بیرون ممالک اپنے گھروں اور کاروبار کی جانب پرواز کر جائیں گے اور دیگر پاکستانیوں کواپنے گندے پوتڑوں سمیت جوہڑ میں غوطے لگانے کےلئے چھوڑ جائیں گے اور اس کا حقیقی امکان اور خطرہ ہے۔ |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2008
مقام: IN THE SHADOW OF SWORD
عمر: 29
مراسلات: 1,824
کمائي: 3,760
شکریہ: 1,712
863 مراسلہ میں 1,788 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کافی دنوں سے سنا اور دیکھا جا رہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے چیر مین آصف علی زرداری بھی سابقہ خکومت کے نقش قم پر چلنے لگی ہے؛
سچی بات تو یہ ہے کے پاکستانیوں کو اب کسی حکومت پر اعتماد نہیں رہا۔ ایوانوں سے باہر ہوتے ہیں تو خدایی فوجدار بنے پھرتے ہیں اور جونہی عوام کے بل بوتے پر حاکم بنتے ہیں اسی وقت گرگٹ کی طرح رنگ بدل جاتے ہیں۔ بہرحال اگر یہی طرز عمل رہا تو جلد ہی سابقہ حکومت کی طرح عوامی غصے کا سامنا کرنا پڑے گا |
|
|
|
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 3,988
کمائي: 56,156
شکریہ: 3,011
1,428 مراسلہ میں 3,189 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پاکستان کی حکومتیں عوامی مسائل حل نہیں کرتیں بلکہ مسائل میں مزید اضافہ کرتی ہیں۔ حکومتی اراکین کو اپنی تنخواہ مراعات اور اوپر کی آمدنی سے دلچسپی ہوتی ہے تاکہ بیروز گاری کے ایام عافیت میں گزر جائیں۔
__________________
Watch your thoughts; they become words. Watch your words; they become actions. Watch your actions; they become habits. Watch your habits; they become character. Watch your character; it becomes your destiny. |
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2008
مقام: IN THE SHADOW OF SWORD
عمر: 29
مراسلات: 1,824
کمائي: 3,760
شکریہ: 1,712
863 مراسلہ میں 1,788 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بالکل تھیک کہا ااپ نے
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| پاکستان, لوگ, مکمل, مواخذہ, مسائل, مسائل،, معلوم, آصف زرداری, اسلام, جوابدہ, حل, خلاف, خبر, دوست, راستہ, زرداری, سیاست, سال, صورتحال, صلاحیت, صاف, صبح, صبر, صدر, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| پیپلز پارٹی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا دفاع کرنےوالی واحد جماعت | گلاب خان | خبریں | 0 | 02-03-11 05:23 AM |
| پیپلز پارٹی سے قربتیں بڑھ رہی ہیں، آئندہ سال الیکشن کا موسم شروع ہوجائے گا، شجاعت حسین | گلاب خان | خبریں | 0 | 27-12-10 05:15 AM |
| پیپلزپارٹی کے موجودہ جمہوری دور کے سب سے خطرناک کھیل کا آغاز ہوگیا، بھارتی ٹی وی | گلاب خان | خبریں | 0 | 16-12-10 05:14 AM |
| پیپلز پارٹی اور پیپلز امن کمیٹی کے نام سے قائم آفس پر چھاپہ دو مغوی بازیاب | فرحان دانش | خبریں | 1 | 21-08-10 11:07 PM |
| میرا تعلق ذوالفقارعلی بھٹو کی پیپلزپارٹی سے ہے ‘ آصف علی زرداری کی پارٹی سے | champion_pakistani | خبریں | 4 | 11-07-08 12:17 AM |