| سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,265
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
لگ بھگ پچیس برس قبل 1986ء میں راقم الحروف پہلی بارملک کے عسکری رہنماؤں سے ملاقات اورسرحد کے ساتھ افغان مزاحمت کی تربیت کا بچشمِ خود مشاہدہ کرنے کے لئے پاکستان کے دورہ پر اسلام آباد آیا۔ اُس وقت ہمارے دونوں ممالک ایک مشترکہ دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے بے مثال انداز سے مل جل کر کام کررہے تھے۔ اس کوشش کے سلسلے میں ہماری افواج نے اکٹھی تربیت پائی،ہماری انٹیلی جنس اداروں نے اطلاعات کا تبادلہ کیا اور ہمارے رہنماؤں نے تزویراتی امور کے بارے میں ایک دوسرے سے صلاح مشورے کئے۔ یہ طویل المیعاد دوستی مشترکہ عزم وارادہ، نصب العین اور فائدے کے عظیم احساس پر مبنی تھی۔
1990ء کے عشرہ کے اوائل میں، میں حکومت میں ہی تھا جب سوویت یونین اِس خطہ سے چلاگیااور امریکہ نے افغانستان کو تقریباًخیر بادکہہ دیا اور پاکستان کے ساتھ دفاعی تعلقات کم کردیئے،جو امریکہ کی مقننہ اور پالیسی سازوں کی نیک نیتی مگر عاقبت نااندیشی پر مبنی ایک سنگین غلطی تھی ۔شکر ہے کہ زمانے بدل گئے لیکن بایں ہمہ ذرائع ابلاغ میں اب بھی دونوں اقوام کے مابین "عدم اعتمادی" کی باتیں کی جاتی ہیں۔ جب میں پاکستان کے سویلین اور عسکری رہنماؤں سے ملاقاتیں کروں گا تو میں زوردے کر کہوں گا کہ امریکہ ماضی کے شکوے شکایات سے دستبردار ہوناچاہتا ہے ،وہ شکوہ شکایتیں جو فریقین کو ایک دوسرے سے ہیں اور اُس کے بجائے مستقل کے وعدے پر توجہ مرکوز کرنا چاہتا ہے۔ میں صدر اوبامہ کے پیغام کا اعادہ کروں گا کہ امریکہ ایک جمہوری پاکستان کے ساتھ مستحکم، طویل المدت اور تزویراتی اشتراک کار کا مکمل عزم کئے ہوئے ہے۔ایسے پائیدار تعلقات جو مشترکہ مفادات اور باہمی احترام پر مبنی ہوں اور جو مستقبل میں سلامتی میں تعاون سے لیکر اقتصادی ترقی تک کئی سطحوں پر فروغ پاتے رہیں اور مزید گہرے ہوں ۔ آج پاکستان اور امریکہ ایک مشترکہ خطرہ کے خلاف حلیف ہیں۔ جیساکہ پاکستان کے سب لوگ بھی آگاہ ہیں کہ متشدد انتہاپسند معصوم شہریوں، سرکاری و مذہبی اداروں اور سیکورٹی فورسز پر حملے کرتے ہیں اور یہ سب کچھ وہ اِس ملک اور اِس کی ثقافت کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے لئے کررہے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں پاکستانی فوجیوں کی زبردست قربانی ،گزشتہ تین برسوں کے دوران لگ بھگ دوہزار اہلکاروں کی قربانی،اُن کی بہادری اور اپنے شہریوں کی حفاظت کیلئے ان کی وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ قربانی جہاں اس ملک کو درپیش سلامتی کے مسائل کے حجم کی مظہر ہے وہیں لاقانونیت والے علاقوں اور اس آویزش کے خاتمہ کیلئے ہماری دونوں اقوام کے عزم وارادہ کو مجتمع کرنے کی ضرورت کو بھی عیاں کرتی ہے ۔ امریکہ اور عالمی برادری صورتحال کی سنگینی کو سمجھتے ہیں اور پاکستان کی جانب سے اپنے ملک کے تمام علاقوں میں امن کی بحالی کی کوشش کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لئے امریکہ نے پاکستان کی فوج کی صلاحیتوں کو بڑھانے اورسازوسامان حاصل کرنے میں اعانت کی کوششیں تیز کردی ہیں جو کہ اس حجم اور پیچیدگی کے حامل خطرے سے نمٹنے کیلئے ضروری ہیں۔ ان کوششوں میں ہمارے فوجی تبادلوں اور تعلیم وتربیت کے پروگراموں کو تقویت دینا شامل ہیں۔ہمارے تمام تر فوجی تعلقات میں امریکہ کے لئے رہنما اصول یہ ہے کہ پاکستان کی اپنے اقتداراعلیٰ کے تحفظ اور اُن عناصر کو جو اس ملک میں دہشت گردی کو فروغ دیتے ہیں اور بیرون ملک حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں نیست ونابود کرنے کیلئے جو کچھ مدد دی جاسکتی ہے، دی جائے ۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ محض فوجی اعانت سے پاکستان کو تشدد آمیز انتہا پسندی کا مسئلہ حل کرنے میں مدد نہیں ملے گی، اس لئے پاکستان کے عوام کی ممکنہ صلاحیتوں کو جلا بخشنے کیلئے سرمایہ کاری کرکے سویلین امداد میں اضافہ کیا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ خطہ میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ افغانستان میں امریکی موجودگی میں اضافہ سے پاکستان میں حملوں میں اضافہ ہوگا۔ یہ یاد رکھنا اہم ہے کہ پاکستانی طالبان افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کی ملی بھگت کے ساتھ کام کرتے ہیں لہٰذا اِن گروہوں کو الگ کرنا ناممکن ہے۔ اگر تاریخ کوئی پیمانہ ہے تو سرحد کے آرپار طالبان کے محفوظ ٹھکانے آئندہ چل کر دونوں ملکوں پر مزید ہلاکت خیز اور مزید ڈھٹائی کے ساتھ حملوں کا سبب بنیں گے، اس قسم کے حملے جو اس سے پہلے بھی بڑے پیمانے پرشہریوں کی جانیں لے چکے ہیں۔ بعض متشدد انتہاپسندگروہوں اور دوسروں کے درمیا ن تمیز کرنا سودمند نہ ہوگا۔ صرف ان گروہوں پر سرحد کی دونوں جانب سے دباؤ ڈال کر تباہ کرنے سے ہی افغانستان اور پاکستان اس عفریت سے ہمیشہ کے لئے چھٹکارا پاسکیں گے جو یہاں اور بیرون ملک دہشت گردی پھیلاتے ہیں۔ اب جبکہ ہمارے دونوں ملک سرحدوں کے ساتھ ایک بڑے چیلنج سے نبردآزما ہیں ،امریکہ پاکستان کے علاقائی اور عالمی قیادت کے کردار کا اعتراف کرتا ہے،خصوصاً سرقہ بازی اور منشیات کی اسمگلنگ ایسے معاملات ہیں جن میں پاکستان نے قابل قدر کارنامے سرانجام دیئے ہیں۔ میرے دورہ کی اہم وجوہات میں سے ایک افغانستان کے استحکام کا پاکستان کے ساتھ تعلق،خطہ میں وسیع تر استحکام،ایشیا میں انتہاپسندی کا خطرہ،ناجائز منشیات اور اس کے تباہ کن عالمی اثرات کوکم کرنے کی کوششیں اور بحری سلامتی اور تعاون کے بارے میں وسیع تر تزویراتی مذاکرات کو فروغ دینا ہے ۔ان تمام شعبوں میں پاکستان ایشیا میں تمام ملکوں کے درمیان اچھے تعلقات برقراررکھنے میں مرکزی کردار ادا کرسکتا ہے جو اس خطہ میں سلامتی کی شرط ِاول ہے۔ میرا دورہ اس خطہ کے حوالہ سے ایک نازک دور میں ہو رہا ہے۔ متعدد مسائل درپیش ہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ امید اور رجائیت کا جواز موجود ہے۔ مشترکہ اہداف اور متعدد معاملات میں تعاون کیساتھ پاکستانیوں اور امریکیوں کی نئی نسل یہ سیکھ رہی ہے کہ طویل المدت اتحادی، اشتراک ِ کار اور دوستوں کا کیا مطلب ہوتا ہے جو ہماری اقوام کے مابین اعتماد کے رشتہ کی تجدید اور استحکام کیلئے متحد ہیں۔ http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=404110
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | نیلم خان (21-01-10) |
|
|
#2 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,664
کمائي: 557,407
شکریہ: 25,087
10,217 مراسلہ میں 38,074 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کاش امریکن سچ بھی بولتے اور پاکستان سے تو ان کو بہت تکلیف ہے
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا | محمد علی75 (27-01-10), راجہ اکرام (27-01-10) |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,265
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
امریکن تو سچ بولتے ہیں لیکن ہماری وزراء کو جھوٹ کی لت لگ گئی ہے
رابرٹ گیٹس کہتا ہے کہ بلیک واٹر پاکستان میں ہے اور رحمن ملک ڈٹے ہوئے ہیں کہ نہیں ہے |
|
|
|
|
|
#4 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,664
کمائي: 557,407
شکریہ: 25,087
10,217 مراسلہ میں 38,074 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اللہ ہی رحم کرے ۔
|
|
|
|
| نیلم خان کا شکریہ ادا کیا گیا | محمد علی75 (27-01-10) |
![]() |
| Tags |
| com, search, کوشش, کوششیں, کوششوں, کارنامے, پاکستان, پاکستانی, وزیر, لوگ, مکمل, مقابلہ, منصوبہ, مسائل, امریکہ, اسلام, تعلیم, خلاف, طالبان, عسکری, صورتحال, صلاح, صلاحیتوں, صدر, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| شمالی وزیرستان کو آنے اور جانےوالے تمام راستے غیر اعلانیہ طور پر بند | گلاب خان | خبریں | 0 | 06-01-11 05:22 AM |
| نوجوانوں کا مستقبل خطرہ میں ۔وزیر خزانہ کے ساتھ مذاکرات ناکام۔ چھ یونیورسٹیوں کی بندش کا خدشہ | جاویداسد | خبریں | 0 | 18-09-10 03:34 PM |
| بیت اللہ محسود کا وزیرستان میں شاندار استقبال، جشن،40 دنبوں کا صدقہ۔ | ابن جلال | خبریں | 0 | 05-10-08 02:13 AM |
| صدر پر ویز کیساتھ کام کر نا چاہتے ہیں،پاکستانی عوام ہی ان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کر ینگے ،امر یکا | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 22-02-08 03:31 AM |
| بینظیر کو پاکستان میں مستقل رہائش کا ویزا مل گیا تو ارباب رحیم کو جان جائیں گی،ترجمان وزیراعلیٰ | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 05-11-07 10:03 AM |