پاکستان: بہت زیادہ ٹیلیکام ٹیکس وصول کرنے والا ملک
پاکستان: بہت زیادہ ٹیلیکام ٹیکس وصول کرنے والا ملک
سارک ممالک میں کئے جانے والے ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان خطے میں واحد ملک ہے جہاں ٹیلی کمیونیکیشن سروسز کے عوض صارفین سے سب سے زیادہ ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صارفین سے 33 فیصد، بھارت میں 12 اعشاریہ 40 فیصد، بنگلہ دیش میں 15 فیصد، سری لنکا میں 17 اعشاریہ 5 فیصد جبکہ نیپال میں 23 فیصد ٹیلی کام ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 15 فیصد ٹیکس کو بڑھا کر 21 فیصد کرنے سے صارفین شدید متاثر ہونگے اور اس بات کا وسیع امکان ہے کہ رواں مالی سال میں ٹیلی فون سروس استعمال کرنے والوں کی تعداد میں 8 سے 9 فیصد کمی واقع ہوگی اور صورتحال یہ ہوگی کہ دور دراز کے علاقوں میں جہاں صرف فون لائنز ہی چلتی ہیں اور موبائل فونز کا استعمال نہیں ہوتا، وہاں غریب طبقہ براہِ راست ٹیکس کے جال میں پھنس جائے گا۔ نتیجہ یہ نکلے گا کہ فون کے استعمال کے حوالے سے ایسے غریب صارفین کی حوصلہ افزائی کے بجائے حوصلہ شکنی ہوگی۔
بڑھتے ہوئے کنزیومر بیس کی وجہ سے گزشتہ چار سال کے دوران ٹیلی کام سیکٹر میں 100 فیصد ترقی ہوئی تاہم زیادہ ٹیکس اور ڈیوٹیز عائد ہونے سے ٹیلی کمیونیکیشن سروسز کا استعمال کم ہوگا نتیجہ یہ نکلے گا یہ حکومت کی آمدنی میں بھی کمی واقع ہوگی جبکہ ٹیلی فون اور موبائل سیلولر کمپنیاں اپنے آپریشنز کو بھی کم کردیں گی۔
اس وقت دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ٹیلی فون اور موبائل فون استعمال کرنے والوں کی تعداد 80 ملین ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ موبائل فون استعمال کرنے والوں کی تعداد 50 ملین کے قریب ہے۔ فون کمپنیاں ایسی صورتحال میں صارفین کی تعداد بڑھا کر 100 ملین کرنے کا ارادہ رکھتی تھیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے ملک کے دور دراز علاقوں میں سروسز پھیلانے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی لیکن فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافے سے دور دراز کے ان علاقوں، جن میں اکثریت یا پھر یہ کہا جائے کہ تمام کے تمام علاقے دیہی ہیں، میں رہنے والے غریب صارفین ٹیکس بھاری ٹیکس ادا نہ کرسکیں گے جس سے ٹیلی کام سیکٹر کی وسعت کا خواب پورا نہیں ہو پائے گا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ موبائل فون صارفین پر یہ ٹیکس عائد کرنے کی بجائے حکومت کے لیے بہتر یہ تھا کہ وہ اسٹاک مارکیٹس یا براہِ راست امیر ترین طبقے پر ٹیکس عائد کرتی۔اس حوالے سے مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ 100 روپے کے ٹیلیفون کارڈ (چاہے وہ موبائل فون کا ہو یا لینڈ لائن کا) پر 33 فیصد ٹیکس نا انصافی ہے۔
|