| سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
امریکی صحافی نکولس شمڈل نے پاک افغان سرحد پر کلاشنکوف سے مسلح طالبان کے درمیان خود کو کبھی غیر محفوظ تصور نہیں کیا تھا اور وجہ یہ تھی کہ وہ ان کے مہمان تھے۔
تاہم جب گزشتہ منگل کی رات ایک پولیس اہلکار نے ان کے دروازے پر دستک دی تو انہیں پتہ تھا کہ اس ملک میں ان کی مہمان نوازی کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ پاکستان سے ملک بدر کیے جانے کے بعد سنیچر کو امریکہ پہنچنے والے نکولس شمڈل بتاتے ہیں کہ’اس وقت تیز بارش ہو رہی تھی اور آنے والے پولیس اہلکار نے کہا کہ وہ وہاں مجھے اور میری اہلیہ کو ہوائی اڈے لے جانے کے لیے آئے ہیں‘۔ شمڈل کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام نے انہیں ملک بدری کا نوٹس تو دیا لیکن اس کی وجہ بیان نہیں کی۔ تاہم ان کے مطابق اس واقعے سے ایک دن قبل پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا ایک افسر ان کے گھر آیا تھا تاہم وہ اس وقت اپنے گھر پر موجود نہیں تھے۔ نکولس شمڈل کے مطابق’اس نے میرے محافظ کو بتایا کہ پاکستان کے خلاف لکھنے کی وجہ سے میرا ویزا منسوخ کر دیا گیا ہے‘۔ شمڈل فروری سنہ 2006 سے انسٹیٹیوٹ آف ورلڈ افیئرز کی رائٹنگ فیلو شپ پر پاکستان میں مقیم تھے۔ ان کا خیال ہے کہ پاکستانی حکام چھ جنوری کو امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں چھپنے والے ان کے مضمون’ نیکسٹ جنریشن طالبان‘ پر سیخ پا ہوئے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شمڈل کا کہنا ہے’ آپ گھر میں بیٹھ کر حکومت پر جتنی مرضی ہو تنقید کر سکتے ہیں لیکن جب آپ کسی چیز کا کھوج لگانے کی کوشش کریں تو بات بگڑ جاتی ہے‘۔ ادھر پاکستانی وزارت داخلہ نے شمڈل کو ملک بدر کرنے کی تردید کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ شمڈل کے پاس صحافتی ویزا نہیں تھا اور’ ابتدائی طور پر ان کی ملک بدری کا حکم جاری کیا گیا لیکن بعدازاں اسے واپس لے لیا گیا اور وہ اپنی مرضی سے پاکستان چھوڑ کرگئے ہیں‘۔ شمڈل بتاتے ہیں کہ ماہِ اکتوبر میں انہوں نے ایک دن سوات میں سرگرمِ عمل مقامی طالبان رہنما مولانا فضل اللہ کے ساتھ گزارا۔’ میں نے وہاں تین نوجوان لڑکے دیکھے جن پر اغوا کا الزام تھا۔ انہیں دو نقاب پوش طالبان نے پندرہ ہزار مقامی افراد کے مجمع کے سامنے کوڑے مارے‘۔ مقامی ذرائع ابلاغ نے اس واقعے کی رپورٹنگ تو کی لیکن شمڈل وہاں موجود واحد غیر ملکی صحافی تھے اور انہوں نے اپنے مضمون میں اس واقعے کا ذکر بھی کیا۔ انہوں نے قبائلی علاقوں میں سرگرم مقامی طالبان کے رہنما بیت اللہ محسود سے بھی دسمبر میں ملاقات کی تھی۔ بیت اللہ محسود کی قیادت میں طالبان کے اکھٹا ہونے کے حوالے سے شمڈل نے لکھا کہ’اس چیز نے طالبان گروپ کی ہیئت ہی بدل دی ہے‘۔ نکولس شمڈل کا خیال ہے کہ یہی وہ معلومات ہیں جو ممکنہ طور پر پاکستانی حکام کو ناگوار گزری ہیں۔ تاہم شمڈل پاکستان سے صرف حکومتی ناراضگی ہی ساتھ نہیں لے کر آئے۔ ان کی آنکھیں پاکستانی باشندوں کے ذکر پر چمکنے لگتی ہیں۔ شمڈل اور ان کی اہلیہ اب اردو بول سکتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں گزارا وقت ان کے لیے ہنی مون جیسا تھا کیونکہ وہ وہاں شادی کے دو ماہ بعد ہی چلے گئے تھے۔ شمڈل کے مطابق ان کی واپسی کے موقع پر ان کے تمام ملازمین اشک بار تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ’درحقیقت میرے لیے انہیں الوداع کہنا دو برس قبل پاکستان جاتے ہوئے اپنے والدین کو الوداع کہنے کی نسبت زیادہ مشکل تھا‘۔ ان کا ماننا ہے کہ پاکستانی عوام جہاں امریکی پالیسیوں سے نفرت کرتے ہیں وہیں امریکی یا کسی بھی غیر ملکی کے لیے ان کی مہمان نوازی شاندار ہے۔ شمڈل کی اہلیہ رکی کا کہنا ہے’پاکستانیوں کی مہمان نوازی ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔ وہ دنیا کے بہترین لوگ ہیں‘۔ تو کیا وہ واپس پاکستان جانا پسند کریں گے؟ جواباً شمڈل اور ان کی اہلیہ نے بیک آواز کہا ’انشا اللہ‘۔ بشکریہ برٹش براڈ کاسٹ کارپوریشن |
|
|
|
| شیخ ہمدان کا شکریہ ادا کیا گیا | منتظمین (16-01-08) |
| کمائي نے شیخ ہمدان کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 16-01-08 | منتظمین | Some thing positive for Pakistan | 10 |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 625
کمائي: 11,683
شکریہ: 0
344 مراسلہ میں 656 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
محترم،
ميں آپ کے سامنے کچھ اعداد وشمار رکھنا چاہتا ہوں۔ سال 2002 ميں امريکی حکومت نے پاکستان کو صحت اور تعليم کے ضمن ميں 55۔39 ملين ڈالرز کی امداد دی۔ سال 2003 ميں صحت اور تعليم کے ضمن ميں ہی مزيد 145۔50 ملين ڈالرز کی امداد پاکستان کو دی گئ۔ اگست 2002 ميں امريکی حکومت کے ادارے يوايس ايڈ اور وزارت تعليم حکومت پاکستان کے درميان ايک معاہدہ طے پايا جس کی رو سے تعليم کے شعبے ميں مزيد 100 ملين ڈالرز کی امداد پاکستان کے حصے ميں آئ۔ سال 2002 اور 2006 کے درميانی عرصے ميں يوايس ايڈ کی جانب سے تعليم، صحت اور معشيت کے شعبوں ميں پاکستان کو 449 ملين ڈالرز کی امداد دی گئ۔ ستمبر 2007 ميں حکومت پاکستان اور امريکہ کے درميان ايک معاہدہ طے پايا جس کی رو سے اگلے 5 سالوں ميں پاکستان کو مزيد 750 ملين ڈالرز کی امداد ملے گی۔ اس کے علاوہ اس سال فاٹا کے علاقوں ميں ترقياتی کاموں کے ليے 105 ملين ڈالرز کی امداد مختص کی گئ ہے۔ 8 اکتوبر 2005 کو آنے والے زلزلے کی تباہی کے بعد يوايس ايڈ کے ادارے نے پاکستان کو فوری طور پر 67 ملين ڈالرز کی امداد دی۔ اس کے بعد ہونے والی تباہی سے نبرد آزما ہونے کے ليے اسی ادارے نے مزيد 200 ملين ڈالرز کی امداد حکومت پاکستان کو دی۔ 1951 سے لے کر اب تک يوايس ايڈ کی جانب سے صرف تعليم، صحت اور معيشت کے ضمن ميں پاکستان کو جو مجموعی امداد دی گئ ہے وہ 7 بلين ڈالرز ہے۔ پاکستان کو ترقياتی کاموں کے ضمن ميں سب سے زیادہ امداد دينے والا ملک امريکہ ہے۔ دوسرے نمبر پر جاپان اور تيسرے نمبر پر برطانيہ ہے۔ اس کے بعد جرمنی، فرانس اور ہالينڈ کا نمبر آتا ہے۔ ميں نے يہ سارے اعداد وشمار کسی آرٹيکل، کتاب يا رسالے سے نہيں حاصل کيے بلکہ براہراست يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ سے حاصل کيے ہيں۔ يہ اعداد وشمار محض تعليم، صحت اور معيشت کے ضمن ميں ملنے والی امداد کےحوالے سے ہيں۔ اس ميں وہ امداد شامل نہيں ہے جو دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے حکومت پاکستان کو براہراست دی گئ ہے۔ وہ امداد يو ايس ايڈ کے داۂرہ اختيار سے باہر ہے۔ ايک بات اور، يوايس ايڈ کا ادارہ نہ صرف حکومت پاکستان کو امداد فراہم کرتا ہے بلکہ پاکستان ميں کام کرنے والی بے شمار امدادی تنظيميں بھی اس داۂرہ کار ميں آتی ہيں۔ ان اعداد وشمار کو پيش کرنے کا مقصد يہ نہيں ہے کہ ميں آپ کے سامنے امريکہ کا مثبت اميج پيش کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اور نہ ہی ميں امريکہ کی خارجہ پاليسی کی حمايت کر رہا ہوں۔ اس ميں کوئ شک نہيں کہ امريکہ کی خارجہ پاليسی کے بہت سے پہلوؤں پر تنقيد کی جا سکتی ہے۔ ليکن ميں تصوير کا دوسرا رخ آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ کيا پاکستان کے ہر قومی مسلۓ اور حادثے کا ذمہ دار بلواسطہ يا بلا واسطہ امريکہ کو قرار دے کر ہم اپنی قومی ذمہ داريوں سے چشم پوشی نہيں کرتے؟ حد تو يہ ہے کہ ہم صدر پرويز مشرف کی تمام تر پاليسيوں (اس بات سے قطع نظر کے وہ صحيح ہيں يا غلط) کا ذمہ دار امريکہ کو ہی ٹھراتے ہيں۔ صدر مشرف کو پاکستان کا صدر امريکہ نے نہيں بنايا۔ انہيں قومی اسمبلی ميں عوام کے منتخب کردہ نمايندوں نے 57 فيصد ووٹ دے کر ملک کا صدر بنايا ہے۔ يہی نمايندے 18 فروری کو دوبارہ عوام کے سامنے پيش ہوں گے، اگر عوام سمجھتی ہے کہ انھوں نے غلط فيصلہ کيا تھا تو ذات پات برادری اور سياسی وابستگی سے ہٹ کر ملک کے ليے صحيح فيصلہ کريں۔ کسی بھی ملک کی تقدير کے ذمہ دار"بيرونی عناصر" نہيں بلکہ اس ملک کے سياست دان ہوتے ہيں جو منتخب ہو کر اسمبليوں ميں جاتے ہيں اور ملک کے ليے قوانين بناتے ہيں۔ ليکن ہمارے ملک ميں سياست دان جب عوام کے سامنے پيش ہوتے ہيں تو اپنی کاردگی پر بات کرنے کی بجاۓ "کشمير ہمارا ہے" اور "امريکہ کا جو يار ہے، غدار ہے، غدار ہے" جيسے پرجوش نعرے دے کر اپنی تمام ذمہ داريوں سے ہاتھ صاف کر ليتے ہيں۔ کيا وجہ ہے کہ جو اعداد وشمار ميں نے آپ کے سامنے رکھے ہيں وہ آج تک کبھی کسی سياست دان نے پيش نہيں کيے؟ اگر امريکہ کا مقصد پاکستان کو کمزور کرنا ہے تو امريکہ پاکستان کو امداد دينے والا سب سے بڑا ملک کيوں ہے؟ جہاں تک ايٹمی اساسوں کے حوالے سے تشويش کا سوال ہے تو ميڈيا کی قياس آرائيوں اور اخباری تبصروں سے ہٹ کر ميں آپ کی توجہ امريکی سينيٹ کی ہوم لينڈ سيکيورٹی کے چيرمين جوزف ليبرمين کے اس بيان کی طرف دلواتا ہوں "پاکستان کے ايٹمی اساسے محفوظ ہاتھوں ميں ہيں۔ ہم نے پرويز مشرف پر زور ديا ہے کہ وہ ملک ميں جمہوری انتخابات کا عمل يقينی بنائيں اور پاکستان کو دی جانے والی امداد کو صاف اور شفاف انتخابات سے مشروط قرار ديا ہے۔" فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| پولیس, پاک, پاکستان, پاکستانی, پسند, لوگ, نفرت, نظر, موقع, آج, اللہ, الزام, امریکہ, اردو, اغوا, بہترین, حکم, خلاف, رات, شاندار, طالبان, صحافی, صحافتی, صحت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| پاکستان اورافغانستان میں غیرقانونی امریکی نیٹ ورک کی تصدیق ہو گئی: نیو یارک ٹائمز | جاویداسد | خبریں | 3 | 14-01-11 09:50 PM |
| ::::::: ہوش کے ناخن لو پاکستانیو ::::::: | عادل سہیل | میرا پاکستان | 4 | 03-11-09 12:31 AM |
| جی ایچ کیو آپریشن مکمل پاکستان آرمی زندہ باد | Real_Light | خبریں | 43 | 14-10-09 12:33 AM |
| میڈ ان پاکستان | ام طلحہ | 14اگست | 11 | 18-08-09 09:59 AM |
| پا کستان پر میڈ یا کے منفی اثرات | فیصل شیخ | عمومی بحث | 0 | 24-12-07 03:08 AM |