واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


میر جعفر سے ملاقات,,,,قلم کمان …حامد میر

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 04-12-07, 01:26 AM   #1
Senior Member
 
چاچا کمال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 47
مراسلات: 938
کمائي: 7,524
شکریہ: 36
189 مراسلہ میں 304 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default میر جعفر سے ملاقات,,,,قلم کمان …حامد میر

میر جعفر سے ملاقات,,,,قلم کمان …حامد میر

میر جعفر سے ملاقات,,,,قلم کمان …حامد میر

آبپارہ چوک اسلام آباد میں بمشکل دو سو مرد و خواتین کا حکومت کے خلاف مظاہرہ ختم ہو چکا تھا۔ مظاہرے میں ایمرجینسی کے خلاف بھرپور نعرے بازی کرنے والے لوگ آہستہ آہستہ واپس جا رہے تھے۔ قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے چند درجن طلبہ کا ایک گروپ اپنے سامنے کھڑی پولیس کے ساتھ الجھنے کی تیاری میں تھا۔ یونیورسٹی کے ایک استاد نے اپنے شاگردوں کے ارادے بھانپ لئے۔ وہ اپنے شاگردوں کے پاس گیا اور انہیں کہا کہ تمہارے ساتھ میں نے بھی ایمرجینسی کے خلاف نعرے لگائے ہیں لیکن کوئی گڑ بڑ نہیں ہوئی، اب جبکہ سب مظاہرین واپس جا رہے ہیں تو قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ سن کر ایک گستاخ شاگرد تُنک کر بولا کہ سر جی ! ہم تو قانون توڑنے والوں کے خلاف آواز بلند کرنا چاہتے ہیں، انہیں پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم تعداد میں کم ضرور ہیں اور ہمارے پاس ہتھیار بھی نہیں ہیں لیکن ہم بزدل نہیں ہیں اور آج آپ ہمیں نہیں روک سکتے۔ اس گستاخی پر استاد غصّے میں آ گیا۔ اس نے کہا کہ تم پولیس پر چند پتھر پھینک کر ان خواتین کیلئے مشکلات کھڑی کرو گے جو روزانہ معطل شدہ ججوں کی خاطر اپنے بچّوں کے ہمراہ ان پُر امن مظاہروں میں شرکت کرتی ہیں، تم پتھر پھینک کر بھاگ جاؤ گے اور پولیس ان عورتوں اور ان کے بچّوں کو پکڑے گی، پھر اگلے دن ہمارے مظاہرے میں لوگ مزید کم ہو جائیں گے اور تم اس تحریک کے ساتھ وہی سلوک کرو گے جو کسی زمانے میں میر جعفر اور میر صادق نے اپنی قوم کے ساتھ کیا تھا۔ میر جعفر اور میر صادق کا نام سن کر قائداعظم یونیورسٹی کے لا ابالی طلبہ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ ایک نوجوان نے استاد سے کہا کہ سر ہم نے ان دونوں کا نام تو بہت سنا ہے لیکن ان کے بارے میں کچھ زیادہ پتہ نہیں۔ استاد نے ان سب طلبہ سے کہا کہ آؤ سامنے والے باغ میں چل کر بیٹھتے ہیں اور میں تمہیں بتاؤں گا کہ میر جعفر اور میر صادق کون تھے؟ طلبہ نے قریب کھڑے ایک ریڑھی والے سے چند درجن مالٹے اور کیلے خریدے اور اپنے استاد کے ہمراہ آبپارہ چوک کے قریب سپورٹس کمپلیکس کے سامنے چھوٹے سے باغ میں بیٹھ گئے۔ استاد نے ٹیپو سلطان سے بات شروع کی اور بتایا کہ میر صادق میسور کے حکمران ٹیپو سلطان کا وزیراعظم تھا۔ ٹیپو سلطان کو انگریزوں اور ہندو مرہٹوں کی سازشوں کا سامنا تھا۔ ٹیپو سلطان انگریزوں کیلئے ناقابل تسخیر بن چکا تھا لہذا اسے تسخیر کرنے کیلئے انہوں نے میسور کی حکومت میں غدّار تلاش کر لئے۔ ایک دن جب جنگ جاری تھی تو میر صادق نے ٹیپو سلطان کی آدھی سے زیادہ فوج کو تنخواہ کی وصولی کیلئے محاذ سے واپس بلا لیا اور یوں انگریزوں کو میسور کے قلعے میں داخل ہونے کا موقع مل گیا۔ ٹیپو سلطان جرأت و بہادری سے لڑتا ہوا شہید ہو گیا۔ اس سے پہلے کہ میسور کا تخت میر صادق کو ملتا ایک غیرت مند مسلمان سپاہی نے میر صادق کو قتل کر کے اس کی لاش ایک چوراہے میں پھینک دی۔ یہ لاش کئی دن تک بے گور و کفن پڑی رہی۔ آنے جانے والے لوگ میر صادق کی لاش پر تھوکتے تھے اور جوتے مارتے تھے۔ جب لاش سے بہت زیادہ بد بو پھیلنے لگی تو پھر اسے گدھوں کے سامنے پھینک دیا۔ استاد کی گفتگو جاری تھی۔ ایک طالب علم سے رہا نہ گیا اور اس نے پوچھا کہ سر جی ! میر صادق کے ساتھ تو بہت اچھا ہوا لیکن میر جعفر کے ساتھ کیا ہوا؟ استاد نے اپنے اس بے چین شاگرد کو ڈانٹتے ہوئے کہا کہ صبر کرو سب بتاتا ہوں۔ پھر اس نے میر جعفر کا قصّہ شروع کیا۔ یہ قصّہ اس نے اسکندر مرزا سے شروع کیا اور کہا کہ اسکندر مرزا پاکستان کا گورنر جنرل تھا اور میر جعفر کی اولاد میں سے تھا۔ اسکندر مرزا کے بیٹے ہمایوں مرزا نے اپنی کتاب ” فرام پلاسی ٹو پاکستان “ میں اپنے پڑدادا میر جعفر کے کردار سے خود ہی پردہ اٹھا دیا ہے۔ اس شخص کا پورا نام سّید میر محمد جعفر علی خان تھا۔ یہ سّید حسین نجفی کا پوتا تھا جو کسی زمانے میں نجف کا گورنر ہوا کرتا تھا۔ وہ اورنگ زیب عالمگیر کے زمانے میں ہندوستان آ گیا اور مغلیہ دربار سے وابستہ ہو گیا۔ سّید حسین نجفی کا پوتا میر جعفر بنگال کے حکمران علی وردی خان کی فوج کا سربراہ بن گیا۔ علی وردی خان کے مرنے کے بعد اس کا نو عمر پوتا نواب سراج الدولہ بنگال کا حکمران بنا۔ انگریزوں نے اس نو عمر نواب کو خریدنے کی کوشش کی لیکن انہیں کامیابی نہ ہوئی تو انہوں نے نواب سراج الدولہ کی فوج کے سربراہ میر جعفر کو خرید لیا۔ 1757ء میں پلاسی میں انگریزوں اور نواب سراج الدولہ کی فوج کے درمیان ایک مشہور جنگ ہوئی۔ نواب سراج الدولہ یہ جنگ کیسے جیت سکتا تھا کیونکہ اس کا تو سپہ سالار دشمنوں سے ساز باز کر چکا تھا۔ غدّار سپہ سالار پیادہ فوج کو لیکر ایک جنگل میں چلا گیا لیکن نواب سراج الدولہ نے فرانسیسی سپاہیوں کی مدد سے انگریزوں پر خوب گولہ باری کی۔ قریب تھا کہ انگریز پسپائی اختیار کرتے کہ بارش شروع ہو گئی اور نواب سراج الدولہ اپنی توپوں کے بارود کو بارش سے نہ بچا سکا۔ انگریزوں نے حملہ کر دیا اور نواب یہ جنگ ہار گیا۔ بعدازاں میر جعفر کو بنگال کی حکمرانی مل گئی۔ نواب سراج الدولہ کو مرشد آباد میں سر عام قتل کیا گیا۔ کئی سال بعد اسی میر جعفر کے خاندان میں سّید اسکندر علی مرزا پیدا ہوا لیکن اس وقت تک یہ خاندان بنگال کی حکمرانی سے محروم ہو کر صرف انگریزوں کے وظیفے پر زندگی گزارتا تھا۔ انگزیروں کے وظیفہ خوار اس خاندان کا نوجوان اسکندر مرزا 1918ء میں پہلا ہندوستانی تھا جسے برطانیہ کے سینڈہرسٹ ملٹری کالج میں داخلہ ملا۔ اسکندر مرزا نے 1930ء سے 1945ء کے درمیان زیادہ عرصہ شمالی وزیرستان، مغربی وزیرستان، بنّوں، نوشہرہ اور پشاور میں گزارا۔ قیام پاکستان کے بعد اسکندر مرزا کو پاکستان کا سیکریٹری دفاع بنایا گیا۔ اس دوران مشرقی پنجاب سے ہجرت کر کے پاکستان آنے والے لاکھوں مسلمانوں کی حفاظت کیلئے کچھ افسروں کو مامور کیا گیا۔ بریگیڈیئر ایوب خان مہاجرین کے تحفظ میں ناکام رہا جس پر اس کا کورٹ مارشل کرنے کا فیصلہ کیا گیا لیکن میجر جنرل اسکندر مرزا نے اپنے دوست بریگیڈیئر کو بچا لیا۔ بعدازاں ایوب خان کو آرمی چیف بھی اسکندر مرزا نے بنایا اور آرمی چیف کی مدد سے وہ 1956ء میں پاکستان کو گورنر جنرل بن گیا لیکن 1958ء میں ایوب خان نے اسکندر مرزا کو فارغ کر کے اقتدار پر خود قبضہ کر لیا۔ اسکندر مرزا کو جلاوطن کر دیا گیا۔ اسکندر مرزا نے 1969ء میں لندن میں بہت کسمپرسی کے عالم میں انتقال کیا۔ مرتے وقت اس کے پاس بمشکل چند سو پاؤنڈ تھے۔ تاریخ نے میر جعفر کے ہاتھوں نواب سراج الدولہ کے ساتھ غدّاری کا بدلہ اسکندر مرزا سے لیا۔ یہ شخص فوج کو سیاست کا راستہ دکھانے والا تھا، اس شخص نے قائداعظم کے نظریات کو جھٹلایا اور آج پاکستان میں میر جعفر کی اولاد اسکندر مرزا کا کوئی نام لیوا نہیں۔ تاریخ غدّاروں کو کبھی معاف نہیں کرتی۔ استاد کا لہجہ گلوگیر ہو چکا تھا۔ شاگرد انہماک سے استاد کو سن رہے تھے۔ استاد نے کہا کہ قائداعظم کے پاکستان کو اندرونی خلفشار سے بچانے کیلئے حقیقی جمہوریت کا قیام بہت ضروری ہے اور اس کیلئے ایک تحریک کی ضرورت ہے۔ یہ تحریک پُر امن ہونی چاہئے۔ گڑ بڑ اور دنگا فساد اس تحریک کو کمزور کرے گا، جعلی جمہوریت کو تسلیم کرنا بھی اس تحریک نہیں بلکہ قائداعظم کے ساتھ غدّاری کے مترادف ہے۔ ہمیں آج کے میر جعفروں اور میر صادقوں سے ہوشیار رہنا ہے۔ میر جعفر ایک شخص نہیں بلکہ ایک مستقل تاریخی کردار ہے جس کے نام بدلتے رہتے ہیں۔ میر جعفر آج بھی زندہ ہے۔ میر جعفر سے ملنا مشکل نہیں۔ کسی صبح آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے آپ سے سوال کرنا کہ کیا قائداعظم کے راستے پر چل رہے ہو؟ اگر جواب نفی میں ہو تو آئینے میں نظر آنے والے میر جعفر سے تمہاری ملاقات ہوجائے گی۔
چاچا کمال آف لائن ہے   Reply With Quote
چاچا کمال کا شکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس (04-12-07)
جواب

Tags
ہندو, کورٹ, کالج, پولیس, پاکستان, وزیراعظم, لوگ, لندن, چین, موقع, آج, اسلام, استاد, تلاش, جیت, جواب, خواتین, خلاف, خان, راستہ, زندگی, سیاست, شخص, علی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:46 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger