| سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
مشرّف صاحب نے دلّی میں دیوار برلن کی طرح پاک و ہند کی درمیانی سرحدی لکیر کے ختم کئے جانے کا عندیہ دیا ہے۔ یہ یقینا“ ہمارے سامنے ایک الگ راستہ ہے جس پر غور کیا جا سکتا ہے۔ اس میں صرف پاک بھارت کی نہیں بلکہ پاک افغان، بنگال، بھوٹان اور نیپال کی لکیریں شامل ہیں۔ اب یہ آٹھ ملک بنتے ہیں۔ سب سے پہلے تقسیم ہند پر غور کرنا پڑے گا۔ موجودہ افغانستان ایران کے مشرقی حصّے کا نام ہے جسکا وہ علاقہ جو کابل اور پشاور کے درمیان ہے اصل افغانستان ہے۔ یہ شمال میں ہندوکش سے لے کر جنوب مغرب میں تخت سلیمان اور قندہار تک پھیلا ہوا ہے۔ اسکے علاوہ باقی حصّہ جو پہلے کابل اور خُراسان کے نام سے جانا جاتا تھا اس میں شہر کابل، بلخ، ہرات، غزنی اور بدخشان کے علاقے شامل ہیں۔ پشاور سے مغرب کے اس تمام علاقے کی جغرافیائی نسلی اور تاریخی نسبت ایران سے تھی۔ نوشیروان عادل کا بڑا آتشکدہ بھی بلخ میں تھا۔ خسرو پرویز نے دودھ کی نہر کا بھی فرہاد کو بلوچستان ہی میں بنانے کو کہا تھا۔ تاجیک بھی کسی نسل کا نام نہیں ہے بلکہ اُن ایرانیوں کو تاجیک کہتے ہیں جو تُرکوں کے خلاف سرحد پر آباد ہوں۔ ایرانی اپنی قوّت کو برقرار نہ رکھ سکے اور بعد میں مذہبی فرقہ بھی الگ اپنایا جس کی وجہ سے ان علاقوں سے انکی جدائی کا سلسلہ پختہ ہو گیا۔ جغرافیائی لحاظ سے یہ علاقہ ایرانی سطح مرتفع کا حصّہ ہے مگر اسکا سیاسی، مذہبی، نسلی اختلاط اور باہمی نقل مکانی کا تعلق ہندوستان کے ساتھ رہا ہے۔
ہندوستان کے بودھ حکمرانوں کے دور میں کابل ہندوستان کا حصّہ رہا ہے۔ بعد میں کابل ہندوستان پر مسلمان حملہ آوروں کا راستہ رہا ہے۔ ان میں سے کچھ تو حملہ سے پلٹ گئے جبکہ بہت سے مستقل ہندوستان میں آباد ہوگئے۔ بابری مغلوں کی حکومت بھی کابل سے آکر ہندوستان پر پھیلی۔ ہندوستان مغلوں کے دور میں کافی پھلا پھولا مگر لوگوں کی باہمی چپقلش اور تخت کی وراثت کا باقاعدہ نظام نہ ہونے کی وجہ سے مختلف ٹولوں نے مختلف شہزادوں کو منتخب کر کے آپس میں جنگیں شروع کر دیں۔ رہی سہی کسر اورنگزیب عالمگیر نے پوری کردی جس نے ہندوؤں سے مذہبی تعصّب کا برتاؤ کیا جو سراسر اسلام اور مغل روایت کے منافی تھا۔ اسکے بعد پہلی دفعہ ہندو مسلم عناد سامنے آیا جسکا بھرپور فائدہ کاروباری انگریزوں نے اُٹھایا۔ تحریک پاکستان جو علی گڑھ تحریک کی ترقّی یافتہ شکل تھی ایک مجبوری تھی کیونکہ انگریز مسلمانوں کو ہندوستان کے اصل حکمران جان کر پسماندہ اور غلام رکھنے پر تُلے ہوئے تھے۔ ہندو اور مسلمان ایک ساتھ رہنے کے اہل نہیں رہے تھے اور اسکا واحد علاج تقسیم ہی تھا۔ کہتے ہیں کہ گاندھی جی جو ہندوستان کو ہر حالت میں متّحد رکھنے کے خواہشمند تھے وہ بھی اس بات کو اچھّی طرح سمجھتے اور مانتے تھے۔ قائد اعظم سے انکا اختلاف سرسری تھا۔ اب اگر کابل سے لے کر برما تک ہندوستان کو متّحد کیا جائے تو پہلی بات یہ ہے کہ اس کے لئے آئے دن کی شورشوں اور دنگے فساد سے بچنے کے لئے اقتدار کا کوئی مضبوط لائحہ عمل طے کرنا پڑے گا۔ دانشوروں اور اعتباری لوگوں کی مجلس بٹھا کر ہر علاقے میں عوامی نمائیندے مقرّر کئے جائیں جس میں مذہب، تنظیم، معاشی حالت اور تقاریر کا کوئ عمل دخل نہ ہو اور سیاسی تنظیموں کو تمام علاقوں سے صاف کیا جائے۔ ملک کا سربراہ مسلمان مقرّر ہو مگر ایسا نہیں کہ بیرونی حملہ آوروں یا غلط کاروں کو خوش آمدید کہے۔ اگر ایسا ہوا تو جنوبی ایشیا یا متّحدہ ہندوستان نہ صرف ایک عظیم قوّت بلکہ اسلامی دنیا کا بھی مرکز گردانا جائے گا۔ |
|
|
|
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
جناب محمد الیاس صاحب،
السلام علیکم، اتنی اچھی پوسٹپر میری جانب سے ایک درجن مُبارکباد قبول کریں۔ ایسی تحریریں قابل تعریف ہیں۔ |
|
|
|
| shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا | محمد الیاس (09-03-09) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,407
کمائي: 85,616
شکریہ: 4,982
4,949 مراسلہ میں 11,251 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت ہی زبردست مراسلات
|
|
|
|
| wajee کا شکریہ ادا کیا گیا | محمد الیاس (14-03-09) |
![]() |
| Tags |
| Great Empire, Indian Union, Islamic Centre, Super Power, پاک, پاکستان, موجودہ, ایران, اسلام, اسلامی, خوش, خلاف, راستہ, شہر, علی, علاج, صاف, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|