| سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,973
کمائي: 276,822
شکریہ: 33,221
12,660 مراسلہ میں 37,009 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
لاہور میں تیس مارچ کی صبح ساڑے سات بجے پولیس ٹرینگ سنٹر مناواں پر دہشت گردوں کے حملہ کے بعد قبضہ اور پھر ایلیٹ فورس اور دہشت گردوں کے درمیان آٹھ گھنٹے کی اعصاب شکن مقابلہ کے بعد پولیس سنٹر کو دہشت گردوں سے واگزار کرا لیا گیا ہے۔ چند سیکنڈ پہلے تک اس واقع پر مغموم اور سہمی ہوئی قوم خوشی سے جومتی ہوئی سڑکوں پر آگئی اور ذرا ذرا سی خوشیوں کی متلاشی اس قوم کے نوجوانوں نے جہاں جذباتی نعرے لگائے وہاں آئی جی لاہور کو کاندھوں پر اٹھا لیا اور ایلٹ فورسسز اور افواج پاکستان زندھ باد کے نعرے لگائے ۔اور اب انھیں تغمے بھی ملیں گے کہ انھوں نے اپنی بہادری کے جوہر دکھانے ہی کے لیئے تو سیکورٹی کی کوئی پروا نہیں کی اوربڑے آرام سے دہشت گرد گراؤنڈ میںداخل ہوئے ہینڈگر نیڈ پھینکے اور پھر فائرنگ شروع کر دی ۔جیسے باپ کی شادی پر آئے ہوں ۔اس قوم نے ان افسران خاص کے گریبان پکڑ کر یہ کیوں نہ پوچھا کہ ایک ماہ میں لاہور جیسے پرامن شہر میں دہشتگردی کے دوسرے بڑے واقع کا مطلب دہشت گردوں کو کھلی چھٹی دینا نہیں تو اور کیا ہے ۔ملک کے سب سے بڑے صوبہ پر سازش اور چالاکیوں کی آڑ میں تخت نشین ہونے والے بادشاہ کو محلاتی سازشوں اور اختیارات کے حصول کی تگ ودو سے ہی فرصت نہیں ۔اور آقاؤں کی منشاء بھی تو یہیی ہے ۔
صاحبو! ادھر لاہور کے اس خونی واقع میں آٹھ پولیس اہلکار شہید اور پچاس زخمی ہوئے ہیں جب کہ چار دہشت گرد مارے گئے ہیں ۔ ایک ماہ میں لاہور میں ہونے والا یہ دوسرا حملہ ہے قبل ازیں تین مارچ کو لبرٹی چوک میں سری لنکن ٹیم پر افسوس ناک حملہ ہوا تھا جس میں حملہ آور ایک نجی ٹی وی کے جاری کردہ ویڈیو کلپس کے مطابق جس طرح سکون سے اپنی کاروائی کرکے بھاگنے میں کامیاب ہوگئے صوبائی حکومت کے لیئے ڈوب مرنے کا مقام تھا۔ اورجس کے متعلق ابھی تک حکومت صرف تحقیقات مکمل ہونے اور مجرموں کے قریب ہونے کے دعوے ہی کر رہی ہے اور دبے لفظوں میں بیرونی ہاتھ کا اظہار بھی ۔ ہر واقعہ کے بعد یہی لگے بندے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ اور پھر خاموشی کیونکہ حکمران جانتے ہیں کہ اس جذباتی قوم یاداشت کتنی کمزور ہے ۔اسی کمزوری کا ہی تو نتیجہ ہے کہ جنھیں جیلوں اور سمندروں کی سیر کرانے کی ضرورت تھی انھیں مسند اقتدار پر بٹھا دیا گیا ہے ؟۔ صاحبو! پولیس ٹرینگ سنٹر پر دہشت گردوں نے جس دیدہ دلیری اور منظم انداز سے حملہ کیا اور ٹرینی پولیس اہلکاروں کو آٹھ گھنٹے یرغمال بنائے رکھا ۔حکومت کے ہائی سیکورٹی الرٹ کے دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے ۔جب کہ مشیر داخلہ نے لاہور میں وقوعہ کے دورہ کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس واقع کو پاکستان پرحملہ قرار دیا ہے جس میں بیرونی ہاتھ خارج از امکان نہیں اور کہا ہے کہ ایجنسیوں کی اطلاع کے مطابق 25مارچ کو اسی مقام پر دہشت گردوں کے حملہ کی اطلاع تھی ۔جس سے صوبائی حکومت کو آگاہ کردیا تھا ۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ کاروائی طالبان کی ہوسکتی ہے ؟جب کہ بعض دیگر مبصرین اس حملہ کو سری لنکن ٹیم پر پر ہونے والے حملہ کا تسلسل قرار دیتے ہیں ۔تاکہ پاکستان کو غیر مستحکم کر کے اس کو اس حد تک مجبور کر دیا جائے کہ وہ عالمی ساہوکاروں کی ہاں میں ہاں ملانے پر مجبور رہے اور نام نہاد دہشت گردی کی اس ہارتی ہوئی جنگ کو پاکستان کے گلے ڈال کر جان چھڑا لی جائے ۔ جس سے پاکستان میں خانہ جنگی کا سا ماحول پیدا کرنا اور پھر اس بہانے عالمی ساہو کاروں کا پاکستان پر حملہ کر کے اس کے ایٹمی اثاثوں پر قبضہ کرنا ان کا مقصد اولین دکھائی دیتا ہے۔ کیونکہ اوبامہ کے حالیہ خطاب اور افغانستان کے بارے میں اعلان شدہ پالیسی سے یہ بات عیاں ہے کہ وہ افغانستان کی جنگ سے اکتا چکے ہیں اور وہ اس لاحاصل جنگ سے جان چھڑا کر اپنے اصل مقصد کی طرف لوٹتے ہوئے اس جنگ کو مکمل طور پر پاکستان میں منتقل کرنے کی پالیسی وضع کرچکے ہیں ۔ برطانیہ اور امریکی عہدیداروں کی طرف سے سامنے آنے وا لے حالیہ بیانات اور مغربی میڈیا کی تجزیاتی وانکشافاتی روپورٹس تو کم از کم اسی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔ جو ایک پری پلان ہے ۔ جس پر ہمارے حکمران پھولے نہیں سما رہے اور اسے اپنی کامیابی گردان رہے ہیں ۔ کہ وہ امریکی پالیسی میں تبدیلی لانے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور حکمران اس میں میں حق بجانب بھی ہیں کیونکہ اوبامہ کے تازہ اعلان سے ان کی امید بھر آئی ہے اور ڈالروں کی دکھائی جانے والی چمک ان کی آنکھوں کو خیرہ کیئے ہوئے ہے جو انھیں ایک سال سے پہلے دور سے دکھائی جارہی تھی اب ذرا قریب دکھائی دی ہے تو ان کی رال ٹپکنے لگی ہے اسی لیئے تو ان کی زبان جمرود میں مسجد پر ہونے والے حملہ سمیت گزشتہ ایک ماہ میں ہونے والے متعدد دہشت گردی کے واقعا ت پر گنگ رہی ۔کہ یہی آقا کی مرضی تھی ۔ صاحبو !سوات اور جمرود میں ہونے والے امن معائدوں کے بعد پاکستان دشمن عناصر اس آگ کو دوبارہ بھڑکانے کی جس تگ ودو میں تھے جمرود میں مسجد پر ہونے والا خود کش حملہ اس کا واضح اظہار ہے ۔ جس میں اسی سے زائد نمازی شہید ہوگئے اور مسجد صفحہ ء ہستی سے مٹ گئی اور یہ کسی صورت بھی کسی مسلمان کا کام نہیں ہو سکتا ۔اور نہ ہی ہم یہاں راء اور موساد کو نظر انداز کر سکتے ہیں ۔لیکن سری لنکن ٹیم پر ہونے والے حملے سمیت حالیہ پولیس ٹرینگ سنٹرپر حملہ تک ہمارے حکمرانوں کی سوئی اسی جگہ پر ہی آکر رکتی ہے ۔جہاں ان کے پروردہ آقا کی منشاء ہوتی ہے ۔حکمران شائد بھول گئے ہیں کہ ان کے ضمیرتو ڈالروں نے گروی کیئے ہوئے ہیں۔ لیکن اس ملک کے ہر محب وطن پاکستانی کا ضمیر جاگ رہا ہے اور اس قوم نے ہر مشکل وقت میں یہ ثابت بھی کیا ہے کہ وہ اس مٹی کے ایک ایک ذرے کی حفاظت کرنا جانتے ۔اور حکمرانوں کی خود غرضیوں کی یہ روش اگر اسی طرح قائم رہی تو پھر نقلی انقلاب کی جھلک دکھانے والی قوم اصلی انقلاب بھی لا سکتی ہے جب ان کے آقاؤں اور انھیں کہیں جگہ نہیں ملے گی ۔ امریکہ اور اس کے حواری کسی خوش فہمی میں مبتلا ہوکر دھیرے دھیرے جس لاحاصل ٹارگٹ کی طرف بڑھنے کی جسارت کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں وہ تو انشاء اللہ انھیں کبھی حاصل نہیں ہوگا۔تاہم ان کی یہ ناعاقبت اندیش جسارت دنیا کو ایٹمی آگ میں ضرور دھکیل دے گی ۔اس لیئے مغرب کو اب بھی ہوش کے ناخن لے لینے چائیے ۔بھارت اور اسرئیل کی ایجنسیوں کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کی جس پالیسی پر اہل مغرب گامزن ہے اس کا نتیجہ دنیا کی تباہی کے سوا کچھ بھی نہیں جس کا زیادہ نقصان بھی ان ہی کا ہے کیونکہ موت اور وہ بھی شہادت کی مسلمان کا ایمان ہے جبکہ غیر مسلموں کے لیئے زندگی ہی سب کچھ ہے ۔اس لیئے ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کو معاشی طور پر مستحکم کرکے ان بے روزگار نوجوانون کو زندگی کے مثبت دھارے واپس لایا جائے جہاں وہ موت کی نہیں زندگی کی آرزو کرے ۔کیونکہ پاکستانی عوام اب یہ باور کر چکے ہیں کہ ان کے خلاف عالمی سطح پر کیا سازشیں ہورہی ہیں اس لیئے وہ کسی حکمران کی مصلحتوں کو خاطر میں نہیں لائیں گے ۔ بشکریہ یونس مجاز( رائے عامہ ) |
|
|
|
| کمائي نے فیصل ناصر کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 01-04-09 | ام طلحہ | جگ جگ جیو فیصل بھائی | 90 |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,378
شکریہ: 10,920
1,994 مراسلہ میں 4,847 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت ہی خوب ،تو اب کس بات کی کسر ہے ہم کو تو تمغے دینے چاہئیں،ہماری حکومت کو بہت اعلیٰ کام کیا ہے اور اب تو امیدٍ ڈالر بھی پاس آگئی۔انسان اتنے گھٹیا اور ضمیر اتنے بوسیدہ بھی ہوسکتے ہیں۔
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 35
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,385
شکریہ: 8,154
3,795 مراسلہ میں 11,122 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہترین شئیرنگ اور محب وطن پاکستانیوں کے خیالات کی عکاس۔خوش رہیں فیصل بھائی۔اس سے زیادہ ایوارڈ کی اجازت نہیں ملی ورنہ وہ بھی دیتی۔
|
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2008
مراسلات: 665
کمائي: 7,262
شکریہ: 0
370 مراسلہ میں 826 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عالمی نہیں بلکہ اندرونی سازش ہے۔
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,973
کمائي: 276,822
شکریہ: 33,221
12,660 مراسلہ میں 37,009 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 625
کمائي: 11,648
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
لاہور ميں دہشت گردی کے واقعے کے بعد مختلف فورمز پر دی جانے والی آراء کے ضمن ميں قابل توجہ نقطہ يہ ہے کہ دہشت گرد سياسی کردار يا سياسی دائرے کا حصہ نہيں ہوتے اس ليے ان واقعات کو انتقام، سياسی رسہ کشی يا سياسی واقعات کے ردعمل کے زمرے ميں نہيں ڈالنا چاہيے۔ دہشت گردی ايک سنگين انسانی جرم ہے اور اس کی ہر سطح پر شديد مذمت کی جانی چاہيے۔ دانستہ بے گناہ انسانوں کے قتل کی کوئ توجيہ قابل قبول نہيں ہونی چاہيے۔
يہ واقعہ اس عمومی تاثر کی بھی نفی کرتا جس کے مطابق بعض افراد کے نزديک دہشت گردی کے خلاف جنگ محض امريکہ کی ذاتی جنگ ہے۔ جہاں تک اس ضمن ميں "بيرونی ہاتھ" کے حوالے سے بے بنياد افواہوں اور کہانيوں کا تعلق ہے تو اس ضمن ميں آپ آج ٹی وی پر "لائيو ود طلعت" ديکھيں (30 مارچ) جس ميں بيت اللہ محسود کی جانب سے حکومت پاکستان اور پاکستان کے عوام کے نام دھمکی پر مبنی ايک خط کی کاپی دکھائ گئ جس کے يہ الفاظ قابل غور ہيں۔ "ہم پاکستان کے سينے ميں تلوار سے حملہ کريں گے"۔ يہ ياد رہے کہ يہ کسی مغربی ميڈيا کی رپورٹ پر مبنی نہيں ہے بلکہ يہ پاکستانی ميڈيا پر پاکستان کے چند اہم صحافيوں ميں سے ايک طلعت حسين کے پروگرام ميں دکھايا گيا۔ Live with Talat 30th March 2009 - Friends Korner بيت اللہ محسود اور ان کے گروہ ميں شامل دہشت گرد نہ صرف يہ کہ پاکستان ميں موجود ہيں بلکہ انھوں نے پاکستان کے خلاف جنگ کا اعلان بھی کر ديا ہے۔ ان کے الفاظ اور ان کے اعمال سے ان کے ارادے واضح ہيں۔ دہشت گردی کا مذہب سے کوئ تعلق نہيں ہے۔ دہشت گرد محض نوجوانوں کو اپنے گروہ ميں شامل کرنے کے ليے مذہب کو استعمال کرتے ہيں۔ کسی بھی بے گناہ انسان کی جان کا ضياع اس کے مذہب سے قطع نظرانتہاہی قابل مذمت فعل ہے فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov U.S. Department of State |
|
|
|
|
|
#12 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,973
کمائي: 276,822
شکریہ: 33,221
12,660 مراسلہ میں 37,009 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جانے کون لکھتا ہے خط
اور کون کرتا ہے نامعلوم مقام سے فون کیا ثبوت ہے یہ خط اور فون پینٹا گون نے نہیں کئے امریکی حکومت تو ہر حربہ جھوٹ کا استعمال کرتی ہے عراق کی مثال دنیا کے سامنے ہے ممبئی حملے سری لنکن ٹیم حملہ اور مناواں حملے سب ایک ہی طرز کے ہیں اور ان سب کے پیچھے امریکہ اور اسرائیل اور بھارت کا ہاتھ ہے وجہ صرف پاکستان اور کو کمزور کرنا اور اس کی ایٹمی قوت پر قبضہ کرنا اب بیت اللہ محسود کا نام لے کر امریکہ کو کھلی چھوٹ مل گئی جہاں چاہے پاکستان میں حملے کرتا پھرے |
|
|
|
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,777
کمائي: 45,251
شکریہ: 2,024
1,907 مراسلہ میں 6,371 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم،
فیصل اچھی تحریر ہے۔ دوسروں کی جنگ لڑنے کا نتیجہ کچھ اس طرح ہی ہوتا ہے۔ باقی اللہ سب کو راہ حق پہ چلنا نصیب کرے - آمین ! والسلام طاہر |
|
|
|
|
|
#14 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,973
کمائي: 276,822
شکریہ: 33,221
12,660 مراسلہ میں 37,009 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اللہ آپ کی دعا قبول فرمائے
کاش یہ بات سب کی سمجھ میں آئے کے یہ ہماری جنگ نہیں ہے جس میں اب تک ہزاروں جانیں کھوچکی ہیں اور لاکھوں متاثرین ہیں وقت نہیں مل پارہا اس پر ایک تھریڈ ضرور لکھنا چاہتا ہوں "یہ ہماری جنگ نہیں ہے " وسلام |
|
|
|
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,777
کمائي: 45,251
شکریہ: 2,024
1,907 مراسلہ میں 6,371 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہ قطعی طور پر ایک عالمی سازش ہے جس کے تحت پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کیا جارہا ہے؛ اندرونی خلفشار کو ہوا بھی باہر ہی سے دی جاتی ہے۔
پاکستان اس جنگ کا حصہ ضرور تھا مگر اب متاثرین میں سے ایک ہے۔ یہ اسی وار آن ٹیرر نامی فوبیا کا کیا دھرا ہے جس کی سزا ساری دنیا بھگت رہی ہے۔ والسلام طاہر |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| پولیس, پاکستان, پاکستانی, نظر, مکمل, موت, مقابلہ, منتقل, مجرموں, مسجد, ایمان, اللہ, امریکہ, تحریر, حواری, خلاف, زندگی, سیر, سال, شہر, طالبان, صوبائی, صبح, صحافیوں, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|