| سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,264
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
امریکیوں کے طائفے ایک بار پھر ”خالہ جی کے گھر“ تشریف فرما ہیں۔ ملاقاتوں اور مداراتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ سنا ہے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے سینیٹر جان میکین کی قیادت میں امریکی ارکان کانگریس کے وفد کو شرف باریابی بخشا اور انہیں دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ”گزشتہ آٹھ سالوں کے دوران امریکی جنگ کا ساتھ دینے کے باعث پاکستان کوتقریباً 36ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ہمیں کولیشن سپورٹ فنڈ کی ادائیگی میں بھی تاخیر کی جارہی ہے۔
یہ واجب الادا رقم 2ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے ان ادائیگیوں کو دوسرے معاملات سے نہ جوڑا جائے۔ کیوں کہ تاخیر سے دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی متاثر ہورہی ہے۔ امریکہ کو چاہئے کہ 8سال کے دوران پاکستانی معیشت کو پہنچنے والے 36ارب ڈالر کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے ہم پر ڈرون حملے بند کئے جائیں اور پاکستان کو جامہ تلاشی لینے والے ممالک کی فہرست سے خارج کیا جائے“۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اس موقع پر جان میکین نے جنگ دہشت گردی میں پاکستانی تعاون کو سراہا اور رقم کی ادائیگی کے حوالے سے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ امریکیوں کے دوروں اور ہمارے سادہ و معصوم مطالبوں کی داستان بڑی طویل ہے۔ امریکی اسے بچوں کی طفلانہ شوخیاں سمجھ کر لطف اندوز ہوتے رہتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ پاکستان کے قائدین کا سارا جاہ و جلال اپنوں کے لئے ہی ہوتا ہے اور جونہی امریکہ سے معاملہ آپڑے وہ بھیگی بلی کی طرح خر خر کرنے لگتے ہیں۔ ماضی میں ہم کبھی پورے قد کے ساتھ امریکہ کے سامنے کھڑے نہ ہوسکے لیکن یوں زمین پر لیٹ جانے، لوٹ پوٹ ہونے اور لوٹنیاں لگانے کی نوبت بھی نہیں آئی تھی۔ پرویز مشرف نے جب ایک ٹیلی فونک للکار کے بعد اپنا سر امریکی کولہو کے لئے پیش کردیا تو اس نے کوئی ایک شرط بھی نہ لگائی۔ نہ اربوں ڈالر مانگے، نہ قومی عزت نفس کے حوالے سے کوئی حدود متعین کیں اور نہ ہی کسی مرحلے پر رک کر سوچا کہ یہ کروسیڈ پاکستان کو کتنا مہنگا پڑ رہا ہے۔ اگرجناب وزیر اعظم کے کھاتے پر یقین کرلیا جائے تو آٹھ برس میں 36ارب ڈالر کے معنی یہ ہیں کہ ہمیں ہر سال اوسطاً ساڑھے چار ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔ اس رقم کو اس امریکی عطا کے سامنے رکھ کر دیکھئے جسے کیری لوگر بل کہتے ہیں اور جس کے ساتھ مکروہ شرائط کا ایک پلندہ نتھی کردیا گیا ہے۔ ملتان کے سید زادے نے درہم و دام کی لغت میں بات کی ہے اس نقصان کا تخمینہ کون لگائے گا جو ایک قوم کی حیثیت سے ہماری ساکھ، ہماری نفسیات، ہماری فکر اور ہمارے جذبہ و احساس کو پہنچا۔ اس غارت گری کا خوں بہا کس سے طلب کیا جائے جو آئے روز ہمارا مقدر بن رہی ہے؟ کیا 36ارب ڈالر مل بھی جائیں تو وہ پاکستان واپس لایا جاسکے گا جو نائن الیون کے ملبے کا حصہ بن گیا؟ میں جان بوجھ کر غیرت و حمیت، کے الفاظ استعمال نہیں کررہا کہ اس سے کچھ لوگوں کا لہو طیش میں آجاتا ہے لیکن کیا یہ درست نہیں کہ ہم دیکھتے دیکھتے سفید فام مویشیوں کی کھرلی کا چارہ بنادئیے گئے اور آج ہم قرآنی اصطلاح کے مطابق ”کھائے ہوئے بھس“ کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔ اسی بے چہرگی کا ایک پہلو یہ ہے کہ سمندر پار، بالخصوص امریکہ، برطانیہ اور دوسرے یورپی شہروں میں بسنے والے پاکستانی، شدید ریاستی اور سماجی دباؤ میں آگئے۔ یکایک ان کا عرصہ حیات تنگ ہوگیا۔ امیگریشن ضابطوں کی معمولی بے ضابطگیوں پر انہیں ڈی پورٹ کیا جانے لگا۔ وہ بھی اس طرح کہ انہیں ہتھکڑیاں ڈال کر جہازوں کی سیٹوں سے باندھ دیا گیا۔ کئی ایک کوگرفتارکرکے مہینوں پوچھ گچھ کی گئی۔ یہ صورت حال اب بھی جوں کی توں ہے بلکہ اس کی شدت میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔ نوجوان لڑکوں کے والدین ہرآن سولی پہ ٹنگے رہتے ہیں کہ نہ جانے کس لمحے کیا ہوجائے۔ کسی شخص کا مسلمان ہونا گناہ ٹھہرا ہے۔ اگر وہ پاکستانی بھی ہے تو یہ گناہ کبیرہ بن جاتا ہے اور اگر وہ نماز روزے کا پابند ہے، مسجد جاتا ہے اور اس نے اپنے چہرے پر داڑھی بھی سجا رکھی ہے تو وہ ناقابل معافی ہے۔ نائن الیون کے بعد جب مشرف نے اپنی نوکری جاری رکھنے کے لئے امریکہ کی چاکری کو ناگزیر جانا تو اس نے کبھی جھوٹے منہ بھی امریکہ سے نہ کہا کہ پاکستان تمہارا اتحادی ہے اس لئے پاکستانیوں کے ساتھ ایسا ناروا سلوک نہ کرو۔ اس کی اولین ترجیح اپنا اقتدار تھا۔ امریکہ اور برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کو درپیش مسائل کی طرف جب بھی توجہ دلائی گئی، مشرف نے منہ دوسری طرف پھیر لیا اور کبھی پوری توانائی کے ساتھ پاکستانیوں کا مسئلہ نہ اٹھایا۔ مشرف ہی کے دور میں بہت سے اسلامی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو، ان کی سیاسی وابستگیوں کی بناء پر عتاب کا نشانہ بنایا گیا اور وہ خود ہمارے سفیران کرام کی نشاندہی پر ڈی پورٹ کردئیے گئے۔ کئی ممالک نے پاکستانیوں کے لئے شدید ویزا قدغنیں لگادیں۔ پاکستان نے کوئی احتجاج نہ کیا۔ برطانیہ اور امریکہ میں اعلٰی تعلیم کے لئے جانے والے طلبا و طالبات کی تعداد کئی گنا کم ہوگئی۔ پاکستان چپ رہا۔ پاکستان سے جانے والے مسافروں کو غیرانسانی رویے کا نشانہ بنایا گیا، ان سے امتیازی سلوک معمول بن کے رہ گیا لیکن کسی نے آواز نہ اٹھائی۔ اب سید یوسف رضا گیلانی کا یہ التجا کرنا کہ پاکستانیوں کی جامہ تلاشی نہ لو اور انہیں ”برہنہ“ کرنے والی فہرست سے نکال دو، ایک مظلومانہ اور محکومانہ سی عرضی ہے جو وہ نہ گزارتے تو زیادہ اچھا ہوتا۔ غالب نے کہا تھا۔ جس کو ہو جان و دل عزیز، اس کی گلی میں جائے کیوں؟ اور یہ تو جان و دل ہی کا نہیں، غیرت و حمیت (حزب اختلاف سے معذرت کے ساتھ) کا معاملہ ہے۔ اس پر پاکستانی حکومت کو منت سماجت کرنے کے بجائے ایک توانا پالیسی اختیار کرنی چاہئے۔ یہاں ہم کالے شیشوں والی امریکی گاڑیوں کے اندر جھانک بھی نہیں سکتے۔ ذرا دیر کو کسی ناکے پر گاڑی روکی جاتی ہے تو پورے پاکستان میں ارتعاش پیدا ہوجاتا ہے اور جانے کون کون جائے واردات پر پہنچ جاتے ہیں۔ جب تک یہ غلامانہ روش تبدیل نہیں ہوتی، اس وقت تک نہ پاکستان محترم ٹھہرے گا نہ پاکستانی۔ ہم وہ زیاں کار قبیلہ ہیں جوہر سال ساڑھے چار ارب ڈالر اس بے ننگ و نام جنگ میں جھونک رہا ہے اور امریکہ سے ڈیڑھ ارب پانے کے لئے مکروہ شرائط قبول کررہا ہے۔ اگر وفاقی وزیر میر اسرار اللہ زہری امریکہ نہیں جائیں گے تو کوئی بھونچال نہیں آئے گا۔ ان کی حمیت کی انگڑائی شاید کوئی انقلاب نہ لاسکے لیکن ایسے اشارے آنے چاہئیں۔ وزیر اعظم گیلانی کو سوچنا چاہئے کہ ان کی حکومت نے اب تک امریکی غلامی کا وہ جوا کیوں گردن میں ڈال رکھا ہے جو ایک آمر نے اپنی آمریت کی بقاء کے لئے ڈالا تھا۔ ڈرون حملوں کو اگر روکنے کی سکت نہیں تو یہ دست بستہ درخواستیں بھی کیوں؟ سید زادے کو معلوم ہونا چاہئے کہ اگر حکمران بھی قومی عزت نفس کے پر عزم تحفظ کے بجائے، محض عرضیاں گزارنے پہ آجائیں تو اسے محض فریب فکر و نظر ہی خیال کیا جائے گا۔ فریب فکر و نظر,,,,نقش خیال…عرفان صدیقی
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (10-01-10), رفیّعہ جوََِِأد (11-01-10) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,974
کمائي: 276,903
شکریہ: 33,221
12,661 مراسلہ میں 37,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
امریکہ ہمارا دوست ہے
اور دوستوں کی ساری کج ادائیاں برداشت کی جاتی ہیں |
|
|
|
|
|
#3 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,264
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بکنے پر جب آ ہی گئے تھے اونچے مول تو بکتے ہم
ہم کو ہمارے رہبر لیکن ارزاں بیچ کے آئے ہیں |
|
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | فیصل ناصر (10-01-10) |
|
|
#4 | ||
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,264
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اپنی تباہیوں میں جب اپنا ہی ہاتھ ہو
پھر دشمنوں کے واسطے کیا بد دعا کریں |
||
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (10-01-10), رفیّعہ جوََِِأد (11-01-10) |
![]() |
| Tags |
| search, پاکستان, پاکستانی, ڈی پورٹ, وزیر, قرآنی, نوکری, نماز, نظر, مسائل, مسجد, معلوم, معذرت, اللہ, امریکہ, احتجاج, اسلامی, بچوں, تعلیم, حال, خلاف, داڑھی, زہری, شخص, عزت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|