واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


ضیاء الحق کے ساتھ چند ملاقاتیں,,,,قاضی حسین احمد

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 07-01-10, 06:19 PM   #1
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,264
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ضیاء الحق کے ساتھ چند ملاقاتیں,,,,قاضی حسین احمد

ضیاء الحق کے ساتھ چند ملاقاتیں,,,,قاضی حسین احمد

مرحوم صلاح الدین صاحب کے ذریعے ایک مرتبہ جناب ضیاء الحق کی طرف سے ملاقات کی خواہش کا اظہار ہوا ۔ ان دنوں میں جماعت اسلامی کا قیم (سیکرٹری جنرل )تھا اور یہ افغان جہاد میں حکومت پاکستان کی دلچسپی کے اوائل تھے۔ امیرجماعت جناب میاں طفیل محمد صاحب کو مطلع کرنے اور ان کی اجازت کے بعد ملاقات کا وقت طے ہوا۔ جماعت اسلامی کی ایک پرانی ماڈل گاڑی میں جماعت کے عمر رسیدہ ڈرائیور بابا مہتاب دین کے ساتھ راولپنڈی کے ملٹری ہاؤس میں پہنچے۔
معلوم ہوا کہ ایک بہت ہائی پروفائل ملاقات ہے جس کو بڑی اہمیت دی گئی ہے اور ملاقات میں جناب صدر ضیاء الحق کے ساتھ جنرل اختر عبدالرحمن اور جنرل کے ایم عارف بھی موجود ہیں۔ایجنڈا افغانستان کا جہاد ہے ۔ جہاد افغانستان کے موضوع پر مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے میری بریفنگ لینے کے بعد مجھے پیشکش کی گئی کہ جہاد افغانستان میں مجاہدین کے ساتھ رابطے اور ان کے مسائل پر مشتمل امور میرے سپرد کردیئے جائیں جہاں کوئی مشکل پیش ہو میں اختر عبدالرحمن یا جنرل کے ایم عارف سے بات کروں اور اگر یہاں بھی مشکل پیش ہو تو براہ راست جنرل ضیاء الحق سے رابطہ کروں ۔

میں نے مشورہ کرنے کی اجازت چاہی اور رخصت لے کر باہر نکلنے لگا تو جنر ل ضیاء الحق صاحب اپنے دو سینئر رفقاء کے ساتھ مجھے رخصت کرنے کے لئے باہر آئے ۔ میں بابا مہتاب دین ڈرائیور کی برابروالی فرنٹ سیٹ پر بیٹھا اور تین سینئر جرنیلوں نے سلام کرکے مجھے رخصت کیا۔

جنرل ضیاء الحق کا یہ طریق واردات تھا کہ جس شخص کو ساتھ ملانا چاہتے اسے بظاہر اتنی اہمیت دیتے کہ وہ سمجھنے لگ جائے جیسے اسے بادشاہت میں شریک کرلیا گیا ہے لیکن میں نے احتیاط سے کام لیا۔ امیرجماعت جناب میاں طفیل محمد صاحب کو رپورٹ دی اور اپنی اس رائے کا اظہار کیا کہ ہمیں کسی حالت میں بھی کسی حکومتی ادارے کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ انہوں نے اس سے اتفاق کیا اور حکومت کا حصہ بننے سے بچ گئے ۔ البتہ افغان مجاہدین و مہاجرین کی خدمت میں جماعت اسلامی کی پوری قیادت پورے اخلاص کے ساتھ سرگرم عمل رہی ۔ پوری دنیا سے جماعت اسلامی کے بہی خواہ امدادی سامان پہنچا تے رہے اور ہمارے کارکن رضا کارانہ طور پر افغان مہاجرین کے ایک ایک خیمہ تک ان کی ضروریات کا سامان منظم طریقے سے تقسیم کرتے رہے ۔ حکومتی اہلکاروں کے ساتھ افغان مجاہدین کی قیادت کا رابطہ براہ راست استوار ہوا ہم نے کسی ایجنسی یا ادارے کا آلہ کار بننے سے احتراز کیا۔

دوسری ملاقات کا ذکر :
ایران کے موجودہ رہبر علی خامنائی ایران کے صدر کے طور پر پاکستان کے دورے پر تھے۔ جناب سجاد حسین قریشی (شاہ محمود قریشی کے والد گرامی ) پنجاب کے گورنر تھے ۔ ایرانی صدر کے اعزاز میں گورنر کے عشائیے سے ہم فارغ ہوگئے تھے اور نیچے احاطے میں اپنی گاڑی کا انتظار کررہے تھے ۔ میاں طفیل محمد صاحب امیرجماعت اسلامی پاکستان ،جناب چوہدری رحمت الہٰی صاحب نائب امیر کے ساتھ تیسرا ساتھی میں تھا۔ اسی دوران جناب گورنر صاحب ہمارے پاس آئے اور میاں طفیل محمد صاحب سے درخواست کی کہ صدر ضیاء الحق صاحب اپنے جہاز کے انتظار میں ہیں اس لئے کچھ وقت ہے اور اگر ہم یہ وقت ان کے ساتھ گزارسکیں تو بہتر ہوگا۔ ان دنوں یہ افواہ ہر خاص وعام میں پھیلی ہوئی تھی کہ صدر صاحب میاں طفیل محمد صاحب کے قریبی عزیز ہیں ۔ اگرچہ اس افواہ میں کوئی صداقت نہیں تھی ۔ لیکن میاں صاحب نے کبھی زور و شور سے ان کی تردید نہیں کی ۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ صدر ضیاء الحق کی بعض انفرادی شخصی خوبیوں کی وجہ سے میاں صاحب انہیں پسند کرتے تھے ۔

ہم اندر کمرے میں گئے ۔ ضیاء الحق صاحب کے ساتھ ملاقات اور بات چیت ہوئی ۔ میاں طفیل محمد صاحب نے بعض پبلک امور کے بارے میں شکایت کی لیکن صدر صاحب نے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ آپ لوگوں نے میری بات نہیں مانی ۔ اب یہ معاملات آپ لو گ جونیجو صاحب کے نوٹس میں لاتے رہیں جو آپ کے منتخب وزیراعظم ہیں ۔ جناب ضیاء الحق صاحب نے یہ بات ایسے پیرائے میں کہی جیسے کہ وہ انتخابات اور اس کے نتائج سے دل برداشتہ ہیں۔ اس پر میں نے عرض کی کہ جناب صدر میں صاف بات کرنے کا عادی ہوں اور یہ جاننا چاہتاہوں کہ انتخابات کے متبادل آپ کے ذہن میں کیا خاکہ تھا۔ جناب ضیاء الحق صاحب نے فرمایا کہ میں تو ملک کے اچھے دیانتدار اور امین لوگوں کی ایک شوریٰ بناناچاہتاتھا۔ لیکن آپ لوگوں نے اس سے اتفاق نہیں کیا اور بالغ رائے دہی کی بنیاد پر انتخابات کا مطالبہ کرتے رہے۔ یہاں یہ بات آپ کے علم میں لاتا چلوں کہ ضیاء الحق نے اپنی نامزد شوریٰ کے لئے جو تین سوافراد پر مشتمل تھی جماعت اسلامی سے ساٹھ60 لوگوں کی نامزدگی کی پیشکش کی ۔ جماعت کی شوریٰ نے اس تجویز پر غور کیا اور اس پیشکش کو مسترد کردیا جس سے جنرل ضیاء الحق دل برداشتہ تھے۔ میں نے صدر صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ لوگ پوچھتے ہیں کہ اگر آپ کے ذہن میں دیانتدار اور امین لوگوں کی شوریٰ کا نقشہ تھا تو صوبوں کے گورنروں ،پولیس اور انتظامیہ کے اعلیٰ ترین افسروں اور حساس اداروں کے سربراہوں کے تعین میں کیوں وہ معیار سامنے نہ رکھاگیا۔ جوآپ کا صوابدید ی اختیار تھا اور کوئی آپ سے پوچھنے والا بھی نہیں تھا۔صدر صاحب نے جواباً کہا کہ وہ لوگ کوئی ایسے برے بھی نہیں تھے اس پر میں نے عرض کیا کہ یہی طبقہ پاکستان کی ابتداء سے تمام امور کا ذمہ دار ہے۔ خرابیاں ان کی پیدا کردہ ہیں اور اگر آپ انہیں تبدیل کرکے دوسرا گروہ متعارف نہیں کرسکے یا آپ کے پاس نہیں ہے تو نہ انتخابات اور نہ تقرریوں کے ذریعے امین اور دیانتدار قیات کا خواب شرمندہ ہوسکتاہے۔

ضیاء الحق صاحب کے ساتھ ایک تیسری ملاقات جو آرمی ہاؤس میں میاں طفیل محمد صاحب کی قیادت میں جماعت اسلامی کی مرکزی لیڈر شپ کی ہوئی ۔ اس میں بھی جب ضیاء الحق صاحب کے سامنے اصلاح احوال کا پورا منصوبہ پیش کیا گیا تو انہوں نے صفائی کے ساتھ کہا کہ اگر تمہاری یہ ساری باتیں تسلیم کرلوں تو فوج میں میرے ساتھی جنرل مجھے اٹھا کر ٹوپی باغ میں ڈال دیں گے ۔ یہ اس بات کا اعتراف تھاکہ سپہ سالا ر فوج کے مجموعی ڈسپلن کے مطابق ہی کچھ تھوڑی بہت تبدیلی لاسکتاہے پورے نظام کو یکسر تبدیل کرنا اس کے بس کی بات نہیں ہے ۔ ہمارے ملک کا سسٹم اینگلوسیکسن سسٹم ہے۔ قانون ، فوج ،انتظامیہ اس ڈگر پر چل رہے ہیں ۔ ظاہری اور نمائشی اقدامات تو کئے جاسکتے ہیں لیکن اس پورے استعماری ڈھانچے کو گرانے اور ایک نیا انقلابی ڈھانچہ استوارکرنے کے لئے ایک عوامی انقلاب کی ضرورت ہے۔آئی ایس آئی کے کرنل اسلم بودلہ جو جہادافغانستان کے ابتدائی دنوں میں میرے ساتھ رابطے میں تھے اور بعد میں بریگیڈیئر اسلم بودلہ بنے، ایک بار مجھ سے کہنے لگے کہ ہمارے فوجی جرنیلوں میں اسلامی عادات اور خصائل کے لحاظ سے سب سے اچھا نمونہ جنرل ضیاء الحق کا ہے اور اگر یہ بھی آپ لوگوں کے معیار پر پورا نہیں اترا تو اس کا مطلب ہے کہ فوج کے ذریعے آپ کے مقاصد کبھی حاصل نہیں ہوں گے ۔ یہی اسلم بودلہ صاحب روسی زبان بھی جانتے تھے ۔ ابھی حیات ہیں ۔ انہیں جنرل ضیاء الحق صاحب ایک بار صدر ٹیٹوکے ملک یوگوسلاویہ میں ساتھ لے گئے تھے ۔ یوگوسلاویہ جیسے کہ آپ کو معلوم ہے آرتھوڈوکس کرسچین یعنی سرب ، کیتھولک کرسچین ،یعنی کرواٹس اور بوسنین مسلمانوں کی آبادی پر مشتمل تھا۔(Serb,Croats, Bosnian Muslims)۔ یہ تینوں قوتیں بظاہر ایک سوشلسٹ نظام میں مل جل کررہتے تھے ۔ ضیاء الحق صاحب نے ان کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کے لئے بریگیڈئیراسلم بودلہ کو یوگوسلاویہ میں پیچھے چھوڑد یا کہ سلاوک زبان سے واقف تھے تاکہ تفصیلی مطالعہ کرکے حکومت پاکستان کے مختلف علاقوں کے لوگوں کو باہم شیر وشکر کرنے اور ایک مضبوط اتحاد میں پرونے کے لئے سفارشات تجویزکریں۔

بریگیڈئیر اسلم بودلہ صاحب بڑے انہماک سے اپنے کام میں لگ گئے دس پندرہ روزمیں یوگوسلاویہ کے افسران کے ساتھ بے تکلف ہوگئے ۔ انہوں نے انہیں بتایا کہ آپ جس ملک کے تجربات سے استفادہ چاہتے ہیں یہ تو اندر سے کھوکھلا ہے اور بکھرنے والا ہے۔

چنانچہ آپ کے علم میں ہے کہ سرب کرواٹس اور بوسنینزالگ الگ ہوچکے ہیں بلکہ الگ ہونے کے بعد بھی تینوں حصوں میں آپس میں ایک دوسرے کے لئے مشکلات پیدا کررہے ہیں۔ہمارے حکمران اب تک اس حقیقت سے آگاہ نہیں ہوسکے جو مفکر پاکستان حضرت علامہ اقبال  نے انہیں سمجھایا تھا #
اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
ان کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار
رشتہ توحید سے قائم ہے جمعیت بڑی
بلوچ ،پختون ،سندھی ،مہاجراور پنجابی کو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے رشتے میں پرو کر ایک قوم بنایاجاسکتاہے ۔
در دل مسلم مقام است آبروئے ماز نام مصطفی
درشبستان حراخلوت گزید قوم وآئین وحکومت آفرید
ازکلید دین در دنیا کشا د ہمچو او بطن ام گیتی نہ زاد
مسلمان کے دل میں مصطفی کا مقام ہے ۔ ہماری آبروان کے نام نامی سے ہے ۔ انہوں نے حرا کی تاریکی میں خلوت اختیار کی ۔ حرا سے نکل کر قوم بنائی ،آئین بنایا ،حکومت بنائی ۔ دین کی چابی سے دنیا کا دروازہ کھولا ۔ ان کی طرح کا کائنات میں دوسرا کوئی پیدا نہ ہوا ۔

ضیاء الحق کے ساتھ ایک دلچسپ ملاقات اس وقت ہوئی جب مختلف عرب ممالک سے آئے ہوئے اسلامی تحریکوں کے بزرگوں نے مجھے اپنے ساتھ چلنے کے لئے کہا ۔ ضیاء الحق سے ملاقات کا وقت ان لوگوں نے خود ہی نے کیاتھا اور ایجنڈہ بھی انہی کے علم میں تھا میں ان کی ترجمانی کے لئے ان کے ہمراہ چلا گیا۔ ضیاء الحق نے سب کا استقبال کیا لیکن میرے ساتھ خصوصی تپاک سے ملے۔ ان کے ساتھ میری بے تکلفی اور آزادانہ گفتگو کا انداز دیکھ کر عرب زعماء حیرت زدہ تھے۔

ان کے ہاں کے حکمرانوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہیں خصوصی آداب کا لحاظ کرنا پڑتاہے ہمارے ہاں ایک صدی کی سیاسی جدوجہد کا یہ فائدہ ہے کہ حکمران اپنے ملک کے سیاسی لیڈروں کا احترام کرتے ہیں۔
بات چیت شروع ہوئی تو احتیاط اور تکلفات کی وجہ سے وہ اپنا مدعا بیان کرنے میں ہچکچا رہے تھے وہ کہنا یہ چاہتے تھے کہ عبدالرسول سیاف کو افغان مجاہدین کا واحد نمائندہ قرار دیا جائے ۔ حکومت پاکستان کی پالیسی یہ تھی کہ افغانوں کی طر ف سے بات کرنے کا حق ان کے پاس رہے اور افغان قیادت آپس میں بٹی رہی ۔

میں نے واضح اور صاف الفاظ میں ضیاء الحق صاحب سے کہاکہ اس وفد کا اصل مقصد یہ ہے کہ آپ عبدالرسول سیاف کو افغانوں کا واحد نمائندہ بنادیں۔ ضیاء الحق صاحب نے میری بات پر اپنا سر پیچھے کی طرف جھٹک کر کہا اللہ وکیل جس کا مطلب یہ اشارہ دیناتھا کہ یہ ممکن نہیں ہے ۔
ملاقات کے بعد عرب شیوخ نے مجھ سے شکایت کی کہ تم نے خود اپنی طرف سے مطالبہ کرنے کے بجائے کہاکہ یہ لوگ کہتے ہیں اور اپناوزن ہمارے پلڑے میں نہیں ڈالا۔ان کے خیال میں چونکہ میں گلبدین حکمت یار کے حق میں تھا اس لئے میں نے ارادتاً کہاکہ یہ لوگ مطالبہ لے کر آئے ہیں۔

میں نے عرب دوستوں سے کہاکہ میری حیثیت آپ کے ترجمان کی تھی اس لئے میں آپ کی طرف سے بات کرسکتاتھا۔ شاید عرب زعماء کو پہلی مرتبہ ایک جمہوری معاشرہ میں اسلامی تحریک کے سربراہ کی اہمیت کا احساس ہوا اور عوام کے نمائندے اور بادشاہ کے نمائندے کا فرق ان کی سمجھ میں آگیا۔


ضیاء الحق کے ساتھ چند ملاقاتیں,,,,قاضی حسین احمد
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم (26-03-10)
جواب

Tags
پاکستان, پسند, وزیراعظم, موجودہ, منصوبہ, ممکن, متعارف, محبت, مسائل, معاشرہ, معذرت, آبادی, اللہ, انتظامیہ, اسلامی, اعلیٰ, بادشاہت, توحید, خصوصی, درخواست, رشتے, شخص, علی, عزیز, صدر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ایڈمرل مائیک مولن اسلام آباد پہنچ گئے فوجی و سیاسی رہنماﺅں کے ساتھ ملاقاتیں کرینگے گلاب خان خبریں 0 15-12-10 06:36 AM
مہنگائی کا سیلاب، گھی، دالیں، چاول اور سبزیوں کی قیمتیں مزید بڑھ گئیں گلاب خان خبریں 1 03-11-10 04:40 AM
لڑائی کی باتیں کرنے والے سندھ کے غدار ہیں ،عوام کا مینڈیٹ تسلیم کرنا ہوگا،الطاف حسینلڑائی کی باتیں کرنے والے سندھ کے غدار ہیں ،عوام کا مین عبدالقدوس خبریں 0 26-02-08 03:27 AM
لبرل اور جمہوری قوّتیں ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو جائیں، الطاف حسین عبدالقدوس خبریں 0 22-10-07 06:45 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:33 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger