| سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2008
مراسلات: 606
کمائي: 10,933
شکریہ: 360
466 مراسلہ میں 1,306 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلام آباد (رؤف کلاسرا) 8 سال تک پاکستان میں حکومت کرنے کے بعد اپنی واپسی سے پہلے سابق وزیراعظم شوکت عزیز خاموشی سے ڈیڑھ کروڑ روپے مالیت کے بیرونی ممالک سے ملنے والے 395 قیمتی تحائف جن میں دھاری دار خنجر، ہیرے، تاج، بریسلٹس، نیکلسز، سونے کے سکوں کے جوڑے، جیولری، گالف کٹس، رپیٹر گنز، جیولری باکسز، گولڈ پلیٹڈ تاج، ہیروں اور سونے سے بنے کانٹے، موبائل فونز، 6 عدد ہاتھ پر باندھنے والی گھڑیاں وغیرہ شامل ہیں، ساتھ لے گئے۔ کیبنٹ ڈویژن سے ملنے والی دستاویزات کے مطابق ان تحائف کی قیمت کیبنٹ ڈویژن کی لگائی گئی قیمت سے بہت زیادہ ہے۔ برطانوی وزیراعظم کی بیوی سے ملنے والا ایک ہینڈ بیگ مضحکہ خیز طور پر صرف 300 روپے کا بتایا گیا یا اس سے بھی کم دو پاؤنڈ کا، جو وزیراعظم کی اہلیہ رخسانہ کو مفت دیئے گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان بریسلٹس اور نیکلسز کو خاموشی سے سابق وزیراعظم کو اس وقت دیا گیا جب دو مرتبہ کی وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو شہید کو اپنے دور میں ایک فرم سے صرف نیکلس لینے پر سوئٹزر لینڈ کی عدالتوں میں گھسیٹا جا رہا تھا اور آصف زرداری و یوسف رضا گیلانی کو پاکستان میں احتساب کے نام پر نیب عدالتوں میں پیش کیا جا رہا تھا۔ شوکت عزیز چار قیمتی خنجر اور بیرونی ساختہ ایک ری پیٹر جو ان کو حکومت اومان سے ملی تھی بھی ساتھ لے گئے جن میں ہر ایک کی مالیت 10 لاکھ روپے تھی۔ بہرحال ذرائع کہتے ہیں کہ ان تحائف کی قیمت عام قیمت سے بہت کم لگائی گئی تاکہ یا تو وہ انہیں بغیر پیسوں یا برائے نام پیسے دے کر لے جائیں۔ اومان سے ملنے والی پرفیوم کی چار بوتلوں کی قیمت 2500 روپے فی کس لگائی گئی تاکہ وہ اضافی پیسے نہ دیں حتیٰ کہ چینی وزیراعظم سے ملنے والے تحفے کی قیمت مضحکہ خیز طور پر 350 روپے لگائی گئی۔ ملائیشین وزیراعظم سے ملنے والی نکٹائی 400 روپے، امپورٹڈ شرٹ 1000 روپے قیمت لگا کر بلامعاوضہ سابق وزیراعظم کو دی گئی۔ سابق وزیراعظم نے سونے کے سکے، نیکلسز، قیمتی گھڑیاں، جیولری، ہیرے، تاج اور دیگر قیمتی اشیاء کو حاصل کرنے کے لئے صرف 15 لاکھ روپے دیئے۔ قانون کے مطابق صدر، وزیراعظم یا کوئی وزیر تحفہ اسی وقت بلامعاوضہ اپنے پاس رکھ سکتا ہے جب اس کی قیمت خاص فارمولے سے کم ہو لیکن سابق وزیراعظم نے قیمتی تحائف بلامعاوضہ اپنے پاس رکھے۔ اردن کے پرنس حسن بلال طلال سے ملنے والے تحائف کی قیمت فی کس 170 روپے لگائی گئی جو سابق وزیراعظم بلامعاوضہ لے گئے۔ سعودی بادشاہ تحائف دینے میں بڑے سخی ثابت ہوئے۔ انہوں نے 10 لاکھ مالیت کی نیکلس، بریسلٹ دو لاکھ 64 ہزار، دو لاکھ 54 ہزار کے کانٹے اور 73 ہزار 650 روپے کی انگوٹھی دی۔ شوکت عزیز نے ان اشیاء کو لینے کے لئے صرف دو لاکھ 43 ہزار روپے دیئے۔ برونائی کے بادشاہ نے لاکھوں روپے مالیت کے 8 تحائف، بحرین کے وزیراعظم نے لاکھوں کی رولیکس سمیت متعدد تحائف دیئے جو شوکت ساتھ لے گئے۔ ایران، سری لنکا، بھارت، جاپان، موریشس، بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ، ہالینڈ، دوبئی بینک، ملائشیاء، انقرہ کے میئر، سارک، افغان صدر کرزئی، چیک ری پبلک، تھائی لینڈ، امام رضا کے مزار کے متولی، مصر کے آرٹک گروپ، چین کے وزیراعظم، برونائی، کرغیزستان، بینکاک کے بینک، ترکی کے ایک کنٹریکٹر، وزیراعظم ترکی، بھارتی نیوز پیپر سوسائٹی، بنگلہ دیشی حکومت اور پرائیویٹ اداروں، اٹلی کے وزیراعظم، کویت کے وزیر خارجہ، سی این این میڈیا، کمانڈر نیشنل گارڈ بحرین، سمی کارپوریشن، ڈائیوو کارپوریشن، ہنڈائی کارپوریشن، شنگریلا ہوٹل، مہاتیر محمد کی بیوی، تھائی لینڈ کے وزیراعظم، سام سنگ کے کنٹری منیجر، تھائی لینڈ کے نائب وزیر، انڈونیشیا کے صدر، بھوٹان کے وزیراعظم، یو اے ای کے صدر، جرمنی کے وزیر دفاع، کویت کے سرمایہ کاروں، امریکی وزیر دفاع، ایرانی وزیر خارجہ، آسٹریلوی وزیراعظم، سپین کے وزیر دفاع، سٹی گروپ امریکہ، امریکی چیمبر، جارج بش، ترکی کے سفیر، برطانوی وزیر، اداکار بن کنگسلے، کشمیری وفد، لاہور چیمبر، وزیراعظم برطانیہ، امریکی چیئرمین آف جوائنٹ سٹاف کمیٹی، حکومت سندھ، چیئرمین اے ٹی جی، برطانوی طلبہ کے وفد، برطانوی وزیر اعظم کی بیوی، فیصل آباد سے ایم این اے عاصم نذیر، سری لنکا کے صدر، سعودی عرب کے ولی عہد، ازبکستان کے سفیر اور صدر، جنوبی افریقہ کی وزارت دفاع، انڈونیشیا کے صدر، وزیراعظم ملائیشیا، قبرص کے وزیر خارجہ اور وزیراعظم، قبرص کی اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر، جمہوریہ ہیلنسکی کے وزیراعظم، سعودی عرب کے المشعل گروپ، قطر کے وزیراعظم اور بحرین کی شاہی فوج کے کمانڈر سمیت دیگر حکومتوں، پرائیویٹ اداروں اور افراد سے شوکت عزیز کو لباس، سونے کے سکے، خنجر، تصاویر، شالیں، پتھر، سی ڈیز، کرکٹ بیٹ، اجرکیں، پیپر ویٹ، ڈنر سیٹ، کتابیں، سلور ٹریز، قالین، فریم شدہ قرآنی احادیث، پروفیومز، آیئنے، پھول، تکیے اور دیگر بے شمار اشیاء ملیں جو وہ نہایت کم یا بغیر قیمت اپنے ساتھ لے گئے۔ دی نیوز نے لندن میں شوکت عزیز سے رابطہ کرنے کی کوشش کی جس پر ان کے ترجمان نے بتایا کہ سابق وزیراعظم نے تحائف کی صرف وہی چیزیں اپنے پاس رکھی ہیں جس کی اس وقت کے قانون کے مطابق اجازت تھی۔ لہٰذا ہم کون ہوتے ہیں جو قانون کیساتھ بحث کریں۔
__________________
حکمران کے محبوب ہونے اور فرعون بننے میں رویے کا فرق ہے۔ |
|
|
|
| راشد احمد کا شکریہ ادا کیا گیا | مباح (05-07-09) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2008
مراسلات: 606
کمائي: 10,933
شکریہ: 360
466 مراسلہ میں 1,306 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شوکت عزیز 393 نہیں 736تحائف ساتھ لے گئے
اسلام آباد (رؤف کلاسرا) ارب پتی شوکت عزیز اپنے ساتھ جو تحائف لندن لے گئے ہیں ان کی اصل تعداد 393 نہیں بلکہ736 ہے۔ تحائف کی اصل مالیت 10کروڑ روپے ہے جبکہ سابق وزیراعظم نے ڈھائی کروڑ دیئے۔ شوکت عزیز کے ترجمان کے مطابق سابق وزیراعظم نے مروجہ پالیسی کی خلاف ورزی نہیں کی اور قانونی طور پر تحائف اپنے پاس رکھے۔ ان تحائف میں ایک درجن نیکلس‘ (18 قیراط) سونا‘ طلائی سکے‘ موتی‘ تاج‘ ہیرے‘ رولیکس گھڑیاں‘ بریسلٹس‘ قالین اور چین کی طرف سے دےئے گئے پانڈے شامل ہیں۔ انہوں نے کیبنٹ ڈویژن کے کرتے دھرتاؤں کی مدد سے ان کی انتہائی کم قیمت لگوائی۔اس بات کا انکشاف سابق وزیراعظم کی طرف سے 3 سالہ دور کے دوران رکھے گئے غیر ملکی تحائف کے بارے میں جاری کی گئی نظرثانی شدہ اور تازہ ترین فہرست میں کیا گیا ان میں سے اکثر انہوں نے بلاقیمت یا ٹوکن قیمت ادا کر کے اپنے پاس رکھے۔ایک ذریعے نے بتایا کہ غیر ملکی سربراہان کی طرف سے دےئے گئے ان 736 تحائف کی اہمیت کو مدنظر رکھ کر کھلی مارکیٹ میں قیمت 100 ملین روپے ہو چکی ہے لیکن ان کی قیمت محض 25 ملین لگائی گئی تاکہ 7 ارب روپے کے اعلان شدہ اثاثوں کا حامل اور ہماری تاریخ کا اہم ترین وزیراعظم ان کو بلاقیمت اپنے پاس رکھ سکے۔ نئی فہرست کے مطابق شوکت عزیز نے 3 تحائف توشہ خانہ میں جمع کرائے جبکہ 733 تحائف / جنوری 2008ء میں اپنے ساتھ لندن لے گئے تاکہ لندن‘ دبئی اور امریکا میں اپنی رہائش گاہوں کو سجا سکیں۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق مسٹر کلین نے ایک سکارف بھی بلامعاوضہ / قیمت اپنے پاس رکھا جو گورنر نیپال نے گفٹ کیا تھا اور اس کی قیمت محض 25 روپے لگائی گئی اس قیمت پر تو لنڈا مارکیٹ میں پاکستان کا بنا ہوا سکارف بھی نہیں مل سکتا اور گورنر نیپال کے تحفے کی تو بات ہی کیا اس سکارف کی قیمت کم لگانے پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ فہرست کی تازہ ترین فہرست سے انکشاف ہوتا ہے کہ شوکت عزیز نے شہزادہ چارلس اور ان کی اہلیہ کی طرف سے اپنے دورہ پاکستان کے موقع پر گفٹ کئے گئے جیولری باکس کو 2 ہزار روپے (14 پاؤنڈز) میں حاصل کیا اگر رائل جوڑے کو یہ علم ہو جائے کہ شوکت عزیز نے ان کے تحفے کو بلاقیمت اپنے پاس رکھنے کے لئے کس طرح قیمت لگائی تو وہ شرمندگی محسوس کرے گا۔ بدھ کے روز دی نیوز نے خبر دی تھی کہ ٹونی بلیئر کی اہلیہ نے شوکت عزیز کو ایک ہینڈ بیگ دیا تھا اس کی قیمت 3 سو روپے لگائی گئی تاکہ شوکت عزیز کی اہلیہ اسے بلاقیمت اپنے پاس رکھ سکے۔ تازہ ترین فہرست کے مطابق لیڈی ڈیانا کے سابق محبوب کے والد کے ملکیتی سٹور سے 4 بال پوائنٹس خریدی گئیں اور شوکت عزیز کو گفٹ کی گئیں ان بال پوائنٹس کی قیمت بھی محض 200 روپے (یعنی ڈیڑھ پاؤنڈ) لگائی گئی‘ چینی وزیراعظم نے رخسانہ عزیز کو ایک پانڈا تحفے میں دیا اس کی قیمت بھی صرف 1500 روپے لگائی گئی دورئہ چین کے موقع پر شوکت عزیز کو ایک جیولری باکس (جس پر موتیوں کی ماں تحریر تھا) تحفے میں ملا اس کی قیمت بھی صرف 6500 روپے لگائی گئی اور یہ بھی انہوں نے بلاقیمت اپنے پاس رکھ لیا۔ قبل ازیں دی نیوز نے بدھ کے روز خبر دی تھی کہ شوکت عزیز اپنے 3 سالہ دور کے دوران 393 تحائف لئے لیکن تازہ ترین فہرست سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان تحائف کی تعداد پہلی تعداد سے دوگنا ہے اور اس طرح اس نامہ نگار کی خبر کی تصدیق ہو گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان پر حکمرانی کرتے ہوئے شوکت عزیز دعویٰ کرتے تھے کہ وہ حکومت سے تنخواہ نہیں لیتے تاکہ سرکاری خزانے پر بوجھ نہ پڑے لیکن اب ظاہر ہو گیا کہ وہ 25 ملین روپے تحائف مفت لے جانے کے بجائے بہتر تھا کہ ہر ماہ ایک لاکھ روپے (3 برسوں میں 3.6 ملین روپے) تنخواہ لے لیتے۔ اسی طرح وزیراعظم بننے کے فوری بعد شوکت عزیز نے اپنے وفادار وزراء‘ سیکرٹریوں اور عہدیداروں کے بریگیڈ کے ہمراہ عمرہ ادا کیا اب یہ عہدیدار اور وزراء اپنے پسندیدہ وزیراعظم کی لوٹ مار پر خاموش ہیں جو یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ انہوں نے اپنی جیب سے اخراجات ادا کئے تھے لیکن بعدازاں قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ شوکت عزیز نے پوری قوم سے جھوٹ بولا کیونکہ حکومت نے 10.87 ملین سے زیادہ ادائیگی کی ہے ان کا عمرے کے اخراجات خود ادا کرنے کا دعویٰ سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے تھا۔ جب دی نیوز نے لندن میں شوکت عزیز کے ترجمان سے رابطہ کیا تو انہوں نے کوئی رائے دینے سے انکار کیا اور کہا کہ ”شوکت عزیز نے تحائف مروجہ پالیسی کے تحت اپنے پاس رکھے تھے“۔ 25 ملین روپے مالیت کے 736 تحائف کی دوسری فہرست میں بھی شوکت عزیز نے قیمتی نیکلس‘ بریسلٹس‘ ہیرے‘ طلائی سکے‘ رولیکس گھڑیاں‘ قالین‘ موبائل فونز‘ تاج‘ ٹی سیٹس وغیرہ کی کم قیمتیں لگوائیں اور توشہ خانہ میں انتہائی قلیل رقم جمع کروا کر اپنے پاس رکھ لئے۔ ذرائع نے بتایا کہ شوکت عزیز کو فائدہ پہنچانے کیلئے خصوصی طریقہ وضع کیا گیا کیونکہ بہت سے غیر ملکی تحائف کی قیمت ان کے پاکستان میں دستیاب وژن / ایڈیشن کے برابر لگائی گئی۔ مثلاً ناروے کے وزیراعلیٰ کی طرف سے تحفے میں دی گئی 2 سی ڈیز میں سے ہر ایک کی قیمت 200 روپے لگائی گئی جبکہ مغربی مارکیٹ میں اوریجنل سی ڈی کی کم از کم قیمت 30 پاؤنڈز ہے ۔ حتیٰ کہ بڑے سٹورز پر لگائی گئی لوٹ سیل پر بھی اس قیمت میں سی ڈی حاصل نہیں کی جاسکتی جس پر شوکت عزیز نے حاصل کی ۔ اس طرح ایک موتیوں والا ہار جو کہ بنگلہ دیش کی وزیراعظم نے تحفے میں دیا تھا کی قیمت 5 ہزار روپے لگائی گئی ۔ طلائی خنجر کی قیمت ایک لاکھ 29 ہزار 200 روپے لگائی گئی جبکہ ڈوماموسکو کی بنی ہوئی تلوار کی قیمت 4 ہزار اور سری لنکن وزیراعظم کی طرف سے گفٹ کئے گئے نیکلس کی قیمت 5 ہزار روپے لگائی گئی ۔ سری لنکا کی وزیراعظم کی طرف سے تحفے میں دیئے گئے طلائی اور ہیرے کے بنے ہوئے دو لاکٹس کی قیمت 14700 روپے لگائی گئی ۔ بحرین کے ولی عہد کی طرف سے دی گئی تلوار کی قیمت 9 ہزار اور نیکلس کی قیمت 15 ہزار روپے لگائی گئی ۔ چین کے وزیراعظم کی طرف سے گفٹ کئے گئے ڈی وی ڈی سیٹ کی قیمت 25 سو روپے لگائی گئی۔ سعودی فرمانروا نے دوسرا قیمتی ترین تحفہ شوکت عزیز کو دیا جو کہ 18 قیراط سونے ہیرے اور روبی کا ایک نیکلس ایک Bracelet ائیررنگ کا جوڑا اور ایک انگوٹھی پر مشتمل جیولری سیٹ تھا اس کی قیمت 3.2 ملین روپے تھی ۔ شوکت عزیز اسے بھی اپنے ساتھ لندن لے گئے۔ کونسل آف قطر انٹرنیشنل بینک نے سعودیوں کی برابر کرنے کی کوشش کی اور ایک رولیکس گھڑی دی جس کی قیمت ایک لاکھ 30 ہزار روپے تھی ایک دوسری گھڑی (EPOS) جس کی قیمت 65 ہزار روپے تھی ، ہاروڈز بال پوائنٹس جس کی قیمت 8 سو روپے تھی اور 2 گرین گولڈ قلم جن کی قیمت 1200 روپے تھی ، 250 روپے قیمت والے 4 ہاروڈز بال پوائنٹس ،1500 روپے کا پرفیوم اور چیئرمین وطن گروپ عبدالعزیز کی طرف سے 19750 روپے مالیت کی تلوار شوکت عزیز کو دی۔ یو اے ای کے ایچ ای سی نے 3 لاکھ 75 ہزار رپے مالیت کی (PIAGET)گھڑی ایک لاکھ 20 ہزار روپے مالیت کی (Chopard) گھڑی اور 8 ہزار روپے مالیت کی پرفیوم شوکت عزیز کو دی۔ ابو ظہبی کی سمندر پار سرمایہ کاری کمپنی کے چیئرمین نے 1.2 ملین روپے مالیت کی رولیکس گھڑی دی جو کہ شوکت عزیز آج بھی استعمال کررہے ہیں۔ بنگلہ دیش کی وزیراعظم کی طرف سے دیئے گئے نیکلس کی قیمت 5 لاکھ 5 ہزار تھی ۔ یو اے ای کے صدر نے 5 لاکھ مالیت کی رولیکس گھڑی دی ۔ آذربائیجان کے نائب وزیراعظم نے ایک طلائی یادگاری سکہ دیا جو کہ شوکت عزیز حکومت کو دینے کے بجائے اپنے ساتھ لے گئے۔ ازبکستان کے صدر نے کشیدہ کاری والا 2 ہزار مالیت کا سفید گاؤن دیا ۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے ایک فاؤنٹین پین دیا جس کی مالیت 3 ہزار روپے تھی ۔ چینی ٹی وی نے 1500 مالیت کا ہوروسکوپ جس کے ساتھ محدب عدسہ بھی لگا تھا دی۔ یو اے ای کے صدر نے دوسرا تحفہ 9 لاکھ 28 ہزار مالیت کی رولیکس گھڑی دی۔ ایک ٹیبل کلاک جس کی قیمت 40 ہزار روپے ہے دیا اور ایک اور ررولیکس گھڑی دی جس کی قیمت 8 لاکھ 85 ہزار روپے دی اور شوکت عزیز یہ تمام تحائف لندن لے گئے۔یہ قیمتی تحائف کی فہرست شوکت عزیز کی طرف سے اپنے ساتھ لندن لے جائے جانے والے تحائف کی طویل فہرست کا اختتام نہیں ہے کیونکہ انہوں نے 25 روپے قیمت والا تحفہ نہیں چھوڑا تو پھر دوسرے قیمتی تحائف کی تو بات ہی کیا ہے لیکن جگہ کی قلت کے باعث ان تحائف کی مکمل تفصیل یہاں نہیں دی جا سکتی۔ شوکت عزیز پاکستان کی تاریخ کے پہلے وزیراعظم ہیں جن کو 736 تحائف دےئے گئے اور انہوں نے صرف 3 کے علاوہ باقی اپنے پاس رکھ لئے اور اپنی لندن‘ دبئی اور امریکا میں اپنی رہائش گاہوں کو سجایا۔انہوں نے اس میں سے اکثر بلاقیمت اپنے پاس رکھے یا ان کی ٹوکن /علامتی قیمت ادا کی۔ کہا جاتا ہے کہ شوکت عزیز نے یہ قیمتی تحائف محض 25 ملین روپے میں حاصل کئے جو کہ اوپن مارکیٹ میں 100 ملین روپے مالیت رکھتے تھے۔ انہوں نے ایسا کابینہ ڈویژن کی مدد سے کیا جو کہ اس کے ساتھ بخوشی تعاون کر رہا تھا یہ جانے بغیر کہ ان کی اس سخاوت سے ملک کو بہت نقصان ہو رہا ہے کیونکہ اگر یہ تحائف شوکت عزیز کی رہائش گاہوں کی زینت بننے کی بجائے توشہ خانے میں ہوتے تو حکومت ان کی نیلامی سے100 ملین روپے سے زائد کما لیتی۔ |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2008
مراسلات: 606
کمائي: 10,933
شکریہ: 360
466 مراسلہ میں 1,306 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شکریہ رضی بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| گھڑیاں, پاکستان, پسندیدہ, وزیراعظم, قرآنی, لندن, نیوز, چین, ناروے, مفت, موبائل, ماں, آصف زرداری, اولمپک, اسلام, جھوٹ, حسن, دبئی, زرداری, سٹاف, سال, سری لنکا, عزیز, صدر،, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ڈاکٹر عافیہ پاگلوں کے ساتھ قید۔۔۔ | جاویداسد | خبریں | 0 | 22-10-10 07:39 PM |
| کھلونوں کے ساتھ ٹائیگرکے زندہ بچے سمگل کرنے کی کوشش ناکام | جاویداسد | خبریں | 0 | 28-08-10 08:16 PM |
| پرندوں اور جانوروں کی آوازیں تصویر اور معلومات کے ساتھ | عزیزامین | جنگلی حیات | 2 | 13-11-08 10:22 PM |
| جیو کے ساتھ ہزاروں لوگوں کا اظہار یکجہتی | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 20-11-07 10:15 AM |
| 15سفیروں کو حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی استعفے دیناہوں گے | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 22-10-07 06:45 PM |