واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


ساٹھ سال میں بیس وزیر اعظم

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  1 ووٹ 5.00 اوسط ظاہری انداز
پرانا 06-04-08, 05:17 PM   #1
Senior Member
 
راجہ صاحب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مراسلات: 1,715
کمائي: 35,872
شکریہ: 165
748 مراسلہ میں 1,727 بارشکریہ ادا کیا گیا
Post ساٹھ سال میں بیس وزیر اعظم

ساٹھ سال میں بیس وزیر اعظم

ساٹھ سال میں بیس وزیر اعظم
(Source: bbcnews)



پاکستان میں فوجی مداخلت اور صدر اور وزیراعظم کےتعلقات میں تناؤ کی وجہ سے ایک وزیراعظم کےعلاوہ کوئی بھی اپنی عہدے کی آئینی مدت مکمل نہ کرسکا۔

ساٹھ برسوں میں جہاں بیسں وزرائےاعظم آئے وہاں پچیس برسوں تک وزیراعظم کے عہدے کا عملی طور پرکوئی وجود نہ رہا۔

قیام پاکستان کے پہلے دس برسوں میں سات وزرائےاعظم تبدیل ہوئے اس عرصہ میں لیاقت علی خان واحد وزیراعظم تھے جو ،سب سے زیادہ مدت ، چار سال تک وزرات عظمٰی کے عہدے پر فائز رہے۔

نوابزادہ لیاقت علی خان پاکستان کے پہلے وزیراعظم تھے۔ انہیں پندرہ اگست انیس سو سینتالیس کو وزیراعظم چنا گیا لیکن سولہ اکتوبر انیس سو اکیاون کو انہیں اس وقت گولی مار کرہلاک کردیا گیا جب وہ لیاقت باغ میں ایک جلسئہ عام خطاب کررہے تھے۔

لیاقت علی خان کی ہلاکت کے بعد اس وقت کے گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین نے اپنا عہدہ چھوڑ کر سترہ اکتوبر انیس سو اکیاون کو وزارتِ عظمٰی کا منصب سنبھال لیا۔وہ تقریبا دو برس تک اس عہدے پرفائز رہے اور سترا اپریل 1953 کو اس کے وقت کے گورنر جنرل غلام محمد نے انہیں برطرف کردیا۔

محمد علی بوگرہ پاکستان کے تیسرے وزیراعظم تھے جو سترہ اپریل انیس سوترپین سےگیارہ اگست انیس سو پچپن تک اس منصب پرفائز رہے ۔گورنر جنرل پاکستان غلام محمد نے ان سے استعفیْ لیا تھا۔محمد علی بوگرا وزیر اعظم بننے سے پہلے امریکہ میں سفیر تھے۔

چودھری محمد علی بارہ اگست کو پاکستان کے چوتھے وزیراعظم مقرر ہوئے اور ان کے دور حکومت میں تئیس مارچ 1956 کو ملک کا پہلا آئین بھی بنا تاہم چودھری محمد علی نئے آئین کے چند ماہ بعد ہی بارہ ستمبر انیس سوچھپن کو ایک سال ایک ماہ تک وزاراتِ عظمٰی پرفائز رہنے کے بعد اس عہدے سے الگ ہوگئے۔

پاکستان کے پہلے آئین کے بعد دو سال کی مدت میں چار وزرائے اعظم تبدیل ہوگئے۔


حسین شہید سہروردی نے بارہ ستمبر انیس سو چھپن میں وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھایا اور ایک سال ایک ماہ تک عہدے سے فائزہ رہنے کے بعد ان کو عہدے سے ہٹادیا گیا جس کے بعد ابراہیم اسماعیل چندریکر وزیراعظم بنے لیکن گورنر جنرل سکندر مرزا سے اختلافات کے باعث انہیں دو ماہ بعد ہی اپنے عہدے سے مستٰعفی ہونا پڑا۔

پاکستان میں جس وقت مارشل لا لگا کر آئین کو منسوخ کیا تو اس وقت ملک کے وزیراعظم فیروز خان نون تھے ۔وہ سولہ دسمبر انیس سو ستاون سے سات اکتوبر اٹھاون تک وزیراعظم کے عہدے پر رہے۔


انیس سو اٹھاون میں مارشل لاء کے نفاذ کے بعد آئین منسوخ ہونے کے ساتھ وزیر اعظم کا عہدہ بھی ختم ہوگیا اور انیس سو باسٹھ میں اس وقت کے صدر جنرل ایوب خان نے نیا آئین متعارف کرایا جس میں پارلیمانی نظام حکومت کو ختم کر کے اس کی جگہ صدارتی نظام رائج کردیا گیا تاہم یہ آئین بھی انیس سو انہتر میں منسوخ کردیا گیا۔

تیرہ برس کے وقفے کے بعد جب وزیراعظم کا عہدہ بحال کیا گیا تو نورالامین کو وزیراعظم مقرر کیا گیا لیکن مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے چار روز بعد نورالامین تیرہ دنوں تک وزیراعظم رہنے کے بعد اس عہدے سے الگ ہوگئےاور ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ نائب صدر بن گئے اور وزیراعظم کا منصب پھر ختم ہوگیا۔

مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد چودہ اگست انیس سو تہتر کا نیا آئین وجود میں آیا اور ملک میں ایک مرتبہ پھر پارلیمانی نظام حکومت رائج کردیا گیا اور ذوالفقار علی بھٹو وزیراعظم منتخب ہوئے۔ وہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم تھے جنہوں نے اپنی عہدے کی آئینی مدت پوری کی۔

ذوالفقار علی بھٹو دو مرتبہ وزیراعظم منتخب ہوئے اور پانچ جولائی انیس سو ستتر کو جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء کر ان کی حکومت کو برطرف کردیا اور چار اپریل انیس سواناسی کو ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔

ضیاءالحق کے مارشل لاء اور آئین کی معطلی کی وجہ سے وزیراعظم کا عہدہ ایک مرتبہ پھر متروک ہوگیا اور لگ بھگ سات برس سے زائد عرصہ کے بعد ملک میں آئین بحال ہوا تو وزیراعظم کا عہدہ بھی بحال ہوگیا اور تیئس مارچ انیس سو پچاسی کو محمد خان جونیجو وزیر اعظم بنے۔

جنرل ضیاء الحق نے آئین کی بحالی سے پہلے اس میں ترمیم کی جس سے صدر کو اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار مل گیا۔اس صدارتی اختیار کا پہلا شکار محمدخان جونیجو ہوئےاور ان کی حکومت انتیس مئی سنہ انیس اٹھاسی کوختم ہوگئی۔



جنرل ضیاء الحق نے جونیجو کی حکومت تحلیل کرنے کے بعد نگران کابینہ تو تشکیل دی لیکن نگران وزیراعظم کا تقرر نہیں کیا گیا جو پاکستانی تاریخ میں ایک انوکھا واقعہ ہے۔

سنہ اٹھاسی کے انتخابات میں بینظیر بھٹو پاکستان اور مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بنیں تاہم ان کی حکومت بھی اٹھارہ ماہ بعد ہی اٹھاون ٹو بی کا شکار ہوگئی۔

ملک میں نئے انتخابات تک نیشنل پیپلز پارٹی کے سربراہ اور اس وقت کے قائد حزب اختلاف غلام مصطفیْ جتوئی کو تین ماہ کی مدت کے لیے نگران وزیراعظم بنادیاگیا۔



نوے کے انتخابات میں نواز شریف وزیراعظم منتخب ہوئے لیکن غلام اسحاق خان نے اختلافات کی بناء پر ان کی حکومت کو اٹھارہ اپریل انیس سوترانوے کو تحلیل کردیا اور بلخ شیرمرزاری کو نگران وزیراعظم مقرر کیا لیکن نواز شریف نے اس اقدام کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا اور عدالت نے ایک ماہ اور آٹھ دن کے بعد انہیں بحال کردیا اس طرح بلخ شیر مرزاری پاکستان کے واحد نگران وزیر اعظم ہیں جو نہ صرف سب سے کم عرصے کے لیے نگران وزیر اعظم بنے بلکہ اپنی آئینی مدت بھی مکمل نہ کرسکے۔

عدالتی حکم پر اسمبلی کی بحالی کے باوجود بھی یہ اسمبلی نہ چل سکی تاہم اس مرتبہ پہلی بار وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ صدر مملکت یعنی غلام اسحاق کو بھی مستٰعفی ہونا پڑا اور اس طرح غلام اسحاق خان نے اسمبلی تحلیل کرنے کے بعد خود بھی استعٰفی دے دیا۔چیئرمین سینیٹ وسیم سجاد قائم مقام صدر بنے اور معین قریشی کو نگران وزیراعظم بنایا گیا۔


انیس سوترانوے میں بینظیر بھٹو دوبارہ وزیراعظم بنیں اور اٹھاون ٹو بی کی موجودگی کی وجہ سے اپنے قابل بھروسہ پارٹی رہنما سردار فاروق احمد خان لغاری کو صدر منتخب کرایا لیکن بینظیر بھٹو کی یہ حکمت عملی بھی ان کے کام نہیں آئی اور فاروق لغاری نے ان کی حکومت تحلیل کر کے پیپلز پارٹی کے سینئیر رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی ملک معراج خالد کو نگران وزیراعظم بنادیا

ذوالفقار علی بھٹو، ان کی بیٹی بینظیر بھٹو اور نواز شریف دو دو مرتبہ وزیراعظم بنے۔


ستانوے کے چناؤ میں نواز شریف بھی دوسری مرتبہ وزیراعظم بن گئے اور بینظیر بھٹو کی مدد سے اسمبلی تحلیل کرنے کے اختیار کو ایک آئینی ترمیم کے ذریعے ختم کردیا لیکن یہ آئینی بندوبست بھی ان کی حکومت کو بچانے میں مدد گارثابت نہ ہوا اورجنرل پرویز مشرف نے بارہ اکتوبر کو آئین معطل کرکے مارشل لاء لگادیا۔

جنرل پرویز مشرف نے وزیراعظم کی جگہ اپنے لیے چیف ایگزیکٹو کا عہدہ تخلیق کیا اور اس طرح تین برس کے لیے وزیراعظم نام کی کوئی چیز نہیں رہی۔

اکتوبر دو ہزار دو کے انتخابات میں جہاں نئی اسمبلی وجود میں آئی وہیں اسمبلی کی تحلیل کا صدارتی اختیار بھی جنرل مشرف کے ایل ایف او کے ذریعے بحال ہوگیا تاہم صدر مشرف نے اپنے پیش رو کی طرح یہ اختیار استعمال نہیں کیا لیکن اس کے باوجود اسمبلی نے اپنی آئینی مدت میں تین وزیراعظم منتخب کیے جن میں میر ظفر اللہ خان جمالی نےڈیڑھ سال تک وزیر اعظم کے منصب پر فائز رہنے کے بعد استعفیْ دے دیا، شجاعت حسین ڈیڑھ ماہ کے لیے وزیر اعظم بنے اور اسی دوران سینیٹر شوکت عزیز نے ضمنی انتخاب لڑا اور اسمبلی کی باقی باندہ مدت کے وزیراعظم چنے گئے۔



صدر پرویز مشرف نے اسمبلی کی مدت مکمل ہونے پر اس کو تحلیل کردیا اور چیئرمین سینیٹ کو نگران وزیراعظم بنادیا جو جنرل ضیا الحق کی نگران وزیر اعظم مقرر نہ کرنے کے بعد اپنی نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے۔

پاکستان کے بیس وزرائے اعظم میں سے پانچ نگران وزیر اعظم تھے۔

یوسف رضا گیلانی پاکستان کے اکیس ویں وزیر اعظم ہیں
راجہ صاحب آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے راجہ صاحب کا شکریہ ادا کیا
پیاسا (18-07-08), Zullu230 (16-07-08), تفسیر حیدر (15-07-08), جن زاد (15-07-08), عرفان حیدر (19-07-08)
پرانا 15-07-08, 02:51 PM   #2
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: May 2008
مراسلات: 13
کمائي: 48
شکریہ: 148
11 مراسلہ میں 21 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: ساٹھ سال میں بیس وزیر اعظم

بہت اچھا لکھا ہے راجہ صاحب
جن زاد آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جن زاد کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ صاحب (15-07-08)
پرانا 15-07-08, 03:23 PM   #3
Senior Member
 
راجہ صاحب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مراسلات: 1,715
کمائي: 35,872
شکریہ: 165
748 مراسلہ میں 1,727 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: ساٹھ سال میں بیس وزیر اعظم

تـہہ دل ســــــے شـکـریـہ
راجہ صاحب آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 15-07-08, 04:35 PM   #4
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,807
کمائي: 46,485
شکریہ: 7,233
5,839 مراسلہ میں 14,845 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: ساٹھ سال میں بیس وزیر اعظم

میں اس دن خوش ہونگا جب عمران خان صاحب بنے گے۔۔۔مجھے صرف ایک ہی بندہ کام کا لگ رہا ہے اس ٹائم
__________________
جب تک میری انفریکشن ختم نہیں ہوگی میں فورم میں نہیں آونگا۔
محمدخلیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس (15-07-08)
پرانا 15-07-08, 08:15 PM   #5
Administrator

 
عبدالقدوس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 24,803
کمائي: 2,339,126
شکریہ: 17,797
12,253 مراسلہ میں 28,473 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: ساٹھ سال میں بیس وزیر اعظم

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : خلیل مراسلہ دیکھیں
میں اس دن خوش ہونگا جب عمران خان صاحب بنے گے۔۔۔مجھے صرف ایک ہی بندہ کام کا لگ رہا ہے اس ٹائم
یہ تو ہر نوجوان کی خواہش ہے بھائی
عبدالقدوس آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 16-07-08, 01:10 PM   #6
ناظم اعلی

 
Zullu230's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 3,988
کمائي: 56,155
شکریہ: 3,011
1,428 مراسلہ میں 3,189 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: جواب: ساٹھ سال میں بیس وزیر اعظم

عمران خان واقعی ایک مخلص انسان ہیں لیکن اگر وہ حکومت میں آ بھی گئے تو اکیلے سابقہ روایات کو کیسے توڑیں گے۔ ویسے بھی اقتدار کی کرسی ایسی جادو گرنی ہے کہ اس پر بیٹھنے والا مسحور ہو جاتا ہے اور وہی کرتا ہے جو گزشتہ ساٹھ سالوں سے ہو رہا ہے۔ اس لئے عمران خان ہو یا کوئی اور کسی بھی تبدیلی کی توقع رکھنا فضول ہے۔
__________________
Watch your thoughts; they become words. Watch your words; they become actions. Watch your actions; they become habits. Watch your habits; they become character. Watch your character; it becomes your destiny.
Zullu230 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 18-07-08, 12:38 PM   #7
Senior Member
 
راجہ صاحب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مراسلات: 1,715
کمائي: 35,872
شکریہ: 165
748 مراسلہ میں 1,727 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: ساٹھ سال میں بیس وزیر اعظم

پاکستانی سیاست پر بڑی دلچسپ کتاب پارلیمنٹ سے بازار حسن تک کا مطالعہ کریں
راجہ صاحب آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 18-07-08, 12:50 PM   #8
Senior Member
 
پیاسا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2008
مقام: IN THE SHADOW OF SWORD
عمر: 29
مراسلات: 1,824
کمائي: 3,759
شکریہ: 1,712
863 مراسلہ میں 1,788 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: ساٹھ سال میں بیس وزیر اعظم

گاندھی نے کہا تھا کہ اتنے ہم کپڑے نہیں بدلتے جتنے پاکستانی وزیراعظم بدلتے ہیں(سچ کہا اس نے)
پیاسا آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پیاسا کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ صاحب (18-07-08)
پرانا 19-07-08, 12:55 AM   #9
Senior Member
 
عرفان حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
عمر: 30
مراسلات: 2,046
کمائي: 8,142
شکریہ: 889
720 مراسلہ میں 1,430 بارشکریہ ادا کیا گیا
عرفان حیدر کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عرفان حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: ساٹھ سال میں بیس وزیر اعظم

سلام،

کیا یہاں کوئی مثبت سوچ رکھنے والا موجود ہے؟؟؟؟؟
اگر ہاں تو کونسی؟

وسلام
عرفان حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 19-07-08, 08:42 AM   #10
Senior Member
 
پیاسا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2008
مقام: IN THE SHADOW OF SWORD
عمر: 29
مراسلات: 1,824
کمائي: 3,759
شکریہ: 1,712
863 مراسلہ میں 1,788 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: ساٹھ سال میں بیس وزیر اعظم

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عرفان حیدر مراسلہ دیکھیں
سلام،

کیا یہاں کوئی مثبت سوچ رکھنے والا موجود ہے؟؟؟؟؟
اگر ہاں تو کونسی؟

وسلام
کیا آپ کی سوچ منفی ہے ؟
پیاسا آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
کورٹ, پاکستانی, وزیر, وزیراعظم, لیاقت علی خان, نواز شریف, مکمل, متعارف, معراج, اللہ, انسان, امریکہ, بھائی, ترمیم, جواب, حکم, خوش, خان, ذوالفقار علی بھٹو, سال, علی, عمران, عمران خان, صدارتی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
غائب دماغ ہندوستانی وزیرِ خارجہ ایس ایم کرشنا،اقوامِ متحدہ کے سلامتی کونسل میں عبیداللہ عبید گپ شپ 1 18-02-11 05:51 PM
وزیرستان: چوبیس گھنٹوں میں پانچ حملے، چالیس ہلاک یاسر عمران مرزا خبریں 5 29-12-10 11:03 PM
”جنگ اور جیو“ کے رپورٹرز کو وزیراعلیٰ کی پریس کانفرنس میں داخلے سے روک دیا گیا گلاب خان خبریں 0 09-12-10 06:44 AM
ہانگ کانگ میں ساٹھ سال بعد برڈ فلو کے پہلے کیس کا انکشاف جاویداسد خبریں 0 18-11-10 08:45 PM
نیوی وار کالج بم دھماکے کے سلسلے میں پولیس نے ان آٹھ افراد کو شامل تفتیش کر لیا وجدان خبریں 0 06-03-08 07:47 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:09 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger