واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


دیوار پہ لکھی ہوئی تحریر......ناتمام…ہارون الرشید

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 12-01-10, 12:57 AM   #1
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,262
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default دیوار پہ لکھی ہوئی تحریر......ناتمام…ہارون الرشید

دیوار پہ لکھی ہوئی تحریر......ناتمام…ہارون الرشید

لاہور کے شاعر نے کہا تھا
بینر پہ لکھے حرفِ خوشامد پہ جو خوش ہے
دیوار پہ لکھی ہوئی تحریر بھی دیکھے
ایم کیو ایم کے ارکانِ اسمبلی نے اگر اپنی قیادت سے اپیل کی کہ انہیں اپوزیشن میں بیٹھنے کی اجازت دی جائے تو یہ قابلِ فہم ہے ۔ سیاسی ہتھکنڈے اسی طرح کے ہوتے ہیں لیکن انہوں نے رینجرز کے علاوہ افواجِ پاکستان سے مدد کی اپیل کی۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ انہیں حکمران پیپلز پارٹی کی صلاحیت ہی نہیں نیّت پر بھی شک ہے ۔ اگر فوج مداخلت کرے جو اسے ہرگزنہ کرنی چاہئے تو اس کا مطلب کیا ہوگا؟ واضح طور پر نتیجہ یہ ہوگا کہ مارشل لاء کے لیے فضا ہموار ہونے کا آغاز ہو جائے گا ۔۔۔ اور ایک بار پھر وہی گریہ و ماتم
ٹھہر سکا نہ ہوائے چمن میں خیمہءِ گل
یہی ہے فصلِ بہاری، یہی ہے بادِمراد؟

عسکری مداخلت یا فوجی حکمرانی اگر قومی مسائل کا حل ہوتی تو دنیا کی کوئی اور قوم بھی اس کا تجربہ کرتی۔ بدقسمت پاکستان ہی کیوں ہے ، جہاں فوج بار بار آتی ، قومی زندگی میں ایک سطحی سا ڈسپلن قائم کرتی، چند برس کے لیے ترقی کی رفتار تیز کرتی اور پھر راکھ کے ڈھیر چھوڑ کر چلی جاتی ہے ۔ بہت سی وجوہات ہیں لیکن سب سے بڑی وجہ ہماری سیاسی پارٹیاں ہیں ۔ مکمل طور پر غیر جمہوری جماعتیں جو دائم جمہوریت کا گیت گایا کرتی ہیں ۔ ان میں سے ہر ایک پر کوئی ایک شخص یا زیادہ سے زیادہ ایک خاندان مسلّط ہے ۔ عہدیداروں کا تعیّن وہی کرتا اور وہی بلدیاتی ، صوبائی اور قومی اسمبلی کے الیکشن میں ٹکٹ بانٹتا ہے ۔ بعض صورتوں میں تو وہ اس کے عوض روپیہ بھی وصول کرتا ہے ۔ اس کا ہاتھ پکڑنا تو دور کی بات ہے ، جماعت میں کوئی اونچی آواز میں شکایت بھی نہیں کر سکتا ۔ اس طرح کی سیاسی جماعتوں کے ہوتے ہوئے جمہوریت کی ضمانت کون دے سکتا ہے ؟

جزوی استثنیٰ بھی ہے مگر جزوی ہی، مثلاً جماعتِ اسلامی، اے این پی اور ایم کیو ایم ۔ سب جانتے ہیں کہ الطاف حسین نے لندن میں قیام کرنے کا فیصلہ تنہا کیا تھا۔ واشنگٹن میں "پختونوں کا مقدمہ پیش کرنے "اور امریکہ سے وفا کا عہد باندھنے سے پہلے اسفند یار ولی خان نے پارٹی کا کوئی اجلاس طلب نہ کیا تھا اور کسی کو واشنگٹن کے ساتھ ان کے تعلق کی نوعیت کا علم نہیں۔ جماعتِ اسلامی کی جمہوریت کا حال بھی کم و بیش یہی ہے ۔ مثلاً منور حسن اگر ذاتی طور پر نواز شریف اور عمران خان کو ناپسند کرتے ہیں تو دوسرے لوگ زبان کھولتے ہوئے ہچکچاتے ہیں۔

قوموں کا مزاج صدیوں میں تشکیل پاتا ہے اور آسانی سے بدلا نہیں جاسکتا۔ مسلم برصغیر میں جمہوریت کی تمنا ہے مگر اس کی رگ رگ میں ملوکیت بھی ہے ۔ شعوری کوششوں کے بغیر اس تضاد سے نجات حاصل نہ ہوگی۔ اندازِ فکر کی تبدیلی نعرہ بازی نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل اور غور و فکر کے نتیجے میں بتدریج وقوع پذیر ہوتی ہے ۔ سیاسی جماعتوں میں یہ اندازِ فکر کہیں نظر نہیں آتا۔ بالکل برعکس ہم اس طرح کے نعرے سنتے ہیں۔
*ایک زرداری ، سب پہ بھاری
*جو قائد کا غدّار ہے ، موت کا حق دار ہے
*کون بچائے گا پاکستان، عمران خان، عمران خان

پاکستان کو صرف ایک جمہوری حکمران نصیب ہوا اور وہ محمد علی جناح  تھے۔دوسرا ممکنہ طور پر عمران خان ہو سکتاہے، اگر اس کی جماعت شخصیت پرستی سے نجات پا لے۔ قائدِ اعظم کے بعد نا کردہ کار تھے یا شعبدہ باز۔ 1988ء تک مالی دیانت کی مثالیں ہم نے بہت دیکھیں لیکن جمہوری اندازِ فکر اورسیاسی فراست کی بہت کم۔ لیاقت علی خان ہی نہیں ، جنرل محمد ضیا ء الحق بھی بدعنوانی سے پاک تھے اور ظاہر ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو بھی مگر جمہوریت؟۔۔۔گزشتہ روز جب اخبار نویسوں کی ایک تقریب میں یہ بات عرض کی تو پیپلز پارٹی کے حامی اخبار نویسوں کو صدمہ پہنچا۔ ان میں سے ایک محترم دوست نے مجھ سے سوال کیا کہ میں کارکن اخبار نویسوں کی ابتلا سے لا تعلق کیوں ہوگیا؟ کہیے کیسا شاندار سوال ہے اور کیسا مسکت جواب۔

ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اسٹیبلشمنٹ کی حریف ایک سیاسی جماعت تشکیل دی۔ اس عام آدمی کو انہوں نے گھر سے نکالا اور سیاست کے میدان میں سرگرم کیا جو کبھی اس کی امید نہ کر سکتا تھا لیکن پھر پارٹی کو خاندان کے حوالے کر دیا اور اب ہمیشہ اس کے حوالے رہے گی، حتیٰ کہ اس کے تمام ہونے کا وقت آپہنچے۔ بھٹو خاندان ہو گا ،زرداری خاندان یا راجا ریاض ایسے لوگ جو یہ مطالبہ کریں گے کہ بلاول بھٹو زرداری کو وزیرِ اعظم بنانے کے لیے ملک کا آئین ہی بدل ڈالا جائے۔
ملک میں صرف تین ادارے ہیں۔آزاد عدلیہ ، میڈیا اور افواجِ پاکستان۔ موخر الذکر آج بھی اس سے زیادہ رسوخ کا حامل ہے، جتنا کہ ایک جمہوری معاشرے میں اسے ہونا چاہئے اور اس کی بنیادی وجہ بدعنوان اور غیر جمہوری سیاسی قیادت ہے ۔ پانی ہمیشہ نشیب کی طرف بہتا ہے ۔ اگر سیاسی جماعتیں فوج سے مداخلت کی اپیل کریں گی اور مشکل گھڑی میں اس کی طرف دیکھیں گی تو نتیجہ کیا ہوگا؟
کراچی میں قتل و غارت کا ذمہ دار کون ہے؟ سب جانتے ہیں، سب جانتے ہیں۔ ٹی وی کی اسکرین پر ایک اخبار نویس صرف 120سیکنڈ میں بتا سکتا ہے کہ لیاری کے غنڈوں کا سرپرست کون ہے ،بھتہ کون وصولتا ہے ، پاکستان دشمن ممالک سے کس کس کی راہ و رسم ہے اور پس پردہ تنازعات کیا ہیں لیکن موجودہ حالات میں ایسا کرنا جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہوگا۔ اخبار نویسوں میں غیر ذمہ دار لوگ بھی ہیں مگر ابلاغ کا کوئی ادارہ اس قدر غیر ذمہ دار نہیں کہ فساد کی آگ بھڑکائے ۔ سامنے کی بات یہ ہے کہ فساد وہاں ہوتاہے ، جہاں حکمرانی مفادات کے لیے ہوتی ہے ، قانون کو بروئے کار آنے کی اجازت نہیں دیتی اور انصاف کا حصول مشکل بنا دیا جاتا ہے ۔ کراچی کے سی سی پی او نے ٹی وی پر کہا اور سچ کہا کہ اگر سیاسی جماعتیں مداخلت نہ کریں تو چند دن کے اندر امن قائم کیا جا سکتا ہے ۔ مداخلت کیسے نہ کریں؟ وہی تو غنڈہ عناصر کی سرپرستی فرماتی ہیں ۔ ان کے بغیر وہ خود کو کمزور اور لاچار پاتی ہیں۔
سیاسی جماعتوں کو نوشتہ ءِ دیوار پڑھ لینا چاہئے ۔ ان کے سامنے دو راستے ہیں۔ وہ قانون کی عمل داری کو یقینی بنائیں اور جہاں کہیں فساد رونما ہو، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو آزادیءِ عمل عطا کریں، ورنہ فوجی مداخلت کا آغاز ہو جائے گا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ مداخلت بڑھتی جائے گی۔ ایم کیو ایم اگر جمہوریت سے مخلص ہے تو فوج کا نام تک لینا ترک کردے اور اگر پیپلز پارٹی امن کی خواہاں ہے تو اسے مرکز اور صوبوں میں ڈھنگ کے وزرائے داخلہ کا تقرر کرنا چاہئے۔ لیڈر لوگ دوسروں کا محاسبہ بہت کرتے ہیں، اپنے گریبانوں میں بھی انہیں جھانکنا چاہئے۔ لاہور کے شاعر نے کہا تھا
بینر پہ لکھے حرفِ خوشامد پہ جو خوش ہے
دیوار پہ لکھی ہوئی تحریر بھی دیکھے

یا للعجب! تب اس شاعر کا تعلق پرویز الٰہی کے دفتر سے تھا۔ آنے والے دنوں کو وہ دیکھ سکتا تھا مگر پرویز الٰہی نہیں۔ وہ اب بھی نہیں دیکھ سکتے اور ان کے عم عصر بھی نہیں۔

دیوار پہ لکھی ہوئی تحریر......ناتمام…ہارون الرشید
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
shafresha (12-01-10), ابن حسن (12-01-10), عبداللہ حیدر (12-01-10)
جواب

Tags
search, پاکستان, وفا, واشنگٹن, لیاقت علی خان, لوگ, لندن, نواز شریف, نظر, مکمل, موت, موجودہ, مسائل, آج, آدمی, اندازِ, امریکہ, اسکرین, دوست, ذوالفقار علی بھٹو, زرداری, سیاست, علی, عمران خان, صدمہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
قدیم یورپی سرکس کے فنکار! shafresha دلچسپ اور عجیب 3 17-11-10 08:28 AM
دل جو دیوانہ نہیں آخر کو دیوانہ بھی تھا جون ایلیاء Real_Light جون ایلیا 0 13-06-08 05:46 PM
یار بھی راہ کی دیوار محمدعدنان شاعری اور مصوری 4 22-05-08 05:17 PM
یورپی نیؤ گیشن نظام کی آزمائش میاں شاہد کائنات کے راز 0 13-05-08 12:31 PM
ہیلن میرن کو بہترین اداکارہ کا یورپی فلم اکیڈمی ایوارڈ دیا گیا عبدالقدوس فلمی دنیا 0 04-12-07 12:25 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:06 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger