جنگجو بغیر سرحدوں کی جنگ لڑنے کو تیار
جنگجو بغیر سرحدوں کی جنگ لڑنے کو تیار
کابل میں رواں ماہ کے ابتدائی دنوں میں بھارتی سفارتخانے پر ہونے والے زبردست خود کش حملے کے بعد معمولی نوعیت کے اشاروں سے پاکستان کو قصور وار ٹھہرائے جانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ افغانستان اور بھارت کی جانب سے شروع کئے جانے والے الزام تراشی کا یہ کھیل حالات کو ایک سنگین شکل اختیار کرنے کی طرف لے جا رہا ہے جو چند ہی ہفتوں یا مہینوں میں ایک بہت بڑی علاقائی جنگ کی صورت اختیار کرسکتی ہے۔ یہ بات الگ ہے کہ پاکستانی ایجنسی واقعی اس حملے میں ملوث ہے یا نہیں لیکن یہ طے ہے کہ ہرزہ سرائی کرنا اور اس طرح کی کارروائیوں میں حصہ لینا پاکستان کا شغل رہا ہے۔ ضیاء سے پہلے بنگلہ دیش کا قیام اور ضیاء کے دور میں امریکا کی افغانستان میں پراکسی وار میں پاکستان کی شمولیت اور بھارتی حکومت کے خلاف سکھوں کی عسکری و مالی مدد وغیرہ ڈھکی چھپی بات نہیں۔
گزشتہ ہفتے امریکا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین ایڈمرل مائیکل میولن نے اچانک پاکستان کا دورہ کیا جس میں انہوں نے پاکستانی حکام کو طالبان کے افغانستان میں بڑھتے ہوئے حملوں اور ان حملوں کے بعد ان کے پاکستان فرار ہونے اور کچھ عرصے بعد پھر پاکستان سے افغانستان میں حملہ کرکے فرار ہونے کے واقعات سے آگاہ کیا اور متنبہ کیا کہ امریکا ایسے عناصر کو روکنے کے لیے پاکستان میں گھس کر کارروائی کر سکتا ہے۔ ظاہر ہے یہ ایسی چیز ہے جسے نہ تو امریکی کھل کر بتائیں گے کہ ہاں واقعی ہم پاکستانی سالمیت کی ایسی کی تیسی کرکے گھس جائیں گے اور نہ ہی پاکستانی حکام یہ بتائیں گے کہ آخر اس طرح کی بات چیت کا حقیقی لب لباب کیا ہے۔ خیر، پاکستان کا یہ کام ہے کہ وہ صرف بیان دے کہ ہم اپنی سرزمین پر کسی غیر ملکی فوج کو کارروائی کی اجازت نہیں دیں گے۔ ارے بھئی امریکا آخر آپ سے اجازت کیوں لے گا، وہ تو حملہ کرکے چلا جاتا ہے اور پاکستان خواجہ سرا کی طرح شکل دیکھتا رہ جاتا ہے۔
خیر میولن صاحب پاکستانی قیادت پر دبائو ڈال کر گئے ہیں کہ افغان سرحد پر دہشت گردوں کے خلاف زبردست کارروائی کی جائے اور اس کارروائی کا مرکز شمالی اور جنوبی وزیرستان ہونا چاہئے جن میں خاص توجہ رزمک، شوال، غلام خان اور انگور اڈہ پر دی جائے۔ امکان ہے کہ افغانستان کے صوبے خوست میں امریکا کارپیٹ بمباری کی تیاری کر رہا ہے۔
میولن کے اس دورے کے بعد جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بلا تاخیر دفاعی مبصرین اور ماہرین کا اجلاس طلب کیا جس میں کہا گیا کہ ملٹری صرف اور صرف سویلین حکومت کے احکامات پر ہی عمل کرے گی۔ عجیب بات یہ ہے کہ چند دن پہلے ہی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے قبائلی علاقوں میں کارروائی کا اختیار آرمی چیف کو دے دیا تھا۔
اس بات سے قطع نظر کہ پاکستانی فورسز دہشت گردوں / طالبان کا کتنے مخلص طریقے سے مقابلہ کرتی ہیں، طالبان نے پہلے ہی صوبہ سرحد کی حکومت کے خلاف بغاوت کا اعلان کردیا ہے اور بیت اللہ محسود کی جانب سے اسے پانچ روز میں مستعفی ہونے کی دھمکی اس بات کا کھلا ثبوت ہے۔ ان لوگوں نے علاقے میں دہشت کی ایسی حکومت قائم کی ہے جس کے سامنے حکومتی عمل داری بھی بے بس نظر آتی ہے۔ تقریبا تمام اضلاع میں طالبان نے حکومتی اہلکاروں کو اغوا کرکے اپنے مطالبات کی منظوری کےلیے استعمال کر رہے ہیں، رحمن ملک صاحب بھی بے بس نظر آتے ہیں اور مغرب سے مدد کے طلبگار ہیں کہ ہمیں طالبان کمانڈرز سے چھڑایا جائے۔ ہنسی آتی ہے۔ طالبان کی خواہشات کا احترام نہ کرنے پر کئی سرکاری عملدار جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ حکومتی اہلکار خوف کے مارے چھپتے پھر رہے ہیں اور یہ ملا شریعت نافذ کرنے کا کھلے عام دعویٰ کرتے ہیں۔ صوبہ سرحد کی حکومت بے بس بنی ہوئی ہے اور مجبوری کے عالم میں مختلف اضلاع میں طالبان کے خلاف شہریوں پر مشتمل دفاعی کمیٹیاں قائم کر رہی ہے۔
افغانستان میں بھی صورتحال اس سے بہتر نہیں ہے۔ سورج ڈھلتے ہی طالبان کی گولیوں کی آوازیں ضلعی انتظامیہ کو کنٹرول چھوڑ دینے پر مجبور کردیتی ہیں اور اس سے طالبان کو آزادانہ نقل و حرکت کا موقع ملتا ہے۔ کنڑ اور نورستان صوبوں میں بھی طالبان دوبارہ اپنی حاکمیت کے حصول کے لیے کوشاں ہیں اور ان کے ڈر سے افغان فورسز نے کئی چوکیاں خالی کردی ہیں۔
پیر کو ہونے والے القاعدہ اور طالبان کی اعلیٰ سطحی شوریٰ کونسل کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ چونکہ پاک افغان سرحد پر ایک بڑی جنگ لگنے کا خطرہ منڈلا رہا ہے لہٰذا شمالی اور جنوبی وزیرستان میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہنے والے جنگجو محفوظ مقامات پر منتقل ہوجائیں۔ امریکی اور اتحادی فوج کے بغیر پائلٹ کے طیارے مسلسل پاکستانی علاقوں کے اوپر سے پرواز کر رہے ہیں۔ طالبان یہ جانتے ہیں کہ پاکستانی فورسز نے اس سرحدی خلاف ورزی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرنی لہٰذا انہوں نے خود کو ایک بڑی بغیر سرحد کی جنگ کے لیے تیار کرلیا ہے۔
|