واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


بھارت افغانستان گٹھ جوڑ اور ہماری بے حسی!,,,,مختار احمد بٹ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 10-01-10, 03:50 PM   #1
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,264
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default بھارت افغانستان گٹھ جوڑ اور ہماری بے حسی!,,,,مختار احمد بٹ

بھارت افغانستان گٹھ جوڑ اور ہماری بے حسی!,,,,مختار احمد بٹ

بھارت اور افغانستان میں دوستی کوئی نئی نہیں ہے بلکہ ان دونوں ملکوں کی دوستی کی ابتداء 1950ء میں دوستی کے معاہدے سے شروع ہوئی جس کے نتیجے میں بھارت افغانستان کے کافی قریب رہا۔ روس نے جب افغانستان پر چڑھائی کی تو بھارت ان ملکوں میں شامل تھا جنہوں نے روس کا ساتھ دیا اور پھر جب روس کو شکست ہوئی تو بھارت کو مجبوراً پیچھے ہٹنا پڑا۔ لیکن جب 2001ء میں طالبان کی حکومت جیسے ہی ختم ہوئی ایک بار پھر بھارت نے افغانستان کے ساتھ پہلے والے تعلقات استوار کر لئے اور آج صورتحال یہ ہے کہ بھارت کے 14قونصل خانے وہاں قائم ہو چکے ہیں جن کا کام پاکستان کے خلاف دہشت گردی کروانا ہے۔ شمالی اتحاد کے ساتھ بھی ان کے تعلقات مثالی ہیں اور حامد کرزئی کے ساتھ خصوصی تعلقات قائم ہو چکے ہیں اور وہ خاص طور پر اس بات کا فائدہ اٹھا رہا ہے کیونکہ صدر حامد کرزئی ہماچل پریش یونیورسٹی شملہ کے گریجویٹ ہیں دوسرے 1999ء میں ان کے والد کو مبینہ طور پر طالبان نے پاکستان میں قتل کر دیا تھا اس بات کو بنیاد بنا کر پاکستان کے خلاف مل کر پلاننگ کی جا رہی ہے۔
یہ عجیب صورتحال ہے کہ پہلے امریکہ اور بھارت کا گٹھ جوڑ تھا جس کے نتیجے میں افغانستان سے جنوبی وزیرستان اور بلوچستان میں اسلحہ پہنچ رہا ہے واضح ثبوت ہونے کے باوجود ہم صرف بیان بازی پر وقت ضائع کر رہے ہیں جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس مسئلے کو عالمی سطح پر اٹھائیں ایسی نازک صورتحال میں اب بھارت کا افغانستان کے ساتھ گٹھ جوڑ ایک بڑے خطرے کی علامت ہے جسے ہم نظرانداز کر رہے ہیں۔ بھارت افغانستان کا گٹھ جوڑ بڑی اہمیت کا حامل ہے جب تک ہم ان وجوہات پر توجہ نہیں دیں گے معاملے کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتے۔

آیئے ان چند اہم وجوہات پر نظر ڈالیں بھارت
lافغانستان کے ذریعے وسطی ایشیائی ریاستوں سے سستی بجلی گیس اور تیل کی درآمد کرنے کا خواہاں ہے۔
lافغانستان کے ذریعے FATA ایریا میں اپنے ایجنٹوں کو داخل کروانا تاکہ پاکستان میں گڑبڑ کر سکیں اس کام کیلئے بھارت کے قونصلیٹ لانچنگ پیڈ کا کام دے رہے ہیں۔
lایران کے ساتھ مل کر گوادر پورٹ کی اہمیت کم کرنا اور پاک ایران اسٹریٹجک دوستی میں خلل ڈالنا۔
lافغانستان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا تاکہ پاکستان کے خلاف کام جاری رکھا جا سکے۔

بدقسمتی سے روس کی شکست کے بعد پاکستان نے موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا جس کے نتیجے میں بھارت نے افغانستان میں 2001ء کے بان ایگریمینٹ کے تحت وہاں مختلف ترقیاتی کام شروع کئے جن میں صحت، تعلیم، پولیس، عدلیہ، آئی ٹی، روڈ، ٹرانسپورٹ، زراعت کے علاوہ مالی امداد بھی دی۔ اس کے علاوہ بڑے بڑے پروجیکٹس جن میں بجلی کی ہائی ٹرانسمیشن لائنوں کی تنصیب، زراعت اور سڑکوں کی تعمیر شامل ہے۔ اصل میں جیسے ہی طالبان کی حکومت ختم ہوئی بھارت نے دل کھول کر افغانستان کی مدد کی ایک اندازے کے مطابق 2002ء سے اب تک تقریباً 1.25بلین ڈالر کی امداد دے چکا ہے جبکہ ان کے اپنے ملک میں غربت کی انتہا ہے ظاہر ہے جب کوئی ملک امداد دیتا ہے تو اس کا اپنا ایک ایجنڈا ہوتا ہے بھارت کا ایجنڈا پاکستان کو مشکلات میں ڈالنا اور ایسے مسائل کھڑے کرنا جس سے تعلقات میں دراڑیں پڑ سکیں اوربھارت اس میں بڑی حد تک کامیاب بھی ہے۔ قارئین کو یاد ہوگا 26نومبر 2008ء کو ممبئی حملے میں افغانستان نے کھل کر بھارت کا ساتھ دیا اوردہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی دونوں ملکوں میں بڑی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ حامد کرزئی نے افغانستان کے دروازے بھارت پر کھلے چھوڑ رکھے ہیں تاکہ ہمیں دباؤ میں اور مشکلات میں رکھا جائے اور دہشت گردوں کی بلاٹوک آمدورفت جاری ہے یہ سارا گیم پلان امریکہ کا ترتیب دیا ہوا ہے۔ ڈرون حملے ہوں، بھارت کا اسلحہ اور لٹریچر پکڑا جائے، نیٹو کا سامان پکڑا جائے، بھارت کے ہتیھار برآمد ہوں کوئی ایکشن نہیں لیتا اس پر ظلم یہ ہے کہ ہم سے ہی کہا جاتا ہے کہ دہشت گردی کو ختم کرو "Do more" اور "Do more"۔

اس حوالے سے رہی سہی کسر ہلیری کلنٹن نے پوری کر دی ہے انہوں نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے ”میں ایک بات سب پر واضح کر دینا چاہتی ہوں کہ ہم ماضی کی غلطیوں کا اعادہ نہیں کریں گے امریکہ کو اور ہمارے تمام اتحادی ممالک کو اس بات کی ٹھوس ضمانت دینا ہوگی کہ ہم سب مل کر اس پورے خطے کیلئے کام کریں گے۔ اور ہم یہ بھی سمجھتے ہیں افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اصل حق افغان عوام کا ہے لہٰذا ہم یہ کوشش کریں کہ افغان عوام اپنے اس حق سے آزادانہ طور پر مستفید ہونے کا قابل ہو سکیں اور اپنے ملک کو صحیح خطوط پر چلا سکیں تاہم اس جمہوری مستقبل کی ضمانت صرف پاکستان عوام دے سکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہم دونوں ممالک میں کام کر رہے ہیں یہ تمام باتیں متضاد ہیں اگر افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ افغان عوام کو کرنا ہے تو پھر امریکہ افغانستان میں کیا کر رہا ہے مزید 30ہزار فوجی کس خوشی میں بھیج رہا ہے نئی نئی چھاؤنیاں کیوں بنا رہا ہے ان کے ہوتے ہوئے افغان عوام کس طرح اپنا حق استعمال کر سکتے ہیں جبکہ وہ زبردستی وہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔

دوسری سب سے بڑی خطرناک بات جو انہوں نے کی کہ افغانستان کے جمہوری مستقبل کی ضمانت صرف پاکستانی عوام دے سکتے ہیں ہم کون ہوتے ہیں ان کے مستقبل کی ضمانت دینے والے۔ افغانستان ایک آزاد ملک ہے، ہمیں کس خوشی میں ان کے ساتھ نتھی کیا جا رہا ہے۔ ہم ان کے پڑوسی پہلے بھی تھے، آج بھی ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے ان کے بیان سے یہ بو آتی ہے کہ وہ افغانستان کو غیرمستحکم قرار دے کر سارا ملبہ ہم پر ڈال کر ہمیں دباؤ میں رکھنا چاہتے ہیں جس کی انہیں اجازت نہیں دی جا سکتی۔

امریکہ نے ہماری آزادی کی قیمت 1.5/ارب ڈالر لگائی ہے جو ہمیں پانچ سال تک ملتی رہے گی جبکہ ہمارا نقصان 40/ارب ڈالر سے کہیں زیادہ ہو چکا ہے پاکستان نے دہشت گردی کی جنگ میں امریکہ کیلئے بڑی قربانیاں دی ہیں اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے جبکہ عنایات کی بارش بھارت پر ہو رہی ہے اب تینوں ملک افغانستان، بھارت، امریکہ ایک ہو کر ہمارے خلاف کام کر رہے ہیں حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ نیند سے بیدار ہو جائیں۔ بھارت وہی کچھ کر رہا ہے جو اس نے 1971ء میں ہمارے ساتھ کیا تھا کہیں ایکشن ری پلے کی تیاری تو نہیں ہو رہی ہمارا کام وقت سے پہلے خطرات کی نشاندہی کرنا ہے حکومت اس کو کس طرح دیکھتی ہے انتظار ہی کیا جا سکتا ہے۔

بھارت افغانستان گٹھ جوڑ اور ہماری بے حسی!,,,,مختار احمد بٹ
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Tags
color, com, jang, search, کوشش, کلنٹن, پاکستان, پاکستانی, نیند, موقع, مسائل, آج, امریکہ, خلاف, خصوصی, سال, طالبان, عالمی, عجیب, غلطیوں, غربت, صورتحال, صحیح, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سیاسی یتیموں نے حکومت غیر مستحکم کرنے کیلئے سیاسی اداکاروں سے گٹھ جوڑ کر لیا ہے: زرداری جاویداسد خبریں 0 01-10-10 07:27 PM
افغانستان میں آٹھ سال۔امریکہ نڈھال راجہ اکرام اپکے کالم 9 07-12-09 11:29 AM
اُٹھ پاکستانی اپنا آپ پہچان ابن آدم پاکستانی نغمے 0 28-04-09 03:14 PM
پاکستان کے کوئلے کے ساٹھ کھرب ڈالر کے ذخائر لٹنے کا خطرہ وجدان خبریں 0 27-02-08 05:29 AM
یاہو کی ایک اور چھوٹی سی ٹپ عبدالقدوس آئیں کمپیوٹر سیکھیں 5 28-12-07 08:20 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:32 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger