| سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,483
کمائي: 25,620
شکریہ: 1,232
937 مراسلہ میں 2,828 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بسنت ایک قاتل کھیل .... جو گذشتہ کئی برسوں سے وطن عزیز پاکستان اور بالخصوص صوبہ پنجاب میں جس زور و شور کے ساتھ منایا جانے لگا ہے اسی نسبت سے راہ چلتے لوگوں کے گلے کٹنے اور چھت سے گر کر ”شہید“ ہونے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا گیا ہے ۔ گذشتہ چند برسوں میں پتنگ بازی کے خونی کھیل کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں کی تعدادسینکڑوں میں ہے جبکہ ان گنت تعداد ز خمی ہونے والے افراد کی بھی ہے ۔
ہمارے ملک کا باختیار طبقہ ہر سال بسنت منانے پر اصرار کرتا ہے اور اس سال بھی وہ بسنت منانے پر بضد ہے جبکہ ہلاکتوں میں اضافے اور برقی و صنعتی نقصانات کے پیش نظر عدالت اور حکومت پنجاب نے بسنت پر پابندی کو برقرار رکھنے کے لئے جس ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے وہ یقیناً ایک احسن اقدام ہے ۔ اگرچہ بعض عناصر کی طرف سے صوبائی حکومت پر بسنت منانے کے ضمن میں بہت دباﺅ ڈالا گیا ہے لیکن عدلیہ اور حکومت پنجاب دونوں نے اپنے موقف پر ڈٹ کر عوام کے دل جیت لئے ہیں ۔ بلاشبہ تہوار ہر قوم کی ضرورت ہیں جن سے نہ صرف قوموں کے جذبات کی عکاسی ہوتی ہے بلکہ یہ کسی بھی قوم کی ثقافتی و تہذیبی اقدار کے آئینہ دار بھی سمجھے جاتے ہیں اور یہ ہر قسم کی روایات کے امین ہوتے ہیں ۔ ہمارے ہاں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ بسنت محض موسمی اور ثقافتی تہوار ہے اور یہ صرف تفریح کی غرض سے منائی جاتی ہے ۔ لیکن تفریح اور بدتمیزی میں فرق ہونا چاہئے .... تفریح اور تماش بینی میں امتیاز برتنا چاہئے .... تفریح اور اذیت پسندی میں حد ہونی چاہئے .... تفریح اور دولت کی نمائش میں فاصلہ ہونا چاہئے .... کان پھاڑ دینے والی بے ہنگم موسیقی ، مختلف باجوںکی آوازیں ، چیخ و پکار ، شور و غوغا، خود کار آتشیں اسلحہ کی فائرنگ ، آتش بازی ، رقص و سرور کی محافل اور سب سے بڑھ کر یہ کہ لوگوں کے گلے کٹنا اور گھروں کو ماتم کدوں میں تبدیل کرنا کونسی تفریح ہے ؟ یہ تفریح نہیں روح کا آزار ہے ۔ ہلاکت خیزی اور اخلاق سوزی کے اعتبار سے یہ” جشن بہاراں“ نہیں بلکہ ”جشن اغیاراں“ ہے ۔ پھر باربار کلچر کی بات کی جاتی ہے ۔ آخر معلوم تو ہو کہ پاکستان کا کلچر ہے کیا .... ؟؟؟ ہمارے نزدیک تو پاکستان کا کلچر یہ ہے کہ پاکستانی قوم ذہین اور باصلاحیت ہے ، نسلی تعصبات کے مقابلے میں فراخدل اور روشن فکر ہے ، مذہبی حوالے سے تحمل اور برداشت کا مزاج رکھتی ہے ۔ احترام ، بھائی چارہ ، اور نیاز مندی اس کے لہو میں شامل ہے ۔ نجانے ہمارا روشن خیال طبقہ کون سا کلچر متعارف کروانا چاہتا ہے ۔ چھچھوڑا پن .... تشدد پسندی .... مادر پدر آزادی .... ہلڑ بازی .... بھنگڑے .... تماشہ گیری .... یا کچھ اور .... ؟؟؟ ذرا سوچئے تو سہی کہ جو اس ”تفریح“ پر ”قربان“ ہوچکے وہ کون ہونگے .... ہوسکتا ہے کوئی کسی گھر کا واحد کفیل ہو .... یا کوئی سات بہنو ں کا اکلوتا بھائی ہو .... کوئی بیوہ ماں کا واحد نور نظر ہو .... اور کوئی بوڑھے باپ کا لخت جگر ہو .... گولی دیکھ کر تو کسی کے سینے میں نہیں اترتی .... اور نہ ہی ڈور کسی کا گلہ کاٹنے سے پہلے دیکھتی ہے .... بجلی کی بار بار بندش بھی کیا کیا ستم ڈھاتی ہے .... مسئلہ صرف پانی کی فراہمی میں رکاوٹ یا اندھیرے کانہیں ، ہسپتال کے آپریشن ٹھیٹروں کو بھی ذہن میں رکھنا ہوگا ۔ خدا معلوم کون سا مریض موت و حیات کی کشمکش کے کس مرحلے میں ہو .... ؟؟؟ تفریح اور اذیت پسندی میں بہت فرق ہوتا ہے ۔ یہ ”بیگمات“ کا بھنگڑا .... ”معززین شہر“ کا شور و غوغا .... نوجوانان ملت کا ”ٹھاہ ٹھاہ“ .... قوم کی بیٹیوں کا ”پیچے لڑانا“ .... یہ کون سا کلچر ہے .... کس قوم کی ثقافت ہے .... ؟؟؟ تفریح سے کوئی منع نہیں کرتا لیکن تفریح کا مقصد کسی بھی کلچر میں بےہودگی ، حواس باختگی اور باﺅلا پن نہیں ہے ۔ بسنت کا تہوار عام شہریوں کے سر پر لٹکتی ہوئی ایک تلوارہے کیونکہ قاتل ڈور اور ہوائی فائرنگ سے کسی بھی وقت کوئی معصوم شہری لقمہ اجل بن جاتا ہے ۔ جبکہ دنیا کے کسی بھی مہذب معاشرے میں ثقافتی تہوار یا رسم کے نام پر کسی کو کھلی چھوٹ نہیں کہ وہ عوام کی زندگیاں اجیرن بنادیں اور معصوم شہریوں کی ہلاکت کا باعث بنیں ۔ شروع شروع میں جب بچے بالے گلی کوچوں میں پتنگ بازی کیا کرتے تھے تو اس پر کسی کو اعتراض نہیں تھا لیکن اس شوق کو حد سے بڑھا کر پوری قوم کے اعصاب پر مسلط کردینا یقیناً ایک جرم ہے جس کا ارتکاب ملٹی نیشنل اداروں کے تعاون ہورہا ہے ۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے بسنت بھی اسلام کا اہم ترین رکن ہے اور قیام پاکستان کے بنیادی مقاصد میں سے ایک ہے ۔ ہر شوق اعتدال اور شائستگی کی حد میں رہنا چاہئے ۔ ہماری مصیبت یہ ہے کہ ہم ہوش و خرد سے بیگانہ ہوکر ہر شوق اپناتے ہیں اور یہی غلط ہے ۔ نجانے لوگ کن اعمال و افعال کو تہذیب قرار دے رہے ہیں ۔ کیا سٹیج پر چڑھ کر چھلانگیں لگانا .... پاگلوں کی طرح چیخیں مارنا .... صنف نازک کو بنا سنورا کر اور سونا سنگھار کرکے مٹکنے کے لئے چھوڑ دینا ہی ہماری تہذیب و ثقافت ہے .... کیا سکولوں کالجوں کے طلبہ و طالبات کا میلوں ٹھیلوں میں جاکر پیچ لڑانا اور ایک دوسرے کو دیکھ کر ”آئی بو“ اور ”بوکاٹا“ کے نعرے بلند کرنا ہی ہمارے کلچر کا حصہ ہے .... اور اگر یہی ہماری روایات ہےں تو پھر وہ کس کی تہذیب و ثقافت تھی جب صنف نازک کو چھپا چھپا کر رکھا جاتا تھا .... جب دو فرلانگ کے سفر کے لئے بھی پالکیاں اور ڈولیاں منگوائی جاتی تھیں .... جب حیاءکو عورت کا حسن اور مرد کا زیور کہاجاتا تھا .... جب ساز اور طبلے اٹھا اٹھا کر زمین پر پٹخے گئے تھے .... اور جب ہمسائے گیری اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے کا احساس ہم میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا .... ؟؟؟ بلاشبہ صحت مند تفریح ہر انسان کا حق اور اس کی بنیادی ضرورت ہے کیونکہ اس کی بدولت فرد کے دل و دماغ کو نہ صرف تازگی ، خوشی اور فرحت محسوس ہوتی ہے بلکہ چند لمحات کے لئے وہ اپنی پریشانیوں اور تکلیفوں کو بھول کر کسی حد تک ریلیف محسوس کرتا ہے لیکن جب کسی تفریح کو تفریح کی بجائے عوام پر عذاب بنادیا جائے تو اس کے بڑے بھیانک نتائج برآمد ہوتے ہیں ۔ ماضی میں ہر سال عوام کی طرف سے بسنت پر پابندی کا مطالبہ کیا جاتا رہا مگر سابق حکمرانوں نے اپنی تفریحات کی خاطر عوام کو دھتکارا اور نام نہاد روشن خیالی کو پروموٹ کرتے ہوئے بسنت کے دن کو لہو رنگ کیا ۔ موجود حکمرانوں میں بھی گورنر پنجاب اور چند دیگر عناصر ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلسل بسنت منانے پر اصرار کررہے ہیں ۔ یقیناً وہ قوم کے ساتھ مخلص نہیں ہیں اور قوم کو دکھ درد میں ہی مبتلا دیکھنا چاہتے ہیں ۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے شہباز شریف کی صورت میں قوم کو ایک فرشتہ عطا کیا ہے اور انہیں قوم کے زخموں پر مرہم رکھنے کا وسیلہ بنایا ہے ۔ حکومت پنجاب کا بسنت پر پابندی کو برقرار رکھنے کا فیصلہ یقیناً شہباز شریف کے سیاسی قد کاٹھ میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے مستقبل کی بھی روشن راہ متعین کرے گا ۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے پتنگ بازی پر پابندی کے اقدام کی سختی سے پاسداری اور عملدرآمد کرانے اور قوم کو ممکنہ خدشات و نقصانات سے بچانے کے لئے جس عزم کا اعادہ کیا ہے وہ قابل تحسین ہے ۔ اس سلسلے میں عدلیہ کا کردار بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔ شہباز شریف کی طرف سے بھی انتظامیہ کو پتنگ سازی اور ڈور کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف کریک ڈا¶ن کرنے اور پتنگ اڑانے والوں کے خلاف سختی سے پیش آنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ عوام کو بھی اس سلسلے میں عدلیہ کے فیصلے کا احترام اور حکومت کے ساتھ بھر پور تعاون کرنا چاہیے اور اس مسئلہ کو سنجیدگی کے ساتھ لینا چاہیے تاکہ محض چند مفاد پرست عناصر کی خوشی کے لئے شہری اپنے پیاروں کی محرومی سے محفوظ رہیں اور کسی کے گھر صف ماتم نہ بچھے ۔ یہی ہمارے لئے بہتر ہے ۔ وزیراعلیٰ پنجاب ، چیف سیکرٹری ، ڈی سی او ، اور حکومت پنجاب کی دیگر مشینری کے لئے میں دعا گو ہوں کہ خدا کرے کہ وہ اپنے فیصلے پر ڈٹے رہیں اور اس مقصد میں کامیابی ان کے قدم چومے ۔ یاد رکھئے قومیں جب آزمائش کے مرحلے میں ہوں تو اس وقت تفریح منانے کی نہیں اپنی تاریخ بنانے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن آج پاکستان کے مجموعی حالات دیکھ کر یہ فیصلہ کرنا کچھ مشکل نہیں کہ ہم کس سمت محوِ سفر ہیں ؟ افسوس کہ پاکستان کی محبت اور اس کی قدر و قیمت ہمارے ان بزرگوں کے دلوں میں ہی رہ گئی ہے جنہوں نے پاکستان بنایا تھا یا پھر جنہوں نے اسے بنتے دیکھا تھا ۔ جو اپنے مکان ، اپنی زمینیں ، اپنے عزیز وں کی لاشیں ، اور اپنی بیٹیوں کی عصمتیں سرحد پار ہی چھوڑ آئے تھے ۔ اس پاکستان کو دشمن کے عزائم سے بچا کر ایک مضبوط اسلامی اور فلاحی مملکت بنانے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں اس ذمہ داری کو محسوس کرنا چاہئے کہ ہماری نسلوں کو پاکستان کے وقار اور آن کا محافظ بننا ہے ، ان کی خون میں آباﺅ اجداد کی روایات کو شامل کرنا ہے ، اسے مذہب اور ملک کا دشمن دکھانا ہے اور ابلیسی قوتوں کے عزائم کو ناکام بنانے کے قابل بنانا ہے ۔ نیز انہیں اس بات کی اجازت ہرگز .... ہرگز نہیں دینی کہ ملک کے وقار اور اس کے حصول کے لئے دی گئی قربانیوں کو پتنگوں کے ذریعے ہواﺅں میں اڑا دیں یا ویلنٹائنی پھولوں کے ذریعے فضاﺅں میں بکھیر دیں ۔ بسنت منانے پر اصرار کیوں؟ (محمد نورا لھدیٰ )
__________________
www.islamhouse.com www.urduvb.com www.kitabosunnat.com Last edited by ALI-OAD; 22-02-10 at 01:29 AM. |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,081
کمائي: 110,133
شکریہ: 12,555
4,514 مراسلہ میں 15,389 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
آج لاہور میں پتنگیں اڑائی گئیں 1100 پتنگ اڑانے والے پکڑے تھے پولیس نے، جنہیں کچھ مرعات لے کر کل چھوڑ دیا جائے گا۔ پتنگ 2500 سے 3000 سال کی صدی میں چائینہ میں بنائی گئی تھی، ہندوؤں میں پتنگ ان کے بسنتی تہوار کا حصہ کب بنی یہ تو وہی بتا سکتے ہیں۔ پاکستان میں پتنگیں اڑئی جاتی ہیں۔ ہندؤں کی بسنتی پوجا نہیں کی جاتی۔ پتنگیں اڑانے والے انٹرنٹ میں نہیں آتے۔ ویسے انٹرنٹ کے بھی ایگزیبیشن/میلے ہوتے ہیں پاکستان کے کھیل ہیں کرکٹ، ہاکی، وغیرہ وغیرہ عرب کا قومی کھیل ھے فٹ بال، اونٹوں کی ریس، گھوڑوں کی ریس، باز پالنا اور ان پر بازیاں لگانا۔ پتنگ بازی سے لے کر ہر ایسا کام جس پر دوسرں کو نقصان کا اندیشہ ہو وہ لہولب ھے۔ جن کے پاس پیسہ ہوتا ھے تو انہی کے یہ سب شوق ہوتے ہیں۔ ہم جیسے تو گھر والوں کی ضروریات زندگی پوری کرنے میں ہی لگے رہتے ہیں۔ والسلام
__________________
|
|
|
|
| کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا | یاسر عمران مرزا (22-02-10) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 427
کمائي: 9,115
شکریہ: 139
313 مراسلہ میں 771 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہ جی عوامی حکومت ہے عوام کو فائدہ ہو گا ہی ۔
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,483
کمائي: 25,620
شکریہ: 1,232
937 مراسلہ میں 2,828 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 427
کمائي: 9,115
شکریہ: 139
313 مراسلہ میں 771 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
علی بھائ آپ گلے کٹنے کی بات کرتے ہو، اب عوامی حکومت نے چھوڑا ہی کیا ہے جو گلا کٹ کے ہوگا۔
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| پیاروں, پاکستان, پاکستانی, نظر, موت, ماں, متعارف, محبت, معلوم, آپریشن, آئینہ, آج, اللہ, انتظامیہ, انسان, اسلام, اسلامی, بھائی, جرم, خلاف, خدا, دعا, عورت, صحت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| آخر کیوں؟ | shafresha | عمومی بحث | 22 | 10-12-09 11:38 PM |
| خبطِ عظمت کا جنون !!,,,,آخر کیوں؟ | shafresha | عمومی بحث | 9 | 01-12-09 12:29 AM |
| شادی دیر سے کیوں؟ | بھائی | عمومی بحث | 15 | 07-01-09 10:36 AM |
| امت مسلمہ مدد الہیٰ سے محروم کیوں؟ | چیتا چالباز | اسلامی عقیدہ | 7 | 18-12-08 09:16 AM |