واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


بدمست ہاتھی!

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 28-02-10, 09:04 PM   #1
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,078
کمائي: 117,428
شکریہ: 14,667
4,078 مراسلہ میں 12,438 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default بدمست ہاتھی!

بدمست ہاتھی!

مجھے چھبیس فروری کی اس واقعے نے اس تحریر پر مجبور کیا ہے کہ کوئٹہ میں صدر زرداری کے دورے کے موقع پر اہم شاہراہوں کی دو گھنٹے تک ناکہ بندی کے دوران ہزاروں شہری متاثر ہوئے اور ایک بھائی اپنی بہن کو بر وقت اسپتال نہ پہنچا سکا۔

وی وی آئی پی سکیورٹی پر مامور سپاہیوں نے ان کی ایک نہ سنی اور رکشے میں ہی عورت نے بچے کو جنم دے دیا۔ اس کے بعد ہی ہمارے ذہین سکیورٹی اہلکاروں نے رکشے کو سڑک پار کرنے کی اجازت دی۔

اگرچہ حکومتِ بلوچستان نے اس واقعہ پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے بچے کی پرورش کے لیے ایک لاکھ اور صدر زرداری نے پانچ لاکھ روپے کا اعلان کیا ہے۔ جب کہ وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے اس بچے کو اپنے خرچ پر گریجویشن تک تعلیم دلانے کا وعدہ کیا ہے۔ مگر کیا اپنا احساسِ جرم چھپانے کے لیے صرف ایک بچے کو نوازنے سے لاکھوں شہریوں کو درپیش وہ مسائل ٹھیک ہوجائیں گے جو وی وی آئی پی موومنٹ سے پیدا ہوتے ہیں؟

رکشے میں بچے کی پیدائش کے واقعے سے چار روز پہلے جنوبی پنجاب میں چولستان کار ریلی کے موقع پر صوبائی مشیر ذوالفقار کھوسہ کے وی آئی پی سکواڈ میں شامل ایک پولیس وین نے ایک موٹر سائیکل سوار کو کچل کر ہلاک اور دو کو شدید زخمی کر دیا۔ گذشتہ ماہ لاہور میں چیف سیکرٹری پنجاب کی گاڑی نے ایک پیدل ریٹائرڈ کرنل کو ٹکر مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ کراچی کی شاہراہ فیصل پر وی وی آئی پی موومنٹ کے موقع پر سن دو ہزار چھ سے اب تک ایک بیمار لڑکی سمیت کم ازکم پانچ افراد بر وقت اسپتال نہ پہنچائے جانے کے سبب ٹریفک جام میں پھنس جانے والی ایمبولینسوں میں دم توڑ چکے ہیں۔

کیا کسی وی وی آئی پی کو اندازہ ہے کہ اس کی نقل و حرکت کے لیے پوری پوری شاہراہوں اور علاقوں کی گھنٹوں پہلے ناکہ بندی کے نتیجے میں کتنے ہزار لوگ ہیں جو بر وقت دفاتر اور اپنے اپنے کام کاج پر نہیں پہنچ سکتے۔ کتنے بچے ہیں جو سکول جا یا آ نہیں سکتے۔ کتنے مسافر ہیں جو ٹرینوں اور فلائٹوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔

یہ مسئلہ چٹکی بجاتے یوں حل ہوسکتا ہے کہ وی وی آئی پیز اپنی نقل و حرکت کے لیے ہیلی کاپٹر استعمال کریں یا ان ممالک کی سکیورٹی ایجنسیوں کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں جو اپنے وی وی آئی پیز کو شہری زندگی معطل کئے بغیر مکھن میں سے بال کی طرح بحفاظت نکال کے لے جاتی ہیں
کیا کبھی ان وی وی آئی پیز نے ایک سو بیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زن زن کرتی اپنی بلٹ پروف گاڑی کے کالے شیشوں سے یہ دیکھنے کی زحمت کی ہے کہ ان کے محافظوں سے بھری گاڑیاں کس طرح عام لوگوں کی چلتی ہوئی کاروں اور موٹر سائیکلوں کو بندوق کی نالیں لہرا لہرا کر، ہوا میں مکے اور گالیاں اچھالتے ہوئے زگ زیگ راستہ بنانے کی کوشش کرتی ہیں اور اس لمحے وی وی آئی پی سکواڈ میں شامل ایک معمولی کمانڈو بھی سامنے والے کو کیڑا مکوڑا اور خود کو خدا سمجھ رہا ہوتا ہے۔ حالانکہ اسی کیڑے مکوڑے کے دیے گئے ٹیکس سے ہی اس چھوٹے سے فرعون کے گھر کا چولہا جلتا ہے اور اسی کیڑے مکوڑے کے ووٹ سے وی آئی پی کو بلٹ پروف گاڑی میں بیٹھنا نصیب ہوتا ہے۔

اس پر طرفہ وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کا یہ بیان کہ بچہ تو کہیں بھی پیدا ہوسکتا ہے۔ رکشے میں بھی اور جہاز میں بھی۔ اس کی ذمہ داری وی آئی پی موومنٹ پر نہیں ڈالی جا سکتی ہے۔ کیا وزیرِ اعظم تب بھی ہنستے ہوئے یہی بات کرتے اگر انکے کنبے کی کسی عورت کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آتا؟ اور جنابِ والا جس طرح انسان کہیں بھی پیدا ہوسکتا ہے اسی طرح کہیں مر بھی تو سکتا ہے۔ پھر ان وی آئی پیز کو اپنی زندگی محفوظ رکھنے کے لیے اتنے کمانڈوز اور بلٹ پروف سکواڈ کی آخر کیا ضرورت ہے؟

اگر کوئی چاہے تو یہ مسئلہ چٹکی بجاتے یوں حل ہوسکتا ہے کہ وی وی آئی پیز اپنی نقل و حرکت کے لیے ہیلی کاپٹر استعمال کریں یا ان ممالک کی سکیورٹی ایجنسیوں کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں جو اپنے وی وی آئی پیز کو شہری زندگی معطل کئے بغیر مکھن میں سے بال کی طرح بحفاظت نکال کے لے جاتی ہیں۔

مگر مجھے اور مجھ جیسے کروڑوں شہریوں کو معلوم ہے کہ پرنالہ یونہی بہتا رہے گا۔ کیونکہ ہمارا حکمران طبقہ فیوڈل ذہنیت رکھتا ہے۔ جس میں ہٹو بچوکی صداؤں، شان و شوکت کے مظاہرے اور طاقت و برتری کے اظہار کو لاکھوں کروڑوں عام لوگوں کی مشکلات پر ہمیشہ فوقیت حاصل رہی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے عام آدمی شاہی ہاتھی کے پاؤں تلے کچلا جاتا تھا آج بلٹ پروف گاڑی کے نیچے آجاتا ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــ
وسعت اللٰہ خان-بی بی سی
ھارون اعظم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر (01-03-10)
جواب

Tags
کوئٹہ, کراچی, ٹریفک, پولیس, لوگ, لڑکی, موٹر سائیکل, مسائل, معلوم, آج, آدمی, انسان, بھائی, تعلیم, جلتا, جام, جرم, حل, خان, خدا, راستہ, زرداری, عورت, صدر زرداری, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
وہ اس کالج کی شہزادی تھی وہ شاہانہ پڑھتی تھی The Great مزاحیہ شاعری 1 13-09-09 11:20 AM
تیرے دامن کی تھی ۔ یا مست ہوا کس کی تھی خرم شہزاد خرم شعر و شاعری 1 27-01-09 09:23 PM
شام تھی اور برگ و گُل شَل تھے مگر صبا بھی تھی جون ایلیاء Real_Light جون ایلیا 0 14-06-08 02:47 PM
ایٹمی اسلحے خانے کی براہ راست رسائی ،امریکی درخواست آج مسترد کردیجائیگی عبدالقدوس خبریں 3 16-04-08 06:23 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:16 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger