| سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2007
مقام: Karachi -Pakistan
مراسلات: 591
کمائي: 1,824
شکریہ: 100
112 مراسلہ میں 243 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ایٹمی اثاثوں پر کس کی نظریں ہیں؟ تحریر : خالد محمود چوہدری حال ہی میں امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کے اس بیان نے اہل وطن کو چونکا دیا جس میں انہوں نے کہا کہ امریکی فورسز کو یکطرفہ طور پر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ کے اہداف کو نشانہ بنانے کیلئے تیار رہنا چاہیے۔ ایک بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق رابرٹ گیٹس نے یہ بیان واشنگٹن میں کانگریس کی آرمڈ سروسز کمیٹی سے اپنے خطاب کے دوران دیا۔ خبر کے مطابق موصوف نے مزید کہا کہ اگرچہ واشنگٹن پاکستان کے ساتھ مل کر اس کی سرحد کے اندر القاعدہ کے خلاف کام کرتا رہا ہے تا ہم امریکی فورسز کو یکطرفہ طور پر پاکستان کے اندر القاعدہ اہداف کو نشانہ بنانے کیلئے تیار رہنا چاہیے۔ القاعدہ خود کو دوبارہ منظم کر رہی ہے ہمیں پاکستانیوں کے تعاون کی ضرورت ہے اور اگر پاکستانی القاعدہ کی تربیت اور دوبارہ منظم کئے جانے کیخلاف ہمارے ساتھ تعاون کرتے ہیں تو پھر ہم ان کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ تا ہم ان کا کہنا تھا کہ القاعدہ کے مکمل خاتمے کیلئے ہمیں یکطرفہ کارروائی کے قابل ہونے کی بھی ضرورت ہو گی اور اگر ہم نے یہ کارروائی کی تو ہمیں یہ یقینی بنانا ہو گا کہ وہ دوبارہ ہماری طرف واپس نہ آئیں۔ اس سے پہلے برطانوی اخبار ”دی گارڈین “ کی یکم دسمبر 2007ء کی خبر بعنوان ”بش کو پاکستانی نیو کلیئر ہتھیاروں پر قبضہ کرنے کا تفصیلی خاکہ پیش کر دیا گیا “ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ امریکی دفاعی تجزیہ نگار،عراق میں مزید امریکی فوج بھیجنے والے منصوبے کے خالق اور صدر بش کے قریبی ساتھی فریڈرک کاگان نے ایک جامع حکمت عملی پیش کی ہے جس میں یہ باور کرایا گیا ہے کہ ”پاکستان میں سنی شدت پسندی کے عروج اور قبائلی علاقوں میں القاعدہ اور طالبان کے جڑ پکڑنے کے بعد اس کا قوی امکان ہے کہ پاک فوج میں انتہا پسندوں کے سرایت کر جانے کے نتیجے میں دراڑیں پڑ جائیں، یوں طالبان اورالقاعدہ کے حامیوں کا پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر قبضہ ہو جائے جس کے نتیجے میں پوری دنیا کو خطرہ لا حق ہو۔ ایسے میں امریکہ کو خاموش تماشائی بنے رہنے کی بجائے مختلف منصوبوں اور اختیارات کا جائزہ لینا چاہیے جن میں امریکی یا برطانوی چاق و چوبند دستوں کا پاکستان کے نیو کلیئر ہتھیاروں کو اپنے قبضے میں لے کر نیو میکسیکو یا کسی اور محفوظ مقامات پہ پہنچانا، امریکی فوجوں کا اسلام آباد، پنجاب اور بلوچستان پر قبضہ کر لینااور امریکی فوجوں کو پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں طالبان اور القاعدہ قوتوں کا مقابلہ کرنے کے مشن پر روانہ کرناشامل ہیں“۔ ”دی گارڈین“ اور دوسرے اخبارات کے مطابق پینٹا گون نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ کاگان کے کچھ منصوبوں پہ جنگی مشقیں کرائی گئی ہیں۔ ”واشنگٹن پوسٹ“ نے ان جنگی مشقوں کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ ان تمام مشقوں سے ایک ہی نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ”پاک فوج کی مدد کے بغیر اس کے جوہری ہتھیاروں کی سلامتی کے بارے میں آخر اتنے شکوک و شبہات کیوں ہیں کہ جنگی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے اور مشقیں کرائی جا رہی ہیں۔ خصوصاً ایسے ملک کے خلاف جو دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں صف اول کا اتحادی ہے۔ پھر اس منصوبہ بندی کا عالمی میڈیا میں اتنا زیادہ چرچا جس سے عام پاکستانی کے ذہن میں بھی یہ سوال ابھرتا ہے کہ ”کیا پاکستان پہ امریکی حملے کے امکانات روشن ہیں؟“۔ ”گارڈین“ کی رپورٹ کی اشاعت کے فوراً بعد ہی پشاور میں ایک پریس کانفرنس میں پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو نے کہا ”شدت پسند اسلام آباد پہنچ کر کہوٹہ پر قبضہ کر سکتے ہیں“ ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو دو بار وزیراعظم رہ چکی ہیں اور ان کو قومی امور کا عالمی سیاست کے نشیب و فراز کے تناظر میں نہایت گہرا شعور ہے چنانچہ ان کے اس بیان کو قومی سیاسی حلقوں میں نہایت توجہ حاصل ہوئی البتہ اس حوالے سے یہ بیان تشویش کا باعث بھی ہوا کہ محترمہ نے اپنے بیان میں یہ وضاحت نہیں کی کہ شدت پسند ”کون “ہیں اور وہ کہوٹہ پر کیسے قبضہ کر سکتے ہیں۔ مبصرین کا یہ خیال نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اگر محترمہ کا اشارہ طالبان، القاعدہ یا دیگر اسلامی تحریکوں کی طرف تھا تو یہ ایک ناممکن اور ناقابل یقین تجزیہ ہے کیونکہ کون نہیں جانتا کہ ایٹمی اسلحے کا حصول اور استعمال ایک مربوط اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ہی ممکن ہے اور ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ القاعدہ، طالبان یا دیگر اسلامی تحریکوں کو ہر گز میسر نہیں۔ جہاں تک پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے تحفظ کا معاملہ ہے تو 2004ء میں(مبینہ) ڈاکٹر عبدالقدیر خان نیٹ ورک کے انکشاف کے بعد وطن عزیز کے ایٹمی اثاثوں کو محفوظ بنانے کی تدابیر کو از سر نو ترتیب دیا گیا۔کہا جاتا ہے کہ سیکورٹی ڈویژن پاک فوج کے ایک میجر جنرل کی قیادت میں قائم ہے اور اس اہم حساس ادارے میں 9ہزارسے زائد محافظ ہیں۔ ان کی ذمہ داریوں میں نہ صرف زمینی، فضائی اور بحری حملوں سے ایٹمی اثاثوں کو محفوظ رکھنا ہے بلکہ سائنسدانوں اور اہم حکام کی جسمانی حفاظت کرنا شامل ہے ۔جدید ترین آلات اور نظام کی مدد سے حالات اور واقعات پر گہری اور کڑی نگاہ رکھی جاتی ہے اور اس امر کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ نادانستہ طور پر بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے اور نہ ہی غیر متعلقہ افراد یا گروہ کی ان تک رسائی ہو سکے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ نیو کلیئر ہتھیار مختلف مقاموں پر اس قدر راز داری اور مہارت سے محفوظ کر دئیے گئے ہیں کہ ان مقامات کا علم محض گنتی کے چند افراد کوہے۔دفتر خارجہ کے ترجمان نے تو یہاں تک کہا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے اس قدر محفوظ ہیں کہ ان کا سراغ امریکی سیٹلائٹ بھی نہیں لگا سکتے۔ پاکستان کا اپنا دفاعی نظام ہے جس میں بیرونی فوجی امداد پر انحصار بہت کم ہے۔ پاکستان نے ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کیلئے تمام نا ممکنات اور مشکلات کو عبور کر کے جب یہ ”صلاحیت اور طاقت“ حاصل کی ہے۔ اس کے اثاثے ایک بھرپور اور منظم کنٹرول اینڈ کمانڈ سسٹم کے ذریعے اتنے ہی محفوظ ہیں، جتنے کسی دوسرے ملک کے ہوسکتے ہیں لہذا پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کیلئے کسی ملک کی تشویش بے جا اور بلا وجہ ہے البتہ امریکی پالیسی کو دیکھتے ہوئے یہ خطرہ محسوس ہورہا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے خلاف ایک سازش اور منصوبہ بندی کے تحت پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے تا کہ بعد ازاں ان ایٹمی اثاثوں کے خلاف کسی کاروائی کا جواز بنایا جا سکے جیسا کہ عراق میں کیا گیا تھا۔ اہل وطن محسوس کرتے ہیں کہ امریکہ پاکستان کوایک ملک کے طور پر تو ضرور تسلیم کرتا ہے مگر اسے ایک ”اسلامی ملک“ کے طور پر پسند نہیں کرتا۔ امریکہ پاکستان کی افواج کی تعریف اور اس کی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کی بات ضرور کرتا ہے مگر اس سے پہلے اپنے ایجنڈے کی تکمیل چاہتا ہے۔ یہ امریکی ذرائع ابلاغ ہی تھے جنہوں نے پاکستان کے پرامن ایٹمی پروگرام کو سب سے پہلے ”اسلامی بم “ کا ام دیا حالانکہ بھارت اور اسرائیل کے ایٹمی پروگرام اور عزائم اس سے پہلے منظر عام پر آ چکے تھے لیکن کسی نے ان کو ہندو یا یہودی بم قرار نہیں دیا۔ ایسی سازشوں کا انکشاف بھی ہوچکا ہے کہ کہوٹہ پر حملہ کرنے کیلئے بھارت اور اسرائیل کے درمیان منصوبہ بندی مکمل ہو چکی تھی۔ حال ہی میں امریکہ نے بھارت کے ساتھ ایٹمی شعبے میں تعاون کا جو معاہدہ کیا ہے اس سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ اس خطے کی دو حریف ایٹمی طاقتوں میں کس کا ساتھ دے رہا ہے ؟ اپنی ایٹمی صلاحیت اور میزائل ٹیکنالوجی میں شاندار کامیابی حاصل کرنے کے بعد پاکستان کی فوج اور عوام کا مورال بلند ہوا ہے اوروہ اپنی آزادی اور وجود کے تحفظ کیلئے پہلے سے زیادہ پراعتماد ہیں اور (شاید) یہی بات امریکہ کو پسند نہیں۔ایسے میں کسی کا نام لینے کی ضرورت نہیں بلکہ اہل دانش خود حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے فیصلہ کر سکتے ہیں کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر در اصل کس کی نظریں ہیں؟ |
|
|
|
| ابو کاشان کا شکریہ ادا کیا گیا | Zullu230 (26-12-07) |
|
|
#2 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 1
کمائي: 0
شکریہ: 0
1 مراسلہ میں 1 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
محترم خالد صاحب
آپ کا آرٹيکل پڑھا۔ امريکی وزير دفاع را برٹس گيٹس کے جس بيان کو بنياد بنا کر آپ نے يہ آرڈيکل لکھا ہے اس ميں ايسی کوئ بات نہيں ہے جس سے پاکستان کی حدود کے اندر امريکی افواج کی يکطرفہ کاروائی کا عنديہ ملتا ہو۔ امريکی وزير دفاع رابرڈس گيڈس کا بيان يہ ہے۔ "ہم پاکستانيوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہيں۔ ہم پاکستان کے اندر القاعدہ کی کارواۂيوں کو توجہ سے ديکھ رہے ہيں۔ ہم پاکستان کی سرحد کے اندر کسی بھی فوجی کاروائی کے ليے امريکی فوج ميں اضافے کا کوئ ارادہ نہيں رکھتے۔ ہميں القاعدہ کے خلاف پاکستانيوں کی جدوجہد ميں ان کی مدد کرنی چاہيے اور ان کے ساتھ مل کر ان کی صلاحيتوں ميں اضافہ کرنا چاہيے يا ان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہيے۔" ہميں يہ بات ياد رکھنی چاہيے کہ القاعدہ امريکہ اور پاکستان کا مشترکہ دشمن ہے۔ حاليہ برسوں ميں پاکستان کے اندر القاعدہ کی کاروائيوں سے ہونے والے جانی اور مالی نقصان سے ہم سب واقف ہيں۔ آپ نے اپنے آرڈيکل ميں اسلامی انتہا پسندوں کی پاک فوج ميں شامل ہونے اور اس پر امريکی تشويش کا بھی ذکر کيا ہے۔ اگر آپ گزشتہ چند ماہ ميں ہونے والے بم دمھاکوں پر نظر ڈاليں تو يہ واضح ہو جاتا ہے کہ سب سے زيادہ جانی نقصان فوج اور فوجی اداروں کا ہوا ہے۔ يہ بات ثابت ہے کہ القاعدہ اور انتہا پسندوں کی ہمدردياں نہ ہی پاکستانی عوام کے ساتھ ہيں اور نہ ہی پاکستانی فوج کے ساتھ ہيں۔ جہاں تک پاکستان کے نيوکلر اساسوں پر امريکی قبضے کا تعلق ہے تو اس ضمن ميں آپ کا تجزيہ محض اخباری قياس آرائيوں پر مبنی ہے۔ اس ضمن ميں امريکی حکومت کے کسی عہديدار کا ايسا کوئی بيان نہيں آيا جس کی بنياد پر ايسے خدشات کا اظہار کيا جائے۔ فواد ڈيجيڈل آؤٹ ريچ ٹيم يو ايس – اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov |
|
|
|
| فواد - ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم - يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ کا شکریہ ادا کیا گیا | Zullu230 (26-12-07) |
![]() |
| Tags |
| ہندو, فراز, پاکستان, واقعات, واشنگٹن, وزیر, وزیراعظم, مکمل, مقابلہ, منصوبہ, امریکہ, اسلام, اسلامی, بے نظیر, تحریر, خلاف, خان, خبر, سیاست, شاندار, طالبان, عزیز, صلاحیت, صدر, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| خواتین مردوں کے بارے میں کیا سوچتی ہیں؟ | راجہ اکرام | عمومی بحث | 27 | 24-05-11 08:39 PM |
| آپ کونسا آپریٹنگ سسٹم استعمال کرتے ہیں؟ | عرفان حیدر | آئیں کمپیوٹر سیکھیں | 61 | 26-06-10 10:00 AM |
| کیا 1971 کی غلطیاں آج ہم کراچی یا دیگر علاقوں میں دہرا رہے ہیں؟ | مہوش علی | 1971 اور مشرقی پاکستان | 27 | 03-11-09 09:22 PM |
| امریکہ میں ایٹمی میزائل کے سیکڑوں پرزے غائب ہوگئے ،برطانوی اخبار | مسٹر گرزلی | خبریں | 0 | 20-06-08 10:37 PM |
| ایٹمی اثاثوں کی حفاظت خود کریں گے،عالمی مبصرین کی ضرورت نہیں،نواز شریف | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 05-01-08 09:22 AM |