واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


ایسی بات تو پتھر گوارا کر نہیں سکتا ۔۔!

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 03-03-10, 10:37 AM   #1
Senior Member
 
ARHAM's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مقام: کراچی
مراسلات: 1,290
کمائي: 32,294
شکریہ: 868
1,147 مراسلہ میں 4,162 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ایسی بات تو پتھر گوارا کر نہیں سکتا ۔۔!

ایسی بات تو پتھر گوارا کر نہیں سکتا ۔۔!

ایسی بات تو پتھر گوارا کر نہیں سکتا

۔۔۔۔۔جمال عبداللہ عثمان۔۔۔۔۔

سعید کے جسم کا بایاں حصہ مفلوج ہے ۔ اس کی نظر کمزور ہے ۔ چلتے پھرتے قدم لڑکھڑاتے ہیں، مگر مشکلات اور معذوری کے باوجود وہ کبھی چکوال کی ضلعی کچہری پہنچ جاتا ہے تو کبھی حیدر آباد کے لیے رختِ سفر باندھ لیتا ہے۔ کبھی وہ اسلام آباد کے مقتدر طبقات کے پاس اپنا مدعا لے کر حاضر ہوتا ہے تو کبھی کراچی آکر علمائے کرام سے ملاقاتیں کرتا ہے۔ اس کے 3 بیٹے اور 2 بیٹیاں ہیں۔ وہ بے روزگار بھی ہے، مگر اس کا کہنا ہے:

”میں نے اس کام کے لیے اب تک 30 ہزار روپے قرض لیا ہے۔ اگر اس مشن کے لیے مجھے اپنا مکان بیچنا پڑے تب بھی اس سے دریغ نہیں کروں گا۔“

وہ جس مقصد کے لیے بھاگ دوڑ کررہا ہے، اسے سن کر لوگ جہاں حیرت میں ڈوبتے ہیں، وہاں اسے خراجِ تحسین پیش کیے بغیر نہیں رہتے۔ آپ بھی سعید کی کہانی سنیے اور پھر ایک خبر ملاحظہ کیجیے۔ سعید کہتا ہے:

”میں ضلع چکوال کا رہائشی ہوں۔ یہ آج سے دو ماہ قبل کی بات ہے، رات کے ساڑھے آٹھ بج رہے تھے۔ دیہاتی علاقوں میں سردی کی راتوں میں لوگ جلد سوجاتے ہیں۔ میں بھی اس رات سونے کی تیاری کررہا تھا کہ میرے موبائل پر ایک ایس ایم ایس آیا۔ پیغام پڑھ کر میں چونک گیا، لیکن نہ چاہتے ہوئے بھی اسے نظرانداز کردیا۔ میں سمجھا شاید کوئی پاگل یا دیوانہ ہے جو ایسے پیغامات بھیج رہا ہی، لیکن ابھی ایس ایم ایس حذف کیا ہی تھا کہ دوسرے پیغام نے میری روح کو چھلنی کرکے رکھ دیا۔ ایسا لگا جیسے کسی نے سر پر کلہاڑا ماردیا ہو۔ میں نے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ مطلوبہ نمبر ملایا۔ اس نے اٹینڈ کیا، مگر ملائے ہوئے نمبر سے کسی بات کا جواب نہیں آرہا تھا۔ میں نے دوبارہ ملایا، پھر وہی خاموشی، اس طرح میں ملاتا رہا، وہ اٹینڈ کرتا رہا، لیکن جواب ندارد۔ کوشش کے باوجود بات نہ ہوئی تو میں نے موبائل بند کردیا۔
ان پیغامات نے ساری رات مجھے بے چین کیے رکھا۔ اگلی صبح میں نے موبائل آن کیا تو ایسا لگا جیسے میں زندگی کا خوفناک سپنا دیکھ رہا ہوں۔ میرے جسم پر گویا رعشہ طاری ہوگیا ہو۔ پورا جسم لرزنے لگا۔ رات کو جو پیغامات موصول ہوئے تھے وہ زیادہ گستاخانہ نہیں تھے، لیکن اب اس نمبر سے توہین رسالت پر مبنی درجن بھر پیغامات میری روح کو گھائل کیے دے رہے تھے۔ ان میں سے ایک ایک پیغام تڑپادینے والا تھا۔ میں بڑا سخت دل ہوں، لیکن یہ پیغامات پڑھتے ہوئے میری ہچکیاں بندھ گئیں۔ جب ذرا حالت سنبھلی تو جاکر اپنے علاقے کے چند افراد کو بتایا۔
ان میں سے بعض نے مشورہ دیا ”موبائل سم“ بند کروادی جائے۔ ان کی بات کسی حد تک ٹھیک تھی، لیکن میرا ضمیر یہ ماننے پر تیار نہ ہوا۔ میں نے ایک وکیل کے پاس جاکر قانونی راستہ تلاش کرنے کے لیے کہا۔
جیب میں ایک روپیہ نہیں تھا، مگر میں اُدھار لے کر ان کے مشورے سے اسلام آباد پہنچا۔ وہاں ایک نجی چینل کے دفتر گیا۔ ایک کیمرہ مین سے ملاقات ہوئی۔ اس کو ساری صورتحال بتادی۔ اس نے مدد کی یقین دہانی کرائی۔ رات کو جب گھر پہنچا تو کیمرہ مین نے فون کرکے بتایا توہین رسالت پر مبنی پیغامات بھیجنے والے کا نمبر بند کروادیا ہے۔ اس پر قدرے اطمینان تو ہوگیا، مگر اس بات پر اب تک دل اُداس تھا کہ اسے اپنے کیے کی سزا نہ مل سکی۔
رات کے ساڑھے دس بجے توہین رسالت پر مبنی وہی پیغامات ایک نئے نمبر سے ملنا شروع ہوگئے۔ میں نے یہ دیکھا تو اب تہیہ کرلیا جب تک اس گستاخ کو تختہ دار تک نہیں پہنچاﺅں گا اس وقت تک مجھ پر چین وسکون حرام ہے۔ چنانچہ میں نے اپنے ایک عزیز سے مزید کچھ رقم اُدھار لی اور اس مہم پر نکل گیا۔ خوش قسمتی یہ ہے میں نے جس سے بھی بات کی، ہر ایک نے تعاون کیا۔ یہاں تک کہ ایک دن ایس ایس پی خود میرے گھر آئے۔
میں نے معذرت کی تو کہنے لگے:
”یہ معاملہ ہی ایسا ہے کہ مجھے آپ کو بلاتے ہوئے شرم آرہی تھی۔ میں نے سوچا کہیں کل قیامت کے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے یہی نہ پوچھ لیں کہ میری حرمت کی خاطر تم اتنا نہ کرسکے۔“
جب کراچی آیا اور ایف آئی اے دفتر گیا تو یہاں بھی ایک افسر نے بھرپور راہنمائی کی۔ میں نے اس مقصد کے لیے حیدر آباد کے دو سفر کیے۔ ٹنڈوآدم جانا پڑا۔ چار مرتبہ اسلام آباد حاضر ہونا پڑا۔ کراچی کے لیے یہ دوسرا سفر ہے۔ میں اس معذوری کے باوجود جب سارا دن کورٹ کچہری اور دفاتر کی خاک چھانتے گزاردیتا ہوں تو تھکن سے چُور ہوجاتا ہوں لیکن مجھے وہ سکون ملتا ہے جو آج تک کبھی نصیب نہیں ہوسکا تھا۔
اب بس زندگی کی سب سے بڑی خواہش یہی ہے اللہ مجھ سے یہ کام لے لے اور اس گستاخ کو اپنی آنکھوں سے سزا بھگتتا دیکھ سکوں۔“

یہ اس محمد سعید کی روداد ہے جس نے معذوری کے باوجود دن رات ایک کیا۔ شاید کسی کی نظر بین الاقوامی ”ہاٹ اینڈ ہٹ ایشوز“ میں اس طرف نہ جائے لیکن حقیقت یہ ہے یہ واقعہ زخمی دلوں پر مرہم ہے۔ کچھ ہفتے قبل جب ”آفٹن پوسٹن“ کی ایڈیٹر ”ہائیلڈ“ نے ایک بار پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکے شائع کیے تو صحافیوں نے سوال کیا:
”مسلمانوں کی طرف سے اتنا شدید ردِعمل آنے کے باوجود یہ دوبارہ کیوں شائع کیے جارہے ہیں؟
“ اس کا جواب تھا: ”مجھے اُمید ہے مسلمان اب ردِعمل کا اظہار نہیں کرسکیں گے۔“
اس خبر نے بہت سے دلوں کو زخمی کردیا تھا۔ یہ خبر پڑھنے والے بہت سے بے چین ہوگئے تھے۔
”تحریک حرمت رسول پاکستان“ کے چیئرمین ”مولانا امیر حمزہ“ بھی ایک محفل میں یہی دکھڑا سنارہے تھے۔ کہنے لگے:
”یہ خبر پڑھتے ہی میری آنکھیں چھلک گئیں۔ میں نے سوچا کیا ہم واقعی اتنے بے حس ہوگئے ہیں کہ اب گستاخی کرنے والے یہ پیش گوئی کریں؟ کیا اُمت مسلمہ واقعی یہ نشتر سہتے سہتے یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ نبی کی حرمت کی کوئی اہمیت نہ رہی!“
لیکن مولانا امیر حمزہ کی طرح بہت سے تڑپنے والوں کو خوشخبری ہو یہ اُمت ابھی بانجھ نہیں ہوئی۔ اس میں ابھی ایسے ”سعادت مند“ موجود ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت پر اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہیں۔
ایک دیہاتی اور اَن پڑھ سے لے کر اعلیٰ عہدیدار تک، شب بیدار سے لے کر ایک گناہ گار اور سیہ کار تک.... کون ایسا ہے جو اپنے اس آخری حصار اور سہارے کو چھوٹنے دے گا؟ اور پھر عشق و محبت کا یہ سلسلہ چودہ سو سال سے چل رہا ہے اور قیامت تک جاری رہے گا۔
صلح حدیبیہ کے وقت جب مسلمانوں کو ”سبق“ سکھانے کا عزم کیا گیا تو ”عروہ بن مسعود“ نے سب کو مخاطب کرکے کہا تھا:
”خدا کی قسم! میں نے نجاشی، قیصر وکسریٰ کے دربار دیکھے ہیں مگر یہ عقیدت، وابستگی اور وارفتگی کہیں نہیں دیکھی جو محمد کے ساتھیوں کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔ وہ جب بات کرتے ہیں تو سناّٹا چھا جاتا ہے۔ حکم دیتے ہیں تو تعمیل کے لیے سب ایک دوسرے سے آگے بڑھتے ہیں۔ وضو کرتے ہیں تو گرنے والے پانی پر ایک مجمع ٹوٹ پڑتا ہے۔ ان کا رُعب ہے کہ کوئی نظر بھرکر ان کی طرف دیکھ نہیں سکتا۔“

لاریب! دنیا کی محبت فانی ہے۔ ہوسکتا ہے آج کی محبت کل کی نفرت میں تبدیل ہوجائے۔ آج جس پر جان نچھاور کرنے کو جی چاہتا ہے، ممکن ہے کل اس کی شکل دیکھنا گوارا نہ کی جائے....
لیکن اس ”آخری سہارے“ کی محبت ایسی لازوال ہے جس میں کمی نہیں آتی۔ جو بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔ محمد سعید کا معذور جسم، ایف آئی اے میں خدمات انجام دینے والا افسر اور پولیس جیسے محکمے میں کام کرنے والا تلہ گنگ کا ایس ایس پی.... ہر ایک اس بات کی گواہی دے رہا ہے۔

کاش! ان گستاخوں تک بھی یہ پیغام پہنچ جائی:

شہِ جن و بشر پر شر، گوارا کر نہیں سکتا
کہ حملہ ذاتِ عالی پر گوارا کر نہیں سکتا
گو اپنی ذات پر تو ہر ستم سہ جائے گا
مگر تنقید آقاصلی اللہ علیہ اسلم پر گوارا کر نہیں سکتا
چبھے سرکار کے پیروں میں گر کانٹا بھی تو مومن
سلامت رکھے اپنا سر، گوارا کر نہیں سکتا
دلِ نقادِ آقاصلی اللہ علیہ وسلم کی شقاوت قابلِ ماتم
کہ ایسی بات تو پتھرگوارا کر نہیں سکتا!
__________________
دختراسلام ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ان کے اہل خانہ کی عظمتوں کو سلام۔
مدہوش حکمرانو! ہوش میں
آؤ۔۔۔

Last edited by ARHAM; 03-03-10 at 03:06 PM.
ARHAM آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
14 قاری/قارئین نے ARHAM کا شکریہ ادا کیا
shafresha (03-03-10), فیصل ناصر (15-04-10), ھارون اعظم (14-04-10), نورالدین (06-03-10), منتظمین (03-03-10), مباح (04-03-10), محمدعدنان (03-03-10), ابو عمار (04-03-10), حیدر (15-04-10), حسنین ایوب (15-04-10), سحر (15-04-10), عامرشہزاد (03-03-10), عبداللہ آدم (15-04-10), عبداللہ حیدر (03-03-10)
پرانا 03-03-10, 11:23 AM   #2
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,396
کمائي: 261,218
شکریہ: 51,152
7,458 مراسلہ میں 21,729 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اللہ اُس خوش نصیب کو اس کام کی جزا دے، آمین ثم آمین ۔ ۔ ۔

کیا ہم اس سلسلے میں ‌کچھ کرسکتے ہیں؟؟؟
shafresha آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
حیدر (15-04-10), عامرشہزاد (03-03-10)
پرانا 03-03-10, 12:00 PM   #3
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,235
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے پیش کریں۔
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (03-03-10), عامرشہزاد (03-03-10)
پرانا 03-03-10, 02:54 PM   #4
Senior Member
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 5,769
کمائي: 95,740
شکریہ: 22,625
4,761 مراسلہ میں 13,857 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

نماز اچھی روزہ اچھا حج اچھا زکٰوۃ اچھی
مگر میں باوجود اس کے مسلماں ھو نہیں سکتا
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ بطحاصلی اللہ علیہ و سلم کی حرمت پر
خدا شاھد کامل مرا ایماں ہو نہیں سکتا
عبداللہ آدم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (03-03-10), مباح (04-03-10), ابو عمار (04-03-10), عامرشہزاد (03-03-10), عبداللہ حیدر (03-03-10)
پرانا 03-03-10, 02:54 PM   #5
Senior Member
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 5,769
کمائي: 95,740
شکریہ: 22,625
4,761 مراسلہ میں 13,857 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

نماز اچھی روزہ اچھا حج اچھا زکٰوۃ اچھی
مگر میں باوجود اس کے مسلماں ھو نہیں سکتا
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ بطحاصلی اللہ علیہ و سلم کی حرمت پر
خدا شاھد کامل مرا ایماں ہو نہیں سکتا
عبداللہ آدم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا
عامرشہزاد (03-03-10)
پرانا 14-04-10, 11:10 PM   #6
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,078
کمائي: 117,429
شکریہ: 14,670
4,078 مراسلہ میں 12,438 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ارحم بہن، اتنی اچھی تحریر ہم سے شئیر کرنے کے لئے شکریہ۔

مسلمان کتنے ہی بے عمل کیوں نہ ہوں، لیکن آقا صلی اللٰہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کبھی بھی برداشت نہیں کریں گے۔ انشاءاللٰہ
__________________


http:// haroonazam.wordpress.com

ھارون اعظم کا بلاگ۔
ھارون اعظم آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (14-04-10), عبداللہ آدم (15-04-10)
جواب

Tags
کورٹ, کراچی, پولیس, پاگل, قدم, لوگ, نفرت, چین, چینل, نظر, موبائل, ممکن, محبت, معذرت, آج, ایس ایم ایس, امیر, اسلام, اعلیٰ, تلاش, جواب, خوش, خبر, راستہ, عشق


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
میرا دل تو شاید پتھر ہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔!! محمد زین العابدین گپ شپ 2 11-12-10 07:20 PM
پتھر کُوٹنے والوں کو بھی شیشے جیسی سانس مِلے! خرم شہزاد خرم شعر و شاعری 3 03-06-10 10:59 PM
سڑکیں ہوں تو ایسی مسافر دلچسپ اور عجیب 5 15-08-09 04:59 PM
میں پتھر تھی تو آخر اب پگھلنے کیوں لگی ہوں The Great شعر و شاعری 0 08-08-08 03:55 PM
آ کے پتھر تو میرے صحن میں دو چار گرے (شکیب جلالی) Real_Light شکیب جلالی 3 27-05-08 02:20 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:45 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger