واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


اُلو کے پٹھے!..........کس سے منصفی چاہیں…انصار عباسی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 12-01-10, 12:31 AM   #1
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,264
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default اُلو کے پٹھے!..........کس سے منصفی چاہیں…انصار عباسی

اُلو کے پٹھے!..........کس سے منصفی چاہیں…انصار عباسی

برداشت اور دوسروں کی رائے کا احترام محض سیاسی باتیں نظر آتی ہیں جب عاصمہ جہانگیر جیسی شخصیت، ناظم کراچی مصطفی کمال جیسا سیاسی کارکن اور راشد قریشی جیسا شخص جس کو جنرل کے عہدے پر پہنچا دیا گیا ہو ایسی زبان سرعام استعمال کرنے لگیں جو نہ تو تہذیب کے دائرہ میں ہو اور نہ ہی ہماری سماجی و مذہبی حدود سے مطابقت رکھتی ہو۔ عاصمہ جہانگیر نے اگرچہ دی نیوز کے رپورٹر محمد احمد نورانی سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے ناشائستہ الفاظ ادا کئے مگر مصطفی کمال نے یہ ” کمال“ ایک نجی ٹیلی ویژن چینل پر براہ راست بات چیت کرتے ہوئے کیا جسے ساری دنیا نے سنا۔ راشد قریشی نے تو تمام حدیں عبور کرتے ہوئے ایک نجی ٹیلی ویژن کے براہ راست پروگرام میں پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف کو فحش گالی دے دی۔ نہ تو عاصمہ جہانگیر نے معذرت کی اور نہ ہی مصطفی کمال نے عوام سے معافی مانگنا مناسب سمجھا جبکہ راشد قریشی نے تو یہ گل کھلانے کے بعد کوئی بات ہی نہ کی۔

کراچی بولٹن مارکیٹ کے سانحہ پر پوچھے گئے ایک سوال کے جواب پر ناظم کراچی مصطفی کمال نے ایک نجی ٹیلی ویژن چینل سے کچھ اس انداز میں بات کی۔ ”مجھے اس بات کا بڑا افسوس ہے کہ اس ملک میں اتنے سانحات ہوتے ہیں کہیں Conspiracy Theory نہیں استعمال کی جاتی ہے، یہ کراچی کے لوگ ہی بہت الو کے پٹھے ہیں کہ جن کی موت کے بعد ہی یہ Conspiracy Theory اختیار کی جاتی ہے کہ ہم اپنی مارکیٹوں میں اپنے ہاتھ سے آگ لگائیں گے اور اسے جلنے دیں گے اس لئے کہ اسے خالی کرانا تھا۔ لعنت ہے۔ پاکستان کے تمام ان رہنماؤں پر لعنت بھیجتا ہوں۔ لعنت بھیجتا ہوں میں پاکستان کی تمام پولیٹیکل پارٹیز کے اوپر جو یہ الزامات لگا رہی ہیں اور جو میڈیا والے بھی اگر یہ الزامات لگارہے ہیں۔ اگر ہم نے خالی کرانی ہوتیں تو ہمارے پاس اور بہت سارے طریقے موجود تھے۔ اپنی مارکیٹوں میں بزنس hub کو آگ لگائیں گے؟ ہم اس کو نہیں بجھائیں گے؟ آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ میں نے جا کر اس مارکیٹ میں کام شروع کروا دیا ہے۔ وہ مارکیٹیں بننا شروع ہو گئی ہیں اور اگر ا ن کو ڈھانا ہوتا تو میں ان مارکیٹوں کو آگ لگاتا؟ لعنت بھیجتا ہوں میں پاکستان کی تمام پولیٹیکل پارٹیز کے ہیڈز پر۔ لعنت بھیجتا ہوں میں تمام اینکرز پر۔ لعنت بھیجتا ہوں میں پاکستان کے ان تمام لوگوں پر کہ ہم ہی مرے ہیں، ہم ہی جلے ہیں اور ہمارے اوپر ہی Conspiracy Theory اپنا رہے ہیں۔ پاکستان میں روزانہ بم دھماکے ہوتے ہیں کسی بھی جگہ آج تک کسی نے یہ Conspiracy Theory نہیں اپنائی…میرا شہر جلا ہے، میرے لوگ مرے ہیں اور ہم پر یہ الزام لگا رہے ہیں، الو کے پٹھے۔“

پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور تقریباً ڈیڑھ کروڑ عوام کے نمائندہ ناظم کراچی کو یقیناً یہ زبان زیب نہیں دیتی۔ مصطفی کمال کے بارے میں سنا تھا کہ ان کو تو ایک غیر ملکی جریدے نے دنیا کے بہترین میئرز میں شامل کیا۔ کراچی میں ترقیاتی کاموں اور شہر کی خوبصورتی کے بارے میں بھی مصطفی کمال کی کافی تعریف کی جاتی ہے مگر جس انداز میں انہوں نے یہ گفتگو کی وہ اس تاثر کے یکسر برعکس ہے جو ان کے بارے میں قائم کیا گیا ہے۔ غلطی انسان سے ہو تی ہے، کوئی بھی شخص غصہ میں غلط بات کر سکتا ہے مگر سیاسی رہنماؤں سے اس طرز کے ردعمل کی توقع نہیں کی جاتی۔ بڑے لوگ وہ ہوتے ہیں جو اپنی غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے معافی مانگتے ہیں۔ مصطفی کمال سے بعد میں پوچھا گیا کہ کیا وہ اپنے کیے پر معذرت کریں گے تو اس پر انہوں نے اگرچہ تسلیم کیا کہ ان کی بات Unethical تھی جس پر وہ فخر محسوس نہیں کرتے مگر انہوں نے عوام سے معذرت کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین اور ان کی پارٹی کی رابطہ کمیٹی بھی اس مسئلہ پر خاموش ہے۔ ایک دوست سے یہ بات سن کر مجھے حیرانگی ہوئی کہ ایک مرتبہ پہلے بھی مصطفی کمال کو ایک اخبار نویس کو سختی سے ڈانٹتے ہوئے ایک ٹی وی چینل پر سنا گیا۔ اگر یہ معمول ہے توبہت برا ہے جسے یقیناً ختم ہونا چاہئے۔ مصطفی کمال کو تو ابھی سیاسی میدان میں اور آگے بڑھنا ہے۔

عاصمہ جہانگیر کے نظریات اور ان کی رائے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر ان کے بارے میں ایک بات کہی جا سکتی ہے کہ وہ کسی بھی مشکل موقع پر وہ بات کر سکتی ہیں جو کوئی دوسرا نہیں کر سکتا۔ لیکن عاصمہ کا پارلیمنٹ کی آئینی کمیٹی کے اراکین کو محض اس بنا پر اُلو کے پٹھے کہنا سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ انہوں نے آئین کی اِس دفعہ کو کیوں خارج کرنے کی سفارش نہیں کی جو عاصمہ کے ذاتی نظریہ اور سوچ سے مطابقت نہیں رکھتی۔ عاصمہ جہانگیر جو خود نظریات اور سوچ کے اختلافات کی وجہ سے دوسروں کے غیض و غضب کا نشانہ بنی رہتی ہیں ان سے اس قسم کی بدزبانی کی توقع نہ تھی۔ دی نیوز اور جنگ میں اپنے حوالے سے خبر چھپنے کے ردعمل میں عاصمہ جہانگیر نے بھی معذرت کرنے سے گریز کیا اور گول مول انداز میں یہ وضاحت پیش کی کہ ان کے بیان کو غلط سمجھا گیا۔ سپریم کورٹ کے این آر او کے متعلق حالیہ فیصلے کے بعد عاصمہ جہانگیر نے کچھ نجی ٹیلی ویژن چینلز پر بار ہا یہ کہا کہ وہ آئین کی چند اسلامی دفعات کو نہیں مانتیں۔ کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ صوفی محمد اگر یہ کہیں کہ وہ آئین پاکستان کو یا اس کے کسی خاص حصہ (غیر اسلامی) کو نہیں مانتے تو بات سمجھ آتی ہے مگر عاصمہ جہانگیر کی طرح کا قانون دان اور قانون کی حکمرانی کی بات کرنے والا کوئی شخص اس طرح کی بات کرے تو پھر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ اگرکسی فرد یا گروہ کو آئین کاکوئی حصہ پسند نہیں تو اس کو تبدیل کرنے کی تدبیر کریں جیسا کہ جمہوری معاشروں میں کیا جاتا ہے۔ افراد کو اگراپنی ذاتی پسندو ناپسند کی بنیاد پر آئین اور قانون کو مسترد کرنے کی اجازت دے دی جائے تو ریاست کا نظام درہم برہم ہوجائے گا۔ یہ عدلیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرے نہ کہ کسی کی ذاتی پسند و ناپسند کی بنا پر۔ اگر آج عاصمہ جہانگیر صاحبہ کی بات مان لی جائے تو کل صوفی محمد کا مطالبہ بھی سامنے آ سکتا ہے۔

جنرل مشرف کے سابق پریس سیکرٹری میجر جنرل راشد قریشی نے ایک ٹی وی شو کے دوران خواجہ آصف کو جو گالی دی اس کو لکھنا تو درکنار زبان سے دہرانا بھی ممکن نہیں۔ راشد قریشی کی زبان سے نکلنے والی گالی کی طرح ان کی شخصیت پر بھی تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں مگر یہ سوال ذہن میں ضرور کھٹکتا ہے کہ پاکستان آرمی کے نظام میں وہ کون سی ایسی خامی ہے جس کی وجہ سے ایسے لوگوں کو بھی جنرل کے عہدے تک ترقیاں دے دی جاتی ہیں۔

نوٹ… میرے گزشتہ کالم میں ایف سی کی فائرنگ کے نتیجے میں اپنی ٹانگ کھو دینے والی سات سالہ لائبہ کے والدین کی چھپنے والی اپیل کا ایف سی کے اعلیٰ اہلکاروں پر کوئی زیادہ اثر نہ ہوا۔ حیات آباد پشاور سے تعلق رکھنے والی متاثرہ بچی کے والدین ازخود ایف سی کے آئی جی سے ملے جس نے انہیں زبانی طور پر بچی کے علاج معالجہ کا عندیہ دیا مگر والدین کے اصرار کے باوجود کوئی تحریری ضمانت دینے سے انکار کر دیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ صدر مملکت، وزیراعظم، آرمی چیف اور وزیر داخلہ میں سے کون اس معصوم متاثرہ بچی کے مستقل علاج معالجے سے متعلق اخراجات کو یقینی بنانے کے لئے مداخلت کرتا ہے۔

اُلو کے پٹھے!..........کس سے منصفی چاہیں…انصار عباسی
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
shafresha (12-01-10), فیصل ناصر (12-01-10)
پرانا 12-01-10, 12:41 AM   #2
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,974
کمائي: 276,903
شکریہ: 33,221
12,661 مراسلہ میں 37,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

راشد قریشی کی اس فحش زبانی کی ویڈیو یو ٹیوب پر موجود ہے
لیکن اس کو یہاں شئر نہیں کیا جاسکتا
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (12-01-10), راجہ اکرام (12-01-10)
پرانا 12-01-10, 12:49 AM   #3
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,264
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بس بھائی
پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (12-01-10)
پرانا 12-01-10, 12:52 AM   #4
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,974
کمائي: 276,903
شکریہ: 33,221
12,661 مراسلہ میں 37,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جی راجہ بھائی
شرم اس بات پر آتی ہے کہ ہ لوگ ہمارے سروں پر حکمران بن کر مسلط ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (12-01-10)
پرانا 12-01-10, 12:54 AM   #5
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,264
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بس فیصل بھائی
اجڑیاں باغاں دے گالڑ پٹواری
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 12-01-10, 08:30 PM   #6
Senior Member
 
فرحان دانش's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: پاکستان
عمر: 28
مراسلات: 2,742
کمائي: 39,355
شکریہ: 2,618
1,610 مراسلہ میں 3,703 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default


لنک
http://ejang.jang.com.pk/1-12-2010/images/1414.gif
فرحان دانش آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 12-01-10, 09:18 PM   #7
Senior Member
 
یاسر عمران مرزا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: جدہ-سعودی عرب
مراسلات: 5,195
کمائي: 80,054
شکریہ: 8,654
3,902 مراسلہ میں 11,175 بارشکریہ ادا کیا گیا
یاسر عمران مرزا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

یار آج میں بھی کہتا ہوں
مصطفی کمال الو کا پٹھا

سوری یار، دل آزاری پر معذرت خواہ ہوں
یقینن لفظوں کی کاٹ کا اثر ختم ہو گیا ہو گا۔
__________________
عرفی تومیندیش ذغوغائے رقیباں - آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا
میرا بلاگ | yasirimran.wordpress.com
یاسر عمران مرزا آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا
ام طلحہ (27-01-10), راجہ اکرام (13-01-10)
پرانا 12-01-10, 09:20 PM   #8
Senior Member
 
یاسر عمران مرزا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: جدہ-سعودی عرب
مراسلات: 5,195
کمائي: 80,054
شکریہ: 8,654
3,902 مراسلہ میں 11,175 بارشکریہ ادا کیا گیا
یاسر عمران مرزا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ایک اور بات
فوج کے نظام میں صرف راشد قریشی جتنی خامی موجود نہیں
بلکہ فوج نے مشرف جیسے فرد کو اپنا سربراہ بھی منتخب کر لیا تھا
پھر اسی کے غلط صحیح فیصلوں پر کوئی ایکشن بھی نہیں لیا ، وہ غداری کرتا رہا فوج چپ چاپ دیکھتی رہی۔
یاسر عمران مرزا آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (13-01-10)
جواب

Tags
search, کورٹ, کمال, کراچی, پاکستان, پسند, لوگ, نیوز, چینل, نظر, موت, ممکن, معذرت, آج, انسان, اسلامی, اعلیٰ, بہترین, تحریری, جواب, خبر, دوست, سپریم, شہر, علاج


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
گورنر پنجاب کا قتل سیاسی ہے‘ یہ کسی مذہبی جنونی کا کام نہیں‘ فوزیہ وہاب گلاب خان خبریں 0 06-01-11 04:30 AM
جبیں پہ دھوپ سی آنکھوں میں‌کچھ حیا سی ھے The Great شعر و شاعری 0 25-08-09 02:24 PM
جبیں پہ دھوپ سی آنکھوں میں‌کچھ حیا سی ھے The Great شعر و شاعری 0 14-08-09 10:17 PM
آئی سی ایل میں‌پاکستان کا نام کیوں ---- پی سی بی نے ایکشن لینے کا فیصلہ کرل محمدعدنان کرکٹ 1 16-04-08 11:27 AM
’کسی وردی والے سے بات نہیں‘ چاچا کمال خبریں 0 28-08-07 12:46 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:22 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger