| سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ۲۸ جنوری ۲۰۰۹ء کو سوات کا دورہ کیا۔ ۷ فروری کو وہ مہمند ایجنسی گئے ۔وہاں وہ پولیٹکل حکام سے ملے اور آپریشن میں مصروف جوانوں کا حوصلہ بڑھایا۔ ۲ مئی کو انہوں نے شمالی وزیرستان کا دورہ کیا۔ ۱۴مئی کو ایک بار پھر سوات جاپہنچے ۔ وہاں سول ایڈمنسٹریشن کے حکام سے بھی ملاقاتیں کیں ‘ عوامی نمائندوں سے بھی ملے اور فوجی جوانوں کی قربانیوں اور مشکلات سے بھی آگاہی حاصل کی ۔ چند روز بعد (۲۱ مئی کو) بونیر جاپہنچے اور وہاں کی صورت حال کاجائزہ لیا۔ ۲۵ جون کو ایک بار پھر شمالی وزیرستان کا دورہ کیااور صورت حال سے آگاہی حاصل کی ۔ ۱۰ اگست کو جنرل اشفاق پرویز کیانی ایک بار پھر سوات کے دورے پر گئے اور افسروں کو ہدایت کی وہ سوات میں زندگی کے رنگ واپس لوٹانے کے لئے ۱۴ اگست کو بھرپور طریقے سے منانے کے انتظامات کریں ۔ ان کی ہدایت پر چودہ اگست کو فوج کی زیراہتمام سوات میں خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔۳ ستمبر کو انہوں نے جنوبی وزیرستان کے مرکز وانا اور متصل ضلع ٹانک کا دورہ کیا جبکہ اگلے دن یعنی ۴ ستمبر کووہ ایک بار پھر سوات جاپہنچے لیکن اب کے بار منزل مینگورہ شہر نہیں بلکہ بریکوٹ اور کالام کے علاقے تھے ۔ چند روز کے وقفے سے (۱۱ ستمبر ) کو انہوں نے دیر کا دورہ کیا ۔ یہاں عوام کے ایک نمائندہ جرگے سے خطاب کیا اور بحالی کے کاموں کے حوالے سے عوامی شکایات سن کر متعلقہ حکام سے رابطہ کے ذریعے ان کا ازالہ کرایا۔ یکم اکتوبر کو انہوں نے ایک بار پھر شمالی وزیرستان کا رخ کیا ۔ وہاں فوجی افسروں اور پولیٹکل حکام سے ملے اور صورت حال کا جائزہ لیا۔ جنوبی وزیرستان میں آپریشن کے لئے حکمت عملی وضع کرنے کی غرض سے جنرل اشفاق پرویز کیانی ۲۵ اکتوبر کو ایک بار پھر جنوبی وزیرستان گئے ۔ ۱۴ اکتوبر کو فوج کے ہاتھوں فتح ہونے والے جنوبی وزیرستان کے اہم علاقوں لدھا اور سرا روغہ میں فوجی جوانوں سے ملنے پہنچے جبکہ ایک ہفتے کے وقفے سے یعنی ۲۱ ستمبرکو دوبارہ سوات پہنچ گئے ۔ صوبہ سرحد کے دارلحکومت پشاور میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہورہا لیکن یہ شہر ان دنوں ہر طرف سے بم دھماکوں کی زد میں ہے ۔ یہاں کے بہادر شہری اس صورت حال کا جوانمردی کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے اپنے سیاسی قائدین کی راہ تک رہے تھے لیکن جب ان میں سے کسی نے ہمت نہیں کی تو ۲۵ ستمبر کو جنرل اشفاق پرویز کیانی وہاں بھی جاپہنچے ۔ یہاں جاکر انہوں نے کور ہیڈکوارٹر کے دورے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ شجاعت اور قربانی کی نئی تاریخ رقم کرنے والے سرحد پولیس کے اہلکاروں سے ملنے ان کے پا س گئے ۔ پھر لیڈی ریڈنگ ہسپتال کا دورہ کیا اور وہاں زیرعلاج بم دھماکوں کے شکار زخمیوں کی عیادت کی ۔
قبائلی علاقوں کے چیف ایگزیکٹیو آرمی چیف نہیں بلکہ صدر مملکت ہیں لیکن انہوں نے پورے عرصہ صدارت میں کبھی کسی قبائلی علاقے کے دورے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ جناب آصف علی زرداری جیل سے رہا ہوئے تو میں ان سے ملنے کراچی گیا تھا۔ وہاں گپ شپ کے دوران انہوں نے مجھے بتایا تھا( جے یو آئی کے سینٹر حاجی غلام علی گواہ ہیں) کہ میں ایک گھر پشاور میں بھی خرید رہا ہوں اور ہر ماہ ایک ہفتہ میں پشاور میں قیام کروں گا۔ یہ بات اس دوران انہوں نے مجھے انٹرویو میں بھی بتائی تھی لیکن حکمران بننے کے بعد پشاور میں گھر کی خریداری اور مستقل قیام تو درکنار وہ وہاں کا دورہ کرنے سے بھی گریزاں ہیں تاہم دہشت گردی کے شکار سرحد کے لوگ کیا گلہ کریں کہ وہ اب اپنے شہر میں بھی اپنی پارٹی کے جلسے میں شریک ہونے کی بجائے ایوان صدر سے ویڈیو خطاب کررہے ہیں ۔ مجھے علم ہے کہ میاں نواز شریف کو ملاکنڈ ڈویژن بہت پسند ہے ۔ وزارت عظمیٰ کے دوران وہ ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر کبھی کبھار دیر کے علاقے کمراٹ جایا کرتے تھے لیکن اب جبکہ ملاکند ڈویژن کے عوام پر قیامت ٹوٹ پڑی تو انہوں نے کبھی ان کے دکھوں میں شریک ہونا ضروری نہیں سمجھا۔ وزیرستان سے لے کر باجوڑ تک اور سوات سے لے کر اورکزئی تک کے پہاڑوں میں مورچہ زن سپاہی اپنے سپریم کمانڈر کی راہ تھک رہے ہیں تو پشاور اور چارسدہ کے ہسپتال میں زیرعلاج زخمی اپنے مقبول لیڈر میاں نواز شریف کی آمد کے منتظر ہیں ۔ لیکن آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف سے کیا گلہ ‘ جب پختونوں کے اپنے لیڈر اسفندیار ولی خان اپنا صوبہ اور اپنے لوگ چھوڑ کر اسلام آباد چھوڑنے پر آمادہ نہیں تو وہ دوسروں کو کیا وہاں کے دورے کی تلقین کرسکیں گے ۔ مولانافضل الرحمان کاڈی آئی خان ان دنوں جنوبی وزیرستان کے آئی ڈی پیز (جو کہ ان کے ووٹرز اور سپورٹرزہیں) کا مسکن ہے لیکن ان مظلوموں کے نام پر سیاست کرنے والے حضرت مولانا نے کبھی اپنے گھر آئے ہوئے ان مہمانوں کے ساتھ ایک دن گزارنا گوارا نہیں کیا۔ انہیں یہاں بے یارومددگار چھوڑ کر وہ حج کے نام پر سعودی عرب کے شاہی مہمان بننے چلے ہیں حالانکہ اس سے قبل وہ ایک درجن سے زائد حج کرچکے ہیں(ایک سال ہم حج پر اکٹھے تھے ۔ منیٰ میں قیام کے دوران میں نے مولانا محترم سے سوال کیا کہ آپ نے کتنے حج کئے ہیں تو انہوں نے کہا کہ میں اتنے زیادہ حج کر چکا ہوں کہ مجھے تعداد یاد نہیں) ۔ ملاکنڈ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے جماعت اسلامی کے سراج الحق لاہور ‘ اسلام آباد اور پشاور میں تو نظر آجاتے ہیں لیکن سوات اور ڈی آئی خان میں کبھی نظر نہیں آئے ۔ قبائلی اراکین قومی اسمبلی کے پارلیمانی لیڈر منیر خان اورکزئی گذشتہ سال کے دوران اپنے حلقے (کرم ایجنسی) میں گئے ہیں اور نہ جاسکتے ہیں ۔ وزارت کے مزے لوٹنے والے خیبر ایجنسی کے عوام کے نمائندے حمیداللہ جان اپنے حلقے میں جانے کا ریسک نہیں لے سکتے ۔ کم و بیش یہی صورت حال دیگر قبائلی اراکین پارلیمنٹ کی ہے ۔ صدارت کے لئے ووٹنگ کے دوران آصف علی زرداری سے اسلام آباد میں پلاٹ ہتھیانے کے بعد اب فاٹا کے اراکین پارلیمنٹ گورنر کی تبدیلی کے مطالبے کے ساتھ ایک نئی بلیک میلنگ میں مصروف ہیں لیکن قبائلی عوام کا انہیں کوئی فکر نہیں ۔ رہے سرحد اسمبلی کے منتخب اراکین تو ان کی ہمت اور شجاعت کی تو جتنی بھی داد دی جائے کم ہے ۔ عسکریت پسندی کی زد میں آنے والے دیر سے پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی ذاکراللہ نے سرحد اسمبلی میں قرارداد پیش کی کہ چونکہ اپنے صوبے میں ان کی زندگیوں کو خطرہ ہے اس لئے سرحد اسمبلی کے اراکین کو اسلام آباد میں پلاٹ دئے جائیں اور پھر (ارشد عبداللہ‘ ثاقب اللہ چمکنی کے سوا) تمام اراکین اسمبلی نے بیک زبان اس قراداد کو منظور کیا(سکندر شیرپاؤ اسمبلی میں موجود نہیں تھے ) ۔بدترین جمہوریت ‘ بہترین آمریت سے بہتر ہے ۔ تسلسل سے ہی جمہوریت کی خامیاں دور ہوجاتی ہیں ۔ عوام کی رائے سے حکمرانوں کے انتخاب و عزل پر یقین تقاضائے ایمان ہے ۔ ہر پاکستانی کا فرض ہے کہ وہ جمہوریت کے قیام و استحکام کے لئے جدوجہد کرے اور کبھی کوئی ڈکٹیٹر عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کرے تو دامے درمے سخنے اس کی مزاحمت کرے لیکن آپ ہی بتائیے کہ ہمارے یہ سیاسی رہنما اس وقت جس بے حسی کا مظاہرہ کررہے ہیں ‘ کیا اس کے نتیجے میں جمہوریت کی رخصتی کی راہ ہموار نہیں ہورہی ہے ؟۔ جب چیف جسٹس بھی آرمی چیف کی مداخلت سے بحال ہوتا ہے ‘ جب اگلے مورچوں کے دورے بھی انہوں نے کرنے ہیں ‘ جب آئی ڈی پیز کی خبر بھی انہوں نے لینی ہے ‘ جب ہسپتالوں کے دورے بھی انہوں نے کرنے ہیں اور جب کیری لوگر بل کے خلاف صدائے احتجاج بھی انہوں نے بلند کرنی ہے تو پھر یہ سیاسی لیڈران کس مرض کی دوا ہیں ؟۔ پچھلے دنوں ایک افغانی دوست سے بات ہورہی تھی ۔ وہ کہہ رہے تھے کہ تم پاکستانی ہمارے حامدکرزئی صاحب کو طعنہ دیتے ہو کہ وہ کابل کے مئیر ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ کے زرداری صاحب تو اسلام آباد کے مئیر بھی نہیں ۔ قندھار ہو کہ خوست ‘ ہرات ہو کہ مزار شریف‘ بدخشان ہو کہ جلال آباد ‘ افغانستان کا کوئی شہر ایسا نہیں کہ جس کا کرزئی صاحب نے دورہ نہ کیا ہو‘ دوسری طرف تمہارے صدر اپنے ایوان صدر میں محصور ہیں ۔ لیکن تماشہ یہ ہے کہ آپ کی نظروں میں ہمارے کرزئی صاحب پھر بھی کابل کے مئیر ہیں جبکہ اپنے زرداری صاحب پھر بھی صدر پاکستان ہیں ۔افغانی دوست کا یہ تبصرہ سن کر میرا سر شرم کے مارے جھک گیا اور موضوع بدلنے کی کوشش کرنے لگا۔حکومت کا کوئی ترجمان بتائے کہ اس افغانی دوست کومیں کیا جواب دوں ؟ ---------------------------- روزنامہ جنگ- |
|
|
|
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,626
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,028 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آہ کیا خلاصہ بیان کیا ہے "بہترین آمریت سے بھی بہتر بد ترین جمہوریت" کی گزشتہ دو سال کی کارکردگی اور خآص کر ان علاقوں میں کارکردگی کا کہ جہاں ہر روز ایک نئی قیامت بپا ہوتی ہے۔ اندازہ تو تھا کہ ہمارے سیاست دان کس قدر بے ضمیر اور بے حیا ہیں لیکن سرحد اسمبلی کے ارکان کی "ہمت و شجاعت" کی داستان پڑھ کر دنگ رہ گیا۔ ہمارے تمام ایوان اپنے مفادات کے وقت کیسے یکسو اور یک جان ہو جاتے ہیں یہ اس سلسلے کی سب سے بد ترین مثال ہے۔
لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ اندازہ نہ تھا کہ آرمی چیف اس قدر محنت کر رہے ہیں ، ٹوٹتی بکھرتی قوم کو حوصلہ دینے کے لیے۔ میری طرف سے انکو سلام عقیدت ہے۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (29-11-09), عامرشہزاد (28-11-09) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: اسلامی جمہوریہ پاکستان
مراسلات: 464
کمائي: 15,915
شکریہ: 282
372 مراسلہ میں 1,170 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
![]() سلیم صافی صاحب کو چاہیے کہ وہ کہیں: وہ کرزئی ہیں اور ہم قرضئی ہیں۔ قرضئی ہمیشہ چھپ کر ہی ٹائم پاس کرتا ہے۔
__________________
عابد |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے گوندل کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| فرض, کراچی, پولیس, پاکستانی, پسند, لوگ, نواز شریف, نظر, مقابلہ, آپریشن, ایمان, احتجاج, اسلام, اسلامی, بہترین, جیل, جواب, حال, خان, دوست, زرداری, سیاست, علی, صدائے, صدارت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| حکومت کا دوست نہیں پاکستان دوست کا کردار ادا کررہا ہوں، نواز شریف | گلاب خان | خبریں | 1 | 27-12-10 04:59 AM |
| اردو لکھنے میں مسئلہ ہے کیا کروں؟ | ابوسعدقاسمی | Ask Experts ماہرین کی رائے | 13 | 08-11-09 12:28 PM |
| ایک دوست نے فخر سے اپنے دوست سے پوچھا | The Great | قہقہے ہی قہقے | 2 | 12-10-09 12:03 PM |
| میں انسان ہوں؟ | خرم شہزاد خرم | نئے تخلیق کار | 5 | 10-08-09 04:53 PM |
| میںکون ہوں؟ | میاں شاہد | ذاکر دہلوی | 0 | 22-04-08 10:22 AM |