| سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,264
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
”افغانستان میں مکمل ناکامی کا شدید خطرہ ہے۔“ یہ الفاظ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل ”بانکی مون “کے ہیں۔ ادھر امریکا کی معروف ملٹری اکیڈمی کے ریٹارڈ جنرل ”میکفرے“ نے خبردار کیا ہے: ”امریکی قوم کو ہرماہ افغانستان میں 500 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے لیے تیار رہنا چاہیے۔“ ان دونوں بیانات کو سامنے رکھ کر اگر ہم 1973ء کے ویتنام اور 2010ء کے افغانستان کو سامنے رکھ کر دیکھیں تو دونوں میں کوئی خاص فرق نظر نہیں آئے گا۔
ویسے ہی بیانات اور عوام کی وہی نفرتیں۔ لوگوں کے وہی احساسات اور امریکی فوجیوں کی وہی حالتیں۔ ویسے ہی دورانِ جنگ ایک امریکی صدر کی انتخابات میں شکست اور آج کے حالات بھی اسی طرح کے۔ جنگ کا انجام بھی وہی نظر آرہا ہے اور عرصہ بھی تقریباً اتناہی ہے۔ یادش بخیر! ویتنام میں امریکی فوجیں باقاعدگی سے 1962ء میں آنا شروع ہوئیں۔ 1963ء تک 25 ہزار امریکی فوجی آچکے تھے۔ 1964ء میں یہ تعداد 60 ہزار ہوگئی۔ ویتنام کے گوریلوں نے امریکی فوجیوں پر حملے شروع کردیے۔ 7 فروری 1965ء کو ان گوریلوں نے ایک بڑا حملہ کیا جس میں امریکا کے 36 فوجی مارے گئے۔ اس حملے سے متاثر ہوکر امریکی صدر ”جانسن“ نے ویتنام میں اپنی فوجیں مزید بڑھادیں۔ اپریل 1965ء تک یہ فوجیں 5 لاکھ 43 ہزار 400 ہوگئیں۔ جنوبی ویتنام فوجی چھاؤنی میں تبدیل ہوگیا۔ ساحل اور ایئرپورٹ امریکی کنٹرول میں چلے گئے۔ تمام بڑے شہروں کے حساس علاقے امریکیوں نے اپنے قبضے میں لے لیے۔ محسوس ہوتاتھا اب امریکا ویتنام سے نہیں جائے گا لیکن ویتنامیوں نے چھاپہ مار کارروائیوں کے ذریعے امریکیوں کو ناکوں چنے چبوادیے۔ ویتنام میں امریکی جانی و مالی نقصانات اس سطح پر پہنچ گئے کہ امریکی صدر جانسن امریکیوں میں غیرمقبول ہوگئے اور 1969ء کے الیکشن میں شامل ہونے سے انکار کردیا جس کے نتیجے میں رچرڈ نکسن امریکا کے صدر منتخب ہوگئے۔ نکسن نے اقتدار سنبھالا تو دو راستے تھے۔ وہ ویتنام سے اپنی فوجیں واپس بلوالیں یا پھر جنگ جاری رکھیں۔ پہلے راستے کے انتخاب میں امریکا کی جگ ہنسائی کا خوف تھا جبکہ دوسرے کے انتخاب پر مزید نقصان کا اندیشہ تھا۔ نکسن نے دوسرے کا انتخاب کیا۔ اس نے ویتنام میں اپنی فوج بڑھادی اور بارود پھینکنے کی مقدار میں اضافہ کردیا جس کے نتیجے میں شمالی ویتنام کے دو شہروں ”ہنوئی“ اور ”ہائی فونگ“ پر 11 دنوں میں ایک لاکھ بم گرائے گئے جو دنیا کی تاریخ میں بموں کی سب سے بڑی تعداد تھی لیکن جس دن بموں کی یہ بارش کی گئی اسی روز سے ویتنامیوں نے چھاپہ مار کارروائیوں کا نیا سلسلہ شروع کردیا۔ یہ وہ دن تھا جب دنیا جان گئی امریکا ویتنام کی جنگ ہارچکا ہے۔ رچرڈ نکسن بھی اس حقیقت سے واقف ہوگیا، لہٰذا 27 جنوری 1973ء کو ہار مان لی اور ویتنام سے فوجیں نکالنے کا اعلان کردیا۔ ویتنام سے امریکی فوجوں کا انخلا بہت عبرتناک تھا۔ دنیا نے امریکی فوجیوں کو ہیلی کاپٹروں سے لٹک کر بھاگتے ہوئے دیکھا۔ اس جنگ میں 60 ہزار امریکی فوجی مارے گئے، 3 لاکھ زخمی ہوئے اور ایک لاکھ کے لگ بھگ لاپتا ہوگئے۔ اس جنگ کے دوران 7 لاکھ فوجی نفسیاتی مریض بن گئے جن میں سے ایک لاکھ نے ذہنی دباؤ میں آکر خودکشی کرلی۔ اس جنگ کے آخر میں امریکی صدر نکسن نے کہا تھا: ”دنیا کی کوئی فوج کسی فوج کو شکست دے سکتی ہے لیکن وہ عوام کو زیر نہیں کرسکتی۔“ اب آتے ہیں افغانستان کی طرف! نائن الیون کے سانحے کے بعد 13 ستمبر 2001ء کو امریکا نے بغیر کسی ثبوت کے طالبان سے القاعدہ کے خاتمے اور اسامہ بن لادن کو امریکا کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔ انکار پر 14 ستمبر کو افغانستان پر خونیں یلغار کے لیے 7 ہزار مختلف افراد کو ایف بی آئی میں بھرتی کیا۔ 7/ اکتوبر 2001ء کو حملہ کردیا اور افغان عوام پر خونیں جنگ مسلط کردی۔ 35 دن تک امریکا کے مقابلے میں نہتے طالبان نے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ جب امریکا اس طرح کامیاب نہ ہوا تو پھر شمالی اتحاد کی مدد سے اندرونی مداخلت کروائی اور بالآخر 12 نومبر 2001ء کو سقوطِ کابل ہوگیا۔ طالبان شہروں سے نکل کر پہاڑوں پر چلے گئے اور وہیں سے گوریلا جنگ لڑتے رہے۔ اب تو کوئی دن نہیں گزرتا جب نیٹو افواج پرحملے نہ ہوتے ہوں۔ طالبان کے ایک ایک حملے میں 8 ،8 امریکی مررہے ہیں۔ کل کی خبر ہے: ”صوبہ کنڑ میں امریکی فوج پر حملے کرکے 14/ اتحادیوں کو ہلاک کردیا گیا۔“ جس طرح ویتنام میں امریکی فوجیوں پر حملے ہوتے ،وہ بے بس ہوجاتے اور پھر غصے کے عالم میں عام لوگوں کو مارنے لگتے تھے بعینہ اسی طرح جب امریکی واتحادی افواج طالبان کو کسی بھی طریقے سے ختم کرسکی اور نہ ہی رام۔ امریکیوں واتحادیوں کے تابوت کثرت سے جانے لگے تو پھر امریکی ونیٹو افواج کے کمانڈر بوکھلاگئے۔ بوکھلاہٹ کے عالم میں افغان عوام پر ہی اندھا دھند بمباری شروع کردی حتیٰ کہ شہید ہونے والوں کے جنازوں تک پر میزائل برسائے گئے۔ دو دن قبل بھی امریکی طیاروں کی وحشیانہ بمباری سے 150 کے قریب افغان شہری شہید ہوئے ہیں۔ جس طرح ویتنام جنگ کے دوران امریکا میں جنگ کے خلاف مظاہرے ہوئے تھے اور امریکی عوام کی اکثریت جنگ کا خاتمہ چاہتی تھی، بالکل اسی طرح افغان جنگ کے خلاف بھی امریکی عوام بلکہ پوری دنیا میں احتجاج ہوا۔ سروے کے مطابق دو تہائی برطانوی اور ایک تہائی سے زائد امریکی عوام افغانستان میں امریکی ونیٹو افواج کی موجودگی کے شدید مخالف ہیں۔ اس کا اظہار آئے روز احتجاجی مظاہروں سے ہوتا رہتا ہے۔ میرے سامنے کئی تصاویر پڑی ہیں۔ ایک تصویر میں افغانستان سے لوٹنے والا ایک فوجی بھی احتجاجی مظاہرے میں شامل دکھایا گیا ہے۔ دوسری میں امریکی فوجی اپنے ساتھیوں کی میتیں وطن پہنچنے پر بے اختیار رورہا ہے اور افغانستان جانے سے صاف صاف انکار کررہا ہے۔ کل جلال آباد میں امریکا کے خلاف ہزاروں افراد نے مظاہرہ کیا، اوباما کا پتلاجلایا اور آخر میں افغانستان سے فوری انخلاکا پر زور مطالبہ کیا۔ جس طرح ویتنام میں امریکی فوجیوں کو اتنی مار پڑی کہ وہ ایک عرصے تک ذہنی اور نفسیاتی ہسپتالوں میں علاج کرواتے رہے اسی طرح طالبان کے تابڑ توڑ حملوں نے امریکی فوجیوں کو ذہنی اور نفسیاتی مریض بنادیا ہے۔ امریکی فوج کے نگرانوں کا کہنا ہے افغانستان سے واپس آنے والے فوجیوں میں ”دماغی بیماری“ کی وبا پھیل چکی ہے۔ ان فوجی اور آرمی نیشنل کے اہلکاروں میں سے 38 فیصد دماغی اور نفسیاتی امراض میں مبتلا ہیں۔ یہ بیمار فوجی نسیان کے مرض میں مبتلا ہورہے ہیں۔ ان کے چلنے پھرنے کا طریقہ بتاتا ہے وہ ہوش وحواس سے بیگانہ ہورہے ہیں۔ کئی ایک بولنے کی صلاحیت بھی کھوبیٹھے ہیں۔ بیمار فوجیوں کا علاج کرنے والی کمیٹیوں کا کہنا ہے گزشتہ سال افغانستان سے واپس آنے والے 2ہزار 5 سو فوجی ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ اس سال کے آخر تک مختلف بیماریوں اور امراض کا شکار فوجیوں کی تعداد پچاس ہزار تک پہنچنے کا امکان ہے۔ امریکی ادارہٴ صحت کے مطابق 2007ء میں افغانستان سے واپس ہونے والے 121 فوجیوں نے خودکشی کی جبکہ2 ہزار 4 فوجیوں نے خودکشی کی کوشش کی لیکن انہیں ”انسدادِ خودکشی تنظیم“ نے بچالیا۔ جس طرح ویتنام جنگ میں امریکا کو شدید مالی نقصان ہوا تھا، اس طرح اب بھی ہورہا ہے۔ اس خبر نے تو امریکیوں کے ہوش اُڑادیے ہیں کہ 2009ء کے دوران امریکا کے 45 ہزار مالیاتی ادارے دیوالیہ ہوچکے ہیں جن میں سے 6 وہ ادارے بھی ہیں جو سو سال پرانے تھے۔ امریکا کے تمام تر استعماری ہتھکنڈوں کے باوجود امریکی معیشت مسلسل زوال پذیر ہے۔ جس طرح ”صدر جانسن“ 7سال تک ویتنام جنگ لڑتے رہے اسی طرح صدربش 8 سال تک افغان جنگ لڑتے رہے، لیکن کامیابی حاصل نہ کرسکے۔ جس طرح جانسن کے سامنے دو راستے تھے اور انہوں نے دوسرے کو اختیار کیا اسی طرح بش کے پاس بھی دو ہی راستے تھے۔ بش نے بھی دوسرے کو ہی اختیار کیا اورنتیجے کے طورپر 2008ء کے امریکی انتخابات میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ جس طرح ”جانسن “کے بعد ”نکسن“ امریکی صدر بنے تو انہوں نے ویتنام میں فوجیں مزید بڑھادیں، اسی طرح بش کے بعد اوباما صدر بنے تو انہوں نے بھی افغانستان میں 30 ہزار مزید تازہ دم امریکی فوجی افغانستان بھیجنے کا اعلان کردیا۔ اب یہی لگتا ہے جس طرح نکسن نے بعد میں مجبور ہوکر فوجیں واپس بلوالیں اسی طرح موسم گرما میں ایک فیصلہ کن رن ضرور پڑے گا جس کی تیاری طالبان اور امریکا دونوں کررہے ہیں لیکن بات پھر وہی ہے جس کا اعتراف ویتنام جنگ کے خاتمے پر نکسن نے کیا تھا: ”فوج کو شکست تو دی جاسکتی ہے لیکن عوام کو نہیں۔“ اور افغانستان میں تو طالبان کی صورت میں افغان عوام ہی یہ جنگ لڑرہے ہیں۔ جس طرح امریکا کو ویتنام سے رسوا ہوکر نکلنا پڑا تھا اسی طرح افغانستان کی لہو رنگ وادیوں سے بھی رسوا ہوکر ہی نکلے گا۔ امریکا کی نئی افپاک پالیسی بھی ناکام ہوچکی ہے۔ افغانستان کا مستقبل طالبان ہی ہیں۔ جس کا ایک ثبوت نیٹو حکام کی طرف سے جاری کردہ تازہ ترین وہ رپورٹ بھی ہے جس میں اعتراف کیا گیا ہے: ”افغانستان کے 34 میں سے 33 صوبوں میں طالبان کی عملداری قائم ہوگئی ہے۔“ ادھر افغان حکومت نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے: ”طالبان پر پابندیاں ختم کی جائیں۔“ ان تمام باتوں اور دلائل کو ملاکر دیکھا جائے تو خلاصہ یہ نکلتا ہے افغانستان میں امریکا کی شکست اور ناکامی نوشتہٴ دیوار ہے جو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل ”بانکی مون“ کو بھی نظر آرہی ہے۔ افغانستان کا مستقبل طالبان ہیں.............کارزار…انور غازی
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (12-01-10), عبداللہ حیدر (12-01-10) |
![]() |
| Tags |
| com, search, کوشش, کنٹرول, نظر, مکمل, مقابلہ, آج, اقوام متحدہ, احتجاج, تصویر, تصاویر, خودکشی, خلاف, سال, طالبان, علاج, عالم, غصے, صوبوں, صلاحیت, صاف, صحت, صدر, صدربش |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| پاکستانی غازی کے بعد امریکی غازی (طنزیہ) جارڈ لونر | فاروق سرورخان | خبریں | 0 | 13-01-11 06:53 AM |
| تحفظ چاہیے،امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کیلئے خصوصی قانون سازی ہو گی:دفتر خارجہ | جاویداسد | خبریں | 0 | 12-12-10 05:38 PM |
| پاکستان کے مستقبل کے ساتھ ہماری وابستگی,,,, رابرٹ ایم گیٹس…امریکی وزیر دفاع | راجہ اکرام | سیاست | 3 | 27-01-10 01:41 AM |
| امریکی افواج پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کر کے ایٹمی قوت سے جنگ کا خطرہ مول لے رہی ہیں ‘ امریکی | ابن جلال | خبریں | 1 | 20-09-08 01:32 AM |
| افغانستان میں دراندازی کی تردید | محمدعدنان | خبریں | 0 | 07-06-08 08:56 PM |