| سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,265
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
امریکہ کی تاریخ کا پہلا سیاہ فام صدر آج حلف اٹھا رہا ہے ۔
انہوں نے اپنی الیکشن کمپین کے دوران "تبدیلی" کا وعدہ کیا تھا کیا امریکہ کی جاری پالیسیوں میں کوئی تبدیلی ممکن ہے؟ یا وہ بھی پالیسی سازوں کے سامنے بے اختیار ہوں گے؟؟ اگرچہ دنیا تو حسین خواب دیکھ رہی ہے |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 625
کمائي: 11,683
شکریہ: 0
344 مراسلہ میں 656 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مستقبل ميں مختلف عالمی ايشوز کے حوالے سے صدر اوبامہ کی پاليسياں جيسی بھی ہوں گی ، ايک بات واضح ہے کہ ان کی بنياد مذہب پر نہيں ہو گی۔ جيسا کہ صدر اوبامہ نے بھی اپنے ابتدائ خطاب ميں اس بات کی وضاحت کی ہے۔ "ہم عيسائ، ہندو، يہود، مسلم اور کسی مذہب پر يقين نہ رکھنے والے افراد پر مشتمل ايک قوم ہیں۔ بحثيت قوم ہم کرہ ارض کے ہر کونے سے آنے والے افراد، زبان اور ثقافت پر مشتمل ہيں"۔ اس حقیقت کے پيش نظر امريکہ اپنی پاليسيوں کی بنياد کسی مذہب کی بنياد پر نہيں بلکہ صدر اوبامہ کے الفاظ کے مطابق "مشترکہ انسانی قدروں" کی بنياد پر استوار کرے گا۔
دنيا کا ہر ملک خارجہ پاليسی بناتے وقت اپنے بہترين مفادات کو سامنے رکھتا ہے۔ اس ميں اس وقت کے زمينی حقائق بھی ديکھے جاتے ہيں اور مختلف ممالک سے تعلقات اور اس کے دوررس اثرات اور نتائج پر بھی نظر رکھی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ يہ حقيقت بھی پيش نظر رکھی جانی چاہيے کہ ہر نئ حکومت کی پاليسی پچھلی حکومت سے الگ ہوتی ہے اور زمينی حقائق کی بنياد پر ان پاليسيوں ميں تبديلی بھی آتی رہتی ہے۔ حقيقت يہ ہے کہ عالمی سياست کے تيزی سے بدلتے حالات کے تناظر ميں دنيا کا کوئ ملک يہ دعوی نہيں کر سکتا کہ اس کی خارجہ پاليسی ہميشہ يکساں رہے گی اور اس ميں تبديلی کی گنجائش نہيں ہے۔ کسی بھی حکومت کے ليے يہ ممکن نہيں ہے کہ وہ ايسی خارجہ پاليسی بناۓ جو سب کو مطمئن بھی کر سکے اور حقيقت کا تدارک کرتے ہوۓ سو فيصد صحيح بھی ثابت ہو۔ جہاں تک مستقبل ميں امريکہ کی خارجہ پاليسی کے حوالے سے سوال ہے تو اس کا جواب يہ ہے کہ امريکہ برسراقتدار آنے والی نئ حکومت ،امريکی آئين ميں طے شدہ جمہوری اقدار اور عام انسان کی آزادی اور حفاظت کے حوالے سے کی جانے والی کسی بھی عالمی کوشش کی حمايت کرے گی۔ دہشت گردی کے ذريعے معاشرے پر اپنا تسلط قائم کرنے والے گروہ مستقبل کی کسی بھی امريکی حکومت کے ليے قابل قبول نہيں ہوں گے۔ اس ضمن ميں صدر اوبامہ کی تقرير کے اس حصے کی جانب توجہ دلواؤں گا جس ميں انھوں نے باہم اہميت کے حامل ايشوز پر اکٹھے کام کرنے کی اہميت پر زور ديا۔ "ہم مسلم ممالک کے ساتھ باہمی تعاون اور احترام کی بنياد پر مستقبل ميں رشتے استوار کرنے کے خواں ہيں۔ دنیا کے وہ ليڈر جو فساد کے خواہ ہيں اور اپنے معاشرے کی خرابيوں کا ذمہ دار مغرب کو قرار ديتے ہيں، وہ اس بات کو سمجھ ليں کہ ان کے عوام ان کے تخريبی نہيں بلکہ تعميری منصوبوں کی بنياد پر اپنی راۓ قائم کريں گے۔ وہ جو کرپشن اور دھوکے کی بنياد پر مخالف آوازوں کو دبا کر طاقت پر قابض ہيں اس بات کو جان ليں کہ تاريخ ان کا محاسبہ کرے گی۔ ہم تعاون کا ہاتھ بڑھانے کے ليے تيار ہيں۔" نئ امريکی حکومت اس حقيقت سے بھی واقف ہے کہ امريکی مفادات کا تحفظ اسی صورت ميں ممکن ہے جب عالمی برادری کے مشترکہ مفادات کو يکساں تحفظ فراہم کيا جاۓ۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov |
|
|
|
|
|
#4 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 625
کمائي: 11,683
شکریہ: 0
344 مراسلہ میں 656 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
غزہ کی صورت حال پر ايک دوسرے تھريڈ پر امريکی حکومت کا موقف پيش کر چکا ہوں۔ غزہ کی صورت حال – امريکی حکومت کا موقف مختلف اردو فورمز پر غزہ کی موجودہ صورت حال کے حوالے سے راۓ اور تجزيے پڑھنے کے بعد يہ واضح ہے کہ امريکی حکومت کی جانب سے غزہ کی موجودہ صورت حال کے خاتمے کے ضمن ميں کی جانے والی کوششوں اور حماس کے حوالے سے امريکی حکومت کے موقف اور پاليسی کے حوالے سے غلط فہمی اور ابہام پايا جاتا ہے۔ امريکی حکومت مغربی کنارے اور غزہ ميں ايک آزاد فلسطينی رياست کے قيام اور 1967 سے فلسطينی علاقوں پر اسرائيلی تسلط کے ضمن ميں فلسطينی عوام کے موقف کی مکمل حمايت کرتی ہے۔ امريکی حکومت اس مشکل گھڑی ميں غزہ کے عوام کے ساتھ ہے۔ اس ضمن ميں امريکی حکومت تمام متعلقہ فريقين سے مکمل رابطے ميں ہے اور ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ بے گناہ شہريوں کی حفاظت کو يقينی بنايا جاۓ اور غزہ کے عوام کی انسانی حقوق کی بنياد پر ہر ممکن مدد کی جاۓ۔ جہاں تک غزہ ميں حاليہ واقعات کا سوال ہے تو اس سلسلے ميں يہ واضح کر دوں کہ امريکی حکومت کی جانب سےعالمی برادری کے تعاون سے غزہ ميں پائيدار اور مستقل جنگ بندی کی ہر ممکن کوشش کی گئ ہے۔ امريکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 1860 کی مکمل حمايت کرتا ہے جس کی رو سے اسرائيلی افواج کو غزہ سے فوری انخلاء اور ديرپا جنگ بندی کا مطالبہ کيا گيا ہے۔ سلامتی کونسل کی اسی قرارداد ميں غزہ کے علاقے ميں خوراک اور ادويات کی فراہمی کو يقينی بنانے کی ضرورت پر بھی زور ديا گيا ہے۔ حماس کی جانب سے اسرائيل پر ميزائل حملوں کی غير ذمہ دارانہ پاليسی سے فلسطين کے عوام کے ليے کوئ مثبت مقاصد حاصل نہيں کيے جا سکے۔ اس ضمن ميں حماس کو ايسی دوررس پاليسی اختيار کرنا ہو گی جس کا فائدہ فلسطين کے عوام کو پہنچے۔ ہم نے متعدد بار امريکی حکومت کا يہ موقف دہرايا ہے کہ فلسطينی اور اسرائيلی عوام کی خواہشات کی تکميل پرامن مذاکرات اورباہمی رواداری سے ہی ممکن ہے۔ جيسا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 1850 ميں يہ واضح کيا گيا ہے کہ ديرپا امن کا حصول صرف اسی صورت ميں ممکن ہے جب دونوں فريقين ايک دوسرے کے وجود کو تسليم کر کے دہشت اور تشدد کی پاليسی ترک کرتے ہوۓ اسرائيل اور فلسطين کی عليحدہ رياستوں کے حل کو تسليم کريں۔ ايسا صرف اسی صورت ميں ممکن ہے جب دونوں فريقين کی جانب سے اس ضمن ميں ماضی ميں کيے جانے والے معاہدوں اور وعدوں پر عمل درآمد کو يقينی بنايا جاۓ۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov America - Telling America's Story - America.gov |
|
|
|
|
| Fawad کا شکریہ ادا کیا گیا | راجہ اکرام (22-01-09) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علی من یتبع الھدیٰ ، سلامتی ہواس پر جو ھدایت کی پیروی کرتا ہے ، اور جو کچھ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی دی اور واضح کی گئی ہدایت کے علاوہ کسی اور چیز کی پیروی کرتا ہے اس کے لیے سلامتی نہیں ، خواہ دنیا کی قوت و حشمت میں سے کافی حصہ اسے میسر ہو ،
فواد صاحب کو نام کی وجہ سے میں مسلمان ہی سمجھتا ہوں ، گو کہ یہ نام عرب میںتو غیر مسلم بھی رکھتے ہیں ، لیکن پاکستان کی نسبت سے میں خیال کرتا ہوں کہ یہ صاحب مسلمانوں کی گنتی میں ہی آتے ہوںگے ، بہرحال یہ صاحب اپنی تنخواہ کا حق ادا کرنے کی کوشش میں مشغول ہیں ، اگر یہ مسلمان ہیں تو بھی ایسے مسلمانوں میں سے ہیں جنہیں اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے فرامین ، احکام اور تعلیمات کی یا تو کوئی خبر ہی نہیں ہوتی ، یا پھر جانتے تو ہیں لیکن جن کی بندگی اختیار کی ہوتی ہے ان کی عبادت کرتے ہوئے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے حلاف کام کرتے ہیں ، فواد صاحب کا رب کہتا ہے کہ """""" فلسطينی اور اسرائيلی عوام کی خواہشات کی تکميل پرامن مذاکرات اورباہمی رواداری سے ہی ممکن ہے """"" تاریخ اس کو جٹھلاتی ہے، پر امن مذاکرات کا نشہ آور فلسفہ سونگھا سونگھا کر مسلمان کو مست کیے جاو اور جہاں موقع ملے اس کو مارو ، اس کا مال لوٹو ، اس کی عزت و آبرو ریزی کرو ، اور اگر وہ بے چارے کوئی شکایت کر ہی لے تو مذاکرات کا کوئی نیا میز سجا لو شکایتی کو وہاں بٹھاو وہاں مشغول کرو اور اپنا ظلم ، بربریت ، خون آشامی کا عمل جاری رکھو ، سبحان اللہ کیسا شاندار حل ہے رب فواد کا ، جس قوم پراللہ کی لعنت ہو چکی اور دنیا کی بزدل ترین قوم قرار پا چکی اس کے ناجائز قبضے کو مان لیا جانا اور اس کے سامنے سر نگوں رکھنا واہ کیا خوب ، اللہ کی حکمت اللہ ہی جانتا ہے ، فواد صاحب کا رب کیا جانے ، ہماری تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ایسے غدار ہمارے اندر پیدا ہوتے رہے ، اپنے ارباب کا حق عبادت ادا کرتے ہوئے مسلمانوں پر ظلم و جبر کرواتے رہے اور پھر ہر ایک ایسی غدارانہ کاروائی کے بعد مسلمانوں میں اللہ نے کوئی یا کچھ ایسے ظاہر کیے جو قوم کو مشکل سے نکال لائے ، اللہ کے دین کی سر بلندی کا سبب بنے ، اور امت کی سرخروئی کا سبب بنے ، اللہ نے حماس کو کہیں سے کچھ تھوڑآ سا اسلحہ مہیا کر دیا اس کا استعمال لعنتی یہودیوں پر کیا گیا ، دنیائے کفر جس کا سربراہ امریکہ ہے میں خوف جہاد بڑھ گیا اور اسرائیلی درندوں کو ایک دفعہ پھر فلسطنی خون پینے کے لیے نکالا گیا ، حماس کے بالشت بھر حجم کے چند میزائل یہودیوں پر گرنے کے بعد فواد صاحب کے رب نے پر امن مذاکرات کے لیے کوئی نیا میز کوئی نہیں بچھایا؟ لعنتی یہودیوں نے تقریبا ایک مہینے تک اپنی وحشت و بربریت بلکہ ایسے رویے کا کھل کر اظہار کیا جسے وحشت و بربریت درندگی خون آشامی جیسے الفاظ سے تعبیر کرنا اس کی کیفیت کو پوری طرح سے ظاہر نہیں کر پاتا ، فواد صاحب کا رب ان سارے دنوں میں یہودی درندوں کو یہ سبق کیوں نہیں پڑھا سکا اور انہیں کسی """ پر امن مذاکرے """" کی طرف کیوں نہں بلاتا رہا ، اور اب حماس کو """""شریر دہشت گرد """" کہتا ہے، کیوں !!! صرف اور صرف اس لیے کہ وہ ملسمانوں کی جہادی تنظیم ہے اور فلسطینوں کو اللہ کے لیے جہاد کرنے کے لیے اٹھانا چاہتی ہے ، مذاکرات کی چرس کے دھوئیں سے مدہوش ،فواد صاحب جیسے وہاں بھی تھے اور ہیں جو چالیس سال سے مذاکرات کی میزوں پر فلسطینی مسلمانوں کا ہر حق لعنتی یہودیوں کو دلوائے جا رہے ہیں ، اب ابلیس اور اس کے تابع فرمانوں کو اپنا کھیل بگڑتا ہوا نظر آیا کہ جہاد اسلامی کا نام لینے والی حماس کو ہاتھ کچھ مضبوط ہوئے تو فلسطین (غزہ) پر وہ سب کچھ کیا گیا جس سے انسانیت شرمندہ ہے ، تا کہ کہیں جہادی کوشش کو ایسی قوت نہ میسر ہو جائے جو یہودی کو دنیا کی لعنت سے نکال کرآخرت کی لعنت میں داخل کر دے ، ابلیسی لشکر ہمیشہ سے اسلامی جہاد کی ہر کوشش کو ختم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے اور ابلیس کی مقرب قوموں میں سے لعنتی یہودی بھی ہیں پس ان کو بچانے کے لیے ابلیس اپنے پیروکاروں کو استعمال کر رہا ہے ،کہیں جنگی ہیتھیار استعمال کروتا ہے ،کہیں زبان ، کہیں قلم ،کہیں کی بورڈز ، وہ جانتا ہے لیکن اپنے چیلوں کو نہیں جاننے دیتا کہ ، اللہ پاک کی طرف سے مقرر ہو چکا کہ ارض شام و عراق """" ملحمۃ الکبریٰ """" بنے گی ، یہودی چن چن کر قتل کیا جائے گا ، ڈالروں کی بدبو سے حواس باختہ ہونے والے جو مرضی کرتے رہیں ایسا ہو کر ہی رہے گا ، اور پوری دنیا پر اللہ کا دین سر بلند ہو گا ، اس دین کے سچے پیروکار قوت و سلطنت ضرور پائیں گے اور کفر اور کافر اور ان کے ساتھی (کسی معاوضے پر کام کرنے والے ہو یا بلا معاضہ ہی کفر کا پتھیار بنے ہوں ) سب کے سب مسلمانوں کے سامنے ذلیل و رسوا مجبور و مقہور ہو کر رہیں گے ، یہ ہمارے رب کے فیصلے ہیں ، جو اس کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی معصوم زبان مبارک سے سنائے جا چکے ہیں ، فواد صاحب اپنا وقت ضائع مت کیجیے ، اپنی آخرت کی فکر کیجیے ، اگر آپ مسلمان ہیں تو بھی اور کافر ہیں تو بھی ، یہ سوچ لیجیے کہ موت آ کر ہی رہنی ہے ہو سکتا میری اس بات کا جواب بھی دینے کی مہلت نہ ملے ، اور یقین کر لیجیے کہ مرنے کے بعد اللہ کے سامنے اپنے ہر ایک عمل اور قول کا جواب دینا ہے ، وہاں ڈالروں کی قوت کام آئے گی اور نہ امریکی پشت پناہی ،بلکہ یہ عذاب مزید کا سبب بنے گے ، اللہ نے آپ کو جو کچھ عطا کیا ہے اسے اب اللہ کے لیے استعمال کرنا شروع کیجیے ، اس کی خلاف ورزی چھوڑ دیجیے، گناہ کرنے سے زیادہ خوفناک انجام گناہ کو گناہ نہ ماننے اور اس پر اصرار کرتے رہنا ہوتا ہے ۔ اللہ ہم سب کو اُس پر اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر سچے ایمان اور ان کی مکمل تابع فرمانی کی توفیق عطا فرمائے اور اسی پر ہمارے خاتمے فرمائے ، و السلام علی من اتبع الھُدیٰ ۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | عارف اقبال (25-01-10) |
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,265
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عادل سہیل بھائی آپ نے تو دل کی بات کہہ دی
بہت بہت شکریہ |
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 625
کمائي: 11,683
شکریہ: 0
344 مراسلہ میں 656 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اعداد وشمار کی روشنی ميں مثبت بحث کرنے کے مقابلے ميں جذباتی تنقيد کرنا آسان کام ہے۔
شايد آپ کے نزديک ايک سچا مسلمان ہونے کے ليے يہ لازمی شرط ہے کہ امت مسلمہ کو درپيش تمام اندرونی اور بيرونی مسائل کا ذمہ امريکہ کو قرار دے کر اپنی ذمہ داريوں سے ہاتھ صاف کر ليے جائيں۔ ميں اس فلسفے سے اتفاق نہيں کرتا۔ ميں نے يہ کبھی دعوی نہيں کيا کہ امريکی حکومت اور اس کی خارجہ پاليسيوں پر "سب اچھا ہے" کی مہر لگائ جا سکتی ہے۔ ليکن کيا آپ جذبات کو بالاۓ طاق رکھ کر يہی بات تسليم کر سکتے ہيں کہ دہشت گردی کے حوالے سے ہماری صفوں ميں "سب اچھا نہيں ہے"؟ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov http://usinfo.state.gov |
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#9 | |||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
افغانستان میں شہید کیے جانے والوں کی گنتی کیا ہے ؟؟؟ کشمیر میں شہید کیے جانے والوں کی گنتی کیا ہے ؟؟؟ عراق میں شہید کیے جانے والوں کی گنتی کیا ہے ؟؟؟ بوسنہ اور ھرسک میں شہید کیے جانے والوں کی گنتی کیا ہے ؟؟؟ کتنی """ دہشت گرد""" مسلمان بہنوں کی عزتیں لوٹی """ امن ہسندوں""" نے ؟؟؟ کتنے """دہشت گرد """ مسلمان بچے معذور اور اپاہج بنا دیے """ امن پسندوں """ نے ؟؟؟ کتنے """ دہشت گردی """ کے اڈے """ مسجدیں """ ڈھا دی """ امن پسندوں """ نے ؟؟؟ کتنے نسخے """ دہشت گردی """ کی کتاب """ قران """ کے جلا دیے """ امن پسندوں """ نے ؟؟؟ کچھ اعداد و شمار ان کے بھی بتایے ، اور اس سے پہلے ان """ دہشت گردوں """ نے آپ کے """ امن پسندوں """ کا کیا اور کتنا بگاڑا تھا ، وہ اعداد و شمار بھی بتایے ، منفی اور مثبت کا پیمانہ بھی آپکے پاس امریکہ کا دیا ہوا ہے ، اور ہمارے پاس ہر معاملے کو جانچنے کے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے مقرر کردہ پیمانے اور کسوٹیاں ہیں ، و للہ الحمد ۔ اور ہمارے جذبات انہی پیمانوں اور کسوٹیوں کے مطابق متحرک ہوتے ہیں ، کافروں کا مال کھا کر اپنے دین اور اپنے مسلمان بھائی بہنوں کی جان مال عزت کے لٹیروں کا تحفظ کرنے کے لیے نہیں ، و الحمد للہ فی الاولیٰ و فی الآخرۃ اقتباس:
یہاں میں ایک بات کی وضاحت کی درخواست کرتا ہوں ، اسے ذاتی معاملہ نہ سمجھا جائے ، کیا آپ مسلمان ہیں ؟؟؟ پوچھنے کا مقصد صرف اپنے انداز تخاطب میں تبدیلی کرنا ہے ، جی تو فواد صاحب ، کسی بھی مسلمان کو اپنی ذمہ داریاں نبھانے سے پہلے ہاتھ صاف نہیں کرنا چاہیں ، لیکن جاننے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اس کی ذمہ داریاں کیا ہیں ؟؟؟ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی مکمل اور بے چوں و چراں تابع فرمانی ، ان کی مقرر کردہ حدود میں رہتے ہوئے اپنے مسلمان بھائی بہنوں کی مدد اور اصلاح یا ان کے اور اللہ کے دین کے دشمن کافروں کی وکالت ، اقتباس:
جناب مسلمانوں میں کافروں کی تعلیم اور معیار کے مطابق """ دہشت گردی """ ہر گز نہیں ، وہ """ جہاد """ ہے ، کہیں اللہ کے دین کی سر بلندی کے لیے ، کہیں اپنے مظلوم مسلمان بھائی بہنوں کی مدد کے لیے ، کہیں ظالم اور غاصب کفار سے اپنی جان مال عزت اور وطن بچانے اور چھڑوانے کے لیے ، جی میں یہ ضرور مانتا ہوں کہ ، کفار کی بنائی ہوئی ، اور سکھائی ہوئی """ دہشت گردی """ کے نتیجہ میں ان کے ہاتھوں بکے ہوئے ، یا ان کے ہاتھوں بلیک میل ہونے والوں نے جب اپنے ہی مسلمان بھائی بہنوں کے ساتھ کافروں جیسا ہی ظلم شروع کیا تو جوابی کاروائی میںجو کچھ ہو رہا ہے اسے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں """ دہشت گردی """ کہا جا سکتا ہے ، اگر آج ہم مسلمانوں کی صفوں میں سے وہ غدار ختم ہوجائیں یا اپنے معبودوں کا حکم مان کر اپنے مسلمان بھائی بہنوں پر ظلم ختم کر دیں تو بہت ہی جلد یہ اصل دہشت گردی بھی ختم ہو جائے گی ، جناب ، امریکہ ، اور ساری دنیا کے کفر اور کافروں کو مسلمانوں سے ہمیشہ سے ہی دشمنی رہی ہے اور وہ مسلمانوں سے ہمیشہ ہی اس بات کا انتقام لیتے چلے آئے ہیں کہ انہوں نے اللہ پر اسی طرح ایمان کیوں رکھا جس طرح اللہ نے کہا اس طرح کیوں نہیں رکھتے جس طرح یہ اللہ کے دشمن کہتے ہیں (((( و ما نقمُوا مِنھُم اِلا اَن یومنوا باللہ العزیز الحمید O الذی لہُ مُلکُ السمواتِ و الارض و اللہ علیٰ کل شیء شہید O ::: اور ان (کافروں) نے ان (مسلمانوں) سے صرف اس لیے انتقام لیا کہ یہ مسلمان اللہ العزیز الحمید پرایمان رکھتے ہیں O وہ اللہ جس کی بادشاہت میں ہیں زمین اور سب آسمان اور جو ہر ایک چیز پر گواہ ہے ))))) سورت البروج اور ہمیں یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ ((((( و لن ترضیٰ عنک الیھود و لا النصاریٰ حتی تتبع ملتھم ، قُل ان ھُدیٰ اللہ ھو الھُدیٰ و لئن اتبعت اھواھم من بعد ما جاءک مَن العِلم ما لکَ مِن اللہ مِن ولی و لا نصیر ::: اور ( اے محمد صلی اللہ علیہ و علی ٓلہ وسلم ) یہودی اور عیسائی ہر گز آپ سے اس وقت تک خوش نہیں ہو سکتے جب تک آپ ان کے دین کی اتباع نہ کریں آپ فرما دیجیے کہ ہدایت وہی ہے جو اللہ کی (بھیجی ہوئی ) ہدایت ہے اور اگر آپ اپنے پاس ( اللہ کا بھیجا ہوا ) علم آنے کے بعد بھی اُن (کافروں) کی خواہشات کی پیروی کریں گے تو اللہ کی طرف سے آپکے لیے کوئی مددگار اور والی نہ ہو گا ))))) سورت البقرہ ، پس فواد صاحب ، ہمارے ان جذبات کے مطابق سوچتے ہیں جو اللہ کے فرامین کا مطالعہ کرنے سے پیدا ہوتے ہیں ، نہ کہ ان جذبات کے مطابق جو اللہ کے نافرمانوں کی دی ہوئی سوچ و فکر کا نتیجہ ہیں ، آپ جو کچھ کر رہے ہیں وہ بھی کسی نہ کسی جذبے کا نتیجہ ہے خواہ وہ جذبہ دنیا کمانے کا ہی ہو ، انسان کا کوئی عمل ایسا نہیں جس کے پیچھے کوئی جذبہ کارفرما نہ ہو ،خواہ اس عمل کا شمار لاشعور اعمال میں ہی کیا جائے ، پس فرق جذبات کی بیاد اور منبع کا ہے ، و السلام علی من اتبع الھُدیٰ۔ |
|||
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | مون لائیٹ آفریدی (25-01-10), راجہ اکرام (31-01-09) |
|
|
#10 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 625
کمائي: 11,683
شکریہ: 0
344 مراسلہ میں 656 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اگر امريکہ مسلمانوں کو کمزور کرنے کے درپے ہے تو پھر آپ ان حقائق کو کيسے جھٹلائيں گے اس وقت امريکہ ميں سب سے زيادہ تيزی سے پيھلنے والا مذہب اسلام ہے۔ امريکہ ميں قائم 1200 سےزائد مساجد ميں لاکھوں کی تعداد ميں مسلمان ديگر شہريوں کی طرح اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے کا پورا حق رکھتے ہيں۔ يہی نہيں بلکہ مسلمانوں کو يہ حق بھی حاصل ہے کہ وہ غير مذہب کے لوگوں کو مساجد ميں بلوا کر ان سے مذہب کے معاملات ميں ڈائيلاگ کر سکتے ہيں۔ مسلمانوں کو مساجد تعمير کرنے اور اسلامی تنظيموں کے قيام جيسے معاملات ميں مکمل قانونی تحفظ حاصل ہے۔ اس کے علاوہ سياست، تجارت اور زندگی کے دوسرے شعبہ جات ميں مسلمانوں کو مکمل نمايندگی حاصل ہے۔ يہ کيسی منطق ہے کہ امريکہ مسلمانوں اور اسلام کے خلاف ہے اور اس کے باوجود مسلمانوں کو امريکہ کے اندر ترقی کرنے کے تمام تر مواقع ميسر ہيں۔ اگر امريکہ پاکستان اور مسلمانوں کو کمزور کرنے کے درپے ہے تو اکتوبر 2005 کے زلزلے کے بعد 267 ملين اور 1951 سے لے کر اب تک يو – ايس – ايڈ کے ادارے کی جانب سے دی جانے والی 7 بلين ڈالرز کی امداد کو آپ کيسے فراموش کريں گے۔ امريکہ فلسطين کی امداد کرنے والے ممالک کی فہرست ميں پہلے نمبر پر ہے۔ پچھلے دس سالوں ميں امريکہ کی جانب سے فلسطين کو 8۔1 بلين ڈالرزسے زائد کی امداد دی جا چکی ہے۔ اگر امريکہ مسلمانوں کے خلاف ہے تو پھرايک آزاد فلسطينی رياست کے قيام کا مطالبہ کيوں کر رہا ہے؟ اگر امريکہ مسلمانوں کو کمزور کرنے کے درپے ہے تو بوسنيا اور کوسوو کی مدد کو کيوں پہنچا۔ انڈونيشيا کے مسلمانوں کو سونامی کی تباہکاريوں کے بعد سب سے زيادہ امداد امريکی حکومت کی جانب سے ہی ملی تھی۔ اس ميں صرف امريکی حکومت ہی شامل نہيں تھی بلکہ امريکہ کی بےشمار نجی تنظيموں نے بھی اس ميں حصہ ليا تھا۔ سال 2006 ميں ايران ميں زلزلے کی تباہی کے بعد امداد دينے والے ممالک ميں امريکہ سرفہرست تھا۔ سال 2006 ميں صحت، تعليم اور ديگر ترقياتی کاموں کے ضمن ميں امريکی حکومت کے توسط سے يو – ايس – ايڈ اور ايم – سی – سی کے اداروں کو جو امداد دی گئ اس کا تخمينہ 12 بلين ڈالرز ہے۔ يہ سارے ترقياتی منصوبے يو – ايس – ايڈ کے زير نگرانی پايہ تکميل تک پہنچے اور ان کی تفصيل آپ اس ويب سائٹ پر ديکھ سکتے ہيں۔ U.S. Agency for International Development حقيقت يہ ہے کہ امريکہ مسلمان ممالک کو ہر سال کئ بلين ڈالرز کی امداد ديتا ہے۔ صرف يہی نہيں بلکہ ہر سال ہزاروں کی تعداد ميں مسلمانوں کو امريکہ ميں شہريت دی جاتی ہے۔ عرب دنيا اور ديگر مسلم ممالک سے ہر سال ہزاروں طالب علم امريکہ کے تعليمی اداروں ميں اعلی تعليم کے حصول کے ليے آتے ہيں ان پر اس حوالے سے کسی قسم کی کوئ پابندی نہيں ہے۔ اس کے علاوہ ہر سال لاتعداد مسلمان پناہ گزين امریکہ ميں آ کر بستے ہيں اور انہيں امريکی شہريوں کے مساوی بنيادی انسانی اور آئينی حقوق ديے جاتے ہيں۔ امريکہ نہ ہی اپنی جغرافيائ حدود ميں اضافے کا خواہ ہے اور نہ ہی کسی قوم، مذہب يا گروہ کو ختم کرنے کے درپے ہے اور اس کا ثبوت يہ ہے امريکی آئين کے مطابق امريکی شہريوں کو بغير کسی تفريق کے اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ دنيا ميں کتنے ممالک ايسے ہيں جو يہ دعوی کر سکتے ہيں کہ وہاں پر ہر قوم اور مذہب کے لوگوں کو مکمل آزادی حاصل ہے۔ جب امريکی حکومت نے اپنے ملک ميں کسی مذہب يا قوم پر پابندی نہيں لگائ تو پھر يہ الزام کيسے لگايا جا سکتا ہے کہ امريکہ پوری دنيا پر ايک خاص نظام، مذہب يا اقدار مسلط کرنے کا خواہش مند ہے ؟ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov http://usinfo.state.gov |
|
|
|
|
|
|
#11 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,265
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فواد صاحب
مدلل گفتگو کرنے پر شکریہ قبول کیجئے۔ لیکن آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ اگر امریکہ میں سب سے زیادہ تیزی سے اسلام پھیل رہا ہے تو اس میںامریکہ کا کوئی حصہ نہیںبلکہ یہ اسلام کی فطرت ہے۔ اسے امریکہ کے محاسن میں گنوانا قرین قیاس نہیں ہے ۔ اگر وہاں 1200 مساجد میںمسلمان عبادت کر سکتے ہیں تو یہ امریکہ کی مجبوری ہے، کیوں کہ نام نہاد جمہوریت کے دعوے کا بھرم بھی تو رکھنا ہے۔ اگر امریکہ کی ایجنسی مسلمانوں کی مدد کرتی ہے تو مسلمان ممالک کے قیمتی وسائل پر ناجائز قبضہ بھی تو اسی امریکہ بہادر ہی کا ہے۔ عراق نے تیل کے معاملے میں سختی کی تو غلط معلومات کی بنیاد پر اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ آپ ان کا نمک کھاتےہیں اور حق بھی بھر پور ادا کر رہے ہیںلیکن خدارا یہ نمک ہمارے زخموں پر مت چھڑکیں۔ اگر آپ ایک قوم سے اربوں ڈالر لوٹ کر اس کو ہزاروں تو کیا لاکھوں بھی بطور امداد واپس کریں تو یہ احسان نہیں بلکہ ۔۔۔۔۔ امریکہ اور آپ جیسے لوگوںکے بارے میں ہی کسی نے کہا تھا کہ آپ لگانی آپ بجھانی، مارنا بھی اور رونا بھی مان گیا استاد تجھے، تو آفت کا ہرکارہ ہے |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | مون لائیٹ آفریدی (25-01-10), عادل سہیل (06-02-09) |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 625
کمائي: 11,683
شکریہ: 0
344 مراسلہ میں 656 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کچھ تجزيہ نگاروں کے ليے امريکہ ايک ايسا "ورسٹائل ولن" ہے جو ہر کہانی، ہر بحث اور ہر دليل ميں بالکل فٹ بيٹھتا ہے۔ کبھی کبھار تو اس ولن کو بحث سے متعلقہ متضاد راۓ زنی ميں دونوں طرف کے دلائل ميں استعمال کيا جاتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر امريکہ ايک ايسا ولن ہے جس کے بارے ميں کہا جاتا ہے کہ
"امريکی حکومت کے نزديک صرف اپنے شہريوں کی حفاظت اور آئينی حقوق کا تحفظ مقدم ہے"۔ مگر جب 11 ستمبر 2001 کے حادثے يا سابق صدر جرنل ضياالحق کے حوالے سے سازش کے ضمن ميں دليل کی ضرورت پڑے تو پھر يہ کہا جاتا ہے کہ "امريکی حکومت فائدے کے ليے اپنے ہی ہزاروں شہريوں يا اعلی عہدوں پر فائز سفارتی اہلکاروں کو ہلاک کرنے ميں کوئ عار محسوس نہيں کرتی"۔ کبھی يہ ولن ايک ايسے عيار منصوبہ ساز کے طور پر پيش کيا جاتا ہے جس کے بارے ميں دعوی کيا جاتا ہے کہ "امريکی تھنک ٹينک اور فيصلہ ساز ادارے دنيا کے کسی خطے ميں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کے ليے بڑی طويل منصوبہ بندی کرتے ہيں"۔ اس ضمن ميں سازشی نقشوں کو دليل کے طور پر پيش کيا جاتا ہے۔ کبھی يہ چالاک ولن ايک ايسے غير ذمہ دار اور "بدمست ہاتھی" کے طور پر استعمال کيا جاتا ہے جس کے بارے ميں کہا جاتا ہے کہ "امريکہ زمينی حقائق کا تدارک کيے بغير گولی پہلے چلاتا ہے اور نشانہ بعد ميں ليتا ہے۔" موقع کی مناسبت سے يہی ولن ايک اناڑی بزدل بن جاتا ہے جس کے بارے ميں کہا جاتا ہے کہ "چاکليٹ کھانے اور کوک پينے والے امريکی فوجی پہاڑی علاقوں کی مشکلات کا سامنا نہيں کر سکتے اور ان کے مقابلے ميں مقامی لوگ ان علاقوں ميں لڑائ کے ليے زيادہ بہتر، منظم اور مضبوط ہيں"۔ مگر پھر يہی کمزور ولن ايک ايسا طاقتور "عفريت" بن جاتا ہے جس کے بارے ميں دليل دی جاتی ہے کہ "ہمارے پاس امريکی حملوں کو روکنے کے ليے وسائل نہيں ہيں"۔ 90 کی دہائ ميں دليل يہ تھی کہ امريکہ ايک ظالم حکمران کے تسلط کا شکارعراق کے مظلوم لوگوں کی داد رسی کے ليے کوئ کردار ادا نہيں کر رہا کيونکہ وہ مسلمان ہيں۔ اب دليل يہ ہے کہ امريکہ کو صدام حکومت کے خاتمے کا کوئ حق نہيں تھا اس بات سے قطع نظر کہ اس کے دور حکومت ميں کتنے مظالم ڈھاۓ گۓ۔ اگر امريکہ پاکستان کو امداد ديتا ہے تو اسے پاکستان کے حکومتی اداروں پر امريکی اثرورسوخ بڑھانے کی سازش قرار ديا جاتا ہے۔ اگر امريکہ امداد نہ دے تو دليل يہ بن جاتی ہے کہ امريکہ کا جھکاؤ بھارت کی طرف ہے۔ کبھی امريکہ ايک ايسا ولن ہے جو سب کچھ جانتا ہے اور کبھی ايک ايسا دشمن جسے مقامی حالات کا صحيح تدارک نہيں ہے۔ بعض اوقات يہ دونوں متضاد دلائل ايک ہی موضوع پر جاری بحث ميں استعمال کيے جاتے ہيں۔ کبھی امريکہ ايک ايسی سلطنت ہے جو تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے اور کبھی اتنی مضبوط کہ دنيا کے کسے بھی دوردراز ملک کی حکومت تبديل کرنے کی صلاحيت رکھتی ہے۔ ليکن ان دلائل کا حتمی نتيجہ صرف يہی نکلتا ہے کہ بحث کوئ بھی ہو، ذمہ داری کا بوجھ بہرحال امريکہ پر ڈالنا جائز ہے۔ ملک کے اندر کسی تبديلی، بہتر قيادت کے ليے شعور اجاگر کرنے اور عوام کے معيار زندگی کو بہتر بنانے کے کسی منصوبے کی کوئ ضرورت نہيں ہے کيونکہ تمام تر مسائل کی وجہ اور انکا حل ايک "بيرونی ہاتھ" کے پاس ہے۔ کوئ بھی باشعور شخص يہ بات جانتا ہے امريکہ سے متعلق دلائل غير مستقل اور اور منطقی اعتبار سے متضاد ہوتے ہيں جو موضوع کی مناسبت سے اپنی نوعيت تبديل کرتے رہتے ہيں۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov http://usinfo.state.gov |
|
|
|
|
|
#13 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,265
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فواد صاحب آپ کی صلاحیتوں کو داد دینے کی ضرورت ہے۔
امریکہ کی کامیابیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے پوری دنیا سے ٹیلنٹ چن کر خرید لیا ہے۔ اور انہیںاتنا نوازا ہے کہ اب وہ وہی سنتے ہیںجو امریکہ سناتا ہے ، وہی بولتے ہیںجو وہ بلواتا ہے، وہی دیکھتے ہیںجو وہ دکھاتا ہے۔ بہر حال جب ذمہ داری لے لی ہے تو دفاع کا حق بھی ادا کیجئے۔ لیکن جہاں تک آپ کی مذکورہ بالا گفتگو کا تعلق ہے کہ امریکہ کے بارے میںمتضاد آراء دی جاتی ہیں ، ہر برائی اس کی طرف منسوب کر دی جاتی ہے۔ اصل میں شاید آپ ایک حقیقت نہیںسمجھ پائے۔ وہ یہ ہے کہ جب کسی فرد، ادارے یا ملک کے بارے میں ایک متفقہ رائے قائم ہو جائے کہ وہ بہت اچھا ، بہت خراب، یا بہت ظالم ہے، وغیرہ وغیرہ۔ تو پھر اس کی طرف کچھ بھی منسوب کر لیا جائے دنیا اسے سچ سمجھتی ہے۔ مثال بات کو واضحکر دے گی۔ چنگیز اور ہلاکو خان۔۔۔ ظلم کی دنیا کے بادشاہ گزرے ہیں۔۔ انہوںنے اتنے مظالم ڈھائے کہ اب آپ ظلم کا کوئی بھی قصہ ان کی طرف منسوب کر دیں تو وہ سچ ہی لگے گا۔ حاتم طائی نامی ایک سخی گزرے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ سخاوت میں انہوںنے ایسی مثالیںچھوڑی ہیںکہ سخاوت کی کوئی بھی مثال ان کی طرف منسوب کر دیں ۔۔۔۔دنیا مان لے گی۔ یہی حال امریکہ بہادر کا ہے۔۔۔۔۔ ظلم، زیادتی ، نا انصافی، حق تلفی، ناجائز قبضہ، قتل و غارت، الغرض کوئی ایسی برائی اس وقت دنیا میں نہیں پائی جاتی جس میں امریکہ نے اوج کمال حاصل نہ کیا ہو۔ بلکہ اب تو برائی کا لفظ بھی چھوٹا لگتا ہے/۔۔۔۔ لہذا اب دنیا میں جو بھی برائی ہو اس کی نسبت امریکہ کی طرف کرنا ایک حقیقت ہے۔۔۔ اور درحقیقت کسی نہ کسی سطح پر اس میں امریکہ کی شمولیت ضرور ہوتی ہے۔ اس لئے اپنی پالیسیوں پر غور کی ضرورت ہے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے۔ اور یاد رکھیں ہر کمال کو زوال ہے عظمت اور بلندی صرف اللہ کے لئے ہے۔ ۔/ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | مون لائیٹ آفریدی (25-01-10), عادل سہیل (06-02-09) |
|
|
#14 | ||||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
فواد صاحب ، آپ نے بات کی تھی اعداد و شمار ، اور ارقام کی ، اور میں نے کچھ معاملات کے اعداد و شمار پوچھے تھے ، بات کو تبدیل کرنے کے لیے ان سوالات کا جواب دینے کی بجائے ، راجہ بھائی کے بقول امریکی نمک حلالی کا ثبوت دیتے ہوئے ، آپ نے امریکہ میں اسلام کے بڑھنے پھولنے اور مسلمانوں اور مسجدوں کے لیے نرم رویہ رکھنے کی باتیں سنا دیں ، فواد صاحب ، ہم زمینی حقائق کو آسمانی حق کی روشنی میں سمجھتے ہیں ، و للہ الحمد ، اور آپکے ارباب کے تیار کردہ یک طرفہ اعداد و شمار یا تو بیوقوفوں کو دھوکہ دے سکتے ہیں یا ان کو جن کی سوچ و عقل ڈالروں اور امریکہ اور مغرب کی ننگی معاشرت کی سڑانڈ سے خراب ہو چکی ہو ، جو کچھ آپ کرتے ہیں یہ بھی تو جذباتیت ہی ہے فواد صاحب ، خواہ ڈالروں کے نشے میں چور جذبات ہیں لیکن ہے تو جذباتیت جس کا طعنہ آپ دوسروں کو دیتے ہیں ، اور دائیں بائیں کی سنا کر اصلیت کو چھپانے کی ناکام کوشش میں اپنی آخرت اور وقت اور دوسروں کا وقت برباد کرتے ہیں ، اقتباس:
اور اس سے بھی شدید الفاظ میں اللہ القدیر علی کل شیء نے بتایا ((((( يُرِيدُونَ أَن يُطْفِئُواْ نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللَّهُ إِلاَّ أَن يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ :::یہ (کافر و مشرک اور منافقین اور ان کے چیلے ) چاہتے ہیں اللہ کا نور اپنے منہوں (کی پھونکوں)سے بُجھا دیں اور اللہ نے رد کر دیا ہے (ہر کام اور معاملہ ) سوائے اس کے کہ اللہ اپنا نور پورا ہی کرے اور خواہ کافر اس سے نفرت ہی کرتے رہیں ))) پس فواد صاحب یہ میرے اور آپ کے اور آپکے امریکی ارباب کے رب کا فیصلہ ہے جسے وہ پورا کر کے ہی رہے گا اور امریکیوں اور ان کے کاسہ لیسوں کی مرضی کے خلاف کر کے رہے گا ، منگولوں نے اسلام اور مسلمانوں کو ختم کرنے کے لیے کوئی کسر نہ چھوڑی ، ان کی ملکہ اپنا گرجا اور اپنا پادری ساتھ لیے چلتی تھی ، اور مسلمانوں کے خلاف لڑائی کرواتی تھی ، جارج بش نے بھی """ صلیبی جنگوں """ کا مژدہ سنایا تھا ، چیگزیوں میں سے اللہ نے ایسے مسلمان بنا دیے جنہوں نے مسلمانوں کو پھر سے اٹھا دیا اور اسلام پھر اپنی تب و تاب سے نمودار ہوا ، اللہ تعالیٰ کی قوت اور حکمت سے بالکل بعید نہیں کہ اب امریکیوں میں سے ایسے مسلمان بنا دے جو باقی مسلمانوں اور اسلام کی عزت کی بحالی اور بلندی کا سبب بن جائیں ، اور ہمارے جیسے مسلمان خاندانوں میں پیدا ہو کر مسلمان کہلانے والے مسلمان ، اور آپ جیسے کفار کا مال کھا کر کفر کی مدد کرنے والے اُن نئے سچے مسلمانوں کے سامنے ذلیل ہو کر رہ جائیں ، فواد صاحب ، اگر امریکہ اسلام اور مسلمانوں کے لیے قبولیت یا اچھائی والا رویہ یا مزاج رکھتا ہے تو افغانستان ، عراق ، فلسطین ، اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ کیا کر رہا ہے ؟؟؟ جناب ، اللہ کے فیصلے کے مطابق اللہ اپنی روشنی اسلام کو مکمل کر کے رہے گا ، امریکی حکومت اپنے اندرونی حالات کو ٹھیک رکھنے کے لیے وہاں اسلام اور مسلمانوں اور مسجدوں کو نہیں چھیڑتی ،اور امریکہ سے باہر اسلام قران ،مسلمان اور مسجد کے خلاف کوئی بھی کاروائی کرنے میں تاخیر نہیں کرتی ، یہ سب امریکی حکومت و سیاست کی حقیقت بہت اچھی طرح سے واضح کرتا ہے ،آپ کی وکالت کام آنے والی نہیں ، اور مسجدوں میں غیر مسلموں سے ڈائیلاگ کرنے کی اجازت کا مقصد بھی مسلمانوں کو گمراہی کی سوچ دینے کے علاوہ کچھ اور نہیں ، مساجد میں اپنی مذہبی رسومات اور عبادات کی اجازت بھی نام نہاد امریکی ایجاد شدہ اسلام کی ترویج کا حصہ ہے جس کی مثال عورت کی امامت اور خطبہ دینا وغیرہ ہے ، پس اگر امریکہ کو اسلام اور مسلمانوں سے کوئی دشمنی نہیں تو اسے اپنے اندرونی معاملات تک محدود رہنا چاہیے نہ کہ امریکہ سے باہر ہر جگہ آپ جیسے مسلمانوں کے علاوہ ہر اس مسلمان کو مارنے کے دوڑ پڑنا چاہیے جو اسلام کی سر بلندی اور نفاذ کا نام لیتا ہے ، یہ کوئی منطق نہیں کہ امریکہ اسلام اور مسلمانوں کےخلاف ہے یہ حقیقت ہے جس کو منطق ثابت کرنے کی کوشش منطق ہے ، امریکہ میں مسلمانوں کو مادی ترقی کے مواقع حاصل ہیں ، لیکن کیا ہر مسلمان کو ؟؟؟ اور کیا اسلامی معاشرت اور معیشت کے مطابق ؟؟؟ اقتباس:
اقتباس:
یہ بھی تو جذباتیت ہی ہے فواد صاحب ، خواہ ڈالروں کے نشے میں چور جذبات ہیں لیکن ہے تو جذباتیت جس کا طعنہ آپ دوسروں کو دیتے ہیں ، جناب ، اگر امریکہ فلسطینوں کی مدد کرنا چاہتا ہو تو عراق میں اس کی فوجیں موجود ہیں ، امریکہ سے عراق اور افغانستان جا کر """ جمہوریت """ قائم کروائی جا سکتی ہے تو عراق اور خلیج کے اڈوں سے فلسطین کچھ دور تو نہیں ، بوسنیا اور ہرسک کے مسلمانوں کی مدد کے لیے امریکہ پہنچا !!! کب ، جب ہزاروں مسلمان مارے جا چکے ، ہزراوں مسلمان عورتوں کی عزتین لوٹی جا چکیں ، ساری دنیا بلبلا اٹھی اور کفار کا ھدف پورا ہو چکا تو اپنی چودھراہٹ کا بھرم رکھنے کےلیے امریکہ وہاں پہنچا ، یا رہی سہی کسر پوری کرنے کے لیے مسلمانوں کی امتماعی قبریں اکھیڑ کے ان کے مُرفدوں تک کو بھی رسوا کرنے وہاں پہنچا ، فواد صاحب تنخواہ کا حق ادا کیجیے ، لیکن اس قدر دھوکہ دہی سے نہیں ، امریکی امداد کی حقیقت اپنے کاسہ لیسوں کو تقویت ، امداد اور نجی نتظیموں کی آڑ میں عیسائیت کی تبلیغ ہے ، اور اس میں کوئی شک نہیں ، امریکہ اپنے اندر کسی پر مذہب کے معاملے میں کوئی جبر نہیں کرتا اس کی وجہ ابھی بتا چکا ہوں ، اور باہر کیا کرتا ہے یہ اس کی حقیقت صاف ظاہر کرتا ہے ، یہودی یا یہودیت کے ایجنٹ حکمران کبھی دینی آزادی کے حامی نہیں ہو سکتے ، اور آپ کا اوبامہ بھی اگر یہودی نہیں تو یہودی ایجنٹ ضرور ہے ، فواد صاحب ، ایک دفعہ پھر یاد دہانی کرواتا چلوں ،آپ مسلمان ہیں یا نہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ آپ کو بھی اللہ کے سامنے اپنے ہر عمل کا جواب دینا ہے اور وہاں کسی کا کوئی فلسفہ ، اعداد و شمار ، کہانیاں ، قوت و حکومت ، سلطنت و سیاست کام نہیں آئیں گی ، آپ جانتے ہیں کہ آپ جو کچھ کہہ اور کر رہے ہیں اس میں کتنا سچ اور کتنا جھوٹ ہے ، اور اللہ آپ سے زیادہ اور یقینی طور پر جانتا ہے ، پس اس کے سامنے جواب دہی کی تیاری رکھیے ، نہ کہ ظلم اور باطل کو درست ثابت کرنے کے لیے لوگوں سے سوال و جواب میں اپنا وقت برباد کیجیے ، و السلام علی من یتبع الھُدیٰ ۔ |
||||
|
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | مون لائیٹ آفریدی (25-01-10) |
|
|
#15 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 625
کمائي: 11,683
شکریہ: 0
344 مراسلہ میں 656 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
آپ نے "امريکی کاروائ" کے نتيجے ميں بے گناہ مسلمانوں کے قتل کا ذکر کيا ہے۔ ميں آپ سے متفق ہوں۔ کسی بھی بے گناہ انسان کی جان کا ضياع اس کے مذہب سے قطع نظرانتہاہی قابل مذمت فعل ہے۔ يہ درس تو خود اسلام سميت دنيا کے تمام مذاہب ميں موجود ہے۔ ليکن اگر آپ اسامہ بن لادن اور ديگر دہشت گردوں کے بيانات سنيں تو ان ميں آپ کو ان جرائم کی سفاک توجيہات مليں گی۔ اسامہ بن لادن کو امريکی رپورٹوں کی وجہ سے دنيا دہشت گرد تسليم نہيں کرتی بلکہ اس کی وجہ سينکڑوں کی تعداد ميں اس کے اپنے آڈيو اور ويڈيو پيغامات ہيں جس ميں نہ صرف اس نے بارہا اپنے جرم کو تسليم کيا ہےبلکہ القائدہ سے منسلک درجنوں ويب سائٹس پر 24 گھنٹے بے گناہ انسانوں کو قتل کرنے کا درس بھی ديتے ہيں۔ ان پيغامات ميں متعدد بار نا صرف يہ کہ دہشت گردی کے ان "کارناموں" کا اعتراف کيا گیا ہے بلکہ ديگر مسلمانوں کو بھی اس "کار خير" ميں شامل ہونے کی تلقين کی جاتی ہے۔ ليکن يہ بھی حقيقت ہے کہ ان دہشت گردی کی کاروائيوں ميں ہلاک ہونے والوں کی اکثريت مسلمان ہے۔ کيا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جب خودکش حملہ آور کسی پرہجوم مقام پر بغير کسی تفريق کے بے شمار بے گناہوں کی جان ليتے ہيں تو اس کا کيا مقصد ہوتا ہے؟ مثال کے طور پرپچھلے چند سالوں ميں پاکستان ميں دہشت گردی کے لہر کےنتيجے ميں جو بے گناہ ہلاک ہوۓ ہيں تو اس میں کتنے مسلم تھے؟ حقيقت يہ ہے کہ کچھ واقعات ميں جان بوجھ کر افطاراور ديگر اجتماعی مذہبی رسومات کو نشانہ بنايا گيا تا کہ حملے کی "افاديت" ميں اضافہ ہو سکے۔ ان مجرموں کی جانب سے تواتر کے ساتھ ان پاکستانيوں کو قتل کيا جا رہا ہے جن کا حکومت پاکستان کے ساتھ تعلق ہے۔ کيا يہ جائز اور قابل قبول عمل ہے؟ امريکی فوج کو بے گناہ افراد کے قتل سے سياسی اور فوجی لحاظ سے کوئ فائدہ حاصل نہيں ہوتا بلکہ سفارتی سطح پر اس کا شديد نقصان ہوتا ہے ليکن اس کے برعکس انتہا پسند دہشت گرد تنظيموں ايسے ہی واقعات کے ذريعے جذبات کو بڑھکا کر اسے مذہبی رنگ دے کر اپنے مقاصد حاصل کرتی ہيں۔ دہشت گردی کے تو معنی ہی يہ ہيں کہ خوف کے ذريعے لوگوں پر اپنا تسلط قائم کيا جاۓ۔ چاہے وہ 11 ستمبر 2001 کا واقعہ ہو، 2002 ميں بالی کا واقعہ ہو، 2005 ميں امان بم دھماکہ يا پاکستان بھر ميں ہونے حاليہ بم دھماکے - ان لوگوں نے ہميشہ دانستہ طور پر مسلم اور غير مسلم کی تفريق کے بغير بے گناہوں کا خون بہايا ہے۔ آپ امريکہ کی بے شمار خارجہ پاليسيوں کو تنقيد کا نشانہ بنا سکتے ہيں ليکن دانستہ بے گناہ انسانوں کا قتل امريکہ کی خارجہ پاليسی کا حصہ نہيں ہے۔ کيا آپ اسامہ بن لادن اور انکی تنظيم "القائدہ" کے بارے ميں يہ دعوی کر سکتے ہیں؟ حقيقت يہی ہے کہ بے گناہ انسانوں کا دانستہ بلاامتياز قتل ہی ان کی حکمت عملی ہے۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ http://usinfo.state.gov |
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| پاکستان, نظر, مکمل, موقع, موت, ممکن, آج, ایمان, اللہ, امریکہ, اسلامی, بھائی, بندگی, جواب, حماس, خون, خلاف, خبر, سال, شاندار, علی, عبادت, عزت, غزہ, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| این آر او سے فائدہ اٹھانے والے ضمانتیں کرا لیں یا ملک چھوڑ دیں | ھارون اعظم | خبریں | 0 | 11-11-09 10:59 PM |
| ٹپال دانے دار کےلئے دعا کریں | محمدعدنان | آپ اور ہم - دکھ سکھ کے ساتھی | 64 | 11-05-09 01:54 PM |
| سود کھانے والے لوگ نہیں کھڑے ہوسکیں گے مگر جیسے وہ شخص اٹھا ہو جس کو شیطان نے چھو کرپاگل کردیا ہو | فاروق سرورخان | اسلام اور عصر حاضر | 0 | 09-10-08 10:25 AM |
| مفلسی گھر میں ٹھر نے نہیں دیتی اس کو | خرم شہزاد خرم | شعر و شاعری | 0 | 05-01-08 01:49 PM |
| اسلام آباد میں ہائی کورٹ کا قیام، پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کیلئے پنشن، ہائی کورٹس میں ججز کی تقرری کی عمر میں کمی، آئینی ترمی | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 15-12-07 08:46 AM |