واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


آئی ایس آئی نے اپنے ہی تیار کردہ عسکریت پسندوں کا کنٹرول کھو دیا، نیو یارک ٹائمز

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 15-01-08, 10:57 PM   #1
Senior Member
 
شیخ ہمدان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 50
مراسلات: 280
کمائي: 8,346
شکریہ: 12
163 مراسلہ میں 430 بارشکریہ ادا کیا گیا
شیخ ہمدان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default آئی ایس آئی نے اپنے ہی تیار کردہ عسکریت پسندوں کا کنٹرول کھو دیا، نیو یارک ٹائمز

آئی ایس آئی نے اپنے ہی تیار کردہ عسکریت پسندوں کا کنٹرول کھو دیا، نیو یارک ٹائمز

پاکستان کے اعلیٰ ترین انٹیلی جنس ایجنسی 1980ءکی دہائی میں اپنے ہی تیار کئے گئے کچھ پاکستانی عسکری گروہوں کا کنٹرول کھو بیٹھی ہے اور اب نتیجے کے طور پر پرتشدد رد عمل کا سامنا کر رہی ہے۔ یہ بات ایجنسی سے قریبی تعلقات رکھنے والے دو سابق سینئر انٹیلی جنس حکام اور دیگر اہلکاروں نے بتائی ہے۔ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پاک فوج جب ان گروپوں کے خلاف ہوئی تو ان عسکریت پسندوں نے اپنا رخ اپنے سابق آقائوں کی جانب کرلیا اور دیگر انتہا پسند گروپوں کے ساتھ شامل ہوگئے۔
ان گروہوں نے گزشتہ سال ریکارڈ تعداد میں خود کش حملے کئے، عسکریت پسندوں کی مدد کی اور پاکستان سیکیورٹی فورسز سے جنگ کی۔ ان میں سے بعض حملے براہِ راست فوج، انٹیلی جنس یونٹس اور ممتاز سیاسی شخصیات حتیٰ کہ غالباً بےنظیر بھٹو کے بھی خلاف تھے۔ عسکریت پسندوں کی بڑھتی ہوئی قوت، جن میں سے اب متعدد عالمی جہاد کےلئے القاعدہ کےلئے اپنی حمایت کا اظہار کرتے ہیں، پاکستان کی سلامتی اور افغانستان میں طالبان کو دھکیلنے کےلئے نیٹو کی کوششوں کے خلاف ایک سنگین خطرہ ہیں۔
امریکی حکام ان علاقوں میں، جہاں قانون کی عملداری نہیں ہے، القاعدہ کے خلاف طاقت کے ساتھ لیکن خفیہ آپریشن شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں کیونکہ انہیں اس بات پر تشویش ہے کہ حکومتِ پاکستان اس طرح کا آپریشن کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ پاکستان کی ممتاز فوجی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی سے متعلق غیر معمولی انکشافات گزشتہ ماہ ان سابق سینئر حکام کے ساتھ انٹرویو کے بعد سامنے آئی ہے جو آئی ایس آئی کے اندر کام کرنے کے حوالے سے معلومات رکھتے ہیں۔
ان کے انکشافات امریکی و برطانوی فوجی حکام اور سفارتکاروں کے شکوک و شبہات اور کچھ بدترین خدشات کی تصدیق کرتے ہیں۔ ایک سابق سینئر پاکستانی انٹیلی جنس اہلکار اور ایجنسی سے قربت رکھنے والے کچھ دیگر افراد نے یہ تسلیم کیا کہ آئی ایس آئی کی سربراہی میں پاکستان میں 2002ءکے قومی انتخابات میں گڑ بڑ کی گئی تھی اور صدر پرویز مشرف کی حمایت کی شرط پر امیدواروں کے خلاف کرپشن کے مقدمات ختم کرنے کی پیشکش کی گئی تھی۔
آئی ایس آئی سے قربت رکھنے والے ایک شخص نے بتایا کہ صدر پرویز نے اب ایجنسی کو حکم دیا ہے کہ آئندہ عام انتخابات صاف اور شفاف ہونے چاہئیں۔ اس نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ایجنسی ایک بار پھر دھاندلی کےلئے کام کر رہی ہے لیکن یہ بات بھی تسلیم کی کہ گزشتہ انتخابات میں ہونے والی دھاندلی سے یقینی طور پر اپوزیشن کے خدشات، کہ اب پھر مداخلت ہوگی، بڑھیں گے۔
دو سابق اعلیٰ سطح کے انٹیلی جنس افسران نے یہ بات تسلیم کی کہ 11 ستمبر 2001ءکے بعد، جب صدر پرویز نے بش انتظامیہ کے ساتھ اتحاد کیا تو آئی ایس آئی ان عسکریت پسندوں پر پوری طرح قابو نہیں پاسکی جن کی اس نے کئی دہائیوں تک تربیت کی تھی تاکہ بھارت اور افغانستان پر دباﺅ بڑھانے کےلئے انہیں خفیہ قوت کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔ اہلکار نے کہا کہ ایجنسی کی جانب سے سخت گیر اسلامی عقائد کو فروغ دینے کے بعد اس کو پھیلنے سے روکنے کی کوشش کی گئی۔
ایک اور سابق انٹیلی جنس اہلکار نے کہا کہ آئی ایس آئی کے وہ درجنوں اہلکار جنہوں نے عسکریت پسندوں کو تربیت دی تھی، ان کے مقصد سے ہمدردی رکھنے لگے اور پھر انہیں ایجنسی سے نکالنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ 1980ءکی دہائی کے اواخر کے بعد سے اب تک تین بار ”صفائی“ کی مہم چلائی جا چکی ہے اور اس میں آئی ایس آئی کے وہ ڈائریکٹرز بھی شامل ہیں جو عسکریت پسندوں سے ہمدردی رکھنے کے شبے میں برطرف کئے گئے۔
نیو یارک ٹائمز سے گفتگو کرنے والے کسی بھی سابق انٹیلی جنس اہلکار نے آئی ایس آئی کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے شناخت ظاہر کرنے پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔ یہ ایجنسی پاکستان میں ہر شعبہء زندگی میں مداخلت کرنے کی خوف ناک شہرت حاصل کرچکی ہے لیکن دو سابق امریکی انٹیلی جنس اہلکارں نے آئی ایس آئی اور عسکریت پسندوں کے تعلقات تعلقات کے حوالے سے پاکستانی حکام اہلکاروں کی زیادہ تر باتوں سے اتفاق کیا۔اس ہی طرح آئی ایس آئی کے دیگر قریبی ذرائع نے بھی تسلیم کیا کہ ایجنسی نے افغانستان اور کشمیر میں عسکریت پسندوں کی مدد کی تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایسا سیاسی رہنمائوں کے حکم پر کیا گیا۔
جیسے جیسے پرویز مشرف کا 8 سالہ فوجی اقتدار کمزور پڑتا جا رہا ہے ویسے ویسے سابق انٹیلی جنس اہلکار بات چیت کرتے ہوئے زیادہ آزادی محسوس کرتے نظر آتے ہیں۔ ان حکام سے انٹرویو بےنظیر بھٹو کے قتل سے پہلے کیا گیا تھا۔ بےنظیر بھٹو کے قتل کا مصنف اگرچہ اب بھی اسرار بنا ہوا ہے لیکن سابق انٹیلی جنس اہلکاروں کے ساتھ انٹرویو میں یہ واضح ہوا کہ ایجنسی ان عسکریت پسندوں کو کنٹرول کرنے میں اب بھی ناکام ہے جنہیں اس نے پالا پوسا تھا۔ ایک سابق انٹیلی جنس اہلکار نے متنبہ کیا کہ عسکریت پسندوں کا خطرہ ایسا ہے جسے پاکستان قابو کرنے کے قابل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم انہیں قابو نہیں کرسکے۔ ایک سابق سینئر انٹیلی جنس اہلکار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہم نے انہیں نظریہ دیا اور بتایا کہ وہ جنت میں جائیں گے لہٰذا اب آپ اتنی جلد ی اپنی بات کی نفی نہیں کرسکتے۔
1990ء کی دہائی میں آئی ایس آئی نے مقبوضہ کشمیر میں لڑنے کےلئے خفیہ قوت کے طور پر عسکریت پسندوں کی حمایت کی اور پڑوسی ملک افغانستان میں اثر و رسوخ حاصل کرنے کےلئے بھی ان کی حمایت کی گئی۔ 1980ءکی دہائی میں امریکا نے بھی عسکریت پسندوں کی حمایت کی اور آئی ایس آئی کے ذریعے افغانستان میں روس کے خلاف لڑنے والے مجاہدین کےلئے اربوں ڈالر فراہم کئے۔ اس عمل سے آئی ایس آئی کے حجم اور طاقت میں زبردست اضافہ ہوا۔
کچھ سابق امریکی انٹیلی جنس حکام دلیل دیتے ہیں کہ پرویز مشرف اور آئی ایس آئی نے کبھی بھی اپنے تربیت یافتہ عسکریت پسندوں کو پوری طرح چھوڑنے پر تیار نہیں ہوئے اور اس کی بجائے ڈبل گیم کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف نے القاعدہ کے غیر ملکی ارکان کو ڈھونڈنے اور پکڑنے کےلئے امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں سے تعاون کیا جبکہ طالبان کمانڈرز اور کشمیری عسکریت پسندوں کو ذخیرے کے طور پر اپنے پاس رکھا۔
پاکستان میں ایک سینئر مغربی اہلکار نے کہا کہ اگر آئی ایس آئی خفیہ طور پر طالبان کی مدد کر رہی ہے تو اس کا فیصلہ حکومت میں اعلیٰ سطح سے کیا گیا ہے نہ کہ اےجنسی نے خود کیا ہے۔ اہلکار نے کہا کہ یہ آئی ایس آئی کا نہیں بلکہ حکومتِ پاکستان کا فیصلہ ہے۔ لیکن سابق پاکستانی انٹیلی جنس اہلکاروں کا اصرار ہے کہ پرویز مشرف نے تمام عسکریت پسندوں کے خلاف کریک ڈائون کا حکم دیا تھا جو کبھی بھی آئی ایس آئی اور اور حکومت کے اندر مخالفت کی وجہ سے نہ ہوسکا۔
ایک سابق سینئر انٹیلی جنس اہلکار نے بتایا کہ حکومت اور آئی ایس آئی کا خیال یہ ہے کہ عسکریت پسندوں کو بچا کر رکھا جائے تاکہ جب امریکا اور نیٹو کی فوجیں خطے کو چھوڑ کر جائیں تو پاکستان بھارت کے خلاف انہیں دوبارہ استعمال کر سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہمارے یہاں ایک مکتبہ فکر ہے جو اس صلاحیت کو برقرار رکھنے کی حمایت کرتا ہے۔ پرویز مشرف حکومت کے کچھ سینئر وزراءاور اہلکار عسکریت پسندوں سے ہمدردی رکھتے اور انہیں تحفظ فراہم کرتے تھے جبکہ کچھ یہ مشورہ دیتے تھے کہ کام سست رفتاری سے کیا جائے کیونکہ اس بات کا خطرہ تھا کہ عسکریت پسند حکومت کےخلاف رد عمل ظاہر کرسکتے ہیں۔ جب گرفتاری کے احکامات دیئے جاتے تھے تو پولیس ان پر عمل کرنے سے انکار کردیتی تھی اور تحریری احکامات کی وصولی تک گرفتاری نہیں کی جاتی تھی کیونکہ ان کا خیال ہے کہ ان لوگوں کو اب بھی آئی ایس آئی تحفظ فراہم کرتی ہے۔
آئی ایس آئی میں بھی اس ہی طرح تقسیم تھی، ایجنسی کا ایک حصہ عسکریت پسندوں کے خلاف چھاپے مارتا تھا جبکہ دوسرا ان کے ساتھ کام کرتا تھا جس کا نتیجہ کنفیوژن تھا۔
مغربی حکام کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف نے دسمبر میں فوجی سربراہ کا عہدہ چھوڑنے سے قبل آئی ایس آئی کی سربراہی کےلئے تعینات کیا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سویلین صدر کے طور پر بھی ایجنسی پر اپنا اثر برقرار رکھنے کےلئے پرعزم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جہاں تک پرویز مشرف کا تعلق ہے وہ ان تنظیموں پر کنٹرول رکھنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔
انہوں نے اس خیال کا اظہار کیا کہ اس شخص سے یہ توقع نہیں رکھنی چاہئے کہ یہ آدمی بزرگ مدبر بن جائے گا۔ ریٹائرڈ افسران کے مطابق جنرل کیانی امریکا کے حامی اعتدال پسند اور مشرف کے وفادار ہیں لیکن اگر ان کے خیال میں مشرف کے اقدامات سے پاکستانی فوج کے موقف کو غیر معمولی طور پر نقصان پہنچا تو وہ انہیں چھوڑ بھی سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشرف ایجنسی پر اس وقت تک کنٹرول برقرار رکھیں گے جب تک کہ ان کے مفادات جنرل کیانی کے مفادات سے ملتے ہیں۔ جبکہ فروری کے انتخابات کے نتیجے میں آنے والے نیا وزیراعظم ایجنسی پر کہیں کم کنٹرول کا حامل ہوگا۔
مغربی سفارتکار آئی ایس آئی کو فوج کی گندی سمجھتے ہیں۔ بےنظیر بھٹو کے قتل کے بعد سے اب تک ان کی پارٹی کے ارکان حکومتی اہلکاروں بشمول آئی ایس آئی کے سابق ایجنٹس پر الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ اس حملے میں ان کا خفیہ ہاتھ ہے یا وہ سازش کے بارے میں جانتے تھے لیکن بےنظیر بھٹو کو نہیں بتایا گیا۔
امریکی ماہرین بےنظیر کے خلاف حکومتی سازش کے امکانات کو اہمیت نہیں دیتے، ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس بات کا بھی امکان نہیں ہے کہ نچلی سطح کے ریٹائرڈ افسران نے اپنے طور پر یا عسکریت پسندوں کے ساتھ مل کر حملہ کیا۔ لیکن حال ہی میں ایک سروے میں معلوم ہوا ہے کہ پاکستانیوں کی نصف تعداد یہ شک کرتی ہے کہ بےنظیر بھٹو کو حکومتی حامی سیاست دانوں یا ایجنٹس نے قتل کرایا۔
اس طرح کے شکوک و شبہات سیاست اور انتخابات میں آئی ایس آئی کی کئی دہائیوں پرانی مداخلت کے باعث پیدا ہوئے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق اندرون ملک اعلیٰ سطح پر نگرانی کی گئی، ڈرایا دھمکایا گیا، صحافیوں، ادیبوں، اسکالرز اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کو بھی دھمکیاں دی گئیں اور اس بات کو سابق انٹیلی جنس حکام بھی تسلیم کرتے ہیں۔
پاکستانی اور امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی میں بڑے پیمانے پر اور فوری اصلاحات کی ضرورت ہے۔ سی آئی اے اسلام آباد اسٹیشن کے سابق چیف جناب گرینیئر کا کہنا ہے کہ پاکستان یقینی طور پر زیادہ خوشحال اور بہتر ہوتا اگر آئی ایس آئی کو اندرونی سیاسی مقاصد کےلئے ہرگز استعمال نہ کیا جاتا۔ پاکستانی تجزیہ نگار اور مغربی سفارت کاروں کی یہ دلیل ہے کہ ملک اس وقت تک عدم استحکام کا شکار رہے گا جب تک کہ آئی ایس آئی اور ناقابل احتساب اور طاقتور رہے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی ہر فوجی حکمرانی کے دور میں مزید طاقت حاصل کرلیتی ہے۔ سویلین رہنما بینظیر بھٹو آئی ایس آئی کو نے سیاسی مقاصد کے حصول کےلئے استعمال کرنے سے باز نہ رہ سکے اور نہ ہی وہ اسے کنٹرول کرسکے اور فوج اپنی بیرونی پالیسیوں کے مقاصد خصوصا کشمیر میں بھارت کے خلاف جنگ اور افغانستان میں اثر و رسوخ کےلئے مسلسل آئی ایس آئی پر بھروسہ کرتی رہی۔
ایک مغربی سفارت کار نے پوچھا کہ سوال یہ ہے کہ آپ اسے تبدیل کیسے کریں گے؟ ان کی جڑیں ہر سمت میں پھیلی ہوئی ہیں۔
شیخ ہمدان آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شیخ ہمدان کا شکریہ ادا کیا
00923339993636 (03-11-10), منتظمین (16-01-08), Zullu230 (16-01-08)
کمائي نے شیخ ہمدان کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
16-01-08 منتظمین Nice translation... but noting new 10
پرانا 16-01-08, 12:37 AM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,235
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: آئی ایس آئی نے اپنے ہی تیار کردہ عسکریت پسندوں کا کنٹرول کھو دیا، نیو یارک ٹائمز

جوزف بھائی اپکی بات ٹھیک ہے لیکن کم از کم میرے لیے تو اس میں کچھ بھی نیا نہیں‌ہے بلکہ یہ مضمون اس معیار سے بہت پیچھے ہے جتنا کہ ایک عام پاکستانی جانتا ہے۔


والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 16-01-08, 02:53 AM   #3
Senior Member
 
شیخ ہمدان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 50
مراسلات: 280
کمائي: 8,346
شکریہ: 12
163 مراسلہ میں 430 بارشکریہ ادا کیا گیا
شیخ ہمدان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: آئی ایس آئی نے اپنے ہی تیار کردہ عسکریت پسندوں کا کنٹرول کھو دیا، نیو یارک ٹائمز

یار اس آرٹیکل ان فیکٹ پوسٹنگ میں، میں نے اپنی کوئی چیز شامل نہیں کی۔ ناشتے کی میز پر نیو یارک ٹائمز ملا تو اس میں یہ اسٹوری نظر آگئی جس کے بعد فورم کے لیے ٹرانسلیٹ کردی۔
خیر ! ایوارڈ پوائنٹس کے لیے شکریہ۔
شیخ ہمدان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
پولیس, پاکستان, پاکستانی, وزیراعظم, نظر, آپریشن, آدمی, الزام, انتظامیہ, اسلامی, اعلیٰ, بھائی, تحریری, جلد, حکم, حال, خلاف, زندگی, سیاست, سال, شناخت, طاقتور, طالبان, عسکری, صدر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
عسکریت پسندوں کی ویب سائٹس بند کرو: برطانیہ کا امریکہ سے مطالبہ جاویداسد خبریں 0 29-10-10 02:39 PM
دو ڈرون حملوں میں آٹھ عسکریت پسند ہلاک راجہ اکرام خبریں 0 10-01-10 03:32 PM
بلوچ مسلح عسکریت پسند تنظیموں نے دوبارہ کارروائیاں شروع کردیں ابن جلال خبریں 0 18-09-08 12:10 AM
دھماکے کی ذمہ داری پاکستانی عسکریت پسندوں پر عائد ابو کاشان خبریں 0 16-01-08 10:55 AM
وسط دسمبر تک عسکریت پسندوں کا خاتمہ کردیں گے،جی ایچ کیو میں بریفنگ عبدالقدوس خبریں 0 15-11-07 08:01 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:41 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger