واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


لائحہ عمل

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 03-06-09, 11:57 PM  
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,582
کمائي: 157,647
شکریہ: 8,062
5,019 مراسلہ میں 19,296 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default لائحہ عمل

۔ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہونے کے ناطے ہماری جنگی حکمتِ عملی سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہونی چاہیے
آئیے دیکھتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگی حکمت عملی کیا تھی
حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اسلامی ریاست مدینہ میں قائم کی اس کو بیرونی اور اندرونی خطرات یہ تھے
بیرونی خطرات
مشرکینِ مکہ
خیبر کے یہودی
عیسائ طاقت ( روم کی سلطنت )
ایرانی سلطنت
اندرونی خطرات
منافقین
مدینے کے یہودی

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمتِ عملی
حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیرونی طاقتوں سے ہمیشہ جارحانہ جنگیں کی ۔ اور خود ان کے مقابلے میں طاقت میں کم ہونے کے باوجود جنگیں کی اور ان کو شکست دی
سب سے پہلے مشرکین مکہ سے دو جارحانہ جنگیں کی اور ایک دفاعی لیکن وہ ایسی کہ اپنی ریاست میں کسی کو داخل نہیں ہونے دیا۔
پھر خیبر کے یہودیوں کو شکست دی ۔ چونکہ خیبر کے یہودی مشرکینِ مکہ کا ساتھ دیتے تھے اس طرح خیبر کو فتح کرکے مکہ بغیر جنگ کیے فتح ہوگیا

اندرونی خطرات ۔ مدینے کے یہودیوں سے میثاقِ مدینہ کیا۔
اور مدینے کے منافقین سے کبھی جنگ نہیں کی حالانکہ منافقین نے اسلام اور مسلمانوں کو بہت نقصان پہنچایا۔اگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تو ایک ایک منافق کو چن چن کر قتل کروا سکتے تھے۔ مسلمانوں کے پاس اتنی طاقت بھی تھی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا ۔
ایک واقعہ ہے جس کا مفہوم کچھ یوں ہے
منافقوں کے سردار عبداللہ بن اُبی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ پر تہمت لگائی اور اللہ نے حضرت عائشہ کی براءت نازل فرمائی ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نےحضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں اس عبداللہ بن اُبی کی گردن اُڑا دیتا ہوں ۔
حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو منع کیا اور فرمایا کہ لوگ کہیں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہی لوگوں کو مروارہے ہیں

حا لانکہ مدینہ کے اندر مسلمانوں کو یہ معلوم تھا کہ عبداللہ بن اُبی منافق ہے اور اسلام کو نقصان پہنچاتا ہے ۔ لیکن مدینہ سے باہر جن کو اصل صورت حال نہیں معلوم وہ غلط تاثر لے سکتے تھے اور اسلام دشمن اس کو پروپیگنڈہ کے طور پر استعمال کرسکتے تھے
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان ،
منافقین سے محتاط ضرور رہتے اور ان کی سازشوں کو کامیاب ہونے نہ دیتے لیکن ان کو قتل نہیں کرتے تھے۔


آج پاکستان کی صورت ِ حال کو دیکھیں تو کچھ ایسی ہی ہے
بیرونی خطرات
انڈیا ،( مشرکینِ مکہ )
اسرائیل ( خیبر کے یہودیوں )
امریکہ اور نیٹو افواج افغانستان میں ( روم و ایرانی سلطنت)

اندرونی خطرات
سوات تحریک طالبان پاکستان
فاٹا اور دیگر علاقوں میں دہشت گرد
جن کا بیرونی طاقتیں ساتھ دیتی ہیں۔
(منافقین )

حضور اکرم کی سیرت کے مطابق ہماری جنگی حکمتِ عملی کیا ہونی چاہیے۔

بیرونی طاقتوں سے اپنی طاقت کم ہونے کے باوجود جارحانہ جنگ جن میں افغانستان میں بیٹھا ہوا امریکہ اور نیٹو کی افواج اور دوسرے نمبر پر اسرائیل سے جنگ ان دونوں کو شکست کی صورت میں انڈیا بغیر جنگ کہ فتح ہو جائے گا انشاء اللہ
اور اندرونی سازشیں بھی دم توڑ دیں۔
انڈیا کو اسرائیل مدد کررہا ہے اور اسرائیل کی امداد امریکہ ۔
اندرونی سازشوں میں بھی یہی اقوام شامل ہیں ۔
تمام کفار ہندو عیسائی اور یہودی مسلمانوں کے خلاف ایک ہیں ۔ ہم کو ان اقوام سے جارحانہ رویہ رکھنا ہوگا ۔
عیسائی اور یہودی اوپر سے ذور آور نظر آتے ہیں لیکن ان کے دل مسلمانوں کے خوف سے پھٹے ہوئے ہیں۔اگر مسلمان ان کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح صف بستہ ہوجائیں تو یہ مسلمانوں سے جنگ کرنے کی ہمت نہیں کرسکتے ۔ اور مسلمان ہی فاتح ہوں گے انشاء اللہ۔

Last edited by سحر; 04-06-09 at 01:07 AM.
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
13 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (23-06-09), فیصل ناصر (05-06-09), ھارون اعظم (03-11-09), یاسر عمران مرزا (03-11-09), منتظمین (04-06-09), مرزا محمد فاروق (04-06-09), ایس اے نقوی (04-06-09), ام غزل (05-06-09), ابرارحسین (11-06-09), احمدنواز (04-11-09), راجہ اکرام (25-06-09), راشد احمد (13-06-09), رضی (04-06-09)
پرانا 04-11-09, 12:01 PM   #61
Senior Member
 
مرزا محمد فاروق's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: lalamusa
مراسلات: 2,361
کمائي: 27,394
شکریہ: 5,971
1,796 مراسلہ میں 3,732 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طاھر مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم،



بہت عمدہ بھئی

یقینا ایک مثبت سوچ ہی اچھے اور باعمل انسان کو جنم دیتی ہے۔
پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ
اور اس بہار کو لانے میں ہر انسان کا حصہ ہے چاہے ایک ذرے جتنا ہی کیوں نہ ہو۔




مرزا صاحب -- آپ اتنے دلگرفتہ نہ ہوں، پاکستان کے ساڑھے اٹھارہ کروڑ عوام میں اگر صرف اٹھارہ ہزار یا اٹھارہ لاکھ سیاستدان، فوجی، بیوروکریٹ، تاجر اور عام آدمی بھی کرپٹ اور بے ضمیر ہوں، تب بھی اکثریت ابھی تک اپنے ضمیر کی قیدی ہے۔ بھائی یاسر عمران نے کئی مثالیں دی ہیں۔ الحمداللہ اپنے اطراف میں‌نظر ڈالیں، اپنے گھر سے آغاز کریں اور گنتی کریں کہ کتنے فیصد لوگ بے ضمیر ہو چکے ہیں؟ انشاءاللہ آپ کو اکثریت اچھے لوگوں کی نظر آئے گی۔ پاکستان اور اس کے لوگوں سے اتنی ناامیدی اچھی نہیں میرے بھائی۔ اگر یہ ملک اور معاشرے اتنے ہی بے ضمیر لوگوں‌کا ہوتا تو کیا آپ کے خیال میں یہ ملک گذشتہ ساٹھ برس سے قائم رہتا؟

والسلام

طاہر
اسلام و علیکم طاہر بھائی
پاکستان کے ساڈھے اٹھارہ کروڑ عوام میں سے اگر اٹھارہ ہزار یا اٹھارہ لاکھ سیاست دان ہوں تو کوئی فرق نہیں پڑھتا بالکل صحیح کہا آپ نے ۔ لیکن باقی کے آدمی بھی اگر ایماندار ہوں تو ناں۔
آپ کو پتہ ہے چائنہ اتنی ترقی کیوں کر رہا ہے ؟
کیونکہ ان کی عوام میں جذبہ ہے اپنے ملک کے لئے ،
موزے تنگ کا تو نام سنا ہو گا آپ نے ، کبھی اس کی ہسٹری بھی پڑھ لیں ۔
چائنہ میں ایک دفعہ پٹرول مہنگا ہوا تھا ، تو صدر صاحب نے اعلان کیا کہ کل سے کوئی آدمی پٹرول نہیں استعمال کرے گا تو جناب پوری قوم وزیر ، مشیر ،افسر عام آدمی چھوٹے بڑے سب نے سائکلیں نکال لیں تھیں کسی نے پٹرول استعمال نہیں کیا تھا ، تو پٹرول خود بخود ہی نیچے آگیا تھا ۔ پاکستان میں اس وقت چینی کا مسئلہ بنا ہوا ہے آپ کو بھی پتہ ہی ہو گا ، لیکن ہم لوگ چینی کو چھوڑ نہیں سکتے ، کیونکہ اک آدمی کہتا ہے جو کہ یار اگر 100 روپے کلو بھی چینی ملے تو میں تو پھر بھی لے لوں گا کیونکہ میں چینی والی چائے پیتا ہوں ، اگر ہمارے حکمران صحیح بھی ہوں تو بھی وہ کچھ نہیں کر سکتے کیونکہ ہماری عوام اتنی بگڑی ہوئی ہے کہ میں آپ کو کیا بتائو ۔
جس کے پاس تو پیسے ہیں وہ کہتا ہے کہ میرا کام چل رہا ہے ناں دوسرے سارے جائیں بہاڑ میں ،
پچھلے دنوں کی بات ہے جب پٹرول مہنگا ہوا ایک صاحب آفس میں آئے حسب معمول گپ شپ ہو رہی تھی اک بندہ کہتا ہے یار پٹرول بڑا مہنگا ہو گیا ہے اب میں نے موٹر سائیکل بیچ دینی ہے ، وہ صاحب کہتے ہیں جناب کوئی بات نہیں میرے والد صاحب تو یہ کام کرتے ہیں میں اپنی جیب خرچ میں سے 300 روپے لیٹر تک ڈھلوا سکتا ہوں جب اس سے زیادہ مہنگا ہو گیا تو پھر سوچوں گا کہ کیا کرنا ہے ابھی مجھے کوئی ٹینشن نہیں جس قوم کا یہ حال ہو وہ قوم کیا کر سکتی ہے ؟
ذرا غور سے پڑھ کر مجھے بتائیں ۔
__________________
مرزا محمد فاروق
مرزا محمد فاروق آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 04-11-09, 12:06 PM   #62
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,230
شکریہ: 24,741
15,343 مراسلہ میں 39,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فاروق بھائی
اگر آپ یہ سب جانتے ہیں۔۔ اور آپ کو معلوم ہے کہ لوگوں نے صحافت جیسے مقدس شعبے کو پامال کرکے حصول زر کا ذریعہ بنایا ہوا ہے تو آپ پر ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے
خاص طور پر جب آپ میں لکھنے صلاحیت بھی ہو تو اس بارے میں قیامت کے دن سوال بھی ہو سکتا ہے۔
یہ وقت ہے کہ اپنی صلاحیتوں کو ملک و قوم کے لئے استعمال کیجئے
سچی صحافت کا نمونہ بن جائیے اور ’جو محسوس کرتے ہیں وہی تحریر کرتے ہیں‘ کی عملی تصویر بن جائیے

یہ قرض ہے آپ پر ملک و وطن کا۔۔۔ سچ لکھئے اور وطن کے لئے لکھئے
امید ہے آپ آج ہی شروع کریں گے
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 04-11-09, 12:13 PM   #63
Senior Member
 
مرزا محمد فاروق's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: lalamusa
مراسلات: 2,361
کمائي: 27,394
شکریہ: 5,971
1,796 مراسلہ میں 3,732 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

راجہ صاحب صحافی کو پتہ ہے لوگ کس نظر سے دیکھتے ہیں ؟ آج کل کسی بھی آفس میں جب کوئی صحافی جاتا ہے تو لوگ کہتے ہیں لو جی آگئے ہیں اب ان کو کچھ دینا ہی پڑھے گا ۔ یہ کام کم از کم میں نہیں‌کر سکتا ، میں آپ کو پتہ ہے اللہ کا شکر ہے اچھی خاصی دو جابز کرتا ہوں میرے لئے کافی ہے ۔ لکھنا میرے بس کی بات نہیں‌۔ معذرت
مرزا محمد فاروق آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
مرزا محمد فاروق کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (04-11-09)
پرانا 04-11-09, 12:22 PM   #64
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,230
شکریہ: 24,741
15,343 مراسلہ میں 39,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

برادرم
آپ سے کس نے کہا کہ نوکری چھوڑ کر صحافت شروع کر دیں
صحافت صرف رپورٹنگ نہیں۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ صحافت تو معاشرے کے مسائل کے حوالے سے عوامی شعور کو بیدار کرنے کی کوئی بھی کوشش صحافت ہے۔۔اب یہ کرنے والے پر ہے کہ وہ کس نیت سے کرتا ہے
یقینا ہر طبقے کی طرح اس میدان میں‌بھی کچھ کالی بھیڑیں ہیں۔ لیکن انہیں ان کے حال پر چھوڑ دینا بھی عقل مندی نہیں

اور آپ کو میں مشورہ اس لئے دے رہا ہوں کہ آپ الحمد للہ ملازمت کر رہے ہیں، اچھا گزر بسر ہے، کسی قسم کی لالچ نہیں اور مجھے امید ہے آپ جو لکھیں گے دل سے لکھیں گے اور ’دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے‘۔
اس لئے نہ تو یہ خوف ہو کہ لوگ صحافیوں کے بارے میں کیا کہتے ہیں اور نہ یہ لالچ ہو کہ لوگ کچھ دیں گے۔ بس اخلاص کے ساتھ لکھئے اور اچھے انداز سے لکھئے
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Tags
digital, email, fawad, پوسٹ, پاکستان, پاکستانی, لوگ, نفرت, نظر, مکمل, مسجد, معاشرہ, ایران, اللہ, امریکہ, اردو فورمز, بھائی, جھوٹ, جواب, حکم, خلاف, دوست, داڑھی, سودا, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:10 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger