واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


لائحہ عمل

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 03-06-09, 11:57 PM  
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,582
کمائي: 157,641
شکریہ: 8,062
5,018 مراسلہ میں 19,295 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default لائحہ عمل

۔ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہونے کے ناطے ہماری جنگی حکمتِ عملی سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہونی چاہیے
آئیے دیکھتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگی حکمت عملی کیا تھی
حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اسلامی ریاست مدینہ میں قائم کی اس کو بیرونی اور اندرونی خطرات یہ تھے
بیرونی خطرات
مشرکینِ مکہ
خیبر کے یہودی
عیسائ طاقت ( روم کی سلطنت )
ایرانی سلطنت
اندرونی خطرات
منافقین
مدینے کے یہودی

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمتِ عملی
حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیرونی طاقتوں سے ہمیشہ جارحانہ جنگیں کی ۔ اور خود ان کے مقابلے میں طاقت میں کم ہونے کے باوجود جنگیں کی اور ان کو شکست دی
سب سے پہلے مشرکین مکہ سے دو جارحانہ جنگیں کی اور ایک دفاعی لیکن وہ ایسی کہ اپنی ریاست میں کسی کو داخل نہیں ہونے دیا۔
پھر خیبر کے یہودیوں کو شکست دی ۔ چونکہ خیبر کے یہودی مشرکینِ مکہ کا ساتھ دیتے تھے اس طرح خیبر کو فتح کرکے مکہ بغیر جنگ کیے فتح ہوگیا

اندرونی خطرات ۔ مدینے کے یہودیوں سے میثاقِ مدینہ کیا۔
اور مدینے کے منافقین سے کبھی جنگ نہیں کی حالانکہ منافقین نے اسلام اور مسلمانوں کو بہت نقصان پہنچایا۔اگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تو ایک ایک منافق کو چن چن کر قتل کروا سکتے تھے۔ مسلمانوں کے پاس اتنی طاقت بھی تھی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا ۔
ایک واقعہ ہے جس کا مفہوم کچھ یوں ہے
منافقوں کے سردار عبداللہ بن اُبی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ پر تہمت لگائی اور اللہ نے حضرت عائشہ کی براءت نازل فرمائی ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نےحضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں اس عبداللہ بن اُبی کی گردن اُڑا دیتا ہوں ۔
حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو منع کیا اور فرمایا کہ لوگ کہیں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہی لوگوں کو مروارہے ہیں

حا لانکہ مدینہ کے اندر مسلمانوں کو یہ معلوم تھا کہ عبداللہ بن اُبی منافق ہے اور اسلام کو نقصان پہنچاتا ہے ۔ لیکن مدینہ سے باہر جن کو اصل صورت حال نہیں معلوم وہ غلط تاثر لے سکتے تھے اور اسلام دشمن اس کو پروپیگنڈہ کے طور پر استعمال کرسکتے تھے
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان ،
منافقین سے محتاط ضرور رہتے اور ان کی سازشوں کو کامیاب ہونے نہ دیتے لیکن ان کو قتل نہیں کرتے تھے۔


آج پاکستان کی صورت ِ حال کو دیکھیں تو کچھ ایسی ہی ہے
بیرونی خطرات
انڈیا ،( مشرکینِ مکہ )
اسرائیل ( خیبر کے یہودیوں )
امریکہ اور نیٹو افواج افغانستان میں ( روم و ایرانی سلطنت)

اندرونی خطرات
سوات تحریک طالبان پاکستان
فاٹا اور دیگر علاقوں میں دہشت گرد
جن کا بیرونی طاقتیں ساتھ دیتی ہیں۔
(منافقین )

حضور اکرم کی سیرت کے مطابق ہماری جنگی حکمتِ عملی کیا ہونی چاہیے۔

بیرونی طاقتوں سے اپنی طاقت کم ہونے کے باوجود جارحانہ جنگ جن میں افغانستان میں بیٹھا ہوا امریکہ اور نیٹو کی افواج اور دوسرے نمبر پر اسرائیل سے جنگ ان دونوں کو شکست کی صورت میں انڈیا بغیر جنگ کہ فتح ہو جائے گا انشاء اللہ
اور اندرونی سازشیں بھی دم توڑ دیں۔
انڈیا کو اسرائیل مدد کررہا ہے اور اسرائیل کی امداد امریکہ ۔
اندرونی سازشوں میں بھی یہی اقوام شامل ہیں ۔
تمام کفار ہندو عیسائی اور یہودی مسلمانوں کے خلاف ایک ہیں ۔ ہم کو ان اقوام سے جارحانہ رویہ رکھنا ہوگا ۔
عیسائی اور یہودی اوپر سے ذور آور نظر آتے ہیں لیکن ان کے دل مسلمانوں کے خوف سے پھٹے ہوئے ہیں۔اگر مسلمان ان کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح صف بستہ ہوجائیں تو یہ مسلمانوں سے جنگ کرنے کی ہمت نہیں کرسکتے ۔ اور مسلمان ہی فاتح ہوں گے انشاء اللہ۔

Last edited by سحر; 04-06-09 at 01:07 AM.
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
13 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (23-06-09), فیصل ناصر (05-06-09), ھارون اعظم (03-11-09), یاسر عمران مرزا (03-11-09), منتظمین (04-06-09), مرزا محمد فاروق (04-06-09), ایس اے نقوی (04-06-09), ام غزل (05-06-09), ابرارحسین (11-06-09), احمدنواز (04-11-09), راجہ اکرام (25-06-09), راشد احمد (13-06-09), رضی (04-06-09)
پرانا 05-06-09, 12:21 AM   #31
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,495
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,765 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

تو مسٹر فواد پھر پہلے یہ کام کرو جو اسلحہ ان کو امریکہ کی طرف سے مہیا کیا جا رہا اسے روکو ۔ بات کرتے ہیں
ہمارا اور کوئی دشمن نہیں ہے ہمارا دشمن بھارت ، امریکہ اور اسرائیل ہے سمجھ گئے۔
__________________

اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ تر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
رضی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (13-06-09), سحر (05-06-09)
پرانا 05-06-09, 12:59 AM   #32
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,582
کمائي: 157,641
شکریہ: 8,062
5,018 مراسلہ میں 19,295 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Fawad - Digital Outreach Team US State Dept مراسلہ دیکھیں
افغانستان اور پاکستان سے متعلق امريکہ کے مقاصد اور پاليسياں مذہب کی بنياد پر نہيں ہيں۔ صدر اوبامہ نے اس بات کا اعادہ آج قاہرہ ميں اپنے تاريخی خطاب ميں کيا

"ميں يہ واضح کرتا ہوں کہ امريکہ نہ تو اسلام کے ساتھ حالت جنگ ميں ہے اور نہ ہی کبھی ايسا ہو گا۔ ليکن ہم ان دہشت گردوں کا پيچھا ضرور کريں گے جو ہماری سيکورٹی کے لیے شديد خطرہ ہيں۔ کيونکہ ہم بھی اسی بات کی مذمت کرتے ہيں جس کی مذمت تمام مذاہب کے لوگ کرتے ہيں يعنی کہ بے گناہ مردوں، عورتوں اور بچوں کی ہلاکت"۔

امريکہ حکومت پاکستان اور پاکستانی فوج کی جانب سے عوام کی حفاظت اور سيکورٹی اور دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کے لیے کی جانے کوششوں کی مکمل حمايت کرتا ہے، جو ہمارے مشترکہ دشمن ہيں۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
فواد صاحب
امریکہ ڈبل گیم کھیل رہا ہے ۔ اوپر سے پاکستانی حکومت کو دہشت گردوں کو ختم کرنے کی حمایت کرتا ہے اور بیک ڈور سے پاکستان کے دہشت گردوں کی
پشت پناہی کرتا ہے ۔ اس کا ثبوت حکومت پاکستان کے پاس موجود ہے
بیت اللہ محسود کو ابھی تک امریکہ نے ختم کیوں نہیں کیا ۔ حالانکہ بیت اللہ محسود بی بی سی تک کو ایٹرویو دیتا پھرتا ہے ۔ لیکن امریکن ڈرون کی بمباری اس کے اوپر نہیں ہوتی
اس لیے کہ امریکن ڈرون بے گناہ پاکستانیوں کے لیے ہی ہیں۔

Last edited by سحر; 05-06-09 at 10:09 AM.
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (13-06-09), رضی (05-06-09)
پرانا 05-06-09, 03:52 AM   #33
Senior Member
 
طاھر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,777
کمائي: 45,250
شکریہ: 2,024
1,907 مراسلہ میں 6,371 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Fawad - Digital Outreach Team US State Dept مراسلہ دیکھیں
امريکہ حکومت پاکستان اور پاکستانی فوج کی جانب سے عوام کی حفاظت اور سيکورٹی اور دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کے لیے کی جانے کوششوں کی مکمل حمايت کرتا ہے، جو ہمارے مشترکہ دشمن ہيں۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
السلام علیکم،

اوہ خیر ہمارے مشترکہ دشمن ! کیا بات ہے جناب فواد صاحب !

جن کو حکومت پاکستان دشمن قرار نہیں دیتی اور عدالتی کاروائی میں انہیں بے گناہ قرار دیا جاتا ہے اس پر تو آپ ہی کے حکومتی ارکان کو بہت دکھ پہنچتا ہے، باتیں آپ کی اوبامہ صاحب بڑی بڑی کر کے آتے ہیں جو کہ صرف باتیں ہیں۔ کیا آپ کے خیال میں امریکہ کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں‌دخل اندازی کی ضرورت ہے؟

دوغلی پالیسیاں اب سب کی سمجھ میں آتی ہیں‌جناب !

والسلام

طاہر
__________________
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے سب ٹھکانوں کی
شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے
طاھر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (05-06-09), مرزا محمد فاروق (05-06-09), ایس اے نقوی (13-06-09), رضی (05-06-09)
پرانا 05-06-09, 10:29 AM   #34
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ok
مراسلات: 1,245
کمائي: 27,473
شکریہ: 4,247
978 مراسلہ میں 2,923 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

دریائے قیصر و کسری ہوئے کوزہ ء حجاز میں بند
فرش زمیں سے عرش آسماں پہ ڈالی کمند
خلافت کو پہنایا گیا جب تاج فرزند
نہ وہ شان رہی نہ وہ مقام ارجمند
بلندیوں سے گرکر بھی رہا پستیوں سے بلند
کبھی گیا سپین تو کبھی بخارا ثمرقند

محمودالحق (موسل بار)
بزم خیال آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا
مرزا محمد فاروق (05-06-09), ایس اے نقوی (13-06-09), رضی (05-06-09)
پرانا 05-06-09, 01:58 PM   #35
Senior Member
 
مرزا محمد فاروق's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: lalamusa
مراسلات: 2,361
کمائي: 27,394
شکریہ: 5,971
1,796 مراسلہ میں 3,732 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

حیاء آپ نے بالکل ٹھیک کہا ہے میں آُ پ کی بات سے متفق ہوں‌
مرزا محمد فاروق آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مرزا محمد فاروق کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (13-06-09), رضی (05-06-09)
پرانا 05-06-09, 07:42 PM   #36
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 624
کمائي: 11,642
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طاھرخلیل مراسلہ دیکھیں
باتیں آپ کی اوبامہ صاحب بڑی بڑی کر کے آتے ہیں جو کہ صرف باتیں ہیں۔
طاہر
يہ بالکل درست ہے کہ الفاظ کے مقابلے ميں عمل اور زمينی حقائق کی زيادہ اہميت ہوتی ہے۔ ليکن تبديلی کے ليے آپ کو نقطہ آغاز چاہيے۔ يہ ايک اجتماعی کوشش اور مسلسل عمل ہے جس کا آغاز کل صدر اوبامہ نے قاہرہ ميں اپنی تقرير سے کيا۔ مستقبل ميں درپيش چيلنجز کا ادراک صدر اوبامہ کو ہے اور اس کا اظہار انھوں نے اپنی تقرير ميں بھی کيا

"اجتماعی انسانی قدروں کو تسليم کرنا محض آغاز ہے۔ صرف الفاظ لوگوں کی ضروريات پوری نہيں کر سکتے۔ يہ ضروريات صرف اسی صورت ميں پوری ہوں گی جب آنے والے برسوں ميں ہم جرآت مندانہ اقدامات کريں۔ اگر ہم يہ سمجھ ليں کہ ہميں درپيش چيلنجز مشترکہ ہيں اور ان ميں ناکامی ہم سب کے ليے نقصان دہ ہو گی۔۔۔۔۔ہميں درپيش مسائل کا سامنا شراکت داری سے کرنا ہے۔ ہماری پيش رفت مشترکہ ہونی چاہيے"۔

ہميں اس بات کا ادراک ہے کہ يہ محض آغاز ہے اور سفر بہت طويل ہے۔ ليکن اس کے باوجود ماضی ميں رہنے کے مقابلے ميں آگے بڑھنا زيادہ بہتر آپشن ہے۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
Fawad آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 05-06-09, 08:20 PM   #37
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,966
کمائي: 276,709
شکریہ: 33,203
12,656 مراسلہ میں 36,989 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ کی اور ہماری بات میں بنیادی فرق یہ ہے مسٹر فواد ڈیجیٹل

آپ زمینی حقائق کو اپنے حق میں مولڈ کرنے کی بات کرتے ہو اور اس لئے جھوٹ پر جھوٹ بولتے ہو
اور
ہم آسمانی حقائق کی طرف دھیان دیتے ہیں ! کیا اللہ کا حکم ہے ۔
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
یاسر عمران مرزا (03-11-09), مرزا محمد فاروق (06-06-09), ایس اے نقوی (13-06-09), رضی (05-06-09), سحر (05-06-09)
کمائي نے فیصل ناصر کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
05-06-09 رضی nice reply 10
پرانا 05-06-09, 09:56 PM   #38
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 624
کمائي: 11,642
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
آپ کی اور ہماری بات میں بنیادی فرق یہ ہے مسٹر فواد ڈیجیٹل

آپ زمینی حقائق کو اپنے حق میں مولڈ کرنے کی بات کرتے ہو اور اس لئے جھوٹ پر جھوٹ بولتے ہو
اور
ہم آسمانی حقائق کی طرف دھیان دیتے ہیں ! کیا اللہ کا حکم ہے ۔

اگر مذہب کی بنياد پر خارجہ پاليسي کا مفروضہ درست ہوتا تو پاکستان کے صرف مسلم ممالک کے ساتھ اچھے سفارتی تعلقات ہونے چاہيے۔ اسی طرح امريکہ کے بھی تمام غير مسلم ممالک کے ساتھ بہترين سفارتی تعلقات ہونے چاہيے۔ ليکن ہم جانتے ہيں کہ ايسا نہيں ہے۔ حقيقت يہ ہے کہ مسلم ممالک کے مابين بھی سفارتی تعلقات کی نوعيت دو انتہائ حدوں کے درميان مسلسل تبديل ہوتی رہتی ہے۔ امريکہ کے کئ مسلم ممالک کے ساتھ باہمی تعلقات استوار ہيں۔ يہ بھی ايک حق‍یقت ہے کہ دو ممالک کے درميان تعلقات کی نوعيت زمينی حقائق کی روشنی ميں کبھی يکساں نہيں رہتی۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
Fawad آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
Fawad کا شکریہ ادا کیا گیا
راشد احمد (06-06-09)
پرانا 05-06-09, 10:07 PM   #39
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,495
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,765 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

خارجہ پالیسی تو جناب یہ امریکی پٹھووں کے ہاتھ میں ہے آج کل ۔ خارجہ پالیسی کے برعکس 17 کروڑ عوام کا رجحان دیکھیئے۔
رضی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (20-06-09), مرزا محمد فاروق (06-06-09), ایس اے نقوی (13-06-09), راشد احمد (13-06-09)
پرانا 06-06-09, 12:42 PM   #40
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2008
مراسلات: 606
کمائي: 10,932
شکریہ: 360
466 مراسلہ میں 1,306 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Fawad - Digital Outreach Team US State Dept مراسلہ دیکھیں
اگر مذہب کی بنياد پر خارجہ پاليسي کا مفروضہ درست ہوتا تو پاکستان کے صرف مسلم ممالک کے ساتھ اچھے سفارتی تعلقات ہونے چاہيے۔ اسی طرح امريکہ کے بھی تمام غير مسلم ممالک کے ساتھ بہترين سفارتی تعلقات ہونے چاہيے۔ ليکن ہم جانتے ہيں کہ ايسا نہيں ہے۔ حقيقت يہ ہے کہ مسلم ممالک کے مابين بھی سفارتی تعلقات کی نوعيت دو انتہائ حدوں کے درميان مسلسل تبديل ہوتی رہتی ہے۔ امريکہ کے کئ مسلم ممالک کے ساتھ باہمی تعلقات استوار ہيں۔ يہ بھی ايک حق‍یقت ہے کہ دو ممالک کے درميان تعلقات کی نوعيت زمينی حقائق کی روشنی ميں کبھی يکساں نہيں رہتی۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
فواد صاحب آپ کی بات بالکل درست ہے کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی مسلم دشمن نہیں۔

آپ نے بہت بڑی کنفیوژن دور کردی ہے۔ دراصل امریکہ کی خارجہ پالیسی انسان دشمن ہے۔
امریکہ انصاف پسند ملک ہے اس کا ثبوت یہ ہے ویت نام، جاپان، چلی اور دیگر ممالک کے لاکھوں معصوم لوگوں کو امریکہ نے مارا۔ یہ مسلمان نہیں تھے۔
__________________
حکمران کے محبوب ہونے اور فرعون بننے میں رویے کا فرق ہے۔
راشد احمد آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے راشد احمد کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (20-06-09), مرزا محمد فاروق (06-06-09), ایس اے نقوی (13-06-09), رضی (10-06-09)
پرانا 11-06-09, 09:17 PM   #41
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 624
کمائي: 11,642
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
فواد صاحب
امریکہ ڈبل گیم کھیل رہا ہے ۔ اوپر سے پاکستانی حکومت کو دہشت گردوں کو ختم کرنے کی حمایت کرتا ہے اور بیک ڈور سے پاکستان کے دہشت گردوں کی
پشت پناہی کرتا ہے ۔ اس کا ثبوت حکومت پاکستان کے پاس موجود ہے

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ميں نے اکثر فورمز پر يہ راۓ پڑھی ہے کہ امريکہ سوات ميں طالبان کی مدد کر رہا ہے۔ کچھ دوستوں نے تو يہاں تک لکھا کہ پاکستانی فوج اس "حقيقت" سے پوری طرح آگاہ ہو چکی ہے۔ اگر يہ درست ہوتا تو پاکستانی فوج امريکہ سے فوجی امداد اور سازوسامن کيوں وصول کرتی؟

زمين پر حقائق اس کے بالکل متضاد ہيں۔

حکومت امريکہ نے پاکستانی حکومت کی درخواست پر آج پاک فوج کو چار ايم آئ 17 کارگو ہيلی کاپٹرز فراہم کۓ ہيں۔ يہ اضافی ہيلی کاپٹرز جنگجو انتہا پسندوں کے خلاف موجودہ آپريشن ميں پاکستان کی صلاحيتوں کو بڑھانے اور لڑائ کے نتيجے ميں بے گھر ہونے والے لاکھوں پاکستانيوں کی ديکھ بھال کی کوششوں ميں اعانت کے ليے ہيں۔ امريکہ مزيد ايم آئ 17 ہيلی کاپٹرز کی نشاندہی کر رہا ہے جو مستقبل ميں پاکستان کے ليے دستياب ہوں گے۔

DAWN.COM | Pakistan | US delivers four MI-17 cargo helicopters to the Army

http://img196.imageshack.us/img196/5...mage002ehg.jpg

http://img194.imageshack.us/img194/2...pimage003w.jpg

امريکی حکومت کی جانب سے پاکستان فوج کی براہ راست امداد اس بات کا ثبوت ہے کہ امريکہ پختہ عزم کے ساتھ حکومت پاکستان اور پاک فوج کی مدد سے اپنے مشترکہ دشمن کو غير مستحکم اور کمزور کر کے اسے مکمل شکست دينے کا خواہ ہے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
Fawad آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 13-06-09, 09:55 AM   #42
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,582
کمائي: 157,641
شکریہ: 8,062
5,018 مراسلہ میں 19,295 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس بات سے قطعی نظر امریکہ کیا کررہا اس لیے کہ امریکہ جو بھی کرے گا ظاہر ہے اپنے مفاد کو دیکھ کر کرے گا
لیکن یہ بات میں نے اپنے مضموں میں بھی کہنے کوشش کی اور پھر کررہی ہوں
ملک کے اندر جنگ کرنے سے بے شک وہ ہم پاکستان اور اسلام دشمنوں سے کررہے ہیں لیکن اس سے ملک غیر مستحکم ہوگا اور سب سے بڑی بات یہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت عملی کے خلاف ہے
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منافقین کو قتل نہ کرنے کی وجہ وہ پڑوپیگنڈہ تھا جس سے مسلمان اور اسلام بدنام ہوتا
جو آج ہماری حکمت عملیوں کی وجہ سے اسلام دشمنوں کو مسلمانوں اور اسلام کو بدنام کرنے کا موقع مل رہا ہے
میں پھر کہوں گی ہم کو ملک سے باہر دشمنوں سے جارحانہ جنگ کرنی چاہیے ملک کے اندر خود بخود ساذشیں دم طور دیں گی۔
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (20-06-09), یاسر عمران مرزا (03-11-09), مرزا محمد فاروق (13-06-09), ایس اے نقوی (13-06-09), رضی (09-08-09), طاھر (20-06-09)
پرانا 19-06-09, 11:19 PM   #43
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 624
کمائي: 11,642
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

گزشتہ دو ہفتوں کے دوران اردو فورمز پر صدر اوبامہ کی قاہرہ ميں کی جانے والی تقرير پر بے شمار دوستوں کی راۓ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ بہت سی آراء ميں جن جذبات اور خيالات کا اظہار کيا گيا وہ متوقع اور مقبول سوچ پر مبنی تھيں۔ ان ميں تنقيد، شکوک وشبہات، اميد اور يہاں تک کے جوش کا اظہار بھی شامل تھا۔

ليکن ايک مخصوص نقطہ نظر نے مجھے اپنی جانب متوجہ کر ليا۔ اس سوچ کا اظہار کئ فورمز پر کيا گيا تھا۔ اس کی بنياد يہ يقين تھا کہ صدر اوبامہ کی کہی ہوئ کوئ بھی بات اس بنياد پر مسترد کر دينی چاہيے کيونکہ وہ مسلمان نہیں ہيں۔ اسی طرح کچھ دوستوں نے اس خيال کا اظہار کيا کہ ان کی تقرير سے يہ ثابت ہوتا ہے کہ ان کی ذات کا کچھ حصہ مسلمان ہے يا وہ اندر سے مسلمان ہیں۔

يہ سوچ کہ مثبت، تعميری اور منطقی بحث اور اقدامات صرف مسلمانوں کے مابين ہی ممکن ہيں يا کسی بھی شخص کا مذہب يا اس کا عقيدہ اس کے اصل عزائم اور نيت کا آئينہ دار ہوتا ہے، محدود اور پائيدار نہيں ہے۔

کچھ عرصہ پہلے ميں نے ايک پاکستانی نژاد امريکی مسلمان ضيا رحمان کی کہانی پوسٹ کی تھی جنھوں نے نيو جرسی کے شہر وورہيز ميں ہندو، عيسائ اور يہودی ہمسائيوں کی مخالفت کے باوجود ايک مسجد کی تعمير کا منصوبہ کاميابی سے مکمل کيا تھا۔ ضيا رحمان کی کہانی اس لیے منفرد ہے کيونکہ انھوں نے بات چيت اور مذاہب کے مابين صحت مند مکالمے کے ذريعے مختلف مذاہب کے افراد کو مسجد کی تعمير پر راضی کيا تھا۔ ان کی کاوشوں کے نتيجے ميں ووہيز مسجد کی انتظاميہ اور کيمڈن کاؤنٹی کے چرچ کے مابين باقاعدہ تعاون کا ايک کامياب معاہدہ بھی کيا گيا جو کہ امريکہ ميں دو مذاہب کے درميان کيا جانے والا اپنی نوعيت کا منفرد معاہدہ تھا۔

بدقسمتی سے ايک ہفتہ قبل ضيا رحمان اس دار فانی سے کوچ کر گۓ۔ ان کی اچانک موت نے پوری کميونٹی کو افسردہ کر ديا۔ ان ميں وہ ہندو، عيسائ اور يہودی بھی شامل تھے جنھوں نے کبھی مسجد کی تعمير کے ضمن ميں ان کی بھرپور مخالفت کی تھی۔

ان کی وفات کے بعد مقامی چرچ ميں ان کے لیے دعائيہ تقريب بھی منعقد کی گئ۔ ايک مقامی بشپ جوزف گلائنٹے نے ان کی موت پر شديد دکھ کا اظہار کيا اور ان کے خاندان اور پوری مسلم کميونٹی سے اظہار افسوس کيا۔

اس موقع پر انہوں نے کہا

"ميں نيوجرسی کے عيسائ اور مسلم رہائشيوں کے مابين احترام اور تعلقات کے فروغ کے ليے ان کی کاوششوں پر ہميشہ ان کا مشکور رہوں گا۔"

جن افراد نے ضيا رحمان کے ساتھ مل کر کام کيا تھا ان ميں کنگ کيتھولک چرچ کے پاسٹر جوزف والس بھی شامل تھے۔ ان کے مطابق

"اپنے مذہب اور مسلم کميونٹی سے بے پناہ محبت کے علاوہ وہ عيسائ اور يہود سميت ديگر مذہب کے افراد کے ساتھ بھی مل کر کام کرتے تھے۔ ان کی کوشش تھی کہ ہم لوگ مذہب اسلام کو زيادہ بہتر طور پر سمجھ سکيں اور مسلمان بھی ہماری مذہبی روايات سے روشناس ہوں۔ وہ ايک روحانی شخص اور بہترين دوست تھے۔ ميں ان کی کمی ہميشہ محسوس کروں گا۔"

Muslim community leader Zia Rahman dies at age 64 | CourierPostOnline.com | Courier-Post

Zia Rahman, 64; worked to ease religious tensions | Philadelphia Inquirer | 06/11/2009

ضيا رحمان 35 برس قبل پاکستان سے امريکہ منتقل ہوۓ تھے اور نوجوان مسلمان کی حيثيت سے انھوں نے امريکہ ميں بے پناہ کاميابياں حاصل کيں۔ وہ ايک کٹر مسلمان تھے ليکن امريکہ ميں کاميابی حاصل کرنے کے ليے يہ بات کبھی بھی ان کے راستے کی رکاوٹ نہيں بنی۔ ديگر مذاہب اور ثقافت کے باثر افراد اور گروپوں سے اپنے روابط کی روشنی ميں وہ اس بات پر پختہ ايمان رکھتے تھے کہ تلخيوں اور اختلافات کی خليج کم کرنے کے ليے مختلف مذہبی عقائد کے باوجود ديگر کميونٹی کے افراد سے رابطے ضروری ہيں۔

ان کی وفات کے بعد مختلف مذاہب کے افراد کی جانب سے جس بے ساختہ رنج اور غم کا اظہار کيا گيا، اس سے مجھے بے اختيار صدر اوبامہ کی قاہرہ ميں تقرير کے وہ الفاظ ياد آ گۓ

" دنیا کے لوگ امن سے اکٹھے رہ سکتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں ‌کہ یہی خدا کی منشا ہے۔ اب ہمیں زمین پر اپنا کام سرانجام دینا ہے”۔

ضيا رحمان اپنی وفات کے وقت اس حقیقت سے آشنا تھے کہ انھوں نے اپنے مذہب پر قائم رہتے ہوۓ امن اور باہمی روادری کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ دارياں پوری کيں۔

شايد ہم بھی ان کی مثال سے سبق سيکھ سکتے ہیں۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
Fawad آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
Fawad کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 20-06-09, 01:18 AM   #44
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,966
کمائي: 276,709
شکریہ: 33,203
12,656 مراسلہ میں 36,989 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اوبامہ کو مسلم دوست ثابت کرنا اور آدھا مسلمان ظاہر کرنا پنٹاگون کی نئی پلاننگ کا حصہ ہے
تاکہ مسلم دنیا میں امریکہ امریکہ کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت کو کم کیا جاسکے
آپ کی اوپر والی پوسٹ بھی شاید اسی پالیسی کا ساخشانہ ہے
ورنہ اس کی یہاں ضرورت نا تھی
فیصل ناصر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
مرزا محمد فاروق (20-06-09), رضی (23-06-09)
پرانا 22-06-09, 09:21 PM   #45
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 624
کمائي: 11,642
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
اوبامہ کو مسلم دوست ثابت کرنا اور آدھا مسلمان ظاہر کرنا پنٹاگون کی نئی پلاننگ کا حصہ ہے
تاکہ مسلم دنیا میں امریکہ امریکہ کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت کو کم کیا جاسکے
آپ کی اوپر والی پوسٹ بھی شاید اسی پالیسی کا ساخشانہ ہے
ورنہ اس کی یہاں ضرورت نا تھی

صدر اوبامہ مسلمان نہيں ہيں اور ميں آپ کو يقين دلاتا ہوں کہ مجھے پينٹاگان کی جانب سے انھيں "آدھا مسلمان" ثابت کرنے کے ليے کوئ ہدايات نہيں ملی۔ صدر اوبامہ نے اپنی ابتدائ تقرير کے علاوہ قائرہ ميں اپنے خطاب کے دوران اپنے پس منظر کے حوالے سے بڑی واضح گفتگو کی تھی۔

ميں يہ بھی کہنا چاہوں کہ آپ کی يہ تھيوری کہ پينٹاگان صدر اوبامہ کو مسلمان کے روپ ميں پيش کرنے کی کوشش کر رہا ہے، غير منطقی اور سمجھ سے بالا تر ہے۔

کسی بھی امريکی صدر کے ليے يہ ممکن نہيں ہے کہ وہ تمام سياسی، سفارتی اور دفاعی ضروريات کو نظرانداز کر کے مذہب کی بنياد پر خارجہ پاليسی ترتيب دے اور اور اسی بنياد پر ملکی مفاد کے فيصلے کرے۔

سال 1947 سے لے کر اب تک تين بھارتی صدور مسلمان تھے۔ کيا اس حقیقت سے بھارت اور پاکستان کے مابين تعلقات پر کوئ اثر ہوا؟

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
Fawad آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
digital, email, fawad, پوسٹ, پاکستان, پاکستانی, لوگ, نفرت, نظر, مکمل, مسجد, معاشرہ, ایران, اللہ, امریکہ, اردو فورمز, بھائی, جھوٹ, جواب, حکم, خلاف, دوست, داڑھی, سودا, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:06 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger