واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


پاکستان اسلامی فلاحی مملکت

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 16-04-09, 02:18 PM  
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,582
کمائي: 157,647
شکریہ: 8,062
5,019 مراسلہ میں 19,296 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default پاکستان اسلامی فلاحی مملکت

اگر ہم پاکستان کو فلاحی مملکت بنانا چاہتے ہیں۔تو ہم کو پاکستان میں اسلامی نظام نافذ کرنا ہوگا۔ اسلام نے سب سے پہلے فلاحی ریاست کی بنیاد ڈالی۔ فلاحی مملکت کا مطلب ہے کہ عوام کی کفالت کی ذمہ داری ریاست کی ہو۔
اسلام نے خلیفہ میتخب کرنے کی صرف ایک شرط رکھی ہے ۔ کہ تم میں سے سب سے متقی شخص تمھارا امیر ہونا چاہیے۔ متقی انسان کا مطلب ہے جو سب سے ذیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہو۔ متقی شخص ہر کام اللہ کے حکم کے مطابق کرے گا۔ وہ نہ خود خائن ہوگا نہ کسی اور کو خیانت کرنے دے گا۔
اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ پاکستان ایک فلاحی مملکت نہیں بن سکتا کیونکہ پاکستان ایک غریب ملک ہے ۔ تو میں یہ بات نہیں مانتی ہوں۔ جس ملک کو لوٹنے والے اتنے امیر ہوں وہ غریب کیسے ہوسکتا ہے۔اور اتنا لٹنے کے بعد بھی چل رہا ہے آپ خود سوچ سکتے ہیں وہ ملک کتنا امیر ہوگا۔ جس ملک کے لوگ کم از کم بارہ گھنٹے کام کرتے ہوں وہ غریب نہیں ہوسکتا۔
پاکستان میں اتنے قدرتی ذخائر موجود ہیں جو سب کی ضروریات پوری کرنے کے لئے کافی ہیں۔
اگر ہم ہر طرح کی مشکلات سے نکلنا چاہتے ہیں تو ہم سب کو مل کر اسلامی نظام کے نفاذ کی کو شش کرنی چاہیے۔
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (17-05-09), Zullu230 (16-04-09), ابن آدم (21-05-09), ابن جلال (17-04-09), حیدر (05-10-09), راجہ اکرام (05-10-09), رضی (22-05-09), عامرشہزاد (04-10-09)
پرانا 24-05-09, 09:03 PM   #31
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,247
کمائي: 25,909
شکریہ: 6,458
2,598 مراسلہ میں 7,610 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سحر صاحبہ، سلام۔

آپ کے بیان کردہ اصولوں کی قرآن کے اصولوں کی مدد سے تائید و تصحیح مکمل ہوجانے دیجئے تو اس کے بعد شوری کی تفصیل بھی دیکھیں گے۔

برادرا ن و خوہران سلام،

مزید دیکھئے:
اب تک ہم عدلیہ کے بارے میں اور اعلی عہدیداران کے بارے میں اور سربراہ حکومت کے بارے میں آیات دیکھ رہے ہیں۔ سربراہ حکومت یا اعلی عہدیداران کا امانت کی حفاظت کرنے والا ، اقتصادیات معاشیات و مالیات کا علم رکھنے والا اور خیانت کرنے والا نہ ہو۔ اس کا علم ہم کو حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں پڑھ کر ہوتا ہے کہ ان کا اپنا علم کیا تھا اور انہوں نے کس طرح اپنے علم و تدبر سے عوام الناس کو مالی، اقتصادی اور معاشی طور پر فائیدہ پہنچا یا۔

12:52 ذَلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ بِالْغَيْبِ وَأَنَّ اللّهَ لاَ يَهْدِي كَيْدَ الْخَائِنِينَ
(یوسف علیہ السلام نے کہا: میں نے) یہ اس لئے (کیا ہے) کہ وہ (عزیزِ مصر جو میرا محسن و مربّی تھا) جان لے کہ میں نے اس کی غیابت میں (پشت پیچھے) اس کی کوئی خیانت نہیں کی اور بیشک اﷲ خیانت کرنے والوں کے مکر و فریب کو کامیاب نہیں ہونے دیتا

12:55 قَالَ اجْعَلْنِي عَلَى خَزَآئِنِ الْأَرْضِ إِنِّي حَفِيظٌ عَلِيمٌ
یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا: (اگر تم نے واقعی مجھ سے کوئی خاص کام لینا ہے تو) مجھے زمینِ کے خزانوں پر (وزیر اور امین) مقرر کر دو، بیشک میں (ان کی) خوب حفاظت کرنے والا (اور اقتصادی امور کا) خوب جاننے والا ہوں

ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ امین، حفیظ اور علیم ہونا ہر اعلی عہدیدار کی خصوصیات ہیں کہ خیانت کرنے والوں‌کے مکر و فریب کو اللہ تعالی کامیاب ہونے نہیں دیتا۔

ایک مقننہ، قانون ساز ادارہ کے قیام کا حکم۔ یہ جماعت امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے قرآنی و الوہی اصول کی بنیاد پر لوگوں کو نیکی کی طرف بلانے ، بھلائی کا حکم دینے اور برے کام سے روکنے کا کام کرے گی۔ چونکہ یہ جماعت باہمی مشورہ سے کام کرے گی اس لیئے اس کے لئے شوریٰ، مجلس شوریٰ پارلیمنٹ ، کے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔

3:104 وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
اور تم میں سے ایسے لوگوں کی ایک جماعت ضرور ہونی چاہئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائیں اور بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں، اور وہی لوگ بامراد ہیں

اس امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی قانون ساز اسمبلی میں‌ خواتیں کی شمولیت کے بارے میں‌فرمان الہٰی:
9:71 وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلاَةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللّهَ وَرَسُولَهُ أُوْلَـئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللّهُ إِنَّ اللّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
اور اہلِ ایمان مرد اور اہلِ ایمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق و مددگار ہیں کہ وہ اچھی باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت بجا لاتے ہیں، ان ہی لوگوں پر اللہ عنقریب رحم فرمائے گا، بیشک اللہ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے


ہم نے دیکھا کہ اللہ تعالی نے ہم کو قران میں اعلی کردار کے لوگوں کی خصوصیات بتائی ہیں۔ باہمی مشورہ پر زور دیا ہے، عدلیہ کے قیام اور مقننہ کے قیام کا حکم دیا ہے اور اس مقننہ میں‌ عورتوں اور مردوں دونوں کو مل کر کام کرنے کا حکم دیا ہے۔

والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف

Last edited by فاروق سرورخان; 24-05-09 at 09:07 PM.
فاروق سرورخان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
سحر (24-05-09)
پرانا 05-10-09, 09:23 AM   #32
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,039
کمائي: 75,191
شکریہ: 50,002
10,104 مراسلہ میں 31,949 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اکیلے قرآن کو دیکھ کر ہم کس طرح اسلامی فلاحی مملکت کی مبادیات سمجھ سکتے ہیں کہ جس طرح ہمارے ایک بھائی کوشش کر رہے ہیں؟
مثال دیتا ہوں کہ ایک آیت ہے " تو قتل کرو مشرکوں کو جہاں تم پاؤ انہیں، اور پکڑو انہیں اور گھیر لو انہیں اور بیٹھو ان کے لیئے ہر گھات میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ " (سورہۃ توبہ) پھر آگے صرف ان مشرکوں کو چھوڑ دینے کی اجازت دی گئی ہے جو توبہ کر لیں ۔ ۔ ۔یا جو پناہ مانگ لیں۔
تو اس آیت سے تو یہی استدلال ہوتا ہے کہ جہاں بھی کوئی مشرک ملے اس کو مار ڈالو۔ خواہ وہ بچہ ہو یا بوڑھا، وعورت ہو یا مرد (بلکہ اس آیت کو دیکھ کر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ صرف مرد کو مارنا ہے عورت کو نہیئں)، بیمار ہو یا صحیح، اس نے کوئی جرم کیا ہو یا نہیں۔ اس نے ہتھیار اٹھائے ہوں یا نہ۔
قرآن کی صرف اس آیت کو دیکھیں گے تو قرآن کی وہ آیت سچ ثابت ہو جائے گی کہ جس میں الہہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اس کتاب یعنی قرآن سے بہت سوں کو گمراہ بھی کرتا ہوں۔

معاف کیجیے گا ۔ ۔ ۔ شاید آپکو میری بات ٹاپک سے ہٹ کر لگے ۔ ۔ ۔ لیکن میں صرف یہ جتلانا چاہتا تھا کہ کسی بھی آیت کی تشریح ذاتی نظریے کو چھوڑ کر سب سے پہلے سنت رسول کے مطابق کی جاتی ہے کہ اس سلسلہ میں سنت رسول کیا تھی ۔ ۔ ۔ پھر صحابہ کرام کا طریق دیکھا جائے پھر امت کے سلف و صالحین کا۔ اگر تو ذاتی حیثیت میں قرآن کی تفسیر کرنا ہوتی تو پھر اس ملک کے طالبان بھی سچے ہیں وہ تو کفار و منافقین کو قتل کرنے میں حق بجانب ہیں وہ بھی اپنی تائید میں کئی ایات پیش کر سکتے ہیں۔

تو میرے عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ بھائی جب بھی قرآن سے استدلال کرو تو اس میں یہ بھی بیان کرو کہ رسول کی سنت کیا تھی، صحابہ کرام کا طریق کیا تھا۔ورنہ اندھیرؤں میں بھٹکتے پھرو گے۔
یہی اسلامی فلاحی مملکت کے لیے بھی سچ ہے۔ محترمہ سحر نے بجا فرمایا کہ نبی اور صحابہ کا طریق بھی بیان کیجیے۔ نہ جانے کچھ لوگ ان حضرات سے اتنا چڑتےکیوں ہیں۔
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 05-10-09, 09:23 AM   #33
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,039
کمائي: 75,191
شکریہ: 50,002
10,104 مراسلہ میں 31,949 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اکیلے قرآن کو دیکھ کر ہم کس طرح اسلامی فلاحی مملکت کی مبادیات سمجھ سکتے ہیں کہ جس طرح ہمارے ایک بھائی کوشش کر رہے ہیں؟
مثال دیتا ہوں کہ ایک آیت ہے " تو قتل کرو مشرکوں کو جہاں تم پاؤ انہیں، اور پکڑو انہیں اور گھیر لو انہیں اور بیٹھو ان کے لیئے ہر گھات میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ " (سورہۃ توبہ) پھر آگے صرف ان مشرکوں کو چھوڑ دینے کی اجازت دی گئی ہے جو توبہ کر لیں ۔ ۔ ۔یا جو پناہ مانگ لیں۔
تو اس آیت سے تو یہی استدلال ہوتا ہے کہ جہاں بھی کوئی مشرک ملے اس کو مار ڈالو۔ خواہ وہ بچہ ہو یا بوڑھا، وعورت ہو یا مرد (بلکہ اس آیت کو دیکھ کر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ صرف مرد کو مارنا ہے عورت کو نہیئں)، بیمار ہو یا صحیح، اس نے کوئی جرم کیا ہو یا نہیں۔ اس نے ہتھیار اٹھائے ہوں یا نہ۔
قرآن کی صرف اس آیت کو دیکھیں گے تو قرآن کی وہ آیت سچ ثابت ہو جائے گی کہ جس میں الہہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اس کتاب یعنی قرآن سے بہت سوں کو گمراہ بھی کرتا ہوں۔

معاف کیجیے گا ۔ ۔ ۔ شاید آپکو میری بات ٹاپک سے ہٹ کر لگے ۔ ۔ ۔ لیکن میں صرف یہ جتلانا چاہتا تھا کہ کسی بھی آیت کی تشریح ذاتی نظریے کو چھوڑ کر سب سے پہلے سنت رسول کے مطابق کی جاتی ہے کہ اس سلسلہ میں سنت رسول کیا تھی ۔ ۔ ۔ پھر صحابہ کرام کا طریق دیکھا جائے پھر امت کے سلف و صالحین کا۔ اگر تو ذاتی حیثیت میں قرآن کی تفسیر کرنا ہوتی تو پھر اس ملک کے طالبان بھی سچے ہیں وہ تو کفار و منافقین کو قتل کرنے میں حق بجانب ہیں وہ بھی اپنی تائید میں کئی ایات پیش کر سکتے ہیں۔

تو میرے عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ بھائی جب بھی قرآن سے استدلال کرو تو اس میں یہ بھی بیان کرو کہ رسول کی سنت کیا تھی، صحابہ کرام کا طریق کیا تھا۔ورنہ اندھیرؤں میں بھٹکتے پھرو گے۔
یہی اسلامی فلاحی مملکت کے لیے بھی سچ ہے۔ محترمہ سحر نے بجا فرمایا کہ نبی اور صحابہ کا طریق بھی بیان کیجیے۔ نہ جانے کچھ لوگ ان حضرات سے اتنا چڑتےکیوں ہیں۔
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 05-10-09, 09:37 AM   #34
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,039
کمائي: 75,191
شکریہ: 50,002
10,104 مراسلہ میں 31,949 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسلامی فلاحی مملکت میں کچھ باتوں کی میں فاروق صاحب کی تائید کروں گا ۔ تام کافی پررائے کا فرق بھی ہے۔ جن پر کبھی موقع ملا تو بات کروں گا انشا اللہ۔ ایک بات جس کا میں ابھی ابھی تذکرہ کرتا چلا
میں فاروق صاحب کی اس بات کی کُلی تائید کروں گا کہ اسی نظام میں جو چھوٹی موٹی خامیاں ہیں انکو درست کریں نہ کہ سرے سے کوئی نیا نظام لے آئین۔ اور ایک بات جس سے اختلاف کروں گا کہ جس میں انہوں نے کہا کہ اس دور میں بھی پارلیمنٹ موجود تھی جو کہ شوری کہلاتی تھی۔ بھائی اس شوری اور آض کی موجودہ شوری میں ایم بنیادی فرق ہے۔ اس شوری میں رائے ضرور لی جاتی تھی، یقیناََ بحث مباحثہ بھی ہوتا ہگا ۔ لیکن فیصلہ اکثریت رائے کی بنیاد پر نہیں ہوتا تھا جیسا کہ آجکل ہوتا ہے۔ کبھی کبھی خلیفہ ان کی بات بھی مان لیتا تھا جو ہوتے اقلیت میں ہیں لیکن بات وزن رکھتی تھی۔ جبکہ آج کی پارلیمنٹ میں اکثریت رائے کے بغیر کوئی کام ہی نہیں ہوتا۔ حتیٰ کہ موجودہ حکومت نے نیا ڈرامہ شروع کر دیا ہے کہ جب تک متفقہ قرارداد نہیں ہو گی تب تک فیصلہ نہیں ہوگا۔ چناچہ امید ہے آپ اس فرق کو ملحوظ خاطر رکھیں گے۔ باقی میں پھر آپ کی تائید کروں گا کہ اسی نظام کو 'جو کافی حد تک مشابہ ہے اسلام سے' کو درست کر دیا جائے۔ (میں قوانین کی بات نہیں کر رہا) وزیر اعظم کو خلیفہ اللہ اورپارلیمنٹ کو شوریٰ کا نام دے دینا اسلامی حکومت نہیں کہلائے گا۔
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Tags
arabic, color, فارم, پاکستانی, پاکستانی کا خواب, واقعات, لوگ, مکمل, موجودہ, معلوم, آدمی, ایمان, اللہ, امیر, اسلامی, بہترین, تلاش, حدیث, راستہ, طاقتور, عہد, عورت, عزت, صلح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
اکتالیس فیصد پاکستانیوں کی ویزہ درخواستیں مسترد کنعان دیس ہوئے پردیس 4 13-12-09 12:55 AM
جمہوریت کے استحکام کیلئے پاکستان کی بھر پور مدد کر رہے ہیں،رچرڈ بائوچر کا پاکستانی ٹی وی کو انٹرویو ابن جلال خبریں 0 12-10-08 12:03 AM
بھارتی وزیر بغیر ویزا اور سفری دستاویز کے پاکستان میں گھس آیا شیخ ہمدان سیاست 1 19-01-08 09:45 PM
ترکمانستان افغانستان پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ امریکی کمپنی آئی او سی کو دینے کی منظوری دے دی گئی: پاکستانی خبریں 0 19-08-07 02:17 PM
السلام علیکم پاکستان۔۔۔۔۔ میں بھی پاکستان ہوں تو بھی پاکستان ہے Zullu230 تعارف 9 21-07-07 10:59 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:23 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger