واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


::: یہ معافیاں :::

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 08-02-10, 12:01 AM  
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb ::: یہ معافیاں :::

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
آج کے جنگ آن لائن میں عرفان صدیقی صاحب کا ایک کام پڑھنے کو ملا ، کافی اچھا لگا اس لیے سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہاں ارسال کر رہا ہوں ،
اس کالم کی آخری چند سطور میں ، میں نے اپنی طرف سے چند ایک الفاظ کا اضافہ کیا ہے ، امید ہے میری تحریر پڑھنے والے جان جائیں گے کہ وہ اضافہ شدہ الفاظ کون سے ہیں ،
والسلام علیکم۔
::: یہ معافیاں ::::
عافیہ پہ ٹوٹتے ستم نے ایک پرانے زخم کے بخیے بھی ادھیڑ ڈالے ہیں۔ مجھے جامعہ حفصہ کی شہید بچیاں شدت سے یاد آرہی ہیں اور ایک رُکنی جماعت کے سربراہ شیخ رشید احمد نے ادھڑے ہوئے زخم پر مٹھی بھر نمک چھڑک دیا ہے۔ ووٹوں کی جستجو میں دو باریش شخصیات کو اپنے دائیں بائیں بٹھا کر انہو ں نے فرمایا ”علماء میرے ساتھ ہیں۔میں نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے مقتولین پر معافی مانگ لی ہے“۔
ایک جملے نے حساب بے باق اور کھاتہ صاف کردیا ؟ !!!
کس قدر آسان نسخہ ‘ کس قدر سہل مداوا ہے۔
جب تک بس چلے آمر وقت کے دست ستمگر پر بوسے دیتے رہو‘ اس کے قدموں تلے آنکھیں بچھاتے رہو‘ اس کی چاپلوسی کو فلسفہٴ سیاست کی معراج قرار دیتے رہو‘ اس کی جمہوریت کشی کو دلائل کی قبائیں پہناتی رہو‘ اس کی غارت گری کو تقاضائے وقت قرار دیتے رہو‘ اس کی رعونت کی دہلیز پر سجدے کرتے رہو‘ اس کی خونخواری کو جوانمردی سے تعبیر کرتے رہو‘ اس کی درندگی کو قومی مفادکا جامہ زیبا پہناتے رہو‘ اس کی وطن فروشی کو حکمت کہتے رہو‘ اس کی دختر فروشی کو مصلحت کشی قرار دیتے رہو‘ اس کی بردہ فروشی پہ تالیاں پیٹتے رہو‘ اس کی سرکشی کے سامنے کورنش بجالاتے رہو‘ اس کی آئین شکنی کے قصیدے پڑھتے رہو‘ اس کے گھناؤنے کردار کی ترجمانی کو اعزاز سمجھتے رہو‘ اس کے دسترخوان کی ہڈیاں چچوڑتے رہو اور جب مکافات عمل ڈکٹیٹر کو گرفت میں لے لے ‘ مکے لہرانے والے کے بازو خزاں رسیدہ شاخوں کی طرح ناتواں ہوجائیں‘ اس کے سوکھے بالوں میں جوئیں رینگنے لگیں‘ اس کے دانت جھڑ جائیں اس کے پنجے کوڑھ کا شکار ہوکر گلنے سڑنے لگیں اور اس کا دستر خوان لپٹنے لگے تو گھر لوٹ آؤ او رکہو ”یہ سب اس کا کیا دھرا تھا“ کوئی دن گوشہ نشینی میں گزارو۔جب یقین ہوجائے کہ غم ہائے روز گار کی چکی میں پستے لوگ بھول بھلا گئے ہوں گے تو ایک بار پھر خلق خدا کی نمائندگی کا تاج سرپہ سجانے کی آرزو میں یہ کہتے ہوئے میدان میں کود پڑو کہ ”میں نے معافی مانگ لی ہے“۔
عافیہ صدیقی کو امریکی عدالت نے مجرم قرار دیا تو جناب مشاہد حسین سید بھی نعرہ زن ہوئے۔ انہوں نے حکومت پر طعن کیا۔ اصحاب ”ق“ کے عمائدین نے بھی بھاشن دیا‘ شیخ رشید احمد نے بھی لب کشائی کی۔ آنکھ کی حیا کا یہ عالم ہے کہ جس شخص نے عافیہ کو امریکی درندوں کے ہاتھ بیچا‘ یہ سب اس شخص کی غلامی پہ ناز کرتے رہے۔ عافیہ 31 مارچ 2003ء کو اٹھائی گئی تو یہ سب مشرف کے دست بستہ درباری بنے ہوئے تھے۔ ساڑھے چار برس تک وہ جانے کن عقوبت خانوں میں تڑپتی رہی اور یہ سب اقتدار کی عشرتیں سمیٹتے رہے۔ آج یہ عوام کو احساس دلارہے ہیں کہ عافیہ کے غم نے انہیں نڈھال کردیا ہے۔ کیا فریب کی کوئی حد نہیں ہوتی؟ شیخ رشید احمد نے پریس کانفرنس کی اور فرمایا ”میں نے لال مسجد کے واقعہ پر بھی معافی مانگ لی تھی“۔ کیا معافی کا لفظ نوک زباں پہ لاتے ہی سارا ماضی دھل جاتا ہے؟ یہ کوئی معمولی سانحہ نہ تھا۔
انگریز ایک صدی تک یہاں قابض رہا۔ اس کے سامراجی مظالم کی درندہ صفت کہانیاں تاریخ کے اوراق پر جابجا بکھری پڑی ہیں۔
امریکہ گزشتہ نوبرس سے درندگی کا ایک شرمناک باب رقم کررہا ہے۔
بھارت نصف صدی سے مقبوضہ کشمیر میں خون کی ہولی کھیل رہا ہے۔
لیکن جو کچھ لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں ہوا‘ اس کی نظیر کہیں نہیں ملتی۔
یہ سانحہ کسی لادین یا غیر مسلم ملک میں نہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہوا۔ اس ملک میں ہوا جو """لاالہ الاالله """ کے نعرے (کے پس منظر میں ہزاروں لاکھوں مسلمانوں کے جان مال و آبرو کی قربانیوں کے بعد اللہ کی طرف سے وجود) تخلیق ( میں ظاہر) ہوا۔ اسلام ( کے پیروکاروں ) کی بیٹیوں پر یہ ستم اس شہر میں ٹوٹا جس کا نام ”اسلام آباد“ ہے۔ یہ غارت گری الله کے گھر اور اس سے منسلکہ ‘ بچیوں کے دینی مدرسے میں ہوئی۔ قرآن کی تلاوت کرتی معصوم بیٹیاں فاسفورس کے بموں کا رزق ہوگئیں۔ اُن کی گلی سڑی ہڈیاں گندے نالوں میں بہادی گئیں۔ کیا دلوں کو چیر دینے والا سانحہ تھا کہ اڑھائی سال بعد بھی خون کے آنسو رلادیتا ہے۔
اور موصوف کس سادگی سے فرماتے ہیں۔”میں نے معافی مانگ لی تھی“۔
4 جولائی 2007ء کو لال مسجد اور جامعہ حفصہ پہ یلغار ہوئی‘ پانی بند‘ خوراک بند‘ بجلی بند‘ پانچ دن وہ بھوک اور پیاس سے تڑپتی رہیں۔ 9 جولائی کو آپریشن ہوا اور پاکباز روحیں آسمانوں کو پرواز کرگئیں۔ جناب شیخ اُس وقت کہاں تھے؟ کیا کررہے تھے؟ کیا یہ سچ نہیں کہ قیامت کی اس گھڑی میں بھی اُن کے لئے ”سیدمشرف“ کی چاکری ‘ سید الابرار کی خوشنودی سے زیادہ عزیز رہی ؟ قبیلہٴ ”ق“ کا کوئی ایک فرد بھی مستعفی نہیں ہوا۔ آج یہی قبیلہ شیخ صاحب کی پشت پہ کھڑا اُن کی فتح کے لئے نعرہ زن ہے۔
مشرف کے عہدِ نابکار میں کیا کیا نہیں ہوا۔
جمہوریت قتل ہوئی‘
آئین مسخ ہوا ‘
پورا ملک امریکہ کے قدموں میں ڈھیر کردیا گیا‘
ڈرون حملوں کا اجازت نامہ دیا گیا‘
دینی مدارس کو نکیل ڈالی گئی‘
علماء کی قبائیں نوچی گئیں‘
اسلام کا مضحکہ اڑایا گیا‘
بگٹی کو قتل کیا گیا‘
بھارت کی غلامی اختیار کی گئی‘
جہاد کشمیر کا گلاگھونٹا گیا‘
عافیہ صدیقی کو امریکی گرگوں کے حوالے کیا گیا‘
سینکڑوں افراد کو بیچ دیا گیا‘
ڈاکٹر عبدالقدیر کو نشانہِ تضحیک بنایا گیا‘
ججوں کو بچوں سمیت قید کیاگیا‘
قبائلی علاقوں کو میدان جنگ بنا دیا گیا‘
دینی مدرسے کے نوجوان طلبہ پر بمباری کرائی گئی۔
یہ سب کچھ ہوتا رہا لیکن شیخ صاحب اور ان کا قبیلہ ہاتھ باندھے‘ گردن جھکائے مشرف کی چوکھٹ پرکھڑے رہے۔ شیخ صاحب سانحہ لال مسجد کے پانچ ماہ سات دن بعد تک وزارت کے مزے لوٹتے اور درندگی کی وکالت کرتے رہے‘ یہاں تک کہ 16 دسمبر 2007ء کو حکومت ختم ہوگئی اور وہ گھر آگئے۔ انہوں نے فروری 2008ء کا الیکشن بھی ”ق“ کے رہنما اور مشرف کے ہمنوا کے طور پر لڑا۔ پنڈی کے لوگوں نے عبرت کا سبق یاد دلایا تو شیخ صاحب بولے۔ ”مجھے لال مسجد لڑ گئی“ ان کا یہ جملہ گواہی دیتا ہے کہ اُن کے دل میں لال مسجد کا کتنا احترام اور شہداء کا کیا درجہ و مقام ہے۔
الله غفور و رحیم ہے۔ وہ جسے چاہے معاف کردے لیکن وہ دلوں کا بھید بھی جانتا ہے۔نیتوں کے احوال سے بھی باخبر ہے۔وہ معافی کے ایسے اعلانات کے معنی و مفہوم کی تمام پرتوں سے واقف ہے۔
عافیہ کے دکھ نے جامعہ حفصہ کی بچیوں کا غم بھی تازہ کردیا ہے۔ الله کے خزانے بے کراں ہیں لیکن میرا دل گواہی دیتا ہے کہ عافیہ کو بیچنے اور جامعہ حفصہ کی بچیوں کو قتل کرنے والا قبیلہ معافی کا استحقاق کھوبیٹھا ہے۔ا س قبیلے کے سردار کو وطن کی مٹی سے کوسوں دور کردیاگیا ہے اور اس کے چیلے کسی میدان میں سرخرو نہ ہوں گے۔ ان خونیوں کو معاف کردینے والے بھی الله کی پکڑ سے نہیں بچ سکیں گے۔
وہ دن بھی کیا دن ہوگا جب جامعہ حفصہ میں شہید ہونے والی مسلمان بیٹیاں نورانی پوشاکیں پہنے میرے نبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے جلو میں اللہ کے دربار میں کھڑی ہوں گی اور اُن کی انگلیاں قاتل قبیلے کی طرف اٹھی ہوں گی اور سیاہ کار ٹولہ خوف سے کانپ رہا ہوگا اور کسی کی زبان کو یہ کہنے کا یارا نہ ہوگا کہ :::
”میں نے معافی مانگ لی تھی“۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے اللہ ہم بہت خطا کار ہیں ، گناہ گار ہیں ، لیکن تو غفورو رحیم ہے ، معاف فرما دے اے سچے مولانا ، ہمارے وطن اور اہل وطن اور مسلمانوں کو ایسے ضمیر فروشوں سے نجات دے دے۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
15 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
shafresha (08-02-10), فیصل ناصر (08-02-10), کنعان (09-02-10), ھارون اعظم (08-02-10), یحیٰی (08-02-10), محمدمبشرعلی (09-02-10), مسٹر رائٹ (08-02-10), Wahid Mahmood (08-02-10), ابو عمار (08-02-10), راجہ اکرام (08-02-10), سحر (09-02-10), طاھر (08-02-10), عبیداللہ عبید (08-02-10), عبداللہ حیدر (08-02-10), غلام مجتبی جان (08-02-10)
کمائي نے عادل سہیل کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
09-02-10 کنعان ایک مدت بعد پولیٹیکل بگیاڑوں پر ایسی تحریر پڑھنے کو ملی شکریہ 100
پرانا 09-02-10, 02:12 AM   #16
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمدمبشرعلی مراسلہ دیکھیں
جزاک اللہ بھائی!

دراصل یہاں لوگ حلال حرام میں تمیز نہیں کرتے تو دعائیں کیسے قبول ہوں،
نیکی کا حکم اور برائی سے نہیں روکتے تو اللہ کی مدد کیسے آئے،
انصاف نہیں کرتے تو عذاب الہیٰ (ذلزلے، غلامی) کیوں نہ آئے۔ ۔ ۔
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
اللہ تعالیٰ آپ کو بھی بہترین اجر سے نوازے ،
بھائی محمد ، آپ نے درست فرمایا یہ سب کام دعاوں کے قبول ہونے میں روکاٹ ہیں ، ہم قصور وار ہیں ، کوتاہ کار ہیں ، لیکن ((((( قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعاً إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ::: (اے محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم) آپ (میرے بندوں کو) فرما دیجیے اپنی جانوں پر ظُلم کرنے والے میرے بندو ، اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہو ، (اگر تم لوگ اللہ کی طرف پلٹ جاو تو ) بے شک اللہ سارے کے سارے گناہ معاف کر دے گا بے شک اللہ بہت زیادہ مغفرت والا اور رحم کرنے والا ہے ))))) ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
سحر (09-02-10), عبداللہ حیدر (09-02-10)
پرانا 09-02-10, 03:47 AM   #17
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,079
کمائي: 110,115
شکریہ: 12,550
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

عادل بھائی بہت مدت بعد ایک ایسی تحریر پڑھنے کو ملی اور کچھ زخم پھر ابھر آئے۔
آپ نے بھی لکھا میں بھی یہی کہتا ہوں کہ ہر مسلمان کا اللہ کے ساتھ اپنا معاملہ ہوتا ھے مگر جامعہ حفصہ کی بچیوں کے قاتلوں بلواسطہ یا بلاواسطہ کو اللہ سبحان تعالی کو کبھی بھی معاف نہیں کرنا چاہئے اس سے زیادہ میں اور کچھ نہیں لکھنا چاہتا۔

والسلام
__________________


کنعان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر (23-02-10)
جواب

Tags
پاکستان, قید, قرآن, لوگ, مسجد, معراج, آپریشن, اللہ, امریکہ, اسلامی, بچوں, تاج, تحریر, خدا, سہل, سیاست, سردار, شہر, عالم, عدالت, عزیز, غم, صفت, صاف, صدیقی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:58 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger