| سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#16 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اسلامی فلاحی ریاست میں فلاحی اعمال کس طرح ہوں؟ جمع شدہ صدقات، یعنی زکواۃ، جذیہ ، فدیہ یا خیرات یا پھر ٹیکسز کہہ لیجئے اس طرح خرچ کئے جائیں۔:9:60 إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِّنَ اللّهِ وَاللّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ بیشک صدقات (زکوٰۃ، دذیہ، فدیہ، خیرات، ٹیکسز) 1۔ غریبوں اور محتاجوں اور 2۔ ان کی وصولی پر مقرر کئے گئے کارکنوں اور 3۔ ایسے لوگوں کے لئے ہیں جن کے دلوں میں اسلام کی الفت پیدا کرنا مقصود ہو اور 4۔ (مزید یہ کہ) انسانی گردنوں کو (غلامی کی زندگی سے) آزاد کرانے میں اور 5۔ قرض داروں کے بوجھ اتارنے میں اور 6۔ اللہ کی راہ میں (جہاد کرنے والوں پر) اور 7۔ مسافروں پر (زکوٰۃ کا خرچ کیا جانا حق ہے)۔ یہ (سب) اللہ کی طرف سے فرض کیا گیا ہے، اور اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے مزید دیکھئے اسلامی فلاحی ریاست کی ذمہ داری: یہ ذمہ داری اگر ایک شخص کی ہے تو ایک اسلامی فلاحی ریاست کی بھی ہے۔ 2:177 آمَنَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلآئِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّآئِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُواْ وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ أُولَـئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَأُولَـئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ نیکی صرف یہی نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو بلکہ اصل نیکی تو یہ ہے کہ جو بھی ہو وہ اﷲ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (اﷲ کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے، اور اﷲ کی محبت میں (اپنا) مال 1۔ قرابت داروں پر اور 2۔ یتیموں پر اور 3۔ محتاجوں پر اور 4۔ مسافروں پر اور 5۔ مانگنے والوں پر اور 6۔ (غلاموں کی) گردنوں (کو آزاد کرانے) میں خرچ کرے، اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور جب کوئی وعدہ کریں تو اپنا وعدہ پورا کرنے والے ہوں، اور سختی (تنگدستی) میں اور مصیبت (بیماری) میں اور جنگ کی شدّت (جہاد) کے وقت صبر کرنے والے ہوں، یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں اللہ تعالی کے قرآن میں ان احکامات سے یہ بہت ہی واضح ہے کہ انفرادی طور پر اور اجتماعی طور پر دونوں ، اسلامی حکومت پر عوام الناس کی فلاح و بہبود فرض کی گئی ہے۔ احباب و اصحاب ، برادران و خواہران کے خیالات کا انتظار رہے گا۔ والسلام Last edited by فاروق سرورخان; 18-05-09 at 11:24 AM. |
|
|
|
|
|
|
#17 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,582
کمائي: 157,647
شکریہ: 8,062
5,019 مراسلہ میں 19,296 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فاروق صاحب اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے
آپ نے اس موضوع پر قرآن کی آیات بیان کی آپ کا بہت شکریہ لیکن اگر آپ احادیث کی روشنی میں بھی اس موضوع کو بیان کردیں تو میں آپ کی مشکور ہوں گی ۔ اللہ نے آپ کو علم عطا کیا ہے ۔ اور اسلام کے نکات کو سمجھنے کا فہم بھی عطا کیا ہے ایک بہن کی مخلصانہ گزارش ہے کہ آپ احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی کتب کا مطالعہ کریں اور وہ تمام قوانین بھی پڑھیں جن سے احادیث کو صحیح ثابت کیا جا تا ہے مجھے معلوم ہے کہ آپ احادیث کے منکر نہیں ہیں بلکہ آپ کا خیال ہے کہ وہ احادیث جو قرآن کی مخالف ہوں ان کو تسلیم نہ کیا جائے تو صحیح احادیث کے قوانین میں یہ بھی شامل ہے کہ صحیح احادیث قرآن کی مخالف نہیں ہوسکتی ہیں۔ تمام صحیح احادیث کی تحقیق اس بنیاد پر پہلے ہی ہو چکی ہے۔ جہاں تک بخاری اور صاح ستہ کا تعلق ہے ان پر تمام علماء کا اجماع ہے۔ اجماع کا مطلب ہے کہ ایک بات جس پر ایک دور کے تمام مستند علماء متفق ہوں ایسی بات جس پر تمام مستند علماء کا اجماع ہو اس کو قانونی حیثیت حاصل ہے اجماع کا قانون حضرت امام شافعی نے بنایا اس کی دلیل حاصل کرنے کے لیے حضرت امام شافعی رحمت اللہ علیہ نے قرآن کو تین سو بار پڑھا اور اس پر غور و فکر کیا۔ صاح ستہ پر اجماع کا مطلب ہے ان کتابوں کو قانونی حیثیت حاصل ہے۔ Last edited by سحر; 18-05-09 at 06:35 PM. |
|
|
|
| سحر کا شکریہ ادا کیا گیا | رضی (22-05-09) |
|
|
#18 |
|
Senior Member
![]() |
السلام علیکم سسٹر سحر!
میں آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں! اگر واقعی میں یہ اسلامی نظام ہمارے معاشرے میں رائج ہو جائے تو کوئی بھی فرد اس معاشرے کا کم از کم غربت، بے روزگاری اورافلاس کی وجہ سے خود سوزی نہیں کرے گا اور کسی بھی پبلک پارک میں ہم اپنی فیملیز کے ساتھ بغیر دقت کے آ جا سکیں گے وہاں بے حیائی کے نظارے دیکھنے کو نہیں ملیں گے اور خواتین بازار میں بغیر دقت کے آ جا سکیں گی وہاں ان کو بے حیا نوجوان تنگ کرنے کھڑے نہیں ہوں گے اور کتنا ہی اچھا ہو کہ خریدار بھی خواتین ہوں اور دکان دار بھی خواتین ہوں ہر جگہ خواتین کا حصہ مخصوص ہو اور مردوں سے علیٰحدہ ہو تو انشاء اللہ اس معاشرے میں بہت سے برائیوں کے ساتھ ساتھ زنا ، سود ، رشوت ، ڈکیتی ، ذخیرہ اندوزی ، لوٹ کھسوٹ ، اغواہ ، قتل ، چوری ، چائلڈ لیبر، بم دھماکے ، اور معمولی رسموں اور شادیوں میں ہتھیاروں کی نمائش ، جہیز کی لعنت سمیت بہت سے اور برائیوں سے نجات ملے گا اور ہر انسان کی رسائی میں ہو گا ”انصاف “ والسلام |
|
|
|
|
|
#19 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,495
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,765 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
__________________
![]() اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ تر خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
|
|
|
|
|
|
|
#20 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,582
کمائي: 157,647
شکریہ: 8,062
5,019 مراسلہ میں 19,296 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فاروق سرور صاحب
میں نے نیک نیتی سے ایک مشورہ دیا تھا۔ لیکن آپ اپنے موقف پر قائم رہنا چاہتے ہیں تو آپ کی مرضی ۔ لیکن میں آپ سے متفق نہیں ۔ آپ کی باتوں کا جواب تو مجھ جیسی کم علم بھی دے سکتی ہے ۔ میرے پاس بھی اتنے دلائل ہیں کہ آپ کی بات کو غلط ثابت کیا جا سکتا ہے ۔ لیکن آپ کوئی دلیل ماننا ہی نہیں چاہتے اس لیے اس بحث تو رہنے دیں اسلام کے نکات بحث کرنے سے سمجھ میں نہیں آتے ہیں ۔ اسلام کے نکات علم حاصل کرنے ، غور و فکر کرنے اور عمل کرنے سے سمجھ میں آتے ہیں شکریہ |
|
|
|
|
|
#21 |
|
Senior Member
![]() |
میں نے "اپنے" خیالات کے لئے ایک طویل لنک فراہم کیا ہے جس میں ان تمام اماموں کی تصنیفات کا ذکر ہے جو بے چارے "غلطی" سے یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن اللہ کی کتاب اور سنت رسول اللہ کی کتاب کے موافق ہے۔ رسول اکرم کا کیا تھا کبھی متع ( عورتوں سے وقتی فائیدہ ااٹھانا) جائز قرار دیتے تھے تو کبھی ناجائز، وہ تو اللہ کی سنت ہے جو تبدیل نہیںہوتی۔ رسول کے لئے یہ حکم تھوڑی تھا، وہ جب چاہتے تھے، کبھی زنا کی سزا موت بذریعہ سنگساری قرار دے دیتے تھے اور جب چاہے اس کو منسوخ کردیتے تھے۔ اور ہاں ان بے چارے اماموں کو یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ اللہ تعالی بھول بھی جاتے ہیں۔ ان کو یاد ہی نہیں تھا کہ توریت میں تو انہوں نے زنا کی سزا موت بذریعہ سنگساری رکھی اور پھر قرآن کے نزول تک بھول بھی گئے کہ صرف دو عدد گناہوں کی سزا کے بارے میں توریت میںکچھ لکھا تھا اور قرآن میںکچھ اور۔ اور ہاں ایسا بھی ہے کہ قانون رجم کی آیات بکری کھا گئی۔ ان اماموں کو یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ اللہ تعالی نے جب اپنے قرآن کی حفاظت کا وعدہ فرمایا تھا تو اس میںبکری کا کاغذ کھانا شامل نہیں تھا۔ جی؟
پھر یہ کہ قرآن رسول اکرم نے تو یونہی پیش کیا تھا ، مقصد اس کی اطاعت تھوڑی تھا۔ وہ تو 250 سال بعد بخاری اور مسلم نے بتانا تھا کہ قرآن کا کونسا حصہ درست ہے۔ اور یہ بھی دو صدی بعد پتہ چلنا تھا کہ رسول اللہ کا پیش کردہ قرآن، سنت کی کسوٹی نہیں ہے، بلکہ یہ 200 سال بعد لکھی ہوئی اور لکھی ہوئی بھی نہیں کہی ہوئی ، کتب قرآن کی کسوٹی ہیں۔ یار اتنی ہرزہ سرائی ، کچھ عقل لگتی، کچھ خدا لگتی، کچھ قرآن لگتی بات کرو بھائی۔ یا پھر صاف صاف مان لو جناب کہ بخاری و مسلم کی کتب میںہرزہ سرائی کرنے والے دشمنان اسلام آپ کے نبی ہیں اور جناب کا دین بخاری ہے۔ ہم کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ ہمارا نبی رسول اکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ہماری کتاب صرف اور صرف قرآن ہے۔ اگر آپ قرآن سے ایک آیت بھی لے ئیے کہ 200 سال بعد لکھی جانے والی اور مسلسل تبدیل ہونے والی ان کتب پر قرآن کی طرح ایمان رکھنا ہے تو بندہ ان پر ایمان لانے کو تیار ہے ، شرط یہ ہے کہ مکمل کتاب پر ایمان کا ثبوت ہو۔ موافق القرآن روایات پر ہماری کوئی بحثنہیں ، پہلے ہی سے اتفاق ہے کہ قرآن اور صرف موافق القرآن سنت لازم و ملزوم ہے۔ السلام علیکم فاروق سرور صاحب! آپ کا کہنا ہے کہ آپ 1980 سے قرآن پاک مطالعہ مطالعے سے میری مراد ترجمہ ہے تو آپ کس عالم کا ترجمہ پڑ رہے ہیں ارشاد فرما دیں اور جن جن کے آپ نے تراجم پڑھے ہیں ان سب کا نام بھی عنایت فرما دیں اور آپ سے کچھ سوالوں کے جوابات کی گذارش ہے یقین ہے آپ مایوس نہیں کریں گے بلکہ کاپریٹ کریں گے۔ قرآن اللہ تعالٰی کی آخری کتاب ہے آپ کو کیسے پتا لگا؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے اور صحابہ کرام نے آپ صلی اللہ وسلم کی تقلید میں نماز پڑھنا سیکھا۔ آپ کس کی تقلید میں نماز پڑھتے ہیں؟ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تقلید میں پڑھتے ہیں قرآن پاک میں نماز پڑھنے کا حکم ہے نماز کسطرح پڑھی جائے یہ قرآن میں کہیں نہیں لکھا آپ الحمد سے کر والنّاس تک قرآن پاک پڑھ کر دیکھ لیں نماز کا طریقہ کہیں نہیں لکھا۔ اور آپ کس اذان کو سن کر نماز پڑھنے مسجد جاتے ہیں؟ قرآن پاک میں اذان کس دی جائے یہ بھی نہیں لکھا اور اسی طرح زکات کے مسائل حلال و حرام کے مسائل کا قرآن پاک میں واضح بیان نہیں جن کی رہنمائی ہمیں آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں سے ملتی ہے جیسا کہ قرآن پاک میں ہے کہ سور کا گوشت حرام ہے اور جو جانور اپنی موت آپ مر جائے اور وہ جس کے ذبیحے میں اللہ کا نام نہیں لیا گیا ہو وہ سب حرام ہیں لیکن چوہا بلی کتا اور دوسرے حشرات الارض اور وحشی جانور بھی حرام ہے انکا ذکر نہیں تو کیا آپ اوپر جن جانوروں کا ذکر میں نے کیا ان کو آپ حلال سمجھتے ہیں؟ کیونکہ آپ کے بقول آپ کے لیے صرف قرآن پاک سب کچھ ہے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو آپ نعوذ با اللہ کہانیاں اور قصہ تعبیر کرتے ہو بھائی میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے بغیر آپ قرآن پاک کو سمجھ ہی نہیں سکتے آپ جس قرآن کا اپنا اول آخر سمجھتے ہو اسی قرآن میں ہر سورت میں اللہ رب العزت یہی فرماتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو سورہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آیت نمبر 33 میں اللہ فرماتا ہے (اے ایمان والوں اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو اور اپنے عمل ناطل نہ کرو) اس کے علاوہ کیا آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ؟ کیوں کہ اللہ تعالٰی سورہ احزاب کے آیت نمبر 56 میں فرماتا ہے (بیشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اے ایمان والوں ان پر درود اور خوب سلام بھیجو ) آپ درود کس طرح پڑھتے ہیں ؟ کیونکہ آپ کے لیے حجت صرف قرآن ہے احادیث نہیں ہیں نا؟ اور آپ نماز میں تشہد میں درودِ ابراہیمی کس طرح پڑھتے ہیں وضاحت کیجیے؟ کیونکہ کہ قرآن پاک میں درودِ ابراہیمی موجود نہیں ہے۔ اللھم صلِ علٰی سیّدِنا محمّد و علٰی اٰلِ سیّدِنا محّمد وّ اصحابِہ و بارِک وسلّم0 والسلام[/QUOTE] و Last edited by عبداللہ حیدر; 22-05-09 at 09:09 PM. |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے مباح کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (22-05-09), رضی (23-05-09), سحر (22-05-09), عامرشہزاد (05-10-09), عادل سہیل (22-05-09) |
|
|
#22 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,582
کمائي: 157,647
شکریہ: 8,062
5,019 مراسلہ میں 19,296 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شکریہ آپ سب کا جو آپ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ Last edited by سحر; 22-05-09 at 04:35 PM. |
|
|
|
| سحر کا شکریہ ادا کیا گیا | رضی (23-05-09) |
|
|
#23 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث کے بارے میں مراسلات درج ذیل دھاگے میںمنتقل کر دیے گئے ہیں۔
کیا قرآن اور حدیث لازم و ملزوم ہیں؟ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#25 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
میرا جواب بھی مکمل اخلاص اور نیک نیتی پر مبنی ہے۔ کہ جہاں جہاںضرورت ہوگی وہاں وہاں روایات سے بھی مدد لی جائے گی۔ جبکہ مرکز و محور صرف اور صرف قرآن حکیم ہی رہے گا۔ میری کم علمی کا یہ ثبوت ہے کہ میں ایک طالب علم ہوں۔ آپ کے جوابات سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کو میرے موقف کا قطعاً علم نہیں ۔ لہذا تھوڑی سی تکلیف فرمائیے اور یہ مراسلہ ملاحظہ فرما لیجئے۔ اس میں ، میں نے صرف ایک سوال کیا ہے۔ وہ آپ وہیں دیکھ لیں اور اگر کوئی بھی صاحب اس کا جواب فراہم کرسکیں تو میری کم علمی اور لاعلمی دور ہوگی۔ چونکہ بات اسلامی فلاحی مملکت کی ہورہی ہے ، اگر اجازت ہے تو اس دھاگہ میں قرآن کے حوالہ جات فراہم کرتا رہوںگا ۔ اور اگر برادران و خواہران کو ناگوار گذرتا ہے تو قرآن کے حوالہ جات فراہم کرنے سے احتراز کروںگا کہ شاید بحث کا مقصد کچھ اور ہے۔ اگر آب تک آپ کے اسلامی فلاحی ریاست کے ضمن میں جو آیات پیش کی گئی ہیں۔ ان میں کوئی قابل اعتراض نکتہ نظر آتا ہے تو فرمائیے۔ وضاحت کرکے، خوشی محسوس ہوگی۔ والسلام Last edited by فاروق سرورخان; 22-05-09 at 09:26 PM. |
|
|
|
|
|
|
#26 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,582
کمائي: 157,647
شکریہ: 8,062
5,019 مراسلہ میں 19,296 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
میری کسی بات سے آپ کو دکھ پہنچا ہے تو میں معذرت خواہ ہوں۔ |
|
|
|
|
|
|
#27 |
|
Senior Member
![]() |
بہن سحر سلام،
بہت ہی شکریہ۔ آپ کی کسی بات سے دکھ نہیں پہنچا اور انشاء اللہ تعالی اس کی نوبت نہیں آئے گی۔ پیش کردہ آیات اگر پیش کردہ نکات سے تعلق نہ رکھتی ہوں تو ضرور اعتراض کیجئے کہ یہ میری غلطی ہوگی۔ ایسی کسی غلطی کی تصحیح کرکے بہت ہی خوشی ہوگی۔ اس موضوع پر یہ دھاگہ ایک بہترین بحث ہے۔ ہم اس پر اپنے خیالات کا اظہار کرکے اور قرآن حکیم کی روشنی میں اس معاملہ کو بہتر سمجھ کر آج کے دور کے ایک بہت بڑے سوال کا جواب حاصل کرسکتے ہیں۔ کہ اسلامی فلاحی ریاست کا تصور کیا ہے؟ والسلام Last edited by فاروق سرورخان; 22-05-09 at 09:29 PM. |
|
|
|
|
|
#28 | |||
|
Senior Member
![]() |
احباب و اصحاب ، برادران اور خواہران سلام ،
سحر نے بہت ہی اچھے نکات پیش کئے، آئیے اللہ تعالی کے فرمان ، قرآن حکیم کے حوالوں کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ کیا یہ نکات قرآن کے فراہم کردہ اصولوں پر پورے اترتے ہیں۔ اقتباس:
اقتباس:
حکومت کرنے لئے حکمت کی ضرورت ہے۔ 1۔اللہ بہت ہی حکمت والا اور عالم ہے۔ 64:18 عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ہر نہاں اور عیاں کو جاننے والا ہے، بڑے غلبہ و عزت والا بڑی حکمت والا ہے 2۔ رسول اللہ کو اس لئے بھیجا کہ وہ حکمت کی تعلیم دیں۔ 21:29 رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنتَ العَزِيزُ الحَكِيمُ اے ہمارے رب! ان میں انہی میں سے (وہ آخری اور برگزیدہ) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث فرما جو ان پر تیری آیتیں تلاوت فرمائے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے (کر دانائے راز بنا دے) اور ان (کے نفوس و قلوب) کو خوب پاک صاف کر دے، بیشک تو ہی غالب حکمت والا ہے 3۔ اللہ تعالی نے نبیوںکو حکمت کی تعلیم دی اور حکومت عطا فرمائی ، جس پر یہ انبیاء اللہ تعالی کے شکر گزار تھے۔ 12:101 رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِن تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَنتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ اے میرے رب! بیشک تو نے مجھے سلطنت عطا فرمائی اور تو نے مجھے خوابوں کی تعبیر کے علم سے نوازا، اے آسمانوں اور زمین کے پیدا فرمانے والے! تو دنیا میں (بھی) میرا کارساز ہے اور آخرت میں (بھی)، مجھے حالتِ اسلام پر موت دینا اور مجھے صالح لوگوں کے ساتھ ملا دے 4۔ داؤد علیہ السلام کو حکومت اور حکم عطا فرمائی۔ فَهَزَمُوهُم بِإِذْنِ اللّهِ وَقَتَلَ دَاوُدُ جَالُوتَ وَآتَاهُ اللّهُ الْمُلْكَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَهُ مِمَّا يَشَاءُ وَلَوْلاَ دَفْعُ اللّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّفَسَدَتِ الأَرْضُ وَلَـكِنَّ اللّهَ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْعَالَمِينَ پھر انہوں نے ان (جالوتی فوجوں) کو اللہ کے امر سے شکست دی، اور داؤد (علیہ السلام) نے جالوت کو قتل کر دیا اور اﷲ نے ان کو (یعنی داؤد علیہ السلام کو) حکومت اور حکمت عطا فرمائی اور انہیں جو چاہا سکھایا، اور اگر اﷲ لوگوں کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کے ذریعے نہ ہٹاتا رہتا تو زمین (میں انسانی زندگی بعض جابروں کے مسلسل تسلّط اور ظلم کے باعث) برباد ہو جاتی مگر اﷲ تمام جہانوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے 5۔ ابراہیم علیہ السلام کے خاندان کو حمت اور حکومت بخشی۔ 4:54 أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَى مَا آتَاهُمُ اللّهُ مِن فَضْلِهِ فَقَدْ آتَيْنَآ آلَ إِبْرَاهِيمَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَآتَيْنَاهُم مُّلْكًا عَظِيمًا کیا یہ (یہود) لوگوں (سے ان نعمتوں) پر حسد کرتے ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا فرمائی ہیں، سو واقعی ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے خاندان کو کتاب اور حکمت عطا کی اور ہم نے انہیں بڑی سلطنت بخشی حکمت ، حکومت کرنے کے لئے لازمی ہے۔ اقتباس:
7:181 وَمِمَّنْ خَلَقْنَا أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ يَعْدِلُونَ اور جنہیں ہم نے پیدا فرمایا ہے ان میں سے ایک جماعت (ایسے لوگوں کی بھی) ہے جو حق بات کی ہدایت کرتے ہیں اور اسی کے ساتھ عدل پر مبنی فیصلے کرتے ہیں 2۔ قرآن و سنت کی بنیاد پر قانون سازی کے لئے باہمی مشورے کا حکم۔ نئے قوانین کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے، 42:38 وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ اور جو لوگ اپنے رب کا فرمان قبول کرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور اُن کا فیصلہ باہمی مشورہ سے ہوتا ہے اور اس مال میں سے جو ہم نے انہیں عطا کیا ہے خرچ کرتے ہیں اللہ تعالی حضرت موسی علیہ السلام کے اس واقعہ سے ہم کو سبق فراہم کرتے ہیں کہ بعض اوقات ہم کو زیادہ فصیح اور تصدیق کرنے والے وکیل کی ضرورت ہوتی ہے جو ہمارا معاملہ لوگوں یا عدالت کے سامنے پیش کرسکے۔ 28:34 وَأَخِي هَارُونُ هُوَ أَفْصَحُ مِنِّي لِسَانًا فَأَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْءًا يُصَدِّقُنِي إِنِّي أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ اور میرے بھائی ہارون (علیہ السلام)، وہ زبان میں مجھ سے زیادہ فصیح ہیں سو انہیں میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج دے کہ وہ میری تصدیق کر سکیں میں اس بات سے (بھی) ڈرتا ہوں کہ (وہ) لوگ مجھے جھٹلائیں گے سود سے پاک معاشرہ تمام بینکاری نظام کو ختم کردیا جائے کاغذ کی کرنسی کے بجائے سونے اور چاندی کے سکے۔ بیت المال کا قیام معاشرے کے ہر فرد کی کفالت کی ذمہ داری ریاست کی ہوگی [QUOTE=سحر;168959] یہ بہت وسیع اور ضروری موضوع ہے۔ اس پر آیات الگ دھاگہ میں انشاء اللہ۔ حوالہ جات کا یہ سلسلہ جاری ہے۔۔۔ والسلام |
|||
|
|
|
|
|
#29 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اسلامی حکومت کے سربراہ کو جن خصوصیات کا حامل ہونا چاہیے ان میں سے کچھ کی طرف فاروقصاحب نے اشارہ کیا ہے۔ مجھے اس موضوع پر دو آیات بڑی پیاری لگتی ہیں، سورۃ البقرۃ میں ایک اللہ کی طرف سے مقرر کیے گئے ایک بادشاہ طالوت کا ذکر ہے جن کے چناؤ کی وجہ اس آیت میں بیان ہوئی ہے:
وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ اللّهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوتَ مَلِكًا قَالُواْ أَنَّى يَكُونُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ أَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ قَالَ إِنَّ اللّهَ اصْطَفَاهُ عَلَيْكُمْ وَزَادَهُ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ وَاللّهُ يُؤْتِي مُلْكَهُ مَن يَشَاءُ وَاللّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌالبقرۃ 247 "اور ان سے ان کے نبی نے فرمایا: بیشک اﷲ نے تمہارے لئے طالوت کو بادشاہ مقرّر فرمایا ہے، تو کہنے لگے کہ اسے ہم پر حکمرانی کیسے مل گئی حالانکہ ہم اس سے حکومت (کرنے) کے زیادہ حق دار ہیں اسے تو دولت کی فراوانی بھی نہیں دی گئی، (نبی نے) فرمایا: بیشک اﷲ نے اسے تم پر منتخب کر لیا ہے اور اسے علم اور جسم میں زیادہ کشادگی عطا فرما دی ہے، اور اور اللہ (کو اختیار ہے) جسے چاہے بادشاہی بخشے۔ وہ بڑا کشائش والا اور دانا ہے" اس آیت سے معلوم ہوا کہ اسلامی حکومت کا سربراہ صاحب علم ہو اور جسمانی طور پر تندرست ہو، مشقت برداشت کر سکے۔ قرآن کریم کی ایک اور آیت سے اشارہ ملتا ہے کہ کسی کو ذمے داری سونپتے وقت دیکھ لینا چاہیے کہ وہ اس کا اہل ہے یا نہیںاور کیا وہ ذمے داری کا بوچھ پوری دیانت سے ادا کر سکتا ہے: قَالَتْ إِحْدَاهُمَا يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ القصص 26 "کہا: اُن میں سے ایک نے ابا جان! ملازم رکھ لیجیے اسے اس لیے کہ بہترین ملازم وہی ہوسکتا ہے جو طاقتور اور امانتدار ہو۔" اسلامی حکومت کے سربراہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ مسلمان ہو۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَطِيعُواْ اللّهَ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِي الْأَمْرِ مِنكُمْ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلاً النساء59 مومنو! اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اور جو تم میں سے صاحب حکومت ہیں ان کی بھی اور اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو تو اگر اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اس میں اللہ اور اس کے رسول (کے حکم) کی طرف رجوع کرو یہ بہت اچھی بات ہے اور اس کا مآل بھی اچھا ہے" عاقل و بالغ ہو۔ سورۃ النساء کی یہ آیت ایک خاص پس منظر میں بیان ہوئی ہے لیکن اس کا حکم عام ہے: وَلاَ تُؤْتُواْ السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمُ الَّتِي جَعَلَ اللّهُ لَكُمْ قِيَاماً وَارْزُقُوهُمْ فِيهَا وَاكْسُوهُمْ وَقُولُواْ لَهُمْ قَوْلاً مَّعْرُوفًا النساء آیت 5 " اور تم بے سمجھوں کو اپنے (یا ان کے) مال سپرد نہ کرو جنہیں اللہ نے تمہاری معیشت کی استواری کا سبب بنایا ہے۔ ہاں انہیں اس میں سے کھلاتے رہو اور پہناتے رہو اور ان سے بھلائی کی بات کیا کرو" کوئی عورت اسلامی حکومت کی سربراہ نہیں بن سکتی کیونکہ عورت مرد کی قوام نہیں ہے: الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُواْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللّهُ وَاللاَّتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلاَ تَبْغُواْ عَلَيْهِنَّ سَبِيلاً إِنَّ اللّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا النساء آیت 35 "مرد عورتوں پر محافظ و منتظِم ہیں اس لئے کہ اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے (بھی) کہ مرد (ان پر) اپنے مال خرچ کرتے ہیں، پس نیک بیویاں اطاعت شعار ہوتی ہیں شوہروں کی عدم موجودگی میں اللہ کی حفاظت کے ساتھ (اپنی عزت کی) حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں، اور تمہیں جن عورتوں کی نافرمانی و سرکشی کا اندیشہ ہو تو انہیں نصیحت کرو اور (اگر نہ سمجھیں تو) انہیں خواب گاہوں میں (خود سے) علیحدہ کر دو اور (اگر پھر بھی اصلاح پذیر نہ ہوں تو) انہیں (تادیباً ہلکا سا) مارو، پھر اگر وہ تمہاری فرمانبردار ہو جائیں تو ان پر (ظلم کا) کوئی راستہ تلاش نہ کرو، بیشک اللہ سب سے بلند سب سے بڑا ہے" وہ دار السلام یعنی اسلامی ریاست کا باشندہ ہو، إِنَّ الَّذِينَ آمَنُواْ وَهَاجَرُواْ وَجَاهَدُواْ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَالَّذِينَ آوَواْ وَّنَصَرُواْ أُوْلَـئِكَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَالَّذِينَ آمَنُواْ وَلَمْ يُهَاجِرُواْ مَا لَكُم مِّن وَلاَيَتِهِم مِّن شَيْءٍ حَتَّى يُهَاجِرُواْ وَإِنِ اسْتَنصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ إِلاَّ عَلَى قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُم مِّيثَاقٌ وَاللّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ الانفال 72 "جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے لڑے وہ اور جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) جگہ دی اور ان کی مدد کی وہ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ اور جو لوگ ایمان تو لے آئے لیکن ہجرت نہیں کی تو جب تک وہ ہجرت نہ کریں تم کو ان کی رفاقت سے کچھ سروکار نہیں۔ اور اگر وہ تم سے دین (کے معاملات) میں مدد طلب کریں تو تم کو مدد کرنی لازم ہوگی۔ مگر ان لوگوں کے مقابلے میں کہ تم میں اور ان میں (صلح کا) عہد ہو (مدد نہیں کرنی چاہیئے) اور اللہ تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے" |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#30 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,582
کمائي: 157,647
شکریہ: 8,062
5,019 مراسلہ میں 19,296 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فاروق سرور صاحب اور عبداللہ حیدر صاحب
خلیفہ کے چننے کے طریقے پر قرآن و سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہ کے طریقوں سے حوالہ جات یہاں بیان کردیں ۔ خلفائے راشدین کا چناؤ کیسے ہوا اور مجلسِ شوریٰ کے بارے میں تفصیل بیان کردیں تو مہربانی ہوگی اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے |
|
|
|
| سحر کا شکریہ ادا کیا گیا | رضی (24-05-09) |
![]() |
| Tags |
| arabic, color, فارم, پاکستانی, پاکستانی کا خواب, واقعات, لوگ, مکمل, موجودہ, معلوم, آدمی, ایمان, اللہ, امیر, اسلامی, بہترین, تلاش, حدیث, راستہ, طاقتور, عہد, عورت, عزت, صلح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| اکتالیس فیصد پاکستانیوں کی ویزہ درخواستیں مسترد | کنعان | دیس ہوئے پردیس | 4 | 13-12-09 12:55 AM |
| جمہوریت کے استحکام کیلئے پاکستان کی بھر پور مدد کر رہے ہیں،رچرڈ بائوچر کا پاکستانی ٹی وی کو انٹرویو | ابن جلال | خبریں | 0 | 12-10-08 12:03 AM |
| بھارتی وزیر بغیر ویزا اور سفری دستاویز کے پاکستان میں گھس آیا | شیخ ہمدان | سیاست | 1 | 19-01-08 09:45 PM |
| ترکمانستان افغانستان پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ امریکی کمپنی آئی او سی کو دینے کی منظوری دے دی گئی: | پاکستانی | خبریں | 0 | 19-08-07 02:17 PM |
| السلام علیکم پاکستان۔۔۔۔۔ میں بھی پاکستان ہوں تو بھی پاکستان ہے | Zullu230 | تعارف | 9 | 21-07-07 10:59 PM |