واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


دہشت گردی کیا ہے، کیا اس پر مسلمانوں کی اجارہ داری ہے؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 28-02-08, 11:18 AM  
Senior Member
 
شیخ ہمدان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 50
مراسلات: 280
کمائي: 8,346
شکریہ: 12
163 مراسلہ میں 430 بارشکریہ ادا کیا گیا
شیخ ہمدان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default دہشت گردی کیا ہے، کیا اس پر مسلمانوں کی اجارہ داری ہے؟

جس موضوع ’’دہشت گردی‘‘پر بحث شروع کر رہا ہوں اس کی تفصیلات میں جانے سے پہلے خود اس لفظ کی تعریف کرنا چاہوں گا لیکن دہشت گردی کی تعریف یا ڈیفائن کرنا انتہائی مشکل کام ہے کیونکہ اس کی مختلف تعریفیں‌ ہیں اور خاص بات یہ ہے کہ ان میں کئی اس لفظ کی صحیح تعریف واضح نہیں کرتی اور اس کے بالکل برعکس ہیں۔ اس لفظ کی تعریف / ڈیفینیشن بہت واضح نہیں‌ ہے۔ جیسے جیسے جغرافیائی مقام تبدیل ہوتا ہے ویسے ویسے اس لفظ کی تعریف تبدیل ہوتی جاتی ہے لیکن آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق:
’’سیاسی مقاصد کے حصول یا کوئی بھی سرکاری کام کی پرزور انجام دہی کے لیے پرتشدد طاقت کا استعمال ‘‘
اس لفظ کا پہلی بار استعمال 1790 میں فرانسیسی انقلاب کے دوران کیا گیا تھا اور یہ لفظ ایک برطانوی شخص ایڈمنڈ برک نے فرانس کے جیکوبیئن دور کی حکومت کے لیے استعمال کیا تھا۔ 1793 اور 1794 کے درمیان اس ہی حکومت کو ’’دہشت کی حکومت‘‘ کا نام دیا گیا۔ اس حکومت کو میکسیمیلن روبز پیئر چلا رہا تھا۔ جتنا عرصہ بھی اس نے حکومت کی اس نے ہزاروں لاکھوں معصوم لوگوں کو مروایا / گلوٹونائز کیا۔ تاریخی ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ روبز پیئر نے تقریباً پانچ لاکھ افراد کو گرفتار کرایا جس میں سے چالیس ہزار کو فوراً مروا دیا، دو لاکھ کو ملک بدر کیا گیا جبکہ دو لاکھ سے زائد کو جیلوں میں تشدد اور اذیتیں دے کر اور بھوکا رکھ کر ہلاک کیا گیا۔ تو بہرالحال لفظ دہشت یا دہشت گردی کا ابتدائی استعمال اس طرح کیا گیا۔
لیکن آج جب ہمارے پاس بین الاقوامی میڈیا موجود ہے، ایک بہت عام سا بیان اکثر و بیشتر خصوصاً سامنے آتا رہتا ہے یا یہ کہہ لیں کہ اس بیان کی اکثر بمباری کی جاتی ہے اور وہ بیان یہ ہے کہ:

’’تمام مسلمان دہشت گرد نہیں ہیں لیکن تمام دہشت گرد مسلمان ہیں‘‘
All Muslims are not terrorists but
All Terrorists are Muslims

یہ تشریح یا تعریف ایک خاص مقصد سے شرق الاوسط اور دیگر ایشیائی ممالک میں پھیلائی گئی ہے۔ تو آیئے آج دیکھتے ہیں کہ تاریخی ریکارڈز کے مطابق دنیا میں دہشت گردی یا حملوں سے متعلق معلومات ہمیں کیا بتاتی ہے۔

جب ہم 19ویں صدی کی بات کرتے ہیں‌ ہمیں پتا چلتا ہے کہ شاید ہی کوئی دہشت گردی کا واقعہ ہو جس میں مسلمان ملوث ہوں۔
1881 میں روس کے زار الیگزینڈر دوئم کو قتل کردیا گیا۔ وہ سینٹ پیٹرز برگ (سابقہ لینن گراڈ) میں ایک بلٹ پروف گاڑی میں سفر کر رہے تھے کہ اچانک ایک بم پھٹا جس سے معصوم 22 لوگ مارے گئے۔ سر الیگزینڈر اپنی گاڑی سے باہر آتے ہیں کہ اچانک ایک اور بم پھٹا اور وہ مارے گئے۔ انہیں کسی مسلم نے نہیں بلکہ بیلاروس اور پولینڈ سے تعلق رکھنے والے شخص‌ ایگنی ویرچی نامی غیر مسلم شخص نے مارا۔
1886 میں شکاگو (امریکا) کی ہے مارکیٹ اسکوائر میں لیبر ریلی کے دوران دھماکا ہوا جس میں ایک پولیس اہلکار سمیت 12 افراد مارے گئے جبکہ 7 زخمی ہونے والے پولیس اہلکار اسپتال میں‌ جانبر نہ ہوسکے۔ اس واقعے میں ملوث افراد مسلم نہیں بلکہ غیر مسلم انارکسٹ تھے۔
اب آتے ہیں 20ویں صدی کی طرف۔
6 ستمبر 1901ء کو امریکی صدر ولیم میک کینلی کو ایک غیر مسلم انارکسٹ لیئون زولوگوس نے قتل کردیا۔ اس شخص نے امریکی صدر کو پستول کے دو فائر کرکے قتل کیا۔
یکم اکتوبر 1910ء کو امریکی اخبار لاس اینجلس ٹائمز کی عمارت میں ہوا جس میں 21 معصوم افراد مارے گئے۔ اس حملے میں ملوث دو افراد عیسائی تھے جن کے نام جیمز اور جوزف ہیں، دونوں یونین لیڈر تھے۔
28 جون 1914ء کو آسٹریا کے آرک ڈیوک فرانز فرڈیننڈ (رائل پرنس آف ہنگری اینڈ بوہیمیا) کو ان کی اہلیہ سمیت بوسنیا ہرزیگووینا کے دارالحکومت ساراجیوو میں قتل کردیا گیا جس کے نتیجے میں پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی۔ اس قتل میں‌ ملوث‌ افراد کا گروپ خود کو ’’ینگ بوسنیا یا نوجوان بوسنیا‘‘ کہلاتے تھے اور تمام کے تمام غیر مسلم سرب تھے۔
16 اپریل 1925ء کو بلغاریہ کے دارالحکومت سوفیا کے سینٹ نیڈیلیا چرچ میں بم دھماکا ہوا جس میں 150 سے زائد معصوم افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 500 سے زائد زخمی ہوئے۔ یہ بلغاریہ کی تاریخ میں سب سے بڑا حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ حملے میں ملوث افراد غیر مسلم تھے اور بلغارین کمیونسٹ پارٹی کے ارکان تھے۔
9 اکتوبر 1934ء کو یوگوسلاویہ کے شاہ الیگزینڈر کو ایک بندوق بردار شخص ولاڈا جورجیف نے قتل کردیا جو غیر مسلم تھا۔
یکم مئی 1961 کو امریکی تاریخ کا پہلا طیارہ ایک عیسائی ریمریز آرٹیز نے ہائی جیک کیا۔ وہ شخص‌ طیارے کو کیوبا لے گیا جس کے بعد اس نے وہاں پناہ حاصل کرلی۔
28 اگست 1968ء‌ کو گوئٹے مالا میں امریکی سفیر کو ایک غیر مسلم نے قتل کردیا۔
30 جولائی 1969ء میں جاپان میں امریکی سفیر کو ایک غیر مسلم جاپانی شخص نے قتل کیا۔
3 ستمبر 1969ء کو برازیل میں امریکی سفیر کو اغواء کرلیا گیا جس میں ایک غیر مسلم ملوث‌ تھا۔
19 اپریل 1995ء میں مشہور و معروف اوکلوہاما فیڈرل بلڈنگ میں ہونے والے دھماکے میں دھماکہ خیز اور آتشگیر مواد سے بھرے ایک ٹرک کو عمارت سے ٹکرا دیا گیا تھا، اس واقعے میں 166 معصوم افراد مارے گئے جبکہ سیکڑوں دیگر زخمی ہوئے۔ ابتدائی طور پر پریس میں جو بات سامنے آئی وہ تھی ’’مڈل ایسٹ کانسپائریسی‘‘۔ کئی دنوں تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ ہفتوں‌تک بریکنگ نیوز چلتی رہی کہ یہ مڈل ایسٹ کانسپائریسی ہے، مسلم ملوث‌ ہی، فلسطینی‌ ملوث ہیں لیکن بعد میں تحقیقات سے پتا چلا یہ حملہ کرنے والے 2 بائیں بازو کی جماعت سے تعلق رکھنے والے افراد تھے ، دونوں‌ عیسائی تھے اور ان کے نام ٹموتھی اور ٹیری تھے۔ لیکن جب یہ بات پتا چلی کہ حملے میں عیسائی ملوث تھے تو میڈیا میں ایک دو روز تک یہ بات چلی لیکن اس کے بعد غائب ہوگئی۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد 1941ء سے 1948ء تک دنیا میں 259 دہشت گرد حملے ہوئے جس میں یہودی دہشت گرد اور کئی دیگر یہودی تنظیمیں جیسا کہ ارگون، اسٹن گینگ اور ہیگنا ملوث تھیں۔
22 جولائی 1946ء میں آج کے مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کے کنگ ڈیوڈ‌ ہوٹل کا بم دھماکا اس حوالے سے بہت معروف ہے اور اس میں‌ یہودی تنظیم ارگون کا رکن مینکم بیگن ملوث تھا۔ واقعہ میں 91 معصوم افراد مارے گئے جس میں سے 28 برطانوی، 41 عرب، 17 یہودی اور 5 دیگر قومیتوں سے تعلق رکھتے تھے۔ حملے میں یہودیوں نے جو بدمعاشی کی تھی وہ یہ تھی کہ حملہ آوروں کو عرب شیوخ کے لباس میں بھیج کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ حملہ عرب قوم نے (فلسطینیوں) نے کرایا ہے۔ اس وقت تک یہ برطانوی مفادات پر سب سے بڑا حملہ تصور کیا جا رہا تھا۔ اس واقعہ کے بعد برطانوی حکومت نے مینکم بیگن کو اول نمبر کا دہشت گرد قرار دیا تھا۔ بعد میں کچھ سال بعد یہی بیگن اسرائیل کا وزیراعظم منتخب ہوجاتا ہے اور اس کے چند سال بعد اسے امن کا نوبل انعام دیا جاتا ہے۔ ذرا سوچیں! معصوم افراد کا قاتل وزیراعظم بن گیا اور نوبل پیس پرائز لے گیا اور یہی نام نہاد مغربی میڈیا، جو جھوٹے ہولوکاسٹ کو جھوٹا تک ثابت نہیں کرسکتا، بیگن کی تعریفوں کے گن گانے لگا۔ اسرائیلی وزیراعظم ایرئیل شیرون بھی معصوم لوگوں‌ کے قتل عام میں ملوث ہیں۔ انہوں نے 1982ء میں‌ جب وہ اسرائیل کے وزیر دفاع تھے، لبنان کے صابرہ اور شتیلا کیمپ میں تقریباً 3500 فلسطینی پناہ گزینوں‌ کو لبنان کی عیسائی تنظیم لیبنیز میرونائٹ کرسچن ملیشیا کے ہاتھوں‌ اور اسرائیلی فوجی ایجنٹس کے ذریعے مروا دیا۔ یہ ساری سازش فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او)‌ کے ان کارکنوں کو مارنے کے لیے کی گئی تو جو اسرائیل سے اپنی چھینی ہوئی زمین واپس لینے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔
اگر آپ 1945ء سے پہلے کا دنیا کا نقشہ دیکھیں‌ تو پتہ چلے گا کہ اسرائیل کا نام و نشان تک نہیں‌ تھا۔ مذکورہ بالا یہودی جنہیں مسلمانوں نے نہیں بلکہ برطانیہ نے دہشت گرد تنظیم کا نام دیا تھا، یہودی ریاست کے حصول کے لیے لڑ رہی تھیں۔ بعد میں طاقت کے دم پر انہوں نے زمین پر قبضہ کیا، فلسطینیوں کو وہاں سے لات مار کر بھگایا اور اب وہی لوگ جو اپنی زمین کے واپس حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں انہیں‌ اسرائیل نے دہشت گرد قرار دیا ہوا ہے۔
ہٹلر نے یہودیوں کا قتل عام کرایا، وہ جرمنی سے یہودیوں کو بھگادیتا ہے تو وہ یہودی فلسطین میں کیوں گھسیں۔ یہ تو فلسطینیوں کی مہمان نوازی اور اخلاص تھا جنہوں نے ان یہودیوں کو موسیٰ کی اولاد سمجھ کر گلے لگایا اور رہنے کے لیے جگہ دی۔ اگر ان یہودیوں کو زمین چاہئے تو وہ واپس جرمنی جائیں یا پھر یورپ جائیں جہاں سے انہیں نکالا گیا ہے۔ دنیا میں خود کو انسانی حقوق کا علمبردار ماننے والے فرسٹ ورلڈ ممالک اسرائیل جیسے دہشت گردوں کا ساتھ دے رہے ہیں، اس کے خلاف اقوام متحدہ میں آنے والی قراردادوں کو ویٹو کر رہے ہیں اور جو معصوم ہیں ان کا پابندیوں کے نام پر دانہ پانی بند کرکے انہیں دہشت گرد قرار دے رہے ہیں۔ امام خمینی نے امریکا کے لیے بزرگ شیطان کا جو نام رکھا ہے وہ بالکل صحیح ہے۔
جرمنی میں 1968ء سے لے کر 1992ء تک بادر مین ہوف گینگ نامی تنظیم نے کئی معصوم انسانوں کا قتل کیا۔
اٹلی میں ریڈ بریگیڈ نامی تنظیم نے سیکڑوں معصوم لوگوں کا قتل کیا اور یہی تنظیم اٹلی کے وزیراعظم الڈو مورو کے اغوا میں بھی ملوث تھی اور 55 روز بعد اسے قتل بھی کردیا۔
جاپان میں بھی ایسی ہی ’’جاپنیز ایٹ آرمی‘‘ نامی تنظیم تھی جس کے ارکان بدھ مت سے تعلق رکھتے تھے۔ اس تنظیم نے ٹوکیو سب وے میں ہزاروں لوگوں کو ایک زہریلی گیس کے ذریعے ہلاک کرنے کی کوشش کی۔ خوش قسمتی سے ان کی سازش ناکام ہوئی اور صرف 12 لوگ مارے گئے لیکن 5 ہزار افراد زہریلی گیس کے اثرات سے شدید متاثر ہوئے اور کچھ زخمی بھی ہوئے۔
برطانیہ میں تقریباً 100 سال تک آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والی کیتھولک عیسائی ارکان پر مشتمل تنظیم آئی آر اے برطانوی مفادات کے خلاف حملے کرتے آئے لیکن انہیں کبھی کیتھولک دہشت گرد نہیں کہا گیا۔ اس تنظیم نے سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں‌ دہشت گرد حملے کئے۔ 1972ء میں اس تنظیم نے تین دھماکے کرائے۔ پہلے میں سات، دوسرے میں 11 جبکہ تیسرے میں 9 مارے گئے۔ 1974ء میں تنظیم نے دو گلفورڈ‌ پب (شراب خانہ) میں دھماکے کرائے 6 افراد مارے گئے جبکہ 45 سے زائد زخمی ہوئے۔ برمنگہم کے شراب خانے میں کئے جانے والے حملے میں 21 افراد مارے گئے جبکہ 162 زخمی ہوئے۔ 1996ء میں لندن میں ہونے والے دھماکے میں 2 افراد زخمی ہوئے اور 100 سے زائد زخمی ہوئے۔ 1996ء میں ہی مانچیسٹر کے شاپنگ ایریا میں دھماکے سے 206 افراد زخمی ہوئے۔ 1998ء میں بین برج بم دھماکے، جہاں ایک گاڑی میں 500 پائونڈ وزنی دھماکا خیز مواد ایک گاڑی میں رکھ کر تباہ کردیا گیا، جس سے 35 معصوم افراد زخمی ہوئے۔ اس ہی سال کے دوران اوماگ بم دھماکے میں آئی آر اے نے 500 پائونڈ وزنی دھماکا خیز مواد کو تباہ کرکے 25 افراد کو موت کی نیند سلادیا جبکہ 330 افراد زخمی ہوئے۔ یہ تمام کے تمام واقعات آئی آر اے نامی تنظیم کے کھاتے میں جاتے ہیں جنہیں کسی مسلم مورخ کی کتابوں سے نہیں بلکہ غیر مسلم مغربی میڈیا (ایمنسٹی انٹرنیشنل، بی بی سی وغیرہ وغیرہ۔ تفصیلات انٹرنیٹ پر سرچ کی جا سکتی ہیں) کی رپورٹس سے حاصل کیا گیا ہے۔ کیتھولک دہشت گرد تنظیم۔


(فی الحال اتنا ہی۔۔۔۔جاری ہے)

Last edited by شیخ ہمدان; 28-02-08 at 01:15 PM. وجہ: Typographical error in tittle
شیخ ہمدان آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے شیخ ہمدان کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (03-03-08), محمدعدنان (28-02-08), شاہد جمیل حفیظ (10-10-09), عادل سہیل (30-01-09), عبدالقدوس (28-02-08), عبداللہ حیدر (24-10-08)
کمائي نے شیخ ہمدان کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
03-03-08 منتظمین دستیاب نہیں 50
پرانا 01-11-08, 04:39 PM   #16
Senior Member
 
شیخ ہمدان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 50
مراسلات: 280
کمائي: 8,346
شکریہ: 12
163 مراسلہ میں 430 بارشکریہ ادا کیا گیا
شیخ ہمدان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: دہشت گردی کیا ہے، کیا اس پر مسلمانوں کی اجارہ داری ہے؟

برائن ڈی ہنٹ کی امداد کا حوالہ دے کر آپ کیا سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں؟ یہ کہ امریکا 50 ہزار ڈالر میں‌ اپنی خوبیوں کی داستانیں اخباروں میں‌ چھپوانا چاہتا ہے؟
شیخ ہمدان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شیخ ہمدان کا شکریہ ادا کیا
محمدعدنان (01-11-08), عادل سہیل (30-01-09)
پرانا 07-11-08, 08:35 PM   #17
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 624
کمائي: 11,642
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شیخ ہمدان مراسلہ دیکھیں
برائن ڈی ہنٹ کی امداد کا حوالہ دے کر آپ کیا سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں؟ یہ کہ امریکا 50 ہزار ڈالر میں‌ اپنی خوبیوں کی داستانیں اخباروں میں‌ چھپوانا چاہتا ہے؟

اگر 40 نوجوانوں کے "ہجوم" کی جانب سے امريکی پرچم کو نذرآتتش کرنے کے واقعے کو ايک بڑی خبر تسليم کر کے اسے تمام اخبارات کے صفحہ اول پر شائع کيا جا سکتا ہے تو اسی معيار اور تناسب سے امريکی قونصل خانے لاہور کے پرنسپل آفيسر برائن ڈی ہنٹ کی جانب سے 50 ہزار کی امداد کو بھی کوريج ملنی چاہيے۔

امداد کی رقم ميرا نقطہ نہيں تھا۔ ميں اس مجموعی سوچ کی نشاندہی کر رہا تھا جو حقائق کی يکطرفہ رپورٹنگ کے ضمن ميں ميڈيا کے کچھ حلقوں ميں پائ جاتی ہے۔ 50 ہزار کی امداد تو محض ايک چھوٹی سی مثال تھی۔ حقيقت يہ ہے کہ امريکی حکومت کے بہت سے سرکاری اور غير سرکاری اداروں کی جانب سے مالی، تکنيکی اور سازوسامان کی امداد ايک مسلسل عمل ہے جسے کا ميڈيا ميں شازونادر ہی ذکر کيا جاتا ہے۔

پچھلے کچھ دنوں کی چند مثاليں پيش ہيں۔

نومبر 3 کو امريکی قونصل خانے لاہور کے پرنسپل آفيسر برائن ڈی ہنٹ نے راجن پور کے علاقے کا دورہ کيا جہاں يو – ايس – ايڈ کے ادارے کی جانب سے 599،390 $ ڈالرز اور "ايکٹڈ" کی جانب سے 318،419 $ ڈالرز کی امداد دی گئ۔

http://www.keepandshare.com/doc/view.php?id=889611&da=y

نومبر 4 کو امريکی حکومت کی جانب سے بلوچستان کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی مدد کے ليے مزيد 5۔1 ملين ڈالرز کی امداد فراہم کی گئ۔ اس ضمن ميں دی جانے والی اب تک مجموعی امداد 5۔2 ملين ڈالرز ہے۔

http://www.keepandshare.com/doc/view.php?id=889612&da=y

نومبر 6 کو امريکی حکومت کی جانب سے بلوچستان کے متاثرہ علاقوں ميں شيلٹرز کی تعمير کے ليے سازوسامان فراہم کيا گيا جس سے قريب 26،500 افراد کی موسم سرما کی شدت سے بچنے میں مدد ہو گی۔

http://www.keepandshare.com/doc/view.php?id=889613&da=y

http://www.keepandshare.com/doc/view.php?id=889614&da=y


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
Page has moved
Fawad آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 02-12-08, 09:06 PM   #18
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 624
کمائي: 11,642
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شیخ ہمدان مراسلہ دیکھیں
فواد صاحب آپ کے کہنے کا مطلب یہ تو نہیں کہ امریکا تو سب کی بینڈ بجائے لیکن جب اس کے اپنے بینڈ بجائے جانے کی باری آئے تو وہ Pre-Emptive اسٹرائیک کا ڈرامہ کرنا شروع کردے؟

ميں آپ کی اس راۓ سے متفق نہيں ہوں کہ فاٹا ميں امريکہ کی فوجی کاروائ پری ايمٹوو سٹرائيک کے زمرے ميں آتی ہے۔ يہ مفروضہ اس حقيقت کی نفی کرتا ہے کہ دہشت گرد گروپ مسلسل پاکستانی معاشرے کے خلاف کاروائياں کر رہے ہيں۔ ميں آپ کو ياد دلانا چاہتا ہوں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز فاٹا میں فوجی کاروائ سے نہيں ہوا تھا۔ اس جنگ کا آغاز 911 کے واقعات سے بھی نہيں ہوا تھا۔ القائدہ نے قريب 10 سال پہلے امريکہ کے خلاف باقاعدہ جنگ کا اعلان کيا تھا جس کے بعد دنيا بھر ميں درجنوں امريکی املاک پر براہراست حملے کيے گۓ تھے۔

حقيقت يہ ہے کا امريکہ پر " پری ايمٹوو سٹرائيک" کی بجاۓ يہ الزام لگايا جا سکتا ہے کہ امريکہ نے القائدہ کے خلاف اس وقت زيادہ موثر کاروائ نہيں کی جب القائدہ اپنی تشکيل کے ابتدائ مراحل ميں تھی۔ يہ بات تاريخ سے ثابت ہے کہ اگر معاشرہ جرائم پيشہ عناصر کی مناسب سرکوبی نہ کرے تو اس سے جرم کے پھيلنے کے عمل کو مزيد تقويت ملتی ہے۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
America - Telling America's Story - America.gov
Fawad آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 05-12-08, 08:40 PM   #19
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 624
کمائي: 11,642
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شیخ ہمدان مراسلہ دیکھیں
(گیارہ ستمبر کا حملہ گجرات کے واقعہ کے مقابلے میں معمولی ہے۔ لیکن اس کے باوجود جارج بش کا گجرات کے واقعے پر کہنا ہے کہ جن لوگوں کو گجرات کے قتل میں ملوث قرار دیا جا رہا ہے وہ دہشت گرد نہیں ہیں۔ صرف امریکا کو کوئی نقصان ہوتا ہے تو وہاں مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ گجرات کے واقعات میں اب تو یہ بھی ثابت ہوچکا ہے کہ وہاں کے وزیراعلیٰ نریندر مودی ملوث تھے۔
امريکی صدر بش کی جانب سے گجرات ميں مسلمانوں کے قتل عام کے واقعے کی مبينہ حمايت کے حوالے سے آپ کی راۓ حقائق کے منافی ہے۔

يہ درست ہے کہ گجرات کے چيف منسٹر نريندر مودی نے امريکہ منتقلی کے ليے سفارتی ويزہ کی درخواست دی تھی ليکن ان کی يہ درخواست گجرات کے واقعات ميں ان کے کردار کے سبب مارچ 21، 2005 کو امريکی اسٹيث ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے مسترد کر دی گئ۔ يہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ ان کا پہلے سے موجود ويزٹ ويزہ بھی منسوخ کر ديا گيا تھا جو کہ ايک انتہائ غير معمولی عمل تھا۔ امريکی اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ کی سرکاری ويب سائٹ کا يہ لنک اس کا ثبوت ہے۔

Issue of Gujarat Chief Minister Narendra Modi's Visa Status

اس خبر کو بھارتی ميڈيا نے بھی رپورٹ کيا تھا۔

http://timesofindia.indiatimes.com/a...43,curpg-1.cms

يہاں پر ميں يہ واضح کر دوں کہ گجرات ميں مسلمانوں کے قتل عام کی نہ توامريکی حکومت نے حمايت کی تھی اور نہ ہی اس کو نظرانداز کيا تھا۔ اس کے برعکس کانگريس کے بہت سے نامور ارکان کی جانب سے گجرات کے چيف منسٹر کے اقدامات کے خلاف باقاعدہ مہم چلائ گئ تھی۔

http://timesofindia.indiatimes.com/a...43,curpg-2.cms

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
America - Telling America's Story - America.gov
Fawad آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 09-12-08, 11:32 PM   #20
Senior Member
 
محمد الیاس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: چترال
مراسلات: 596
کمائي: 9,291
شکریہ: 189
350 مراسلہ میں 733 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد الیاس کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: دہشت گردی کیا ہے، کیا اس پر مسلمانوں کی اجارہ داری ہے؟ حصہ چہارم (آخری)

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شیخ ہمدان مراسلہ دیکھیں
(گزشتہ سے پیوستہ)

اسلام میں‌ اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ معصوم لوگوں کا قتل کیا جائے، اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ غلط ہے۔ اگر کوئی ایسے لوگوں کے ساتھ ہمدردی رکھتا ہے جو مخالفین کو قتل کرکے اسے جہاد کا نام دیتے ہیں تو یہ بھی غلط ہے۔ اسلام اس بات کی بالکل اجازت نہیں‌ دیتا۔ اسلام اخوت اور رواداری کا مذہب ہے جو ہمیں‌ صرف اور صرف معاف کرنا سکھاتا ہے کسی کو ذبح کرنا یا جہاد کے نام پر قتل کرنا نہیں۔ اسلام میں صحیح منزل کے حصول کے لیے غلط راستہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اگر کوئی مسلمان یہ کہتا ہے کہ اسامہ بن لادن امریکیوں کو سبق سکھا کر بہترین کام کر رہا ہے تو یہ بھی غلط ہے۔ دو غلط مل کر ایک صحیح نہیں بناسکتے۔ اگر کوئی مسلمانوں کو قتل کرتا ہے تو مسلمانوں یہ جواز پیش نہیں کرسکتے کہ ہمیں قتل کیا جا رہا ہے تو ہم اس کے خلاف جہاد کریں گے، یہ نہیں‌ ہوسکتا کیونکہ ایسا کرنا بدلے کے زمرے میں آتا ہے اور بدلہ لینا اسلام میں برا سمجھا جاتا ہے۔ اسلام ہمیشہ سبق دیتا ہے کہ اپنے حسن و اخلاق سے دوسرے کو مجبور کردو کہ وہ بغیر کسی زور زبردستی کے اسلام کے دائرے میں آنے کے لیے تیار ہوجائے۔ مثال کے طور پر ہندوئوں نے مسلمانوں کی بستی پر حملہ کردیا، دو ڈھائی سو بے گناہ افراد مارے گئے۔ پھر مسلمان اٹھے اور ہندوئوں‌ کے دو ڈھائی سو افراد کو مار دیا۔ یہ کیا ہے۔ یہ سب بدلہ ہے، ایک سچا مسلمان کبھی کسی معصوم کو نقصان نہیں پہنچائے گا، محض کچھ ہندوئوں کی وجہ سے ہونے والے حملے کی سزا کبھی دوسرے کو نہیں دے گا۔ اگر مسلمان ایسا کرنے لگا تو اس میں دوسروں میں کیا فرق رہ جائے گا۔ ایسا کرنے سے تبلیغ کے معنی ہی ختم ہوجاتے ہیں۔ مسلمانوں کی ایک ایسی غلط کارروائی سے کوئی بھی غیر مسلم اسلام کا مستقل دشمن بن سکتا ہے۔

گجرات کے واقعات میں اب تو یہ بھی ثابت ہوچکا ہے کہ وہاں کے وزیراعلیٰ نریندر مودی ملوث تھے۔ سیاستدانوں نے گجرات ہائی کورٹ پر اتنا دبائو‌ ڈالا تھا کہ وہ بھی کچھ نہ کرپائی۔ اس کی بے بسی دیکھ کر بھارتی سپریم کورٹ نے ریمارک دیا تھا کہ گجرات ہائی کورٹ‌ نے جانبدارانہ کارروائی کی اور ہائیکورٹ نے جو فیصلہ سنایا وہ غلط تھا۔ سب سیاستدانوں کا کیا دھرا ہے۔

دہشت گردی کے مسئلے کا حل:

2۔ سیاستدانوں کو نہیں چاہئے کہ وہ معصوم اور غیر تعلیم یافتہ لوگوں کو دوسرے معصوم انسانوں کے قتل کے لیے بھڑکائیں۔
4۔ لوگوں کو قانون اپنے ہاتھوں میں نہیں لینا چاہئے۔ چاہے مخالفین کا تعلق کسی بھی کمیونٹی سے کیوں نہ ہو، قانون کو اپنا کام کرنے دیا جائے اور لوگوں کو اپنا کام کرنا چاہئے۔ اپنے طور پر کسی کے خلاف بھی کارروائی سے بدلے کا جذبہ بیدار ہوتا ہے جس کی اسلام میں ممانعت ہے۔ لوگوں کو منصفانہ اور غیر جانبدارانہ رویہ اختیار کرنا چاہئے اور مکمل طور پر اسلامی تعلیمات کی پیروی کرنی چاہئے۔

کسی بھی ملک کو بہتر انداز میں‌ چلانے کے لیے مذکورہ بالا چار پوائنٹس پر عمل درآمد انتہائی ضروری ہے اور اگر ان پر عمل درآمد کرانے کے لیے حضرت عمر علیۃ سلام جیسے ڈکٹیٹر کی ضرورت پڑے تو کم از کم مجھے کوئی احتراز نہیں کیونکہ اسلامی تاریخ میں ان سے زیادہ ایماندار کوئی حکمران آج تک سامنے نہیں آیا۔

تو دوستو میں اپنے اس طویل تھریڈ کو قرآن کریم کی اس آیت کے ساتھ ختم کروں گا:

وَقُلْ جَاء الْحَقُّ وَزَھَقَ الْبَاطِلُ ِانَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَھُوقًا

اآخر میں ڈاکٹر ایڈم پیئرسن کی ایک مشہور کہاوت:

People who worry that nuclear weaponry will one day fall in the hands of the Arabs, fail to realize that the Islamic bomb has been dropped already, it fell the day MUHAMMAD was born.
اسلام میں‌ اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ معصوم لوگوں کا قتل کیا جائے، یہ شیخ ہمدان ٹھیک کہہ رہا ہے اور آخر کے آیات قرآن کے ہیں شیخ ہمدان کے باقی نکات اسلام کے مطابق نہیں ہے۔ یہ مصر کے مشہور اسلامی دانشگاہ کے مدیر(پرنسپل) نے بھی تقریبا" ایسا ہی ایک مراسلہ انگریزی اخبار واشنگتونپوست میں لکھا تھا جس میں‌ اس نے جہاد کی نفی کی تھی کہ جہاد نام کی چیز کا نام جنگ نہیں ہے اور یہ جنگ اسلام میں‌ نہیں ہے۔ بس مذاکرات اور دلائل سے سب کچھ ہو جاتا ہے۔ تبصروں ‌میں خود فرنگیوں نے اس مدیر کا مذاق اڑایا تھا اور جہاد کے بارے میں اسلامی احکامات کا ترجمہ لکھا تھا۔ شیخ ہمدان نے آخر میں عمر رض کا حوالہ بھی دیا ہے جبکہ ان کو شائد معلوم ہو کہ عمر رض کے دور میں ‌ہی سب سے زیادہ فتوحات ہوئی ہیں۔ شیخ ہمدان اسلام بودھ مت نہیں ہے کہ تمکو چاہے کوئی کچھ نقصان پہنچائے بس رحم ہی کرتے رہو یعنی بے غیرتی کا اوڑھنا اوڑھو۔ اسلام کہتا ہے کہ کوئی تم کو قتل کرے تو تم بھی برابر کا جواب دو 'الرجل بالرجل' شائد عربی زبان ہی ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ آجکل کے ان عرب حکمرانوں سے امریکہ یا دنیا مرعوب نہیں ہے۔ انکی حالت اور تعیّش دنیا کو معلوم ہے۔ انکی حفاظت کا ذمّہ بھی امریکا نے ہی ایسے ہی اُٹھایا ہے جیسے اسرائیل کا۔ ہاں‌ آپ نے اسلام کی تبلیغ کی بات کی ہے جو کہ ایک عظیم بیڑا ہے جو مسلمانوں‌نے اُٹھایا ہے اور اس کا بھی سب سے بڑا ذریعہ جہاد ہی ہے۔ اگر وقت جہاد کا ہو تو تمام عبادات کی حیثیت ثانوی ہو جاتی ہے۔ آپ نے مسلمانوں کے قتل کو دل میں اگر بُرا سمجھا ہے تو بھی بہت ہے اور یہ ایمان کا کمزور تر درجہ ہے۔
آپ نے کن کن دلیلوں سے امریکہ کو قائل کیا ہے کہ وہ عراق سے واپس جا رہا ہے۔ اگر کچھ کیا ہے تو وہی دلائل افغانستان میں بھی استعمال کیجئے کیونکہ ہم ان فرنگیوں سے کافی تنگ آچکے ہیں۔
محمد الیاس آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
محمد الیاس کا شکریہ ادا کیا گیا
سحر (16-04-09)
پرانا 09-12-08, 11:48 PM   #21
Senior Member
 
محمد الیاس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: چترال
مراسلات: 596
کمائي: 9,291
شکریہ: 189
350 مراسلہ میں 733 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد الیاس کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: دہشت گردی کیا ہے، کیا اس پر مسلمانوں کی اجارہ داری ہے؟ حصہ چہارم (آخری)

حضرت عمر رض مطلق العنان(ڈیکٹیٹر) نہیں تھے جیسا کہ انہوں نے لکھا ہے بلکہ ہر کام شورٰی کے فیصلے کے مطابق کرتے تھے۔ ہاں یہ بات درست ہے کہ سخت گیر تھے اور اسلامی جمہوریّت یا کوئی بھی حکومت اسی وقت درست چل سکتی ہے جب حکمران سخت گیر ہو اور اپنی بات پر ثابت قدمی سے قائم ہو ۔ فیصلہ کرنے کے بعد یا پہلے ہر ایک کے ورغلانے میں‌ آنے والا یا دھمکی سے ہی حواس کھونے والا بھلا کیسے کامیاب حکمران ہو سکتا ہے۔ رعایا پر اس وقت ہی ظلم ہوتا ہے جب اس کا حکمران نرم ہو یعنی مجرموں کو قرار واقعی یا سخت سزا نہ دینے والا ہو ۔ اسی سے لوگ ایک دوسرے کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونے پر مجبور ہو جاتے ہیں کیونکہ انکو ظالموں سے خود پھر نپٹنا پڑتا ہے جو مغربی جمہوریّت کا ایک اہم جزو ہے اور اس نام پر انکی سیاست قائم رہتی ہے۔
محمد الیاس آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
color, ہندو, کورٹ, کارگل, کتابوں, کراچی, گانے, پولیس, پاک, پاکستان, پاکستانی, پسند, ڈکشنری, ویب, واقعات, واشنگٹن, وزیراعظم, قرآن, قصہ, لوگ, لندن, نیوز, چین, نیند, نوکری, نظر, مکمل, مقابلہ, منصوبہ, مسائل, مسجد, معلوم, آج, آدمی, اقوام متحدہ, انٹرنیٹ, انعام, احتجاج, اسلام, اسلامی, اسلامی تاریخ, بہترین, بھائی, بے نظیر, بچوں, بم دھماکا, تلاش, ترک, تعلیم, جواب, حل, حسن, خون, خواتین, خوش, خلاف, خبر, دھماکہ, دوست, راستہ, سفر, سپریم, سیاست, سال, سری لنکا, شکاگو, علاج, عزت, صحیح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
بسوں، ویگنوں ، ٹرکوں اور رکشوں پر لکھی گئی شاعری, مصوری اور نثر نگاری ڈاکٹرنور گپ شپ 35 01-01-11 12:05 PM
ہاکی کے ”گلابوں “ کا پیر محل میں منوں پھولوں سے استقبال جاویداسد خبریں 1 20-12-10 07:51 PM
:::‌ محراب پور ٹرین حادثہ،ہلاکتیں سیکڑوں تک پہنچنے کا خدشہ،ہزاروں مسافر ٹرینوں میں محصور،کھانا پانی ختم ::: ابو کاشان خبریں 0 24-12-07 12:01 AM
نواز شر یف کے کاغذات ِ نامزدگی بھی مسترد،پی سی او ججوں کو مانتا ہوں نہ اپیل کر وں گا،سر براہ مسلم لیگ(ن) چاچا کمال خبریں 0 04-12-07 12:50 PM
نواز شر یف کے کاغذات ِ نامزدگی بھی مسترد،پی سی او ججوں کو مانتا ہوں نہ اپیل کر وں گا،سر براہ مسلم لیگ(ن) عبدالقدوس خبریں 0 04-12-07 10:12 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:07 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger