| سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| 12 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا | bas_tera_intazar (02-02-09), shafresha (03-09-09), وجدان (08-07-08), نیلم خان (31-08-09), موجو (30-07-09), ملک بھائی (01-09-09), yashaka (06-05-09), ابن جلال (07-01-09), رضی (10-06-09), شاہد جمیل حفیظ (10-10-08), طارق راحیل (30-05-10), عُکاشہ (01-07-08) |
|
|
#226 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,495
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,765 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اور رونا تو یہ ہی ہے کہ ہمارے سیاستدان لوٹے ہیں لیکن ان لوٹوں نے اگر اجازت دے دی تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ امریکہ کو ہر قسم کی اجازت مل گئی ہم امریکہ کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ اپنی من مانی کریں۔ اور ایک بات یاد رکھیں مجھے امریکہ سے نفرت ہے نفرت ہے نفرت ہے امریکہ ، بھارت اور اسرائیل کے ہمارے دشمن ہیں اور ہم ان کا منہ توڑیں گے انشاءاللہ آپ جتنا مرضی پروٹیکٹ کرتے رہیں۔ میں آپ کو بتا دوں میں اس ملک کے بارے میں پاگل ہوں اور بہت سے پاگل ہیں امریکہ ان پاگلوں کے ہوتے ہوئے پاکستان میں اپنے مفادات مکمل طور پر حاصل نہیں کر سکے گا یاد رکھیں
__________________
![]() اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ تر خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
|
|
|
|
|
|
|
#227 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 624
کمائي: 11,642
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جو دوست اس مفروضے پر يقين رکھتے ہیں کہ سی – آئ – اے يا امريکی حکومت پاکستان ميں بے يقينی اور افراتفری کی فضا قائم کرنے کی خواہش مند ہے، ان سے گزارش ہے کہ وہ اعداد وشمار اور جاری منصوبوں پر نظر ڈاليں جو اس وقت بے شمار امريکی نجی اور سرکاری تنظيموں کے توسط سے جاری ہيں۔ مختلف سطحوں پر جاری يہ تعاون اور کاوشيں دونوں ممالک کے مابين تعلقات کی نوعيت کو اجاگر کر تی ہيں۔ گزشتہ چند ہفتوں کے حوالے سے يہ خبريں پيش ہيں جو عام طور پر ميڈيا اور ہر خبر ميں سازش کی بو سونگھ لينے والے دوستوں کی نظروں سے اوجھل رہتی ہيں۔ جولائ 21 2009 کو امريکی حکومت کی جانب سے 75 ملين ڈالرز کی لاگت سے ايک پانچ سالہ پروگرام کا لاہور ميں باقاعدہ افتتاح کيا گيا جس کا مقصد صوبہ پنجاب ميں اساتذہ کی مہارت اور ان کی قابليت ميں بہتری لانا ہے۔ پری سروس ٹيچر ايجوکيشن کے نام سے جاری يہ پروگرام يو – ايس – ايڈ اور پنجاب حکومت کے مابين باہمی تعاون اور کاوشوں کا نتيجہ ہے۔ يو – ايس – ايڈ نے قومی سطح پر ايک معاہدے پر بھی دستخط کيے ہيں جس کے توسط سے اسی طرز کے پروگرام دوسرے صوبوں ميں بھی شروع کيے جائيں گے۔ جولائ 24 2009 کو امريکی حکومت اور پنجاب ڈيپارٹمنٹ آف پبلک پراسيکوشن کے تعاون سے ايک ورک شاپ کا انعقاد کيا گيا جو 22 سے 24 جولائ تک جاری رہی۔ اس ورک شاپ کا مقصد وکلاء کی جانب سے عوامی سطح پر انصاف کی فراہمی کے نظام ميں بہتری اور پنجاب ڈيپارٹمنٹ آف پبلک پراسيکوشن کی معاونت کے لیے تجاويز اور مختلف منصوبوں کی منظوری دينا تھا۔ اپريل 2 2009 کو وزارت معيشت حکومت پاکستان اور امريکی حکومت کے مابين تعاون کے حوالے سے ايک مشترکہ اعلاميہ جاری ہوا۔ اس اعلاميے اور معاہدے کے نتيجے ميں یو – ايس – ايڈ نے 24 ملين ڈالرز کی لاگت سے 3 سالہ پروگرام کی منظوری دی ہے جس کے توسط سے بجلی کی پيداوار اور توانائ ميں اضافے کے حوالے سے منصوبے شروع کيے جائيں گے۔ يہ امر توجہ طلب ہے کہ جو تجزيہ نگار سازشی کہانيوں کی تشہير کرتے ہيں ان کے تمام دلائل اور نقطہ نظر جذباتيت، يک طرفہ اور غير منطقی تجزيوں يا محدود سوچ کی بنياد پر ہوتے ہیں۔ اعداد وشمار اور زمين پر موجود حقائق کو يکسر نظرانداز کر ديا جاتا ہے۔ جيسا کہ ميں نے بارہا اس فورم پر کہا ہے کہ امريکی حکومت اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے اور اس کو تسليم بھی کرتی ہے کہ خطے میں امريکی مقاصد اور مفادات کا تحفظ صرف اسی صورت ميں ممکن ہے جب پاکستان ميں مکمل استحکام ہو۔ امريکی حکومت کی جانب سے کئ بلين ڈالرز کی مالی امداد اور پورے ملک ميں جاری بے شمار منصوبوں کی تکميل کے لیے دی جانے والی تکنيکی اور مالی امداد اور تعاون امريکی حکومت کے اس عزم کو واضح کرتا ہے کہ امريکہ پاکستان کے استحکام اور ترقی کے حوالے سے ہر ممکن کوشش اور تعاون جاری رکھے گا۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov U.S. Department of State |
|
|
|
|
|
|
#228 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,495
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,765 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| رضی کا شکریہ ادا کیا گیا | فیصل ناصر (12-08-09) |
|
|
#229 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,407
کمائي: 85,613
شکریہ: 4,982
4,949 مراسلہ میں 11,251 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فواد بھائی کتنے پیسے مل رہیں ہیں آپکو جو امریکہ کی وکالت کر رہیں ہیں ۱۰۰ ڈالر تو مل ہی جاتے ہوں گے ہے نا
__________________
Life is a gift given to us by Allah.Death is a gift returned to Allah.
|
|
|
|
|
|
#230 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,044
کمائي: 75,187
شکریہ: 50,011
10,105 مراسلہ میں 31,952 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فواد صاحب لگتا ہے آپ "سوال گندم جواب چنا " والے محاورے سے واقف نہیں۔ اپنے سٹیٹ ڈپارٹمنٹ سے اس کا مطلب پوچھ لینا p:
|
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | رضی (11-08-09) |
|
|
#231 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 624
کمائي: 11,642
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
آپ کی اطلاع کے ليے عرض ہے کہ يو- ايس – اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ ميں کام کرنے کے ليے جو تنخواہ مجھے ملتی ہے وہ اس سے کہيں کم ہے جو مجھے امريکہ ميں کسی نجی کمپنی ميں کام کرنے کے عوض ملتی اور ميرے پاس اس کے مواقع موجود تھے ليکن ميں سمجھتا ہوں کہ ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم ميں کام کر کے مجھے اس بات کا موقع مل رہا ہے کہ ميں دوسرے فريق یعنی امريکہ کا نقطہ نظر بھی جان سکوں اور آپ کو اس سے آگاہ کر سکوں۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov U.S. Department of State |
|
|
|
|
| Fawad کا شکریہ ادا کیا گیا | ملک بھائی (01-09-09) |
|
|
#232 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,495
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,765 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#234 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 624
کمائي: 11,642
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
پاکستانی ميڈيا پر اس ضمن ميں پھيلائ جانے والی فرضی کہانياں اور الزامات حقائق پر مبنی نہيں ہیں۔ يہاں تک کہ دفتر خارجہ کے ترجمان عبدل باسط نے بھی واضح طور پر يہ بيان ديا ہے کہ اس خبر کے حوالے سے ميڈيا رپورٹس اور ان سے منسوب بيان بالکل بے بنياد ہے۔ ان کی ترديد آج کے جنگ اخبار ميں موجود ہے جو آپ اس ويب لنک پر پڑھ سکتے ہیں۔ http://img195.imageshack.us/img195/7...mage002muq.jpg خبر سے يہ بھی واضح ہے کہ دفتر خارجہ کو اسلام آباد ميں امريکی سفارت خانے ميں امريکی مرينز کی تعداد ميں اضافے کے ليے نا تو کوئ درخواست موصول ہوئ ہے اور نہ ہی کسی قسم کا کوئ اشارہ ملا ہے اسلام آباد ميں "ہزاروں مرينز" کے حوالے سے اب تک وضاحت اسلام آباد ميں امريکی ايمبسی کے پبلک افير سيکشن، پاکستان کی وزارت خارجہ اور اور اس ترجمان کی جانب سے بھی آ چکی ہے جس کے مبينہ بيان کو بنياد بنا کر يہ کہانی تخليق کی گئ تھی۔ جيسا کہ ميں نے پہلے بھی کہا تھا کہ اسلام آباد ميں امريکی سفارت خانے کی توسيع اور عملے ميں اضافہ کوئ خفيہ سازش نہيں بلکہ ايک کھلا اور واضح معاملہ ہے۔ اہم بات يہ ہے کہ پاکستان کی حدود کے اندر کن غير ملکی افراد کو رہنے اور کام کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے، اس کا اختيار اور ذمہ داری مکمل طور پر حکومت پاکستان پر عائد ہوتی ہے۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov U.S. Department of State |
|
|
|
|
|
|
#235 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 624
کمائي: 11,642
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ميں صرف اسی موقع پر اپنی راۓ کا اظہار کرتا ہوں جب ميرے پاس تحقيق شدہ حقائق اور ايسا سرکاری ريکارڈ ہوتا ہے جس کی جانچ پڑتال کی جا سکتی ہے۔ يہ طريقہ کار يقينی طور پر بغير کسی دستاويز، سرکاری بيان اور تحقيق سے عاری بے بنياد کہانی يا خبر پر تبصرے سے بہتر ہے۔ ليکن آپ کی نشاندہی اس بات کی جانب کروانا چاہوں گا کہ ميں نے اپنے موقف کی وضاحت کے لیے جن شواہد کی نشاندہی کی ہے وہ امريکی اہلکاروں کے ساتھ مراسلے، امريکی ميڈيا رپورٹ يا امريکی سرکاری دستاويز پر مبنی نہيں ہيں۔ اس کے برعکس ميں نے دانستہ روزنامہ ڈان، جنگ اخبار اور وزارت خارجہ کے ترجمان عبدل باسط کی جانب سے جاری کردہ ترديد کے حوالے ديے ہيں – يہ سارے پاکستانی ريفرنسز ہيں۔ سوال يہ ہے کہ ايک سرکاری اہلکار سے وابستہ مبينہ بيان کی بنياد پر تخليق کردہ بے بنياد کہانی کو تو اہميت دی جا رہی ہے ليکن اسی اخبار ميں اہلکار کی جانب سے شائع ہونے والا ترديدی بيان کوئ وقعت نہيں رکھتا؟ ريکارڈ کی درستگی کے لیے واضح کر دوں کہ اس وقت پاکستان ميں سفارت خانے اور وابستہ عمارات کی حفاطت کے ضمن ميں کل 20 امريکی مرينز اپنے فرائض انجام دے رہے ہيں۔ اس تعداد ميں سفارت خانے کی توسيع اور عملے ميں اضافے کے بعد معمولی سا اضافہ کيا جاۓ گا۔ اس کے علاوہ پاکستان ميں 250 امريکی شہری سفارت کاری کے مختلف شعبوں سے وابستہ ہيں جو 1000 سے زائد مقامی پاکستانی باشندوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov U.S. Department of State |
|
|
|
|
|
#236 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,777
کمائي: 45,250
شکریہ: 2,024
1,907 مراسلہ میں 6,371 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم،
جناب فواد صاحب قطع نظر اس کے کہ عملہ کی تعداد بڑھائی جارہی ہے کہ نہیں یہ بتائیں کہ کسی غیر ملکی سفارت خانے کا کام کیا ہوتا ہے؟ کیا غیر ملکی سفارتخانہ امداد دینے کے بعد اس کی تقسیم کا ذمہ دار بھی ہوتا ہے یا اس امداد کی ایڈمنسٹریشن بھی سفارتخانے کی ذمہ داریوں میں سے ایک ہے؟ کیا پاکستان میں روز امریکی ویزہ کا کام اتنا زیادہ ہو گیا ہے کہ امریکی سفارتخانہ میں کام زیادہ اور آدمی کم پڑ گئے ہیں؟ دراصل آپ نے سب کچھ تو بتانے کی کوشش کی لیکن اصل وجہ اس اضافے کی ابھی تک معلوم نہیں ہوسکی -- امریکی ویزے توپہلے کے مقابلے میں نا ہونے کے برابر ہیں - اور ایسے کون سے کام ہیں جس کے لیئے عملہ کم پڑ گیا ہے؟ والسلام طاہر |
|
|
|
| طاھر کا شکریہ ادا کیا گیا | فیصل ناصر (21-08-09) |
|
|
#237 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 624
کمائي: 11,642
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ميرے ليے يہ امر دلچسپی کا باعث ہے کہ آپ پاکستان ميں امريکی امداد کی درست ترسيل کے ضمن ميں کی جانے والی اضافی کاوشوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کر رہے ہيں۔ کيا يہ درست نہيں ہے کہ اسی فورم پر اکثر دوستوں نے ماضی ميں مجھ سے اس بات پر بحث کی ہے کہ مختلف ترقياتی منصوبوں کے ضمن ميں پاکستان کو دی جانے والی امداد بے وقعت اور نقصان دہ ہے کيونکہ مناسب انتظامی ڈھانچے اور نگرانی کی عدم موجودگی ميں امداد کا بڑا حصہ کرپشن اور اقربا پروری کی نذر ہو جاتا ہے؟ ميرے خيال میں اس ضمن ميں اعتراض تنقید براۓ تنقيد کے ضمن ميں آتا ہے۔ ميں واضح کر دوں کہ سفارت خانے کا مقصد محض ويزوں کے اجراء يا مختلف منصوبوں کے ضمن ميں امريکی امدادی رقوم کی تقسيم اور نگرانی تک ہی محدود نہيں ہے۔ سفارت خانہ دراصل ايک مستقل سفارتی مشن ہوتا ہے جس کا مقصد دونوں ممالک کے مابين باہمی مفادات کے حصول کے ليے تعلقات استوار کرنا ہوتا ہے۔ امريکی اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ سے تعلق کی بنا پر مجھے يہ موقع ملتا ہے کہ ميں اسلام آباد ميں امريکی سفارت خانے کی روزمرہ کی سرگرميوں سے آگاہ رہتا ہوں۔ اس کی ايک مثال يہ جو مجھے کل ہی موصول ہوئ ہے۔ اگست 20 2009 کو امريکی سفارت خانے کے شعبہ امور عامہ کے قونصلر نے اسلام آباد ميں ايک تقريب ميں مارٹن لوتھر کنگ ريڈنگ روم کا افتتاح کيا۔ ایم کے ايل ريڈنگ روم امريکی ثقافت، معيشت، سياست، تاريخ اور فنون کے بارے ميں تازہ ترين اور مستند معلومات کے متلاشی لوگوں کو رہنمائ فراہم کرنے کا ذريعہ ہو گا۔ نيز يہ ريڈنگ کلب عوام کو حوالہ جاتی مواد، کتب، جرائد، ويڈيوز اور ڈی وی ڈيز فراہم کرنے کے علاوہ دستاويزی فلميں دکھانے کے لیے آڈيو ويژيول سہولتيں بھی فراہم کرے گا۔ ايم کے ايل ريڈنگ روم امريکی سفارت خانے کی طرف سے پاکستان ميں قائم کيا جانے والا تازہ ترين مرکز ہے۔ اس کے علاوہ ديگر مراکز جو لنکن کارنر کے نام سے موسوم ہيں۔ اسلام آباد، پشاور، کراچی اور مظفر آباد ميں قائم ہيں جبکہ حال ہی ميں فاطمہ جناح يونيورسٹی براۓ خواتين ميں سوسن بی انتھونی کے نام سے ايک دارالمطالعہ بھی منسوب کيا گيا ہے۔ http://img259.imageshack.us/img259/7...embassyope.jpg اسی طرح جون 25 2009 کو امريکی سفارت خانے کے توسط سے اسلام آباد کی علامہ اقبال اوپن يونيورسٹی ميں ايک تقريب ميں پاکستان کے سرکاری سکولوں کے لیے انگريزی زبان کے 600 تدريسی ڈيجيٹل پروگرام ديے گۓ۔ يہ ڈيجيٹل پروگرامز جو سی ڈی رومز پر مشتمل ہيں اسلام آباد ميں امريکی سفارت خانے کی جانب سے علامہ اقبال اوپن يونيورسٹی کو دی جانے والی 41 ہزار ڈالرز کی گرانٹ کا حصہ ہيں، چھٹی سے دسويں جماعت کے طالب علموں کے لیے تيار کيے گۓ ہیں اور پاکستان بھر کے لگ بھگ 1600 سرکاری سکولوں ميں استعمال کيے جائيں گے۔ يہ محض چند مثاليں ہیں۔ اسی طرح کے اقدامات اور منصوبے اس روزمرہ کی سفارتی کوششوں اور عمل کا حصہ ہيں جن کا مقصد دونوں ممالک کے مابين تعلقات کی خليج کو کم کرنا ہے۔ اقوام کے مابين تعلقات بہتر بنانے کے ضمن ميں سفارت خانے کے کردار کو صدر اوبامہ نے بھی رمضان شريف کے آغاز پر مسلمانوں کے نام اپنے پيغام ميں اجاگر کيا "گزشتہ دو ماہ کے دوران پوری دنيا کے مسلم اکثرتی ممالک ميں امريکی سفارت خانوں نے نہ صرف يہ کہ مقامی حکومتوں بلکہ عوام تک براہ راست رسائ حاصل کی ہے۔ ہميں اس ضمن ميں بڑے پيمانے پر آراء موصول ہوئ ہيں کہ کس طرح امريکہ لوگوں کی امنگوں کے مطابق اشتراک عمل کا حصہ بن سکتا ہے۔ ہم ہمہ تن گوش ہيں اور آپ ہی کی طرح ايسے مضبوط اقدامات پر اپنی توجہ مرکوز کيے ہوۓ ہيں جو وقت گزرنے کے ساتھ کارآمد ثابت ہوں گے" فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov U.S. Department of State |
|
|
|
|
|
|
#238 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,170
کمائي: 167,152
شکریہ: 9,674
7,365 مراسلہ میں 22,055 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اج ہی ایک نیا اسکینڈل پیش کیا گیا ہے جس میں بلیک واٹر اور سی آئی اے کا کانگریس سے چھپ کر ڈرون حملوں کا انکشاف کیا گیا ہے اس بارے میں بھی کوئی مصدقہ اطلاع ملے۔
نوٹ: فواد اپ جو اعدادوشمار پیش کرتے ہیں کیا ہی اچھا ہو کہ اگر اپ ہر ایک منصوبے کے اعدادوشمار ایک الگ موضوع شروع کرکے فراہم کیا کریں۔ کیونکہ اس سے اس منصوبے پر عوامی بحث اور منصوبے کی افادیت اور اس پر کس قدر عمل کیا گیا جیسی باتوں کا پتہ چلتا رہے گا۔ والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
|
|
#239 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 624
کمائي: 11,642
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
سی – آئ – اے کی کاروائيوں کےضمن ميں کانگريس کی مکمل آگاہی امريکہ ميں طرز حکومت اور آئين ميں درج قواعد کے عين مطابق ہے۔ ليکن اس کا يہ مطلب ہرگز نہيں ہے کہ اس ضمن ميں اسپيکر سميت کانگريس کے ارکان اپنی آزادانہ راۓ يا متضاد نقطہ نظر کا اظہار نہيں کر سکتے۔ بہرحال قريب 500 کے لگ بھگ افراد کانگريس ميں خدمات انجام دے رہے ہيں۔ کانگريس کے اراکين کی جانب سے يہ سوال، تحقيق اور تفتيش کرنا کہ آيا سی – آئ – اے نے قواعد و ضوابط کے مطابق اقدامات اٹھاۓ ہيں يا نہيں، ميرا نقطہ نظر ثابت کرتا ہے۔ ميں نے يہ کبھی دعوی نہيں کيا کہ امريکہ ميں نظام مکمل اور غلطيوں سے پاک ہے۔ ليکن کوئ بھی قانون سے بالاتر نہيں اور احتساب کا شفاف نظام موجود ہے۔ اس ميں کوئ شک نہيں کہ سوالات اٹھاۓ گۓ ہيں اور مختلف آراء کا اظہار بھی کيا گيا ہے۔ يہ ايک مسلسل عمل کا حصہ ہے جو اس بات کو يقينی بناتا ہے کہ تمام تر اقدامات قانون کے دائرے ميں رہ کر اٹھاۓ جائيں۔ ميں يہ بھی واضح کر دوں کہ سی – آئ – اے کی جانب سے کانگريس کو مکمل طور پر آگاہ کيا گيا تھا يا نہيں، اس وقت ايک شديد اور اہم بحث کا موضوع ہے اور اس ضمن ميں مزيد جاننے کی ضرورت ہے۔ Eyeblast.tv فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov U.S. Department of State |
|
|
|
|
|
|
#240 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,079
کمائي: 110,115
شکریہ: 12,550
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم فواد صاحب
حقیقت سے منہ نہیں موڑا جا سکتا کوئی کتنا ہی کیوں چھپائے ہمارے پاکستان میں رہنے والی عوام پہلے ہی بہت مشکل وقت میں ھے اور آپ کو یہاں ان کے ساتھ گفتگو کر کے کوئی تخریب کار نہیں ملے گا کیونکہ پاکستان میں رہنے والے باعزت لوگ ہیں، اور اپنے تھوڑے وقت میں ایک ذہنی رفریشمنٹ کے لئے یہاں اکٹھے ہوتے ہیں یہ لنک میں آپ کی ہی انفارمیشن ھے کہ آپ یہاں پر کیا ورک کر رہے ہیں آپ کا لکھا ہوا ہی ھے آپکی تصویر کے ساتھ ، اور آپ بھولے بھالے لوگوں کو سبز لائٹ دکھا رہے ہیں۔ آپ کی میٹھی میٹھی باتوں پر یقین کریں یا یہ جو رپورٹ سی این این دکھا رہا ھے اس پر کہ آپ ٹیرارسٹ دھونڈنے فارمز میں آئے ہوئے ہیں۔ والسلام
__________________
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, com, digital, email, fawad, fawwad, php, فورم, فورمز, فروخت, پیاسا, پاک, پاکستان, پسند, قواعد, لوگ, نظر, مکمل, موت, مقابلہ, منتقل, ممکن, اقوام متحدہ, امریکہ, بھائی, بچوں, تصویر, جھوٹ, جواب, حضرات, درخواست, ضوابط, صومالیہ, صبر |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| زندگی انسان کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں۔دم ھوا کی موج ھے رم کے سوا کچھ بھ نہیں ۔گل تبسم کہہ رھا تھا | عروج | شاعر مشرق علامہ اقبال | 9 | 15-05-11 01:07 PM |
| سپریم کورٹ کے حکم پر 2 رینٹل پاور کمپنیوں نے 24 گھنٹوں کے اندر سوا 2 ارب روپے بمع سود واپس کردئیے | گلاب خان | خبریں | 0 | 09-12-10 06:22 AM |
| اسلام آباد +سوات(مانیٹرنگ ڈیسک ) سوات میں پاکستانی فوج نے مقامی طالبان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے علاقے میں آپریشن شروع کر | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 13-11-07 10:06 AM |