| سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| 12 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا | bas_tera_intazar (02-02-09), shafresha (03-09-09), وجدان (08-07-08), نیلم خان (31-08-09), موجو (30-07-09), ملک بھائی (01-09-09), yashaka (06-05-09), ابن جلال (07-01-09), رضی (10-06-09), شاہد جمیل حفیظ (10-10-08), طارق راحیل (30-05-10), عُکاشہ (01-07-08) |
|
|
#196 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,777
کمائي: 45,250
شکریہ: 2,024
1,907 مراسلہ میں 6,371 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فواد صاحب - السلام علیکم،
کیا اس خبر کی صداقت پر آپ کا ڈپارٹمنٹ کچھ کہہ سکتا ہے؟ Karzai: Afghanistan to review criticized sharia law - CNN.com والسلام طاہر |
|
|
|
|
|
#197 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 624
کمائي: 11,642
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جہاں امريکہ کے ايسے ممالک سے روابط رہے ہيں جہاں آمريت ہے، وہاں ايسے بھی بہت سے ممالک ہيں جہاں جمہوريت يا اور کوئ اور نظام حکومت ہے۔ طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد افغانستان نے خواتين کے حقوق کے ضمن ميں اہم اور مثبت پيش رفت کی ہے جس ميں خواتين کی بڑے پيمانے پر تعليم تک رسائ اور سياسی سطح پر، خاص طور پر پارليمنٹ اور صوبائ کونسلز ميں شموليت قابل ذکر ہے۔ کسی بھی معاشرے ميں امن، خوشحالی اور جمہوری اقدار کی کاميابی کا پيمانہ اس معاشرے ميں خواتين کو ديے جانے والے حقوق اور مواقع سے مشروط ہوتا ہے۔ ايک جمہوری افغانستان کے دوست اور شراکت دار کی حيثيت سے امريکہ کو اس قانون کے حوالے سے تحفظات ہيں اور انھی تحفظات کی عکاسی صدر اوبامہ کے بيان سے ہوتی ہے جس کا حوالہ آپ نے ديا ہے۔ ہم سب طالبان کے دور حکومت ميں خواتين پر ڈھاۓ جانے والے مظالم سے بخوبی واقف ہيں۔ امريکہ اپنے عالمی شراکت داروں کے ساتھ افغان عوام بشمول عورتوں اور مردوں کے بنيادی اور مساوی انسانی اور جمہوری حقوق کی بحالی کے ضمن ميں سنجيدہ ہے۔ اور اس ضمن ميں امريکی حکومت افغانستان کی ترقی اور طالبان دور کے سياہ باب سے دوری کے حوالے سے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کو تيار ہے۔ ليکن يہ امر قابل توجہ ہے کہ افغان عوام کی زندگيوں کو بہتر بنانے کے ليے قانون سازی کے عمل کا حتمی اختيار ايک منتخب جمہوری حکومت کے پاس ہے اور يہ ذمہ داری اس ملک کے سياسی قائدين اور عوام کی ہے اور کوئ بيرونی طاقت اس ضمن ميں فيصلہ کن کردار نہيں ادا کر سکتی۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov U.S. Department of State |
|
|
|
|
|
|
#198 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,777
کمائي: 45,250
شکریہ: 2,024
1,907 مراسلہ میں 6,371 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
آپ کا شکریہ کے آپ نے حسب روایت تفصیلی روشنی ڈالی اور یہ واضح کر دیا کہ یہ واقعی امریکی حکومت کا بیان ہے۔ آج کل ہر کام کی ذمہ داری طالبان پر عائد ہے، یہ مانتا ہوں کیوں کہ یہی ایک ہاٹ ایشو بنایا گیا ہے۔ اس خصوصی قانون جس کی اس خبر میں بات کی گئی ہے اور جسے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، کیا یہ اسلام اور مسلمانوں کے ذاتی معاملات میں رخنہ اندازی نہیں؟ قانونی میاں بیوی کے مابین تعلقات کو اسلامی طریقہ کار سے نبھانے میں، امریکہ بہادر کو کیا خدشات لاحق ہیں؟ مغربی ممالک کو اسلامی شریعہ قوانین میںدخل دینے کا حق کس نے دیا؟ کیا کبھی کسی مسلم حکومتوں نے کہا کہ بھئی امریکہ میںعورت اور مرد بغیر شادی کے رہتے ہیں اور اسی طرح وہ ناجائز اولاد پیدا کرتے ہیں، یہ غلط ہے؟ بھئ یہ آپ کا ذاتی معاملہ ہے، آپ اپنے مذہب اور قانون کی روشنی میں جو چاہے کریں۔ لیکن دوسرے کے مذہبی معاملات میں دخل اندازی کہاںتک درست ہے؟ کیا افغانستان کی تمام عورتوںنے امریکہ سے شکایت لگائی ہے کہ اس قانون سے ہمیں بچاؤ؟ یہ ایک نئی اسٹراٹیجی لگتی ہے کہ اب امریکہ ڈائریکٹ اسلام اور اسلامی قوانین پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے اور یہ اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ویسے - آپ کی بحیثیت مسلمان خاص طور پر اس قانون کے بارے میں کیا رائے ہے؟ والسلام، طاہر |
|
|
|
|
|
|
#199 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,966
کمائي: 276,735
شکریہ: 33,203
12,657 مراسلہ میں 36,994 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
![]() ![]() منتخب جمہوری حکومت جسکی عملداری ایوان صدر تک محدود ہے Last edited by فیصل ناصر; 07-04-09 at 01:34 AM. |
|
|
|
|
|
|
#200 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,966
کمائي: 276,735
شکریہ: 33,203
12,657 مراسلہ میں 36,994 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#201 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 624
کمائي: 11,642
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جيسا کہ ميں نے اپنی پچھلی پوسٹ ميں واضح کيا تھا کہ يہ ذمہ داری ہر ملک کی اپنی حکومت اور ان کے منتخب نمايندوں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ايسے قوانين مرتب کريں جو اس ملک کے شہريوں کے حقوق کے تحفظ کے ضامن ہوں۔ اسی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے انھيں منتخب کيا جاتا ہے۔ امريکی حکومت دنيا بھر کے ممالک ميں اسلامی قوانين کے خاتمے کے مشن پر نہيں ہے۔ اس ضمن میں آپ کو سعودی عرب کی مثال دوں گا جہاں قانونی سازی کے عمل ميں وسيع بنيادوں پر اسلامی قوانين کا اطلاق کيا جاتا ہے۔ يہ درست ہے کہ امريکہ بہت سے قوانين اور روايات سے متفق نہيں ليکن اس کے باوجود سعودی عرب کے عوام اور ان کی حکومت سے امريکہ کے ديرينيہ تعلقات ہيں جو کئ دہائيوں پر محيط ہيں۔ اس وقت دنيا ميں قريب 50 سے زائد اسلامک ممالک ہيں اور ان ميں سے زيادہ تر ممالک سے امريکہ کے باہم احترام کے اصولوں کی بنياد پر دوستانہ تعلقات ہيں۔ ميں يہ بھی واضح کر دوں کہ ايسے کئ غير مسلم ممالک بھی ہیں جہاں پر کچھ روايات اور قوانين امريکی معاشرے کے اصولوں سے مطابقت نہيں رکھتے ليکن اس کا يہ مطلب ہرگز نہيں ہے کہ امريکہ ان ممالک سے سفارتی تعلقات استوار کرنے سے پہلے ان قوانين کو تبديل کرے۔ جہاں تک افغانستان ميں متعارف کرواۓ جانے والے نۓ قانون کا سوال ہے تو ميں يہ واضح کر دوں کہ اس حوالے سے تحفظات کا اظہار محض امريکہ کی جانب سے نہيں کيا گيا بلکہ کئ ديگر ممالک، نجی تنظيموں اور افغانستان کے اندر موجود کچھ گروپوں کی جانب سے بھی اس کے خلاف آواز بلند کی گئ ہے جن کا موقف يہ ہے کہ اس قانون سے عورتوں کے حقوق کو پامال کيا جاۓ گا اور اس کو متعارف کروانے کا مقصد محض چند گروپوں کی جانب سے مستقبل قريب ميں افغانستان کے صدارتی انتخابات کے ضمن ميں سياسی حمايت حاصل کرنا ہے۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov U.S. Department of State |
|
|
|
|
|
|
#202 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,777
کمائي: 45,250
شکریہ: 2,024
1,907 مراسلہ میں 6,371 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
سعودی عرب سے کیا امریکی اپنے تعلقات خراب کر سکتے ہیں؟ کیا انہیں پیٹرول اور سرمایہ نہیں چاہیئے۔ اس بات کو تو رہنے ہی دیں۔ اقتباس:
والسلام طاہر |
||
|
|
|
|
|
#203 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 624
کمائي: 11,642
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
طالبان اور امريکہ کے مابين روابط، معاہدوں اور تعلقات کے حوالے سے جو بے شمار کہانياں اور قياس آرائياں کی جاتی ہيں اس ضمن میں کچھ دستاويزی حقائق آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ مجموعی طور پر امريکہ اور طالبان کے درميان 33 مواقعوں پر رابطہ ہوا ہے جس ميں سے 30 رابطے صدر کلنٹن کے دور ميں ہوۓ اور 3 رابطے صدر بش کے ۔ اس کے علاوہ طالبان کے ليڈر ملا عمر کی خواہش پر امريکی اہلکاروں کے ساتھ ان کا ايک براہراست رابطہ ٹيلی فون پر بھی ہوا۔ يہ ٹيلی فونک رابطہ 1998 ميں امريکہ کی جانب سے افغانستان ميں اسامہ بن لادن کے اڈوں پر ميزائل حملوں کے محض دو دنوں کے بعد ہوا تھا۔ يہ تمام روابط اور وہ تمام ايشوز جن پر بات چيت ہوئ ريکارڈ پر موجود ہيں۔ ميں ان ميں سے کچھ روابط کی تفصيل يہاں پوسٹ کر رہا ہوں جن سے اس تھيوری کی مکمل طور پر نفی ہو جاتی ہے کہ سی – آئ – اے يا امريکی حکومت کے مابين باہمی تعاون کے اصولوں کی بنياد پر کسی قسم کے تعلقات موجود تھے علاوہ ازيں امريکہ کا طالبان پر کوئ کنٹرول نہيں تھا۔ http://www.keepandshare.com/doc/view...d=1174871&da=y اگست 23 1998 کو امريکی اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ کی جانب سے ملا عمر کی اس درخواست پر يہ جواب بھيجا گيا تھا جس ميں ملا عمر نے امريکی حکومت سے اسامہ بن لادن کے خلاف ثبوت مانگا تھا۔ اس دستاويز ميں امريکی حکومت نے فوجی کاروائ کی توجيہہ، اسامہ بن لادن کے خلاف امريکی کيس اور ان وجوہات کی تفصيلات پيش کيں جس کی بنياد پر طالبان سے اسامہ بن لادن کو افغانستان سے نکالنے کا مطالبہ کيا گيا تھا۔ اس دستاويز ميں اس بات کی نشاندہی بھی کی گئ کہ اسامہ بن لادن کے نيٹ ورک نے امريکی جہاز تباہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ http://www.keepandshare.com/doc/view...d=1174875&da=y http://www.keepandshare.com/doc/view...d=1174878&da=y http://www.keepandshare.com/doc/view...d=1174876&da=y http://www.keepandshare.com/doc/view...d=1174877&da=y ان دستاويزات ميں ان تضادات کا ذکر موجود ہے جو طالبان کے جانب سے امريکی اہلکاروں کے ساتھ بيانات ميں واضح ہو رہے تھے۔ طالبان کا يہ دعوی تھا کہ ان کے 80 فيصد قائدين اور افغانوں کی اکثريت افغانستان ميں اسامہ بن لادن کی موجودگی کے مخالف تھی۔ ليکن اس کے باوجود طالبان کا يہ نقطہ نظر تھا کہ افغانستان اور مسلم ممالک ميں اسامہ بن لادن کی مقبوليت کے سبب اگر انھيں ملک سے نکالا گيا تو طالبان اپنی حکومت برقرار نہيں رکھ سکيں گے۔ ايک پاکستانی افسر نے پاکستان ميں امريکی سفير وليم ميلام کو بتايا کہ طالبان دہشت گرد اسامہ بن لادن سے جان چھڑانا چاہتے ہيں اور اس ضمن میں 3 آپشنز ان کے سامنے ہيں۔ اس افسر کا اصرار تھا کہ اس ميں آپشن نمبر 2 سب سے بہتر ہے جس کے توسط سے امريکہ اسامہ بن لادن کو طالبان سے ايک بڑی رقم کر عوض "خريد" لے۔ دستاويز کے مطابق طالبان کے مطابق اسامہ بن لادن کو نکالنے کی صورت ميں ان کی حکومت ختم ہو جاۓ گی کيونکہ پختون قبائلی روايت کے مطابق اگر کوئ پناہ مانگے تو اس کو پناہ دينا لازم ہے۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov U.S. Department of State |
|
|
|
|
|
|
#204 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,777
کمائي: 45,250
شکریہ: 2,024
1,907 مراسلہ میں 6,371 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم،
فواد صاحب -- شکریہ کافی ریسرچ کی ہے آپ نے۔ ابھی میں نے صرف پہلی دستاویز ہی پڑہی ہے - صرف یہ بتا دیں کہ 9/11 کے بارے میں امریکہ الزامات کس دستاویز میں ہیں جو کہ افغانستان پر حملے کی اصل وجہ تھا۔ کم از کم جارج بش نے اسی وجہ سے اسامہ بن لادن اور افغان طالبا ن کو نشانہ بنایا تھا۔۔۔۔ FBI Ten Most Wanted Fugitive - Usama Bin Laden کم از کم اس لنک میں تو 9/11 کا کوئی ذکر نہیں؟ والسلام طاہر |
|
|
|
|
|
#205 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 624
کمائي: 11,642
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اگر آپ امريکی اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ کو مطلوب دہشت گردوں کی سرکاری ويب سائٹ پر اسامہ بن لادن کے کوائف ديکھيں تو اس ميں يہ واضح طور پر درج ہے کہ "اسامہ بن لادن 11 ستمبر 2001 کو ورلڈ ٹريڈ سينٹر اور پينٹاگان پر حملوں کے ضمن ميں مطلوب ہيں" Rewards for Justice-Bin_Laden - english ميں آپ کو ياد دلا دوں کہ 11 ستمبر 2001 کے واقعے کے بعد طالبان حکومت سے پاکستان کے ذريعے دو ماہ تک مذاکرات کے ذريعے يہ مطالبہ کيا گيا کہ اسامہ بن لادن کو امريکی حکام کے حوالے کيا جاۓ تاکہ اس کے خلاف مقدمہ چلايا جا سکے۔ طالبان کے مسلسل انکار اور القائدہ کا ساتھ دينے کے بعد امريکہ نے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر کاروائ کا فيصلہ کيا گيا۔ يہ بھی ياد رہے کہ اسامہ بن لادن 911 کے واقعات سے پہلے بھی امريکی حکومت کو مطلوب افراد کی لسٹ ميں شامل تھے۔ اگست 1998 ميں کينيا اور تنزانيہ ميں امريکی سفارت خانوں پر حملوں اور اس کے نتيجے ميں 225 افراد کی ہلاکت اور 4000 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کے واقعات ميں اسامہ بن لادن امريکی حکومت کو مطلوب تھے۔ اکتوبر 1999 ميں اقوام متحدہ کی جنب سے منظور کردہ قرداد نمبر 1267 ميں يہ واضح درج ہے کہ طالبان کی جانب سے اسامہ بن لادن کی پشت پناہی کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ طالبان کی حکومت سے اسامہ بن لادن کو حکام کے حوالے کرنے کا مطالبہ بھی اس قرارداد کا حصہ ہے۔ Security Council resolutions (1267 Sanctions Committee) يہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ اسامہ بن لادن صرف امريکہ ميں ہی نہيں بلکہ ديگر ممالک میں بھی مطلوب ہيں۔ مثال کے طور پر مارچ 16 1998 کو ليبيا نے اسامہ بن لادن کے خلاف مارچ 10 1994 کو در جرمن باشندوں کو قتل کرنے کے جرم ميں پہلا انٹرنيشنل انٹرپول وارنٹ جاری کيا تھا۔ اسامہ بن لادن آج بھی ليبيا کی حکومت کو مطلوب ہيں۔ ميں نے اس تھریڈ پر جو دستاويزات پوسٹ کی ہيں اگر آپ ان کا مطالعہ کريں تو يہ حقیقت واضح ہو جاۓ گی کہ طالبان کے قائدين نے بھی اس حقیقت کو کبھی نہيں جھٹلايا کہ اسامہ بن لادن ہزاروں بے گناہ شہريوں کے قتل ميں ملوث رہے ہیں۔ اسامہ بن لادن کی گرفتاری کے ضمن ميں سرکاری دستاويزات نہ صرف امريکہ بلکہ اقوام متحدہ کی جانب سے 90 کی دہائ سے ريکارڈ پر موجود ہيں۔ طالبان مزيد کتنے قتل، سرکاری دستاويزات، رپورٹس، درخواستوں، قراردادوں اور وفود کے بعد اسامہ بن لادن کے خلاف عملی کاروائ کرتے؟ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov U.S. Department of State |
|
|
|
|
|
|
#206 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,777
کمائي: 45,250
شکریہ: 2,024
1,907 مراسلہ میں 6,371 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کیا آپ کی اس تشریح سے میںیہ سمجھ لوں کہ 9/11 کا اسامہ کی گرفتاری سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی افغانستان پر چڑھائی اس ضمرمیں آتی ہے۔ کیونکہ اسامہ پہلے ہی امریکہ کو دوسرے جرائم میں مطلوب تھا اور افغانستان پر حملہ بھی انہی الزامات کی روشنی میں طالبان اور اسامہ کو سبق سکھانے کے لیئے کیا گیا؟ والسلام طاہر |
|
|
|
|
|
|
#207 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 624
کمائي: 11,642
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
امريکی حکومت نے ہميشہ اسامہ بن لادن کو 911 کے حادثے کے ضمن ميں ايک منصوبہ ساز کی حیثيت سے مورد الزام ٹھہرايا ہے۔ يہ فيصلہ کسی قياس يا محض اندازے کی بنياد پرنہيں تھا۔ اسامہ بن لادن نے امريکہ کے خلاف باقاعدہ جنگ کا آغاز کر رکھا تھا اور پوری دنيا ميں امريکيوں کو نشانہ بنايا جا رہا تھا۔ يہ بھی ياد رہے کہ اسامہ بن لادن نے بذات خود بھی 911 کے حادثے ميں اپنے رول کو تسليم کيا ہے۔ جيسا کہ ميں نے حکومتی دستاويزات کے ذريعے ثابت کيا تھا کہ 911 کے واقعے سے پہلے ہی اقوام متحدہ کی سيکورٹی کونسل کی قرارداد اور عالمی وارنٹ گرفتاری ريکارڈ پر موجود ہے۔ يہاں ميں آپ کو ايک اور دستاويز کا لنک دے رہا ہوں جو امريکی حکومت اور طالبان کے مابين اسامہ بن لادن کے حوالے سے ہونے والے روابط کو مزيد واضح کرے گا۔ http://www.keepandshare.com/doc/view...d=1195115&da=y ستمبر 11 2001 کا واقعہ وہ نقطہ تھا جس پر تمام مذاکرات، مطالبات، قراردادوں اور رپورٹس کا سلسلہ منقطع ہو گيا۔ يہ واضح ہو چکا تھا کہ دہشت گردی کو روکنے، بے گناہ انسانوں کو محفوظ رکھنے اور اسامہ بن لادن کو انصاف کے کٹہرے ميں لانے کے ليے فوجی کاروائ آخری آپشن ہے۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov U.S. Department of State |
|
|
|
|
|
|
#208 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,966
کمائي: 276,735
شکریہ: 33,203
12,657 مراسلہ میں 36,994 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپ ہی کی پلاننگ اور آپ ہی کی رپوٹ
ع بنے ہیں اہلِ ہوس مدعی بھی منصف بھی، کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں اسکے بارے میں کیا خیال ہے آپکا اسلام کو قابلٍ نفرت بنانے کی ایک سازش
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
| فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا | رضی (10-06-09) |
|
|
#209 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 624
کمائي: 11,642
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اس میں کوئ شک نہيں کہ جاويد چوہدری کے "عظيم سازشوں" کے ضمن ميں جذباتی کالم پڑھنے والوں کے ليے دلچسپی کا سامان پيدا کرتے ہیں۔ اس کالم ميں جن خيالات اور خدشات کا اظہار کيا گيا ہے ان کی تفصيل ميں جاۓ بغير ميں يہ باور کروانا چاہتا ہوں کہ سی – آئ – اے کی تشکيل 1947 ميں ہوئ تھی۔ اس حقیقت کی تصديق کئ غير جانب دار ذرائع سے کی جا سکتی ہے۔ Central Intelligence Agency - Wikipedia, the free encyclopedia سوال يہ ہے کہ اگر سی –آئ – اے کے وجود کو محض 60 سال کا قليل عرصہ ہی ہوا ہے تو امريکی حکومت اور اس کی انٹيلی ايجنس ايجنسی مسلمانوں کے مختلف مذہبی فرقوں کے مابين اختلافات کا موجب کيسے بن سکتے ہيں جو صديوں پرانے اور ماضی ميں مسلمانوں کے مابين کئ جنگوں کا سبب بن چکے ہیں۔ شايد اس کے بعد جاويد چوہدری يہ دعوی کريں گے کہ سی – آئ – اے کربلا کے ميدان ميں بھی موجود تھی۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov U.S. Department of State |
|
|
|
|
|
|
#210 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,777
کمائي: 45,250
شکریہ: 2,024
1,907 مراسلہ میں 6,371 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میرا خیال ہے کہ اب اس سلسلے کو ختم کر دینا ہی بہتر ہے، سلسلے سے مراد یہ مراسلہ ہے۔
جناب فواد صاحب - آپ کا شکریہ کہ آپ نے کافی کوشش کی لیکن، چوری کے کیس میںچور کی گواہی کی کوئی اہمیت نہیں۔ آپ کے الفاظ صرف امریکی حکومت کے ناقص جواز ہیں اور بس۔ حقیقت ظاہر ہے آپ کے سامنے بھی نہیں، کیوں کہ آپ کی حدود پالیسی بیانات تک محدود ہے۔ لیکن اس کے باوجود آپ کی کوششوںکا شکریہ۔ اب میں واقعی اس سے تھک گیا ہوں ![]() والسلام طاہر |
|
|
|
| طاھر کا شکریہ ادا کیا گیا | رضی (10-06-09) |
![]() |
| Tags |
| color, com, digital, email, fawad, fawwad, php, فورم, فورمز, فروخت, پیاسا, پاک, پاکستان, پسند, قواعد, لوگ, نظر, مکمل, موت, مقابلہ, منتقل, ممکن, اقوام متحدہ, امریکہ, بھائی, بچوں, تصویر, جھوٹ, جواب, حضرات, درخواست, ضوابط, صومالیہ, صبر |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| زندگی انسان کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں۔دم ھوا کی موج ھے رم کے سوا کچھ بھ نہیں ۔گل تبسم کہہ رھا تھا | عروج | شاعر مشرق علامہ اقبال | 9 | 15-05-11 01:07 PM |
| سپریم کورٹ کے حکم پر 2 رینٹل پاور کمپنیوں نے 24 گھنٹوں کے اندر سوا 2 ارب روپے بمع سود واپس کردئیے | گلاب خان | خبریں | 0 | 09-12-10 06:22 AM |
| اسلام آباد +سوات(مانیٹرنگ ڈیسک ) سوات میں پاکستانی فوج نے مقامی طالبان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے علاقے میں آپریشن شروع کر | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 13-11-07 10:06 AM |