واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


ایک سوال - Fawwad صاحب کی خدمت میں !

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 31-01-08, 02:47 PM  
Senior Member
 
طاھر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,777
کمائي: 45,250
شکریہ: 2,024
1,907 مراسلہ میں 6,371 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ایک سوال - Fawwad صاحب کی خدمت میں !

السلام علیکم !
جناب امید ہے کہ آپ بخیروعافیت ہوں گے۔
آپ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی باقاعدہ نمانندگی"لگتا تو ایسا ہی ہےٌ" کرتے ہیں امید ہے کہ آپ ہمارے پاکستانی عوام الناس کی اصلاح کے لیٰے New World Order اور American War on Terror پر کچھ تفصیل سے روشنی ڈال سکیں۔

صرف ایک آزاد صحافیانہ ریفرنس ضرور دیکھ لیجیٰے گا۔
video.google.com/videoplay?docid=-210088912352527308
Breaking The Silence - Truth and Lies in the War on Terror by
John Pilger John

شکریہ !

طاہر
__________________
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے سب ٹھکانوں کی
شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے
طاھر آف لائن ہے   Reply With Quote
12 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا
bas_tera_intazar (02-02-09), shafresha (03-09-09), وجدان (08-07-08), نیلم خان (31-08-09), موجو (30-07-09), ملک بھائی (01-09-09), yashaka (06-05-09), ابن جلال (07-01-09), رضی (10-06-09), شاہد جمیل حفیظ (10-10-08), طارق راحیل (30-05-10), عُکاشہ (01-07-08)
پرانا 22-01-09, 10:02 PM   #181
Senior Member
 
طاھر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,777
کمائي: 45,250
شکریہ: 2,024
1,907 مراسلہ میں 6,371 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Fawad - Digital Outreach Team US State Dept مراسلہ دیکھیں
بصد احترام ميں آپ سے درخواست کروں گا کہ آپ غزہ کے حوالے سے ميری کل کی پوسٹ دوبارہ پڑھيں۔ ميں نے کسی بھی موقع پر ان اقدامات کی حمايت نہيں کی جو بے گناہ انسانوں کی ہلاکت کا سبب بن رہے ہيں۔

اس کے برخلاف ميں نے اپنے موقف ميں يہ واضح کيا ہے کہ غزہ ميں خون ريزی کو مستقل بنيادوں پر روکنے کے ليے يہ ضروری ہے کہ تمام فريقين باہمی مذاکرات اور ڈائيلاگ کا راستہ اختيار کريں۔ حقيقت يہی ہے کہ فلسطين کے عوام کی خواہشات کی تکميل جنگ کے ذريعے نہيں بلکہ مذاکرات کے ذريعے ہی ممکن ہے۔

اگرچہ ميں نے اپنی کل کی پوسٹ ميں امريکہ کی جانب سے مغربی کنارے اور غزہ کے مکينوں کے ليے مہيا کی جانے والی مدد کا سرسری ذکر کيا تھا ليکن اس ضمن ميں امريکن ايڈ پروگرام کے تحت کچھ مزيد تفصيلات بھی ذيل ميں پيش ہيں جو ايک مضبوط فلسطينی رياست کے قيام کے عمل ميں امريکی حمايت کو اجاگر کرتی ہيں۔

اس وقت امريکہ باہمی اقتصاديات اور تعمير وترقی کے ضمن ميں فلسطين کو دی جانے والی امداد کے حوالے سے سرفہرست ملک ہے۔ سال 1994 سے اب تک يو –ايس –ايڈ کے تحت فلسطین کو 2 بلين ڈالرز کی امداد دی جا چکی ہے۔ سال 2008 ميں اقوام متحدہ کے ذيلی ادارے يو –اين – آر – ڈبليو – اے کی جانب سے مغربی کنارے اور غزہ کی مدد کے ليے کی جانے والی ايمرجنسی اپيل کے جواب ميں امريکی حکومت کی جانب سے 57 ملين ڈالرز کی امداد فراہم کی گئ۔ اس امداد کے توسط سے غزہ کے علاقے ميں قریب ايک ملين فلسطينی شہريوں اورمغربی کنارے ميں قريب 750،000 شہريوں کو امداد فراہم کی گئ۔ اس کے علاوہ امريکی حکومت کی جانب سے آئ – سی – آر – سی کو مغربی کنارے، غزہ اور لبنان کے ضمن ميں 34۔14 ملين ڈالرز کی امداد فراہم کی گئ جس کا بيشتر حصہ مغربی کنارے اور غزہ ميں امدادی کاروائيوں ميں استعمال ہوا۔

سال 2009 کے ليے امريکی حکومت نے يو –اين – آر – ڈبليو – اے کے ليے مجموعی طور پر 85 ملين ڈالرز کی منظوری دے دی ہے۔ جس ميں سے 25 ملين ڈالرز کی رقم غزہ اور مغربی کنارے کے ليے مختص ايمرجنسی فنڈ کے ليےہے جبکہ 60 ملين ڈالرز يو –اين – آر – ڈبليو – اے کے عمومی فنڈ کے ليے ہے۔

مجموعی طور پر يو –اين – آر – ڈبليو – اے کو امداد دينے والے ممالک ميں امريکہ سرفہرست ہے۔ سال 2008 ميں امريکی حکومت کی جانب سے يو –اين – آر – ڈبليو – اے کو 68۔184 ملين ڈالرز کی مجموعی امداد دی گئ جس ميں سے 87۔99 ملين ڈالرز جرنل فنڈ، 57 ملين ڈالرز غزہ اور مغربی کنارے کے ليے مختص ايمرجنسی فنڈ اور 8۔27 ملين ڈالرز کی رقم لبنان کے ليے مختض ايمرجنسی فنڈ کو فراہم کی جاۓ گی۔

يو – ايس – ايڈ نے ورلڈ فوڈ پروگرام کے اشتراک سے مغربی کنارے اور غزہ کے مکينوں کے ليے ايک تين سالہ پروگرام شروع کيا ہے جس کے تحت وہاں کے مکينوں کی غذائ ضروريات کی تکميل کے ليے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ اس وقت امريکی حکومت کی کاوششوں سے غزہ کے قريب 20000 مکينوں کو براہراست آٹا اور گھی سميت پانچ بنيادی غذائ اجناس ماہانہ فراہم کی جا رہی ہيں۔ قلسطين کے ليے مختص 34 ملين ڈالرز کی مجموعی امداد ميں سے 11 ملين ڈالرز کی امداد براہ راست غزہ کے مکينوں تک پہنچائ گئ ہے۔ يہ درست ہے کہ اس وقت غزہ ميں سيکورٹی کی صورت حال کے سبب غزا کی تقسيم کا عمل تعطل کا شکار ہے ليکن اس عمل کو بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

ميں يہاں پر امريکی حکومت کے اس موقف کا پھر اعادہ کروں گا کہ امريکہ اقوام متحدہ کی سيکورٹی کونسل کی قرارداد نمبر 1860 کی مکمل حمايت کرتا ہے جس کے تحت مستقل اور پائيدار جنگ بندی اور غزہ سے اسرائيلی افواج کے انخلاء کا مطالبہ کيا گيا ہے۔ اسی قرارداد ميں غزہ کے مکينوں کے ليے خوراک اور طبی امداد کی فراہمی کو يقينی بنانے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
America - Telling America's Story - America.gov
جناب فواد صاحب !

فلسطینی عوام اور خصوصاً غزہ کی امداد کے بارے میں تو آپ نے اپنا موقف پیش کر ہی دیا، اب تصویر کا دوسرا رخ‌بھی دکھا دیں یعنی امریکہ اسرائیل کی کتنی مدد کرتا ہے - مدد سے میری مراد جنگی اور دوسری امداد ہے۔ آپ کے جواب سے ہمیں یہ امریکی موقف کو سمجھنے میں زیادہ آسانی ہو گی۔

والسلام
طاہر
طاھر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
طاھر کا شکریہ ادا کیا گیا
ام غزل (09-03-09)
پرانا 22-01-09, 10:08 PM   #182
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
عمر: 29
مراسلات: 14,897
کمائي: 5,560,008,146
شکریہ: 12,384
6,493 مراسلہ میں 15,156 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: جواب: Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طاھرخلیل مراسلہ دیکھیں
جناب فواد صاحب !

فلسطینی عوام اور خصوصاً غزہ کی امداد کے بارے میں تو آپ نے اپنا موقف پیش کر ہی دیا، اب تصویر کا دوسرا رخ‌بھی دکھا دیں یعنی امریکہ اسرائیل کی کتنی مدد کرتا ہے - مدد سے میری مراد جنگی اور دوسری امداد ہے۔ آپ کے جواب سے ہمیں یہ امریکی موقف کو سمجھنے میں زیادہ آسانی ہو گی۔

والسلام
طاہر
جی بالکل درست کہا آپ نے
فواد صاحب آپ کے جواب کا انتظار رہے گا
محمدعدنان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 23-01-09, 05:25 PM   #183
Senior Member
 
طاھر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,777
کمائي: 45,250
شکریہ: 2,024
1,907 مراسلہ میں 6,371 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: ایک سوال - Fawwad صاحب کی خدمت میں !

السلام علیکم،

اسرائیل کو دی جانے والی امداد ملاحضہ کریں۔

Source >> Jewish Virtual Library - Homepage

اسکے علاوہ سن 2007 میں کئے گئے معاہدہ کے تحت امریکہ اسرائیل کو 30 بلین ڈالر 10 سال کیلیئے امداد کے طور پر دے گا جو کہ دفاعی مقاصد کیلیئے استعمال ہو گی۔ یاد دہے کہ امریکہ عرب ممالک جن میں سعودی عرب اور مصر شامل ہیں کل 20 بلین ڈالر کی فوجی امداد کا معاہدہ کرنے کا پلان بنایا تھا۔

فواد صاحب شاید اس پر بھی روشنی ڈال سکیں‌۔

والسلام
طاہر
Attached Files
File Type: pdf US.pdf (131.2 KB, 20 views)

Last edited by طاھر; 23-01-09 at 05:30 PM.
طاھر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 23-01-09, 08:01 PM   #184
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 624
کمائي: 11,642
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طاھرخلیل مراسلہ دیکھیں
جناب فواد صاحب !

فلسطینی عوام اور خصوصاً غزہ کی امداد کے بارے میں تو آپ نے اپنا موقف پیش کر ہی دیا، اب تصویر کا دوسرا رخ‌بھی دکھا دیں یعنی امریکہ اسرائیل کی کتنی مدد کرتا ہے - مدد سے میری مراد جنگی اور دوسری امداد ہے۔ آپ کے جواب سے ہمیں یہ امریکی موقف کو سمجھنے میں زیادہ آسانی ہو گی۔

والسلام
طاہر
اس ميں کوئ شک نہيں کہ امريکی حکومت اور امريکی عوام اسرائيل کو اپنا دوست سمجھتے ہيں اور عالمی برادری کی طرح اسرائيل کے وجود کو تسليم کرتے ہيں۔ اس حوالے سے ميں ايک وضاحت کر دوں کہ امريکہ ميں يہودی تنظيميں اور مختلف گروپ نظام کے اندر رہتے ہوۓ امريکی حکومت کے پاليسی ميکرز اور قانون کے ماہرين کو اپنے موقف سے آگاہ کرتے ہيں اور انہيں قائل کرنے کی کوشش کرتے ہيں۔ ليکن يہ کسی خفيہ سازشی عمل کا حصہ نہيں ہے۔ يہ آزادی تمام سماجی اور مذہبی تنظيميوں کو يکساں حاصل ہے۔ يہی امريکی جمہوری نظام کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ اور يہ کوئ ڈھکی چھپی بات نہيں ہے۔ پاکستانی میڈيا ميں اسی بات کو "یہودی لابی کی سازشيں" جيسے ليبل لگا کر ايک دوسرے انداز ميں پيش کيا جاتا ہے۔ يہ مفروضہ امريکی نظام سے ناواقف لوگوں ميں خاصہ مقبول ہے۔ 300 ملين کی آبادی والے ملک ميں کسی ايک گروہ کے ليے يہ ممکن نہيں ہے کہ وہ ہر فيصلے پر اثرانداز ہو – سياسی توازن کو برقرار رکھنے کے ليے اس امر کو يقينی بنايا جاتا ہے۔اہم بات يہ ہے کہ جن فورمز کو يہودی تنظيميں استعمال کرتی ہيں وہ عرب کے مسلمانوں سميت سب کو ميسر ہيں۔ يہ وہ نقطہ ہے جس پر بعض عرب ليڈر اور حماس جيسی تنظيميں اپنا رول ادا کرنے ميں ناکام رہی ہيں۔ ليکن ميں آپ کو بتاتا چلوں کہ پچھلے کچھ عرصے سے اس صورت حال ميں تبديلی آ رہی ہے۔ امريکہ ميں بہت سی ایسی مسلم اور عرب تنظيميں منظر عام پر آئ ہيں جو فلسطين کے مسلۓ کے حل کے ليے يہودی تنظيموں کی طرح اپنا رول ادا کر رہی ہيں۔ اور اس کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گۓ ہيں۔

ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم کے ممبر کی حيثيت سے ميں اسرائيل يا کسی اور ملک کے فوجی اقدامات کی توجيحات يا ان کی حمايت نہيں کروں گا۔

جہاں تک امريکہ کی جانب سے اسرائيل کو اسلحہ فراہم کرنے کا سوال ہے تو حقيقت يہ ہے کہ امريکہ دنيا کے بہت سے ممالک کی افواج کو اسلحے کے ساتھ ساتھ فوجی سازوسامان اور تربيت فراہم کرتا ہے۔ ان ميں اسرائيل کے علاوہ اسی خطے ميں لبنان، سعودی عرب اور شام سميت بہت سے ممالک شامل ہيں۔

اسی ضمن ميں آپ کو يہ بھی باور کروانا چاہتا ہوں کہ امريکی حکومت نے پاکستان اور بھارت، دونوں کو فوجی امداد کے علاوہ تعمير وترقی اور معاشی حوالے سے مستقل بنيادوں پر امداد فراہم کی ہے، باوجود اس کے کہ دونوں ممالک کے درميان کئ بار جنگيں ہو چکی ہيں۔ اس کا يہ مطلب ہرگز نہيں ہے کہ امريکہ دونوں ممالک ميں سے کسی ايک کو دوسرے پر فوقيت ديتا ہے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
America - Telling America's Story - America.gov
Fawad آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 23-01-09, 09:49 PM   #185
Senior Member
 
چاچا کمال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 47
مراسلات: 938
کمائي: 7,523
شکریہ: 36
189 مراسلہ میں 304 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: ایک سوال - Fawwad صاحب کی خدمت میں !

فضول بکواس ، یار یہ کر کے نہیں تھکتا اور اپ سن کر نہیں۔
چاچا کمال آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 29-01-09, 01:03 AM   #186
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 624
کمائي: 11,642
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
فواد صاحب کی ڈالی ہوئی روشنی امریکی سوچ کی شعاعیں لیے ہوتی ہے
محترم،

ميں کسی ايجنڈے پر کام نہيں کر رہا۔ آپ ديکھ سکتے ہيں کہ ميں اپنی ہر پوسٹ سے پہلے يہ واضح کرتا ہوں کہ ميرا تعلق يو – ايس – اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ سے ہے۔ اپنی راۓ کے اظہار کے ليے مجھے کچھ چھپانے کی ضرورت نہيں ہے۔

آپ اور ميں اچھی طرح سے جانتے ہيں کہ پاکستان ميں ہر سطح پر امريکہ کے خلاف انتہائ نفرت کے جذبات پاۓ جاتے ہيں ليکن يہ ميرا اپنا نقطہ نظر ہے کہ ہميشہ تصوير کے دو رخ ہوتے ہيں اور جب تک جذبات سے ہٹ کر دونوں فريقين کے نقطہ نظر کو نہ سمجھا جاۓ اس وقت تک کسی بھی معاملے کو سلجھايا نہيں جا سکتا۔ ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم کے ممبر کی حيثيت سے مجھے يہ موقع ملتا ہے کہ ميں مختلف فورمز پر اہم موضوعات کے حوالے سے اپنے ہم وطنوں کے الزامات، تحفظات اور انکی شکايات امريکی حکام تک پہنچاؤں اور ان کا موقف حاصل کر کے آپ کے سوالوں کا جواب دوں۔ مقصد آپ کو قائل کرنا نہيں بلکہ آپ کو دوسرے فريق کے نقطہ نظر سے آگاہ کرنا ہے تا کہ آپ حقائق کی روشنی ميں اپنی راۓ قائم کر سکيں


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
http://usinfo.state.gov
Fawad آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 02-03-09, 05:18 PM   #187
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,966
کمائي: 276,735
شکریہ: 33,203
12,657 مراسلہ میں 36,994 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: ایک سوال - Fawwad صاحب کی خدمت میں !

لیکن آپ حقائق کو سمجھنے کے بجائے توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں
اور بجائے اس کے کہ آپ پاکستان کی عوام کا نقطہ نظر سمجھ کر اپنی حکومت کو سمجھائیں آپ امریکی حکومت کی پالیسی کی حمایت میں ایسا جھوٹ پیش کرتے ہیں جو سب کے لئے ناقابل قبول ہوتا ہے
اب دنیا واقعی ایک گلوبل ویلیج ہے اب انفارمیشن کے ذرائع بہت حد تک گھر گھر پہنچے ہوئے ہیں حقیقت پر پالیسی بیان کا پردہ ڈالنا اب ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوگیا ہے
ایسے میں پاکستانی عوام کو بے وقوف سمجھنا اب اور ممکن نہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
ام غزل (09-03-09), رضی (06-03-09)
پرانا 02-03-09, 10:41 PM   #188
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 624
کمائي: 11,642
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
بجائے اس کے کہ آپ پاکستان کی عوام کا نقطہ نظر سمجھ کر اپنی حکومت کو سمجھائیں آپ امریکی حکومت کی پالیسی کی حمایت میں ایسا جھوٹ پیش کرتے ہیں جو سب کے لئے ناقابل قبول ہوتا ہے
ميں نے کبھی يہ دعوی نہيں کيا کہ امريکی حکومت اور انظاميہ کے اراکين عقل کل ہيں يا ہميشہ درست فيصلے کرتے ہيں۔ ميں نے اکثر اپنی پوسٹ ميں يہ بات کہی ہے کہ يقينی طور پر غلطياں سرزد ہوئ ہيں اور ايسے فيصلے بھی کيے گۓ ہيں جو وقت گزرنے کے ساتھ غلط ثابت ہوۓ ہيں۔

ميں صرف اس پس منظر، تاريخی حقائق اور تناظر کی وضاحت کرتا ہوں جن کی بنياد پر فيصلے کيے گۓ تھے اور پاليسياں مرتب کی گئيں۔ يہ نامکن ہے کہ غلطيوں سے پاک ايسی پاليسياں تشکيل دی جائيں جس سے دنيا کے سارے مسائل حل کيے جا سکيں۔ ايسا کرنا امريکہ سميت دنيا کی کسی بھی حکومت کے ليے ممکن نہيں ہے۔

ليکن ميں اس بنيادی سوچ اور نقظہ نظر سے اختلاف رکھتا ہوں جس کے تحت ہر واقعہ، بيان اور پاليسی کو سازش کی عينک سے ديکھا جاتا ہے۔ يہ سوچ فہم اور منطق کے منافی ہے۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
Fawad آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 05-03-09, 11:14 PM   #189
Senior Member
 
طاھر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,777
کمائي: 45,250
شکریہ: 2,024
1,907 مراسلہ میں 6,371 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Fawad - Digital Outreach Team US State Dept مراسلہ دیکھیں
ميں نے کبھی يہ دعوی نہيں کيا کہ امريکی حکومت اور انظاميہ کے اراکين عقل کل ہيں يا ہميشہ درست فيصلے کرتے ہيں۔ ميں نے اکثر اپنی پوسٹ ميں يہ بات کہی ہے کہ يقينی طور پر غلطياں سرزد ہوئ ہيں اور ايسے فيصلے بھی کيے گۓ ہيں جو وقت گزرنے کے ساتھ غلط ثابت ہوۓ ہيں۔

ميں صرف اس پس منظر، تاريخی حقائق اور تناظر کی وضاحت کرتا ہوں جن کی بنياد پر فيصلے کيے گۓ تھے اور پاليسياں مرتب کی گئيں۔ يہ نامکن ہے کہ غلطيوں سے پاک ايسی پاليسياں تشکيل دی جائيں جس سے دنيا کے سارے مسائل حل کيے جا سکيں۔ ايسا کرنا امريکہ سميت دنيا کی کسی بھی حکومت کے ليے ممکن نہيں ہے۔

ليکن ميں اس بنيادی سوچ اور نقظہ نظر سے اختلاف رکھتا ہوں جس کے تحت ہر واقعہ، بيان اور پاليسی کو سازش کی عينک سے ديکھا جاتا ہے۔ يہ سوچ فہم اور منطق کے منافی ہے۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
فواد صاحب !

مسئلہ یہ ہے کہ آپ امریکی نقطہ نظر کی وضاحت کررہے ہیں جو کہ تمام عالم اسلام کے خلاف ہے۔ اسے آپ صحیح مانیں یا نہیں حقیقت میں ایسا ہی ہے۔

امریکی مفادات ہمارے متصادم ہوتی ہیں - یہ بات بھی حقیقت ہے کہ امریکہ جن پالیسیز کو اسلامی دنیا میں لاگو کرنا چاہ رہا ہے وہ عوامی نہیں۔ مثال آپ کے سامنے ہے عراق ۔ امریکی طرز جمہوریت رائج کرنے کیلیئے کیا عراقی عوام نے امریکہ سے درخواست کی تھی۔ یہی حال ساری دنیا کا ہے۔ امریکہ اپنی طرز کی جمہوری حکومتیں ہر مسلم ملک پر مسلط کرنا چاہ رہا ہے جہاں‌اس کے کٹھ پتلی حکمران بغیر چوں چراں‌کیئے امریکی مفادات کی خاطر اپنے ہی عوام کا بیڑہ غرق کرنے پر راضی ہوں۔ پاکستان اس سلسلے کی سب سے اچھی مثال ہے۔

امداد وغیرہ تو وہ چارہ ہوتا ہے جو کہ ان حکمرانوں کو اپنے آپ اور اپنی قوم کو پیچنے کے عوض دیا جاتا ہے۔

ہم میں‌سے کوئی آپ کی کسی بات سے اتفاق نہیں کرتا کیوں کہ آپ کی ریسرچ آزاد ذرائع سے نہیں بلکہ صرف پروپیگینڈا ہے۔ آزاد میڈیا اس سے کہیں اوپر کی باتیں کرتا ہے جو کہ آپ کی محدود یا طئے کردہ استعداد سے باہر ہے۔

یہ مسلم دنیا کی بدنصیبی ہے کہ ہم نے علم کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا اور اس عمل جس کی ہمیں ہدایت کی گئ تھی اس بھی کنارہ کشی اختیار کر لی۔ جواباً، کم علم افراد اسی قسم کے افراد کو سربراہ چن سکتے ہیں جو کہ بکاؤمال ہیں۔ اس میں‌ امریکی کا زیادہ قصور نہیں۔

والسلام

طاہر
طاھر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
طاھر کا شکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر (05-03-09)
پرانا 05-03-09, 11:17 PM   #190
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,966
کمائي: 276,735
شکریہ: 33,203
12,657 مراسلہ میں 36,994 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: جواب: Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طاھرخلیل مراسلہ دیکھیں
فواد صاحب !

مسئلہ یہ ہے کہ آپ امریکی نقطہ نظر کی وضاحت کررہے ہیں جو کہ تمام عالم اسلام کے خلاف ہے۔ اسے آپ صحیح مانیں یا نہیں حقیقت میں ایسا ہی ہے۔

امریکی مفادات ہمارے متصادم ہوتی ہیں - یہ بات بھی حقیقت ہے کہ امریکہ جن پالیسیز کو اسلامی دنیا میں لاگو کرنا چاہ رہا ہے وہ عوامی نہیں۔ مثال آپ کے سامنے ہے عراق ۔ امریکی طرز جمہوریت رائج کرنے کیلیئے کیا عراقی عوام نے امریکہ سے درخواست کی تھی۔ یہی حال ساری دنیا کا ہے۔ امریکہ اپنی طرز کی جمہوری حکومتیں ہر مسلم ملک پر مسلط کرنا چاہ رہا ہے جہاں‌اس کے کٹھ پتلی حکمران بغیر چوں چراں‌کیئے امریکی مفادات کی خاطر اپنے ہی عوام کا بیڑہ غرق کرنے پر راضی ہوں۔ پاکستان اس سلسلے کی سب سے اچھی مثال ہے۔

امداد وغیرہ تو وہ چارہ ہوتا ہے جو کہ ان حکمرانوں کو اپنے آپ اور اپنی قوم کو پیچنے کے عوض دیا جاتا ہے۔

ہم میں‌سے کوئی آپ کی کسی بات سے اتفاق نہیں کرتا کیوں کہ آپ کی ریسرچ آزاد ذرائع سے نہیں بلکہ صرف پروپیگینڈا ہے۔ آزاد میڈیا اس سے کہیں اوپر کی باتیں کرتا ہے جو کہ آپ کی محدود یا طئے کردہ استعداد سے باہر ہے۔

یہ مسلم دنیا کی بدنصیبی ہے کہ ہم نے علم کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا اور اس عمل جس کی ہمیں ہدایت کی گئ تھی اس بھی کنارہ کشی اختیار کر لی۔ جواباً، کم علم افراد اسی قسم کے افراد کو سربراہ چن سکتے ہیں جو کہ بکاؤمال ہیں۔ اس میں‌ امریکی کا زیادہ قصور نہیں۔

والسلام

طاہر
I love U
فیصل ناصر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 06-03-09, 08:58 AM   #191
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,495
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,765 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Fawad - Digital Outreach Team US State Dept مراسلہ دیکھیں
مختلف اردو فورمز پر غزہ کی موجودہ صورت حال کے حوالے سے راۓ اور تجزيے پڑھنے کے بعد يہ واضح ہے کہ امريکی حکومت کی جانب سے غزہ کی موجودہ صورت حال کے خاتمے کے ضمن ميں کی جانے والی کوششوں اور حماس کے حوالے سے امريکی حکومت کے موقف اور پاليسی کے حوالے سے غلط فہمی اور ابہام پايا جاتا ہے۔

امريکی حکومت مغربی کنارے اور غزہ ميں ايک آزاد فلسطينی رياست کے قيام اور 1967 سے فلسطينی علاقوں پر اسرائيلی تسلط کے ضمن ميں فلسطينی عوام کے موقف کی مکمل حمايت کرتی ہے۔ امريکی حکومت اس مشکل گھڑی ميں غزہ کے عوام کے ساتھ ہے۔ اس ضمن ميں امريکی حکومت تمام متعلقہ فريقين سے مکمل رابطے ميں ہے اور ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ بے گناہ شہريوں کی حفاظت کو يقينی بنايا جاۓ اور غزہ کے عوام کی انسانی حقوق کی بنياد پر ہر ممکن مدد کی جاۓ۔

جہاں تک غزہ ميں حاليہ واقعات کا سوال ہے تو اس سلسلے ميں يہ واضح کر دوں کہ امريکی حکومت کی جانب سےعالمی برادری کے تعاون سے غزہ ميں پائيدار اور مستقل جنگ بندی کی ہر ممکن کوشش کی گئ ہے۔ امريکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 1860 کی مکمل حمايت کرتا ہے جس کی رو سے اسرائيلی افواج کو غزہ سے فوری انخلاء اور ديرپا جنگ بندی کا مطالبہ کيا گيا ہے۔ سلامتی کونسل کی اسی قرارداد ميں غزہ کے علاقے ميں خوراک اور ادويات کی فراہمی کو يقينی بنانے کی ضرورت پر بھی زور ديا گيا ہے۔

حماس کی جانب سے اسرائيل پر ميزائل حملوں کی غير ذمہ دارانہ پاليسی سے فلسطين کے عوام کے ليے کوئ مثبت مقاصد حاصل نہيں کيے جا سکے۔ اس ضمن ميں حماس کو ايسی دوررس پاليسی اختيار کرنا ہو گی جس کا فائدہ فلسطين کے عوام کو پہنچے۔

ہم نے متعدد بار امريکی حکومت کا يہ موقف دہرايا ہے کہ فلسطينی اور اسرائيلی عوام کی خواہشات کی تکميل پرامن مذاکرات اورباہمی رواداری سے ہی ممکن ہے۔ جيسا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 1850 ميں يہ واضح کيا گيا ہے کہ ديرپا امن کا حصول صرف اسی صورت ميں ممکن ہے جب دونوں فريقين ايک دوسرے کے وجود کو تسليم کر کے دہشت اور تشدد کی پاليسی ترک کرتے ہوۓ اسرائيل اور فلسطين کی عليحدہ رياستوں کے حل کو تسليم کريں۔ ايسا صرف اسی صورت ميں ممکن ہے جب دونوں فريقين کی جانب سے اس ضمن ميں ماضی ميں کيے جانے والے معاہدوں اور وعدوں پر عمل درآمد کو يقينی بنايا جاۓ۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
America - Telling America's Story - America.gov



بکواس کے سوا اور کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رضی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
رضی کا شکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر (06-03-09)
پرانا 07-03-09, 12:19 AM   #192
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 624
کمائي: 11,642
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طاھرخلیل مراسلہ دیکھیں
فواد صاحب !
امریکی مفادات ہمارے متصادم ہوتی ہیں - یہ بات بھی حقیقت ہے کہ امریکہ جن پالیسیز کو اسلامی دنیا میں لاگو کرنا چاہ رہا ہے وہ عوامی نہیں۔ مثال آپ کے سامنے ہے عراق ۔ امریکی طرز جمہوریت رائج کرنے کیلیئے کیا عراقی عوام نے امریکہ سے درخواست کی تھی۔ یہی حال ساری دنیا کا ہے۔ امریکہ اپنی طرز کی جمہوری حکومتیں ہر مسلم ملک پر مسلط کرنا چاہ رہا ہے جہاں‌اس کے کٹھ پتلی حکمران بغیر چوں چراں‌کیئے امریکی مفادات کی خاطر اپنے ہی عوام کا بیڑہ غرق کرنے پر راضی ہوں۔ طاہر

امريکہ سياسی، معاشی اور سفارتی سطح پر ايسے بہت سے ممالک سے باہمی دلچسپی کے امور پر تعلقات استوار رکھتا ہے جس کی قيادت سے امريکی حکومت کے نظرياتی اختلافات ہوتے ہيں۔ امريکہ اپنے سسٹم اور اقدار کو زبردستی دوسرے ممالک پر مسلط کرنے ميں کوئ دلچسپی نہيں رکھتا۔

يہ ايک غير منطقی مفروضہ ہے کہ امريکہ دنيا کے کسی بھی ملک سے روابط قائم کرنے کے ليے پہلے وہاں کا حکومتی اور سياسی نظام تبديل کرے يا ايسا حکمران نامزد کرے جو عوامی مقبوليت نہ رکھتا ہو۔ يہ ذمہ داری اس ملک کے سياسی قائدين اور عوام کی ہوتی ہے اور کوئ بيرونی طاقت اس ضمن ميں فيصلہ کن کردار نہيں ادا کر سکتی۔

جہاں تک عراق ميں فوجی کاروائ کی وجوہات کا تعلق ہے تو اس کا بنيادی مقصد عراق ميں جمہوريت يا کوئ اور نظام حکومت زبردستی نافذ کرنا نہيں تھا۔ يہ درست ہے کہ امريکہ نے عراق ميں جمہوری اقدار کی بحالی کی حوصلہ افزائ اور حمايت کی ہے ليکن اس ضمن ميں حتمی اور فيصلہ کن کردار بحرحال عراقی عوام نے خود ادا کرنا ہے۔ اسی خطے ميں ايسے بہت سے ممالک بھی ہيں جہاں جمہوری نظام حکومت نہيں ہے۔ جہاں تک عراق کا سوال ہے تو امريکہ اور عالمی برادری کو صدام حکومت کی جانب سے اس خطے اور عالمی امن کو درپيش خطرات کے حوالے سے شديد تشويش تھی۔ اس ضمن ميں عراق کی جانب سے کويت پر قبضہ، اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد ميں ناکامی اور عالمی برادری کے خدشات کو نظرانداز کرنا ايسے عوامل تھے جو عراق کے خلاف فوجی کاروائ کا سبب بنے۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
Fawad آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 09-03-09, 12:16 AM   #193
Senior Member
 
طاھر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,777
کمائي: 45,250
شکریہ: 2,024
1,907 مراسلہ میں 6,371 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: ایک سوال - Fawwad صاحب کی خدمت میں !

جناب فواد صاحب !

بحیثیت آزاد اور غیر جانبدار انسان - اگر آپ سوچیں تو کیا آپ خود اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے جوابات سے مطمئن ہیں؟

آپ ہر دفعہ یہ باور کروانے کی کوشش کرتے ہیں کہ آپ کسی ایجنڈے پر کام نہیں کر رہے، حالانکہ ایجنڈا تو آپ کو اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے نوکری حاصل کرتے ہی دیا تھا؟
ہاں، اگر آپ کا تعلق کسی غیر جانبدار ادارے یا صحافتی ذرائّع سے ہوتا تو پھر آپ کی بات اور جوابات میں وزن ضرور محسوس کیا جاسکتا۔

والسلام
طاہر
طاھر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
طاھر کا شکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر (09-03-09)
پرانا 09-03-09, 04:20 AM   #194
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,966
کمائي: 276,735
شکریہ: 33,203
12,657 مراسلہ میں 36,994 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: ایک سوال - Fawwad صاحب کی خدمت میں !

کٹ پتلی ۔
فیصل ناصر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا
ام غزل (09-03-09)
پرانا 09-03-09, 07:25 PM   #195
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 624
کمائي: 11,642
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طاھرخلیل مراسلہ دیکھیں
جناب فواد صاحب !

آپ ہر دفعہ یہ باور کروانے کی کوشش کرتے ہیں کہ آپ کسی ایجنڈے پر کام نہیں کر رہے، حالانکہ ایجنڈا تو آپ کو اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے نوکری حاصل کرتے ہی دیا تھا؟
ہاں، اگر آپ کا تعلق کسی غیر جانبدار ادارے یا صحافتی ذرائّع سے ہوتا تو پھر آپ کی بات اور جوابات میں وزن ضرور محسوس کیا جاسکتا۔

والسلام
طاہر

آپ امريکی اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ سے ميری وابستگی کو جس "کمزوری" يا "مجبوری" کا نام دے رہے ہيں، ميرے نزديک حقائق تک رسائ کے ليے وہی "مجبوری" يا وابستگی مجھے بہتر مواقع فراہم کرتی ہے۔ بہت سے دوستوں کی راۓ ان معلومات پر مبنی ہوتی ہے جو ميڈيا اور انٹرنيٹ پر ديکھتے اور سنتے ہيں باوجود اس کے کہ يہ بات تصديق شدہ ہے کہ ميڈيا پر کچھ عناصر دانستہ بيانات اور واقعات کو توڑ مڑور کر پيش کرتے ہيں۔

شايد بہت سے لوگوں کو اس بات کا علم نہيں ہے کہ امريکی اہلکاروں اور سفارت کاروں کی اکثر ملاقاتوں، بيانات اور بعض اوقات غير ملکی سفارت کاروں سےفون کالز کو باقاعدہ ريکارڈ کيا جاتا ہے۔ صرف يہی نہيں بلکہ امريکی اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ کا ايک ادارہ حکومتی بيانات، پريس کانفرنسز اور اہم حکومتی رپورٹوں کا تاريخی ريکارڈ مرتب کرنے پر مخصوص ہے اور باقاعدگی سے يہ معلومات ريليز کرتا ہے۔ اس ضمن ميں ويب لنک پيش ہيں

Office of the Historian

U.S. Department of State Freedom of Information Act (FOIA)

FCIC: Your Right to Federal Records

يہ ريکارڈ کسی بھی تاريخی واقعے کے حوالے سے جذباتی بحث سے ہٹ کر حقائق کی تحقيق ميں خاصا مددگار ثابت ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر کئ دوستوں نے 1971 کی پاک بھارت جنگ ميں امريکہ کے کردار اور خاص طور پر ايک بحری بيڑے کے حوالے سے کيے جانے والے مبينہ وعدے کے بارے ميں سوالات کيے۔ امريکی اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ سے وابستگی کی وجہ سے مجھے بآسانی ان حکومتی دستاويز تک رسائ حاصل ہو گئ جن کا تعلق اس جنگ مين امريکہ کے کردار کے حوالے سے تھا۔ ميں نے يہ دستاويز فورمز پر پيش کر کے امريکی نقطہ نظر کی وضاحت پيش کی اور اس حوالے سے ابہام دور کيا۔

اسی طرح بہت سے دوست اردو فورمز پر طالبان کے حوالے سے راۓ زنی کر رہے ہیں اور يہ نقطہ نظر کافی مقبول ہے کہ امريکہ نے دانستہ طالبان کے افغانستان ميں برسراقتدار آنے اور اس عفريت کی تشکيل ميں بنيادی کردار ادا کيا ہے۔ ليکن ان جذباتی دعووں کے برعکس ميں نے امريکی حکومتی اداروں سے ايسی درجنوں دستاويز حاصل کر کے ان فورمز پر پوسٹ کی ہيں جس سے يہ ثابت ہے کہ 90 کی دہائ ميں امريکی حکومت کی جانب سے طالبان کے افغانستان ميں بڑھتے ہوۓ اثرورسوخ اور اس ضمن ميں پاکستان کے بھرپور تعاون پر شديد تحفظات کا اظہار کيا گيا تھا۔ يہ ايسے ناقابل ترديد تاريخی دستاويزی ثبوت ہيں جو 11 ستمبر 2001 کے واقعات کے بعد نہيں تخليق کيے گۓ بلکہ تاريخی ريکارڈ کا حصہ ہيں۔ طالبان کے بارے ميں ميرے ريمارکس اور پاکستان کے قبائلی علاقوں کی موجودہ صورت حال کا يہ وہ تاريخی پس منظر ہے جو ميں نے دوستوں کے سامنے ان فورمز پر پيش کيا۔

کئ مواقع پر لوگوں کی راۓ کی بنياد وہ بيانات ہوتے ہيں جوسياق وسباق سے ہٹ کر امريکی عہديداروں سے منسوب کيے جاتے ہيں ۔ ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم کے ممبر کی حيثيت سے مجھے براہراست ان عہديداروں تک رسائ حاصل ہوتی ہے جس کی بدولت مجھے ميڈيا پر دانستہ پھيلائ جانے والے افواہوں سے ہٹ کر اصل بيان کو سمجھنے اور آپ تک پہنچانے کا موقع ملتا ہے۔ مثال کے طور پر ميں آپ کی توجہ پاکستان ميں امريکہ کی سفير اين پيٹرسن کی 18 فروری کے انتخابات کے بعد نوازشريف سے ايک ملاقات کی جانب دلواؤں گا جس کو رپورٹ کرتے ہوۓ ايک نجی ٹی وی نے يہ دعوی کيا کہ امريکی سفير نے اپنی ملاقات کے دوران نواز شريف سے ججز کی بحالی کے حوالے سے اپنے موقف ميں تبديلی پر زور ديا۔ ميں نے اس ملاقات کی ريکارڈنگ کا مکمل متن حاصل کيا اور حقائق سے اردو فورمز پر دوستوں کو آگاہ کيا۔

آخر ميں آپ کی توجہ اس امريکی قانون کی جانب دلواؤں گا جس کی رو سے کوئ بھی امريکی شہری تاريخی حکومتی دستاويز کے حصول کے ليے درخواست دے سکتا ہے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
Fawad آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے Fawad کا شکریہ ادا کیا
پاکستانی (21-03-09), منتظمین (09-03-09)
جواب

Tags
color, com, digital, email, fawad, fawwad, php, فورم, فورمز, فروخت, پیاسا, پاک, پاکستان, پسند, قواعد, لوگ, نظر, مکمل, موت, مقابلہ, منتقل, ممکن, اقوام متحدہ, امریکہ, بھائی, بچوں, تصویر, جھوٹ, جواب, حضرات, درخواست, ضوابط, صومالیہ, صبر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
زندگی انسان کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں۔دم ھوا کی موج ھے رم کے سوا کچھ بھ نہیں ۔گل تبسم کہہ رھا تھا عروج شاعر مشرق علامہ اقبال 9 15-05-11 01:07 PM
سپریم کورٹ کے حکم پر 2 رینٹل پاور کمپنیوں نے 24 گھنٹوں کے اندر سوا 2 ارب روپے بمع سود واپس کردئیے گلاب خان خبریں 0 09-12-10 06:22 AM
اسلام آباد +سوات(مانیٹرنگ ڈیسک ) سوات میں پاکستانی فوج نے مقامی طالبان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے علاقے میں آپریشن شروع کر خرم شہزاد خرم خبریں 0 13-11-07 10:06 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:11 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger