| سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| 12 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا | bas_tera_intazar (02-02-09), shafresha (03-09-09), وجدان (08-07-08), نیلم خان (31-08-09), موجو (30-07-09), ملک بھائی (01-09-09), yashaka (06-05-09), ابن جلال (07-01-09), رضی (10-06-09), شاہد جمیل حفیظ (10-10-08), طارق راحیل (30-05-10), عُکاشہ (01-07-08) |
|
|
#181 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,777
کمائي: 45,250
شکریہ: 2,024
1,907 مراسلہ میں 6,371 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
فلسطینی عوام اور خصوصاً غزہ کی امداد کے بارے میں تو آپ نے اپنا موقف پیش کر ہی دیا، اب تصویر کا دوسرا رخبھی دکھا دیں یعنی امریکہ اسرائیل کی کتنی مدد کرتا ہے - مدد سے میری مراد جنگی اور دوسری امداد ہے۔ آپ کے جواب سے ہمیں یہ امریکی موقف کو سمجھنے میں زیادہ آسانی ہو گی۔ والسلام طاہر |
|
|
|
|
| طاھر کا شکریہ ادا کیا گیا | ام غزل (09-03-09) |
|
|
#182 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
فواد صاحب آپ کے جواب کا انتظار رہے گا |
|
|
|
|
|
|
#183 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,777
کمائي: 45,250
شکریہ: 2,024
1,907 مراسلہ میں 6,371 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم،
اسرائیل کو دی جانے والی امداد ملاحضہ کریں۔ Source >> Jewish Virtual Library - Homepage اسکے علاوہ سن 2007 میں کئے گئے معاہدہ کے تحت امریکہ اسرائیل کو 30 بلین ڈالر 10 سال کیلیئے امداد کے طور پر دے گا جو کہ دفاعی مقاصد کیلیئے استعمال ہو گی۔ یاد دہے کہ امریکہ عرب ممالک جن میں سعودی عرب اور مصر شامل ہیں کل 20 بلین ڈالر کی فوجی امداد کا معاہدہ کرنے کا پلان بنایا تھا۔ فواد صاحب شاید اس پر بھی روشنی ڈال سکیں۔ والسلام طاہر Last edited by طاھر; 23-01-09 at 05:30 PM. |
|
|
|
|
|
#184 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 624
کمائي: 11,642
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم کے ممبر کی حيثيت سے ميں اسرائيل يا کسی اور ملک کے فوجی اقدامات کی توجيحات يا ان کی حمايت نہيں کروں گا۔ جہاں تک امريکہ کی جانب سے اسرائيل کو اسلحہ فراہم کرنے کا سوال ہے تو حقيقت يہ ہے کہ امريکہ دنيا کے بہت سے ممالک کی افواج کو اسلحے کے ساتھ ساتھ فوجی سازوسامان اور تربيت فراہم کرتا ہے۔ ان ميں اسرائيل کے علاوہ اسی خطے ميں لبنان، سعودی عرب اور شام سميت بہت سے ممالک شامل ہيں۔ اسی ضمن ميں آپ کو يہ بھی باور کروانا چاہتا ہوں کہ امريکی حکومت نے پاکستان اور بھارت، دونوں کو فوجی امداد کے علاوہ تعمير وترقی اور معاشی حوالے سے مستقل بنيادوں پر امداد فراہم کی ہے، باوجود اس کے کہ دونوں ممالک کے درميان کئ بار جنگيں ہو چکی ہيں۔ اس کا يہ مطلب ہرگز نہيں ہے کہ امريکہ دونوں ممالک ميں سے کسی ايک کو دوسرے پر فوقيت ديتا ہے۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov America - Telling America's Story - America.gov |
|
|
|
|
|
|
#185 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 47
مراسلات: 938
کمائي: 7,523
شکریہ: 36
189 مراسلہ میں 304 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فضول بکواس ، یار یہ کر کے نہیں تھکتا اور اپ سن کر نہیں۔
|
|
|
|
|
|
#186 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 624
کمائي: 11,642
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ميں کسی ايجنڈے پر کام نہيں کر رہا۔ آپ ديکھ سکتے ہيں کہ ميں اپنی ہر پوسٹ سے پہلے يہ واضح کرتا ہوں کہ ميرا تعلق يو – ايس – اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ سے ہے۔ اپنی راۓ کے اظہار کے ليے مجھے کچھ چھپانے کی ضرورت نہيں ہے۔ آپ اور ميں اچھی طرح سے جانتے ہيں کہ پاکستان ميں ہر سطح پر امريکہ کے خلاف انتہائ نفرت کے جذبات پاۓ جاتے ہيں ليکن يہ ميرا اپنا نقطہ نظر ہے کہ ہميشہ تصوير کے دو رخ ہوتے ہيں اور جب تک جذبات سے ہٹ کر دونوں فريقين کے نقطہ نظر کو نہ سمجھا جاۓ اس وقت تک کسی بھی معاملے کو سلجھايا نہيں جا سکتا۔ ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم کے ممبر کی حيثيت سے مجھے يہ موقع ملتا ہے کہ ميں مختلف فورمز پر اہم موضوعات کے حوالے سے اپنے ہم وطنوں کے الزامات، تحفظات اور انکی شکايات امريکی حکام تک پہنچاؤں اور ان کا موقف حاصل کر کے آپ کے سوالوں کا جواب دوں۔ مقصد آپ کو قائل کرنا نہيں بلکہ آپ کو دوسرے فريق کے نقطہ نظر سے آگاہ کرنا ہے تا کہ آپ حقائق کی روشنی ميں اپنی راۓ قائم کر سکيں فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov http://usinfo.state.gov |
|
|
|
|
|
|
#187 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,966
کمائي: 276,735
شکریہ: 33,203
12,657 مراسلہ میں 36,994 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
لیکن آپ حقائق کو سمجھنے کے بجائے توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں
اور بجائے اس کے کہ آپ پاکستان کی عوام کا نقطہ نظر سمجھ کر اپنی حکومت کو سمجھائیں آپ امریکی حکومت کی پالیسی کی حمایت میں ایسا جھوٹ پیش کرتے ہیں جو سب کے لئے ناقابل قبول ہوتا ہے اب دنیا واقعی ایک گلوبل ویلیج ہے اب انفارمیشن کے ذرائع بہت حد تک گھر گھر پہنچے ہوئے ہیں حقیقت پر پالیسی بیان کا پردہ ڈالنا اب ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوگیا ہے ایسے میں پاکستانی عوام کو بے وقوف سمجھنا اب اور ممکن نہیں |
|
|
|
|
|
#188 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 624
کمائي: 11,642
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ميں صرف اس پس منظر، تاريخی حقائق اور تناظر کی وضاحت کرتا ہوں جن کی بنياد پر فيصلے کيے گۓ تھے اور پاليسياں مرتب کی گئيں۔ يہ نامکن ہے کہ غلطيوں سے پاک ايسی پاليسياں تشکيل دی جائيں جس سے دنيا کے سارے مسائل حل کيے جا سکيں۔ ايسا کرنا امريکہ سميت دنيا کی کسی بھی حکومت کے ليے ممکن نہيں ہے۔ ليکن ميں اس بنيادی سوچ اور نقظہ نظر سے اختلاف رکھتا ہوں جس کے تحت ہر واقعہ، بيان اور پاليسی کو سازش کی عينک سے ديکھا جاتا ہے۔ يہ سوچ فہم اور منطق کے منافی ہے۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov U.S. Department of State |
|
|
|
|
|
|
#189 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,777
کمائي: 45,250
شکریہ: 2,024
1,907 مراسلہ میں 6,371 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
مسئلہ یہ ہے کہ آپ امریکی نقطہ نظر کی وضاحت کررہے ہیں جو کہ تمام عالم اسلام کے خلاف ہے۔ اسے آپ صحیح مانیں یا نہیں حقیقت میں ایسا ہی ہے۔ امریکی مفادات ہمارے متصادم ہوتی ہیں - یہ بات بھی حقیقت ہے کہ امریکہ جن پالیسیز کو اسلامی دنیا میں لاگو کرنا چاہ رہا ہے وہ عوامی نہیں۔ مثال آپ کے سامنے ہے عراق ۔ امریکی طرز جمہوریت رائج کرنے کیلیئے کیا عراقی عوام نے امریکہ سے درخواست کی تھی۔ یہی حال ساری دنیا کا ہے۔ امریکہ اپنی طرز کی جمہوری حکومتیں ہر مسلم ملک پر مسلط کرنا چاہ رہا ہے جہاںاس کے کٹھ پتلی حکمران بغیر چوں چراںکیئے امریکی مفادات کی خاطر اپنے ہی عوام کا بیڑہ غرق کرنے پر راضی ہوں۔ پاکستان اس سلسلے کی سب سے اچھی مثال ہے۔ امداد وغیرہ تو وہ چارہ ہوتا ہے جو کہ ان حکمرانوں کو اپنے آپ اور اپنی قوم کو پیچنے کے عوض دیا جاتا ہے۔ ہم میںسے کوئی آپ کی کسی بات سے اتفاق نہیں کرتا کیوں کہ آپ کی ریسرچ آزاد ذرائع سے نہیں بلکہ صرف پروپیگینڈا ہے۔ آزاد میڈیا اس سے کہیں اوپر کی باتیں کرتا ہے جو کہ آپ کی محدود یا طئے کردہ استعداد سے باہر ہے۔ یہ مسلم دنیا کی بدنصیبی ہے کہ ہم نے علم کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا اور اس عمل جس کی ہمیں ہدایت کی گئ تھی اس بھی کنارہ کشی اختیار کر لی۔ جواباً، کم علم افراد اسی قسم کے افراد کو سربراہ چن سکتے ہیں جو کہ بکاؤمال ہیں۔ اس میں امریکی کا زیادہ قصور نہیں۔ والسلام طاہر |
|
|
|
|
| طاھر کا شکریہ ادا کیا گیا | فیصل ناصر (05-03-09) |
|
|
#190 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,966
کمائي: 276,735
شکریہ: 33,203
12,657 مراسلہ میں 36,994 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#191 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,495
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,765 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بکواس کے سوا اور کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
|
| رضی کا شکریہ ادا کیا گیا | فیصل ناصر (06-03-09) |
|
|
#192 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 624
کمائي: 11,642
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
امريکہ سياسی، معاشی اور سفارتی سطح پر ايسے بہت سے ممالک سے باہمی دلچسپی کے امور پر تعلقات استوار رکھتا ہے جس کی قيادت سے امريکی حکومت کے نظرياتی اختلافات ہوتے ہيں۔ امريکہ اپنے سسٹم اور اقدار کو زبردستی دوسرے ممالک پر مسلط کرنے ميں کوئ دلچسپی نہيں رکھتا۔ يہ ايک غير منطقی مفروضہ ہے کہ امريکہ دنيا کے کسی بھی ملک سے روابط قائم کرنے کے ليے پہلے وہاں کا حکومتی اور سياسی نظام تبديل کرے يا ايسا حکمران نامزد کرے جو عوامی مقبوليت نہ رکھتا ہو۔ يہ ذمہ داری اس ملک کے سياسی قائدين اور عوام کی ہوتی ہے اور کوئ بيرونی طاقت اس ضمن ميں فيصلہ کن کردار نہيں ادا کر سکتی۔ جہاں تک عراق ميں فوجی کاروائ کی وجوہات کا تعلق ہے تو اس کا بنيادی مقصد عراق ميں جمہوريت يا کوئ اور نظام حکومت زبردستی نافذ کرنا نہيں تھا۔ يہ درست ہے کہ امريکہ نے عراق ميں جمہوری اقدار کی بحالی کی حوصلہ افزائ اور حمايت کی ہے ليکن اس ضمن ميں حتمی اور فيصلہ کن کردار بحرحال عراقی عوام نے خود ادا کرنا ہے۔ اسی خطے ميں ايسے بہت سے ممالک بھی ہيں جہاں جمہوری نظام حکومت نہيں ہے۔ جہاں تک عراق کا سوال ہے تو امريکہ اور عالمی برادری کو صدام حکومت کی جانب سے اس خطے اور عالمی امن کو درپيش خطرات کے حوالے سے شديد تشويش تھی۔ اس ضمن ميں عراق کی جانب سے کويت پر قبضہ، اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد ميں ناکامی اور عالمی برادری کے خدشات کو نظرانداز کرنا ايسے عوامل تھے جو عراق کے خلاف فوجی کاروائ کا سبب بنے۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov U.S. Department of State |
|
|
|
|
|
|
#193 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,777
کمائي: 45,250
شکریہ: 2,024
1,907 مراسلہ میں 6,371 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جناب فواد صاحب !
بحیثیت آزاد اور غیر جانبدار انسان - اگر آپ سوچیں تو کیا آپ خود اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے جوابات سے مطمئن ہیں؟ آپ ہر دفعہ یہ باور کروانے کی کوشش کرتے ہیں کہ آپ کسی ایجنڈے پر کام نہیں کر رہے، حالانکہ ایجنڈا تو آپ کو اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے نوکری حاصل کرتے ہی دیا تھا؟ ہاں، اگر آپ کا تعلق کسی غیر جانبدار ادارے یا صحافتی ذرائّع سے ہوتا تو پھر آپ کی بات اور جوابات میں وزن ضرور محسوس کیا جاسکتا۔ والسلام طاہر |
|
|
|
| طاھر کا شکریہ ادا کیا گیا | فیصل ناصر (09-03-09) |
|
|
#195 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 624
کمائي: 11,642
شکریہ: 0
343 مراسلہ میں 654 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
آپ امريکی اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ سے ميری وابستگی کو جس "کمزوری" يا "مجبوری" کا نام دے رہے ہيں، ميرے نزديک حقائق تک رسائ کے ليے وہی "مجبوری" يا وابستگی مجھے بہتر مواقع فراہم کرتی ہے۔ بہت سے دوستوں کی راۓ ان معلومات پر مبنی ہوتی ہے جو ميڈيا اور انٹرنيٹ پر ديکھتے اور سنتے ہيں باوجود اس کے کہ يہ بات تصديق شدہ ہے کہ ميڈيا پر کچھ عناصر دانستہ بيانات اور واقعات کو توڑ مڑور کر پيش کرتے ہيں۔ شايد بہت سے لوگوں کو اس بات کا علم نہيں ہے کہ امريکی اہلکاروں اور سفارت کاروں کی اکثر ملاقاتوں، بيانات اور بعض اوقات غير ملکی سفارت کاروں سےفون کالز کو باقاعدہ ريکارڈ کيا جاتا ہے۔ صرف يہی نہيں بلکہ امريکی اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ کا ايک ادارہ حکومتی بيانات، پريس کانفرنسز اور اہم حکومتی رپورٹوں کا تاريخی ريکارڈ مرتب کرنے پر مخصوص ہے اور باقاعدگی سے يہ معلومات ريليز کرتا ہے۔ اس ضمن ميں ويب لنک پيش ہيں Office of the Historian U.S. Department of State Freedom of Information Act (FOIA) FCIC: Your Right to Federal Records يہ ريکارڈ کسی بھی تاريخی واقعے کے حوالے سے جذباتی بحث سے ہٹ کر حقائق کی تحقيق ميں خاصا مددگار ثابت ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر کئ دوستوں نے 1971 کی پاک بھارت جنگ ميں امريکہ کے کردار اور خاص طور پر ايک بحری بيڑے کے حوالے سے کيے جانے والے مبينہ وعدے کے بارے ميں سوالات کيے۔ امريکی اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ سے وابستگی کی وجہ سے مجھے بآسانی ان حکومتی دستاويز تک رسائ حاصل ہو گئ جن کا تعلق اس جنگ مين امريکہ کے کردار کے حوالے سے تھا۔ ميں نے يہ دستاويز فورمز پر پيش کر کے امريکی نقطہ نظر کی وضاحت پيش کی اور اس حوالے سے ابہام دور کيا۔ اسی طرح بہت سے دوست اردو فورمز پر طالبان کے حوالے سے راۓ زنی کر رہے ہیں اور يہ نقطہ نظر کافی مقبول ہے کہ امريکہ نے دانستہ طالبان کے افغانستان ميں برسراقتدار آنے اور اس عفريت کی تشکيل ميں بنيادی کردار ادا کيا ہے۔ ليکن ان جذباتی دعووں کے برعکس ميں نے امريکی حکومتی اداروں سے ايسی درجنوں دستاويز حاصل کر کے ان فورمز پر پوسٹ کی ہيں جس سے يہ ثابت ہے کہ 90 کی دہائ ميں امريکی حکومت کی جانب سے طالبان کے افغانستان ميں بڑھتے ہوۓ اثرورسوخ اور اس ضمن ميں پاکستان کے بھرپور تعاون پر شديد تحفظات کا اظہار کيا گيا تھا۔ يہ ايسے ناقابل ترديد تاريخی دستاويزی ثبوت ہيں جو 11 ستمبر 2001 کے واقعات کے بعد نہيں تخليق کيے گۓ بلکہ تاريخی ريکارڈ کا حصہ ہيں۔ طالبان کے بارے ميں ميرے ريمارکس اور پاکستان کے قبائلی علاقوں کی موجودہ صورت حال کا يہ وہ تاريخی پس منظر ہے جو ميں نے دوستوں کے سامنے ان فورمز پر پيش کيا۔ کئ مواقع پر لوگوں کی راۓ کی بنياد وہ بيانات ہوتے ہيں جوسياق وسباق سے ہٹ کر امريکی عہديداروں سے منسوب کيے جاتے ہيں ۔ ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم کے ممبر کی حيثيت سے مجھے براہراست ان عہديداروں تک رسائ حاصل ہوتی ہے جس کی بدولت مجھے ميڈيا پر دانستہ پھيلائ جانے والے افواہوں سے ہٹ کر اصل بيان کو سمجھنے اور آپ تک پہنچانے کا موقع ملتا ہے۔ مثال کے طور پر ميں آپ کی توجہ پاکستان ميں امريکہ کی سفير اين پيٹرسن کی 18 فروری کے انتخابات کے بعد نوازشريف سے ايک ملاقات کی جانب دلواؤں گا جس کو رپورٹ کرتے ہوۓ ايک نجی ٹی وی نے يہ دعوی کيا کہ امريکی سفير نے اپنی ملاقات کے دوران نواز شريف سے ججز کی بحالی کے حوالے سے اپنے موقف ميں تبديلی پر زور ديا۔ ميں نے اس ملاقات کی ريکارڈنگ کا مکمل متن حاصل کيا اور حقائق سے اردو فورمز پر دوستوں کو آگاہ کيا۔ آخر ميں آپ کی توجہ اس امريکی قانون کی جانب دلواؤں گا جس کی رو سے کوئ بھی امريکی شہری تاريخی حکومتی دستاويز کے حصول کے ليے درخواست دے سکتا ہے۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov U.S. Department of State |
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, com, digital, email, fawad, fawwad, php, فورم, فورمز, فروخت, پیاسا, پاک, پاکستان, پسند, قواعد, لوگ, نظر, مکمل, موت, مقابلہ, منتقل, ممکن, اقوام متحدہ, امریکہ, بھائی, بچوں, تصویر, جھوٹ, جواب, حضرات, درخواست, ضوابط, صومالیہ, صبر |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| زندگی انسان کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں۔دم ھوا کی موج ھے رم کے سوا کچھ بھ نہیں ۔گل تبسم کہہ رھا تھا | عروج | شاعر مشرق علامہ اقبال | 9 | 15-05-11 01:07 PM |
| سپریم کورٹ کے حکم پر 2 رینٹل پاور کمپنیوں نے 24 گھنٹوں کے اندر سوا 2 ارب روپے بمع سود واپس کردئیے | گلاب خان | خبریں | 0 | 09-12-10 06:22 AM |
| اسلام آباد +سوات(مانیٹرنگ ڈیسک ) سوات میں پاکستانی فوج نے مقامی طالبان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے علاقے میں آپریشن شروع کر | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 13-11-07 10:06 AM |