واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > سفر نامے




قسطنطنیہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 02-03-09, 09:59 PM   #1
Senior Member
 
طارق راحیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Karachi
عمر: 26
مراسلات: 2,882
کمائي: 31,247
شکریہ: 3,975
1,161 مراسلہ میں 2,345 بارشکریہ ادا کیا گیا
طارق راحیل کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default قسطنطنیہ

قسطنطنیہ

قسطنطنیہ
وکیپیڈیا سے


قسطنطنیہ 330ءسے395ءتک رومی سلطنت اور 395ءسے1453ءتک بازنطینی سلطنت کا دارالحکومت رہا اور 1453ء میں فتح قسطنطنیہ کےبعد سے1923ء تک سلطنت عثمانیہ کا دارالخلافہ رہا۔ فتح قسطنطنیہ کے بعد سلطان محمد فاتح نے اس شہر کا نام اسلام بول رکھا جو کہ آہستہ آہستہ استنبول میں تبدیل ہو گیا۔ شہر یورپ اور ایشیا کےسنگم پر شاخ زریں اور بحیرہ مرمرہ کےکنارے واقع ہےاور قرون وسطی میں یورپ کا سب سےبڑا اور امیر ترین شہر تھا۔ اس زمانےمیں قسطنطنیہ کو Vasileousa Polis یعنی شہروں کی ملکہ کہا جاتا تھا۔

حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے اپنے مجموعۂ کلام بانگ درا کی مشہور نظام بلاد اسلامیہ میں قسطنطنیہ کو ملت اسلامیہ کا دل قرار دیا ہے اور ان الفاظ میں‌ اس شہر کو خراج تحسین پیش کیا ہے:
” خطۂ قسطنطنیہ یعنی قیصر کا دیار

مہدیِ امت کی سطوت کا نشانِ پائیدار
صورتِ خاکِ حرم یہ سرزمیں بھی پاک ہے
آستانِ مسند آرائے شہِ لولاک ہے
نکہتِ گل کی طرح پاکیزہ ہے اس کی ہوا
تربتِ ایوب انصاری سے آتی ہے صدا
اے مسلماں! ملت اسلام کا دل ہے یہ شہر
سیکڑوں صدیوں کی کشت و خوں کا حاصل ہے شہر




* 1 مختلف نام
* 2 بنیاد
* 3 مسلم افواج کے محاصرے
* 4 صلیبیوں کے ہاتھوں تباہی
* 5 فتح قسطنطنیہ
* 6 قسطنطنیہ سے استنبول
* 7 متعلقہ مضامین
* 8 بیرونی روابط

[ترمیم] مختلف نام

تاریخ میں قسطنطنیہ نےکئی نام اختیار کئے جن میں سے بازنطین، نیو روم (نووا روما)، قسطنطنیہ اور استنبول مشہور ہیں۔


== غفران راغب ==

[ترمیم] بنیاد
قرون وسطی میں قائم کی گئی شہر کی فصیل

667 قبل مسیح میں یونان کی توسیع کےابتدائی ایام میں شہر کی بنیاد ڈالی گئی۔ اس وقت شہر کو اس کےبانی بائزاس کےنام پر بازنطین کا نام دیا گیا۔ 11 مئی 330ء کو قسطنطین کی جانب سےاسی مقام پر نئےشہر کی تعمیر کےبعد اسےقسطنطنیہ کا نام دیا گیا۔

363ء سے رومی سلطنت کےدو حصوں میں تقسیم کےباعث قسطنطنیہ کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوا۔ 376ء میں جنگ ادرنہ میں رومی افواج کی گوتھ کےہاتھوں بدترین شکست کےبعد تھیوڈوسس نےشہر کو 60 فٹ بلند تین فصیلوں میں بند کردیا۔ اس فصیل کی مضبوطی کا اندازہ اس بات سےلگایا جاسکتا ہےکہ بارود کی ایجاد تک اسےتوڑا نہ جاسکا۔ تھیوڈوسس نے27فروری 425ء میں شہر میں جامعہ بھی قائم کی۔

7ویں صدی میں آوارز اور بعد ازاں بلغار قبائل نے بلقان کےبڑےحصےکو تہس نہس کردیا اور مغرب سے قسطنطنیہ کےلئےبڑا خطرہ بن گئے۔ اسی وقت مشرق میں ساسانیوں نے مصر، فلسطین، شام اور آرمینیا پر قبضہ کرلیا۔ اس مو قع پر ہرقل نےاقتدار پر قبضہ کرکےسلطنت کو یونانی رنگ دینا شروع کیا اور لاطینی کی جگہ یونانی قومی زبان قرار پائی۔ ہرقل نے ساسانی سلطنت کےخلاف تاریخی مہم کا آغاز کیا اور انہیں عظیم شکست دی اور 627ءمیں تمام علاقےواپس لےلئے۔

اسی دوران اسلام قبول کرنےوالے عربوں کی طاقت ابھری جس نے فارس میں ساسانی سلطنت کا خاتمہ کرنےکےبعد بازنطینی سلطنت سے بین النہرین (میسوپوٹیمیا)، شام، مصر اور افریقہ کےعلاقےچھین لئے۔

[ترمیم] مسلم افواج کے محاصرے

عربوں نےدو مرتبہ 674ءاور 717ءمیں قسطنطنیہ کا ناکام محاصرہ کیا۔ دوسرا محاصرہ زمینی اور سمندری دونوں راستوں سےکیا گیا۔ اس میں ناکامی سےقسطنطنیہ کونئی زندگی ملی اور عیسائی اسےاسلام کےخلاف عیسائیت کی فتح تصور کرتےہیں۔

گیارہویں صدی کےبازنطینی سلطنت بتدریج زوال کی جانب گامزن رہی خصوصاً جنگ ملازکرد میں سلجوقی حکمران الپ ارسلان کےہاتھوں حیران کن شکست کےبعد رومی فرمانروا رومانوس چہارم کو گرفتار کرلیا گیا اور چند شرائط پر رہا کردیا گیا۔ واپسی پر رومانوس کو قتل کردیا گیا اور نئےحکمران مائیکل ہفتم ڈوکاس نےسلجوقیوں کو خراج دینےسےانکار کردیا۔ جس کےجواب میں ترک افواج نےچڑھائی کرتےہوئے اناطولیہ کا بڑا حصہ فتح کرلیا اور بازنطینی سلطنت کو 30 ہزار مربع میل رقبےسےمحروم کردیا۔

[ترمیم] صلیبیوں کے ہاتھوں تباہی
صلیبیوں کا قسطنطنیہ میں داخلہ، از یوجین ڈیلاکروئکس، 1840ء

صلیبی جنگ کےدوران 13اپریل 1204ءکو صلیبی افواج نےاپنےہی شہر قسطنطنیہ پر قبضہ کرلیا اور شہر کو شدید نقصان پہنچایا۔ 1261ءمیں بازنطینی افواج نےمائیکل ہشتم پیلولوگس کی زیر نگرانی لاطینی حکمران بالڈوین ثانی سےقسطنطنیہ واپس حاصل کرلیا۔

[ترمیم] فتح قسطنطنیہ

مکمل مضمون کے لئے دیکھئے فتح قسطنطنیہ

29مئی 1453ءکو سلطنت عثمانیہ کےفرمانروا سلطان محمد فاتح کےہاتھوں بازنطینی سلطنت کےساتھ قسطنطین یازدہم کی حکومت کا بھی خاتمہ ہوگیا اور قسطنطنیہ ملت اسلامیہ کےقلب کےطور پر ابھرا۔ شہر کےمرکزی گرجے ایاصوفیہ کو مسجد میں تبدیل کردیا گیا اور شہر میں عیسائیوں کو پرامن طور پر رہنےکی کھلی اجازت دی گئی۔ فتح قسطنطنیہ تاریخ اسلام کا ایک سنہری باب ہے جبکہ عیسائی اسے "سقوط قسطنطنیہ" کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

[ترمیم] قسطنطنیہ سے استنبول

شہر 470 سال تک سلطنت عثمانیہ کا دارالحکومت رہا اور 1923ءمیں مصطفی کمال اتاترک نے انقرہ کو نئی ترک جمہوریہ کا دارالحکومت قرار دیا اور قسطنطنیہ کا نام استنبول رکھ دیا گیا۔
__________________
سمجھو تو بہت قابلِ تعظیم ہے لوگوں
اِک دوست کا اِک دوست سے پیار کا رشتہ
www.tariqraheel.blogspot.com
طارق راحیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
طارق راحیل کا شکریہ ادا کیا گیا
arslansun (02-03-09)
پرانا 02-03-09, 10:11 PM   #2
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,396
کمائي: 261,140
شکریہ: 51,152
7,457 مراسلہ میں 21,714 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: قسطنطنیہ

جناب طارق راحیل بھائی،
السلام،
بھائی جان اگر کسی سائیٹ سے کاپی پیسٹ کریں تو برائے کرم اُسکا حوالہ بھی دیا کریں۔

Last edited by shafresha; 02-03-09 at 10:14 PM.
shafresha آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا
طارق راحیل (02-03-09)
پرانا 02-03-09, 10:29 PM   #3
Senior Member
 
طارق راحیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Karachi
عمر: 26
مراسلات: 2,882
کمائي: 31,247
شکریہ: 3,975
1,161 مراسلہ میں 2,345 بارشکریہ ادا کیا گیا
طارق راحیل کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: قسطنطنیہ

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : shafresha مراسلہ دیکھیں
جناب طارق راحیل بھائی،
السلام،
بھائی جان اگر کسی سائیٹ سے کاپی پیسٹ کریں تو برائے کرم اُسکا حوالہ بھی دیا کریں۔
وکیپیڈیا سے دیکھ لیجئے میں نے لکھ دیا تھا شروع ہی میں پڑھا نہیں آپ نے؟
طارق راحیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
کمال, پاک, محمد اقبال, مسجد, امیر, اسلام, ترک, ترمیم, جواب, دل, زندگی, سال, شہر, شام, علامہ محمد اقبال, صدیوں


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:16 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger