|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 1,035
کمائي: 21,465
شکریہ: 3,240
791 مراسلہ میں 2,313 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شہاب نامہ کے مصنف لکھتے ہیں:
جس وقت بحری جہاز السودان نے اسماعیلیہ کی بندرگاہ سے لنگر اٹھایا‘ اس میں ساڑھے سات سو عازمین حج سوار تھے۔ محمد نوفل اسکندریہ کے بہت بڑے تاجر‘ صنعت کار اور رئیس تھے۔ کپتان نے مجھے انکے کیبن میں جگہ دیدی۔ بحر احمر میں گرمی اپنے پورے شباب پر تھی‘ سورج کی کرنیں لوہے کی گرم سلاخوں کی طرح لٹک رہی تھیں‘ اسکے باوجود عازمین حج کی ٹولیاں بڑے اطمینان سے عرصے پر جا بجا بیٹھی تھیں‘ کچھ لوگ تلاوت قرآن پاک میں مصروف تھے‘ کچھ تسبیح کر رہے تھے‘ کچھ حج کی دعائیں یاد کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ ایک کونے میں محمد نوفل بھی کرسی پر بیٹھے برف کی پوٹلی بار بار اپنے سر پر پھیر رہے تھے۔دھوپ میں اطمینان سے بیٹھے ہوئے عازمین حج کی طرف دیکھ کر محمد نوفل نے آہ سرد بھری اور کہا‘ میں بھی ان لوگوں کا ہم وطن ہوں‘ لیکن ہمارے درمیان بہت بڑا فرق ہے‘ یہ غریب لوگ ہیں‘ انکے سینوں میں قناعت کی اتنی خنکی ہے کہ گرم موسم کی شدت ان پر کوئی اثر نہیں کرتی‘ میں جس کام میں ہاتھ ڈالتا ہوں‘ ہن برسنے لگتا ہے لیکن میرا دل نہیں بھرتا۔ میرے اندر ہر وقت حرص کی بھٹی سلگتی رہتی ہے۔ سردی کے موسم میں بھی برف کے بغیر میری پیاس نہیں بجھتی۔ میرا یہ دسواں حج ہے‘ مگر حضوری کی جو کیفیت مجھے پہلے حج میں حاصل ہوئی تھی‘ وہ پھر کبھی نصیب نہیں ہوئی۔ ان دنوں میں بالکل غریب تھا۔ میرے پاس معلم کی فیس ادا کرنے کیلئے بھی پوری رقم نہ تھی۔ اب طواف کے دوران بھی اللہ تعالیٰ کا گھر مجھ سے ہزاروں میل دور رہتا ہے۔ اگلے روز نماز عشاء کے بعد اعلان ہوا کہ رات کے ساڑھے گیارہ بجے جہاز میقات حرم سے گزرے گا‘ یہ اعلان سنتے ہی مسافروں میں بجلی کی رو دوڑ گئی۔ جہاز کا سائرن بجا اور ساڑھے سات سو حاجیوں نے بیک زبان تلبیہ کا آواز بلند کیا اور اسکے ساتھ ہی یہ سارا مجمع چشم زدن میں خالق کائنات کے حضور جا کھڑا ہوا۔ اس میں پاکباز بھی تھے‘ گناہ گار بھی‘ ہوس کار بھی تھے‘ قناعت شوار ‘ ریا کار بھی تھے‘ عبادت گزار‘ غفلت کا شکار بھی تھے‘ لیکن اس وقت سب بغیر کسی امتیاز کے ایک ہی وردی (احرام) میں ملبوس ایک ہی قطار میں کھڑے‘ ایک ہی کلمہ پڑھتے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں بیک وقت حاضر تھے۔ کسی فرشتے نے ان کیلئے رسائی کا دروازہ نہ کھولا تھا۔ کوئی ابلیس انکی راہ میں رکاوٹ نہیں بنا تھا‘ اپنے رسول پاک کے بتائے ہوئے چند کلمات زبان پر لاتے ہی وہ اس شہنشاہ کے دربار میں پہنچ گئے تھے‘ جس کا نہ کوئی ثانی ہے‘ نہ شریک‘ جس کے گیٹ پر نہ کوئی پہرہ ہے‘ نہ دربان‘ تلبیہ کی آواز گونج رہی تھی۔ بحر احمر کا پانی کسی کو نظر نہیں آتا تھا‘ آسمان کے تارے بھی سب کی نگاہوں سے اوجھل تھے‘ ساری کائنات ایک خلاء بن گئی تھی‘ جس میں عبد اور معبود کے علاوہ اور کسی کا وجود باقی نہ رہا۔
__________________
صراط الھدیٰ فورم
www.siratulhuda.com اردو یونیکوڈ تحریر میں بنیادی دینی ، اخلاقی و اصلاحی تعلیمات اور سائینس و انفارمیشن ٹکنالوجی کی نفع مند معلومات کی ترسیل کا مرکز |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ابن آدم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
کتاب کے نام کے ساتھ مصنف کا بھی حوالہ دینا مُناسب ہوگا۔
شئیرنگ کا شکریہ! |
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 1,035
کمائي: 21,465
شکریہ: 3,240
791 مراسلہ میں 2,313 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ابن آدم کا شکریہ ادا کیا | ام غزل (10-05-09), عبداللہ آدم (25-02-10) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 1,035
کمائي: 21,465
شکریہ: 3,240
791 مراسلہ میں 2,313 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#6 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اقتباس:
شکریہ |
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,365
شکریہ: 10,920
1,994 مراسلہ میں 4,845 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت اچھا پہرہ چنا ہے آپ نے ۔ اور شاہد بھائی اصلاح کردی شکریہ ۔ واقع کچھ قاری تو بہت نئے ہیں عمر کے لحاظ سئ بھی ، اس لئے حوالہ پورا ہی ہو تا بہتر ہے ۔
بھائی شئیرنگ کا بہت بہت شکریہ۔ |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, پاک, قدرت اللہ شہاب, قرآن, لوگ, نماز, نظر, اللہ, اردو, بھائی, تلاوت قرآن, دل, دعائیں, رات, سفر, عبادت, صنعت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|