واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > سفر نامے




بصرہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 02-03-09, 09:45 PM   #1
Senior Member
 
طارق راحیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Karachi
عمر: 26
مراسلات: 2,882
کمائي: 31,246
شکریہ: 3,975
1,161 مراسلہ میں 2,345 بارشکریہ ادا کیا گیا
طارق راحیل کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default بصرہ

بصرہ

بصرہ
وکیپیڈیا سے


بصرہ (عربی میں بصرة ) عراق کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے جس کی آبادی 2003ء کے مطابق 2،600،000 ہے۔ یہ ملک کی اہم ترین بندرگاہ اور صوبہ بصرہ کا دارالحکومت ہے۔

شہر خلیج فارس کے قریب شط العرب کے کنارے واقع ہے۔ بصرہ خلیج فارس سے 55 کلومیٹر اور دارالحکومت بغداد سے 545 کلومیٹر دور واقع ہے۔ شہر کے گرد تیل کے وسیع ذخائر اور کنویں ہیں شہر میں ایک بین الاقوامی ہوائی اڈہ بھی ہے۔ علاوہ ازیں بصرہ انتہائی زرخیز علاقہ بھی ہے جہاں چاول، مکئی، جو، گندم، کھجوریں اور دیگر اشیا پیدا ہوتی ہیں جبکہ مویشی بھی پالے جاتے ہیں۔ شہر کی تیل صاف کرنے کے کارخانے میں 140،000 بیرل (22،300 مکعب میٹر) روزانہ پیداوار کی صلاحیت ہے۔

شہر کی آبادی کی اکثریت جعفری شیعہ ہے جبکہ سنیوں کی بھی بڑی آبادی یہاں رہتی ہے۔

شہر کے گرد نہروں کے وسیع تر نظام کے باعث اسے مشرق وسطی کا وینس بھی کہا جاتا ہے۔ شہر کی کھجوریں دنیا بھر میں مشہور ہیں۔

موجودہ شہر بصرہ کی بنیادیں 636ء میں رکھی گئی جب خلیفہ ثانی حضرت عمر کے دور حکومت میں اس شہر کے قریب ہی مسلم افواج نے قیام کیا جو اس وقت ساسانی سلطنت سے نبرد آزما تھیں۔

ابو موسی اشعری کو اس شہر کا پہلا گورنر مقرر کیا گیا جنہوں نے 639ء سے 642ء تک فتح خوزستان کی قیادت کی۔

بعد ازاں یہ شہر بنو امیہ، بنو عباس اور عثمانی سلطنت کا بھی حصہ رہا۔ پہلی جنگ عظیم میں برطانیہ نے بصرہ پر قبضہ کرلیا۔

1977ء تک شہر کی آبادی 15 لاکھ تک پہنچ گئی لیکن ایران عراق جنگ کے باعث شہر کی آبادی میں تیزی سے کمی واقع ہوئی اور 1980ء کی دہائی کے اواخر تک یہ صرف 9 لاکھ رہ گئی جبکہ جنگ کے دوران اس کی آبادی 4 لاکھ تک گرگئی تھی۔ شہر جنگ کے دوران ایران کی مسلسل گولہ باری کا شکار رہا تاہم ایرانی اسے فتح نہ کرسکے۔

1991ء میں جنگ عراق اول میں یہ شہر صدام حسین کے خلاف بغاوت کا مرکز رہا جسے بعد ازاں کچل دیا گیا۔

بصرہ کی جگہ ام قصر کو اہمیت دینے کے باعث 1999ء میں یہاں ایک اور بغاوت سامنے آئی اور عراق کی موجودہ عبوری حکومت کے قائم کردہ خصوصی ٹریبونل نے سابق صدام حکومت پر مذکورہ اس بغاوت کے دوران انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات لگائے ہیں۔

مارچ تا مئی 2003ء میں امریکی و برطانوی جارحیت کے دوران شہر میدان جنگ کا نظارہ پیش کرتا رہا اور 6 اپریل 2003ء کو برطانوی افواج نے اس پر قبضہ کرلیا۔
__________________
سمجھو تو بہت قابلِ تعظیم ہے لوگوں
اِک دوست کا اِک دوست سے پیار کا رشتہ
www.tariqraheel.blogspot.com
طارق راحیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
آبادی, ایران, خلاف, خصوصی, شہر, صوبہ, صلاحیت, صاف, صدام, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:16 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger