|
|
#1 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اللہ تعالیٰ نے فر مایا:'' وہ تجھے دیکھتا ہے ۔ جب تو کھڑا ہو تا ہے ۔ اور سجدہ کرنے والوں کے در میان میں تیرا گھومنا پھر نا بھی ( دیکھتا ہے ) ۔'' ( سورۃ الشعراء:٢١٨،٢١٩)
اور فر ما یا ۔'' وہ تمہارے سا تھ ہے جہا ں بھی تم ہو۔'' (سورۃ الحدید :٤) اور فر ما یا ۔'' بے شک اللہ تعالیٰ سے آسما نوں اور زمین کی کوئی بھی چیز پو شیدہ نہیں ۔'' (سورۃ آل عمران :٥) اور فر ما یا۔'' بے شک تیرا رب البتہ گھا ت میں ہے ۔''( سورۃ الفجر :١٤) اور فر مایا ۔'' وہ ( اللہ تعالیٰ ) آنکھوں کی خیا نت کو او رسینوں کی پو شیدہ چیزوں کو خوب جا نتا ہے ۔ '' (سورۃ غافر : ١٩) |
|
|
|
| عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | لاسلکی (28-06-08) |
|
|
#2 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر ساٹھ (٦٠)
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ کہ ہم ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پا س بیٹھے ہوئے تھے کہ اچا نک ایک آدمی ہمارے پا س آیا ۔ جس کا لبا س نہایت سفید اور با ل انتہائی سیا ہ تھے ۔ اس پر سفر کے آثار تھے نہ ہم میں سے کوئی اسے جا نتا تھا ۔ حتیٰ کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سا منے بیٹھ گیا ۔ اس نے اپنے گھٹنے آپ کے گھٹنوں کے سا تھ ملا دیے اور اپنی ہتھیلیوں کو اپنی رانوں پر رکھا لیا اور کہا : اے محمد ! مجھے اسلام کے متعلق بتا ئیں ؟ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر ما یا : '' اسلام یہ ہے کہ تم گو اہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں ۔ نما ز قائم کرو ۔ زکوٰۃ دو ۔ رمضان کے روزے رکھو اور اگر تمہیں استطاعت ہو تو بیت اللہ کا حج کر و۔ اس نے کہا ۔ آپ نے سچ فر ما یا ۔ ہم نے اس کی با ت پر تعجب کیا کہ یہ آپ سے سو ال بھی کرتا ہے ۔ اور آپ کی تصدیق بھی کرتا ہے پھراس نے کہا ۔ مجھے ایما ن کے متعلق بتا ئیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر مایا :ُ '' ایما ن یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ پر ایما ن لا ؤ ۔ اس کے فر شتوں پر ۔ اس کی کتابوں پر ۔ اس کے رسولوںپر ۔ یوم آخرت پر اور اچھی بری تقدیر پر ایما ن لاؤ : '' اس نے کہا ۔ آپ نے سچ فر ما یا ،پھر اس نے کہا : مجھے احسان کے بارے میں بتائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:'' احسان یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبا دت ایسے کرو گو یا تم اسے دیکھ رہے ہو 'پس اگر تم اسے نہیں دیکھتے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔'' اس نے کہا ۔ مجھے قیامت کے متعلق بتا ئیں ؟ آ پ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر مایا' اسکے بارے میں مسؤل ( محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) سائل ( اس پو چھنے والے ) سے زیا دہ نہیں جا نتا '' پھر اس نے کہا : مجھے اسکی کچھ نشانیاں بتا دیجیے ؟ آپ نے فر ما یا : '' لو نڈی اپنی مالکہ کو جنے گی او ریہ کہ تم دیکھوں گے کہ ننگے بدن ۔ ننگے پاؤں ۔ فقیرقسم کے لوگ ۔ بکریوں کے چر واہے عمارتوں کی تعمیر میں ایک دوسرے پر فخر کریں گے ۔'' پھر وہ ( سائل ) چلا گیا ۔ پھر میں ( عمر ) ایک عر صہ ٹھہرا رہا ۔ پھر آپ نے فر مایا :'' اے عمر ! کیا تم جانتے ہوکہ یہ سا ئل کو ن تھا ؟ '' میں نے کہا : اللہ او ر اس کے رسو ل بہتر جا نتے ہیں آپ نے فر مایا :'' وہ جبرائیل علیہ اسلام تھے ۔جو تمہیں تمہار ادین سکھانے آئے تھے ۔ '' (مسلم ) توثیق الحدیث:أخرجہ مسلم(٨) |
|
|
|
| عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | لاسلکی (28-06-08) |
|
|
#3 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبراکسٹھ(٦١)
ابو ذرجند ب بن جنادہ اور ابوعبدالرحمن معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر مایا :'' تم جہاں کہیں بھی ہو اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور گنا ہ کے پیچھے ( یعنی بعد ) نیکی کرو۔ وہ نیکی اس ( گنا ہ) کو مٹا دے گی اور لوگوں سے حسن سلوک سے پیش آؤ ۔'' (ترمذی ۔ حدیث حسن ہے ) توثیق الحدیث: (صیح بشواھدہ :کما بینتہ فی(( صیح کتاب الاذکا روضعیفہ)) (١٢٦٢/٩٩٤)'أخرجہ الترمذی (١٩٨٧) |
|
|
|
| عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | لاسلکی (28-06-08) |
|
|
#4 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر باسٹھ(٦٢)
ابن عباس رضی اللہ عنہبیان کرتے ہیں ۔ کہ میں ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے ( سوری پر سوار ) تھا کہ آپ نے فر ما یا :'' اے لڑکے ! میں تجھے چند کلما ت سکھاتا ہوں (انہیںیا در کھنا ) : تو اللہ تعالیٰ ( کے دین) کی حفا ظت کر ، وہ تیری حفا ظت کرے گا ۔ تو اللہ ( کے حقوق ) کی حفا ظت کر تو اسے اپنے سامنے پائے گا ، جب تو سوال کرے تو صرف اللہ سے سوال کر ۔ جب تو مدد طلب کرے تو اللہ سے مدد طلب کرجا ن لے کہ اگر ساری دنیا تمہیں کچھ فا ئدہ پہنچانا چاہے تو وہ سب تمہیں کچھ بھی فا ئد ہ نہیں پہنچا سکتے بجز اس کے جو اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے لکھ دیا ہے اور اگر وہ تما م تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچا ناچاہیںتو اس سے زیادہ کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے جو اللہ تعا لیٰ نے تیرے لیے لکھ دیا ہے ، ( کیونکہ ) قلم اٹھالیے گئے اور صحائف خشک ہو گئے ۔ '' ( تر مذی حدیث حسن صحیح ہے ) اور تر مذی کے علاوہ ایک اور روایت میں ہے :'' تو اللہ ( کے حقوق )کا خیا ل رکھ تو اسے اپنے سا منے پائے گا ۔ تو خوش حالی میں اللہ کو پہچان وہ تجھے تنگی میں پہنچانے گا اور جان لوکہ جو تجھ سے چوک جائے وہ تجھے ملنے والا نہیں اورجو تجھے پہنچ جائے وہ تجھ سے چوک نہیں سکتا اور جان لوکہ مدد صبر کےسا تھ ہے۔ غم سےنجات کرب و تکلیف کے سا تھ ہے او ر یقینا تنگی کے سا تھ آسانی ہے۔ '' تو ثیق الحدیث:صیح :کما بینتہ فی (( صحیح کتا ب الاذکار وضعیفہ )) (١٢٦٨/١٠٠٠)'أخرجہ الترمذی(٢٥١٤) یہ عظیم الشان حدیث ہے اور دین کے بنیادی اصول و قواعدپرمشتمل ہے ابن جوزی رحمہ اللہ اپنی کتاب" صید الخاطر" میں لکھتے ہیں میں نے اس حدیث میں غور فکر کیا تو اس نے مجھے دہشت زدہ کردیا اور قریب تھاکہ میں نا سمجھ ہی رہتا (اس حدیث سے لا علمی کی صورت میں)بڑا ہی قابل افسوس ہے وہ شخص جو اس حدیث سے لا علم رہا اور اس کے معا نی سمجھنے میں کمی فہمی کا شکار رہا۔ اور اس حدیث کی عظمت کا اعتراف امام ابن رجب رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ''نور الاقتباس'' میں بھی کیا ہے۔ |
|
|
|
| عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | لاسلکی (28-06-08) |
|
|
#5 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
آیت بمبر تریسٹھ(٦٣)
رضی اللہ عنہ انس رضی اللہ عنہ نے فر مایا : تم یقینا بہت سے ایسے اعمال کرتے ہو جو تمہاری نظروں میں بال سے بھی زیادہ باریک ہیں ( یعنی معمولی ہیں ۔) جبکہ ہم انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ز مانے میں مہلک شما ر کرتے تھے ۔ ( بخاری ) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا : ( الموبقات ) کا مطلب ہے ہلا ک کرنے والے ۔ توثیق الحدیث : أخرجہ البخاری ( ١١/٣٢٩۔فتح) |
|
|
|
| عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | لاسلکی (28-06-08) |
|
|
#6 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
آۤیت نمبر چونسٹھ( ٦٤)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر ما یا :'' یقینا اللہ تعالیٰ کو بھی غیرت آتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی غیرت اس وقت آتی ہے جب مومن شخص ایسے کا م کا ارتکا ب کرتا ہے ، جسے اللہ تعالیٰ نے اس پر حرام قرار دیا ہے '' ( متفق علیہ) ( الغیر ۃ ) کی غین پر زبر ' اس کے معنی ہیں '' خود اری اور حمیت ۔'' تو ثیق الحدیث : أخرجہ البخاری ( ٩/٣١٨۔فتح)'ُو مسلم ( ٢٧٦١) |
|
|
|
| عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | لاسلکی (28-06-08) |
|
|
#7 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر پینسٹھ (٦٥)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ' آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر ما یا :''بنی اسرائیل میں تین شخص تھے ،۔ ایک بر ص کا مریض تھا ، دوسرا گنجا اور تیسر اندھا تھا ، اللہ تعالیٰ نے انہیں آزمانے کا ارادہ فر ما یا ،تو ان کے پا س ایک فر شتہ بھیجا ، پس وہ برص کے مریض کے پا س آیا تو کہا : تجھے کو ن سی چیز زیا دہ پسند ہے ؟ اس نے کہا : اچھا رنگ ، خوبصورت جلد اور مجھ سے وہ چیز ( برص کی بیما ری ) دور ہوجائے ، جس کی وجہ سے لوگ مجھے نا پسند کرتے ہیں ۔ پس اس فر شتے نے اس پر ہا تھ پھیر ا تو اس کی وہ بیما ری جا تی رہی اور اسے خوبصوت رنگ دے دیا گیا ، اس نے مزید پو چھا کہ تجھے کو ن سا ما ل زیادہ پسند ہے ؟ اس نے کہا : اونٹ یا کہا گا ئے( اس بارے میں راوی کو شک ہے ) پس اسے د س ماہ کی حاملہ اونٹنی دے دی گئی اور ( فرشتے نے ) یہ دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اس میں بر کت فر ما ئے ۔ پھر وہ فر شتہ گنجے کے پاس گیا اور اس سے کہا : تجھے کون سی چیز زیا دہ پسند ہے ؟ اس نے کہا: خوبصورت با ل اور یہ کہ میر ا گنجا بن دور ہو جائے ۔ جس وجہ سے لوگ مجھے پسند نہیں کرتے ۔ پس اس فر شتے نے ہاتھ پھیر اتو اس کا گنجا پن جا تا رہا اور اسے خوبصورت با ل دے دیے گئے ۔ اس نے مزید پو چھا کہ تجھے کو ن سا مال زیادہ پسند ہے؟ ا س نے کہا : گائے، پس اسے حا ملہ گا ئے دے د ی گئی او ر ( فر شتے نے) یہ دعا بھی کی کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اس میں برکت فر مائے ۔ پھروہ نا بینے کے پاس گیا اور کہا کہ تجھے کو ن سی چیز زیادہ پسند ہے ؟ اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ میری بصارت لوٹادے ، تا کہ میں لوگوں کو دیکھوں ۔ پس فرشتے نے ہاتھ پھیرا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی بصارت لوٹا دی۔پھراس نے پو چھا کہ تجھے کون ساما ل زیادہ پسند ہے ؟ اس نے کہا : بکریاں ۔ پس اسے ایک بچہ جننے والی بکر ی دے دی گئی ۔ پس ان دونوں کے ہاں بھی دو نوں جا نوروںکی اولا د خوب بڑھی اور اس کے ہاں بھی بکری نے خوب بچے دیے ، تو اس طر ح اس ( برص والے ) کے پاس اونٹوں کی ایک وادی ہو گئی اور اس ( گنجے ) کے پاس گا یوںکی وادی اور اس ( اند ھے ) کے پا س بکریوںکی ایک وادی ہو گئی ۔ پھر وہی فر شتہ برص والے کے پاس اس کی ( پہلی) صو رت وہئیت میں آیا اور کہاکہ میں مسکین آدمی ہوں ' سفر میں میرے وسائل ختم ہو گئے ہیں ۔ آج میرے لیے گھر پہنچنا اللہ تعالیٰ کی مدد اور تیری کرم نوازی کے بغیر ممکن نہیں ، میں تجھے اس ذات کا وسیلہ دے کر ایک اونٹ کا سوا ل کرتا ہوں جس نے تجھے اچھا رنگ اور خوبصورت جلدعطاکی اور بہت سا مال دیا تا کہ میں اس کے ذریعے سفر میں اپنی منزل مقصود تک پہنچ جاؤں ۔ اس شخص نے کہا : مجھ پر بہت سے حقوق ہیں ۔ یہ سن کر فر شتے نے کہا : ایسا معلوم ہو تا ہے ۔ کہ شاید میں تجھے پہچانتا ہوں ۔ کیاتو پہلے برص زدہ نہیں تھا لوگ تجھ سے نفر ت کرتے تھے اور تو ایک فقیر شخص تھا ، اللہ تعالیٰ نے تجھے ما ل عطا کیا ۔ اس نے کہا: یہ ما ل تو مجھے با پ د ادا سے ورثے میں ملا ہے ( یعنی میں جدی پشتی امیر ہوں ) فر شتے نے کہا : اگر تو جھوٹ بو لتا ہے تو اللہ تعالیٰ تجھے ویسا ہی کر دے جیسا تو پہلے تھا۔ پھر وہ فر شتہ گنجے کے پاس اس کی ( پہلی) صورت وہئیت میں آیا ، تو اسے بھی وہی کچھ کہا جو اس نے بر ص والے سے کہا تھا ۔ اس گنجے نے بھی اسے وہی جواب دیا جو اس برص والے نے جواب دیا تھا ، فر شتے نے بھی وہی کہا کہ اگر تم جھوٹے ہوتواللہ تعالیٰ تجھے ویسا ہی کردے جیسا تو پہلے تھا ۔ پھر وہ نابینے کے پاس اس کی ( پہلی) صورت وہئیت میں آیا اور کہا :میں مسکین آدمی ہوں ۔مسا فر ہوں سفر میں میرے وسا ئل ختم ہوگئے ہیں اب اللہ تعالیٰ کی مد د اور تیرے تعاون کے بغیر میرے لیے گھر پہنچنا ممکن نہیں ۔میں تجھ سے اس ذات کے واسطے سے ایک بکری ما نگتا ہوں ،۔ جس نے تیری بینا ئی لو ٹائی ، تا کہ میں اسکے ذریعے سے اپنے سفر میں منزل مقصود تک پہنچ جا ؤں ۔، اس شخص نے کہا : واقعتا میںاندھا تھا ' اللہ تعالیٰ نے مجھے میری بینائی لو ٹادی ،پس تم چا ہومال لے جاؤ اور جتنا چا ہو۔چھوڑ دو ، اللہ کی قسم ! میں آج تجھ سے اس بارے میں جھگڑا نہیں کروں گا ، جو تو اللہ کے لیے لے لے گا ۔ فر شتے نے کہا : تو اپنا ما ل اپنے پا س رکھ ، تمہاری تو صرف آزمائش کی گئی تھی ( تم اس میں کامیاب رہے ) پس اللہ تجھ سے را ضی ہو گیا اور تیرے دوسرے دونوں سا تھیو ں پر تیر ارب نا را ض ہوگیا ۔ '' ( متفق علیہ) توثیق الحدیث : أخرجہ البخاری ( ٦/٥٠٠'٥٠١۔فتح)' و مسلم ( ٢٩٦٤) |
|
|
|
| عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | لاسلکی (28-06-08) |
|
|
#8 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر چھیاسٹھ(٦٦)
ابو یعلٰی شدا د بن اوس رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر ما یا:'' عقل مند وہ شخص ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے ( یا اپنے آپ کو پست کرلے ) اورموت کے بعد والی زندگی کے لیے عمل کرے اور عا جز ( کم ہمت ، بے وقوف ) وہ شخص ہے جو نفسا نی خواہشات کی پیروی کرے اور اللہ تعالیٰ سے بڑی تمنا ئیں وابستہ کرے ۔ '' ( تر مذی حدیث حسن ہے ) اما م تر مذی رحمتہ اللہ علیہ اور دیگر علماء نے کہا ہے کہ ( دان نفسہ ) کے معنی ہیں '' اپنا محا سبہ کرے ۔ '' توثیق الحدیث :ضیعف ،اخرجہ التومذی (٢٤٥٩)' و ابن ماجہ ( ٤٢٦٠) ' أ حمد (٤/١٢٤)'والحاکم(١/٥٧) امام حاکم رضی اللہ عنہ نے فرمایا:'' یہ امام بخاری رضی اللہ عنہ کی شرط پر صحیح ہے '' لیکن امام ذہنی رضی اللہ عنہ نے اس کے تعاقب میں فرمایا:'' نہیں اللہ کی قسم ! اس کا راوی ابو بکر ضعیف ہے ۔''لہٰذا یہ روایت ضعیف ہے ۔ شارح کتا ب کہتے ہیں : اس حدیث کا مداراسی راوی پر ہے ، لہٰذا اس کی ا سناد سخت ضعیف ہیں ۔ '' بہیقی شعیب الا یمان ( ١٠٥٤٥)'' میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث اس کا شاہد ہے لیکن ا س کا راوی عوب بن عمارہ ضعیف ہے ۔ |
|
|
|
| عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | لاسلکی (28-06-08) |
|
|
#9 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر ستاسٹھ(٦٧)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیںکہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر ما یا :'' انسان کا بے مقصد اور غیر ضروری با توں کو چھوڑ دینا اس کے حسن اسلا م کی علا مت میں سے ہے ۔'' ( تر مذی وغیرہ ۔ حدیث حسن ہے ) توثیق الحدیث: صحیح لغیر ہ ، اخرجہ الترمذی (٢٤١٩)' و ابن ماجہ ( ٣٩٧٦) |
|
|
|
| عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | لاسلکی (28-06-08) |
|
|
#10 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
ۤحدیث نمبرآٹھاسٹھ (٦٨)
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر ما یا :'' آدمی سے یہ نہیں پو چھا جائے گا کہ اس نے اپنی بیوی کو کیوں مار اتھا ۔ '' ( ابو داؤد ) تو ثیق الحدیث: ضعیف ' أخرجہ أبوداود(٢١٤٧)' وابن ما جہ(١٩٨٦)'وأحمد(١/٢٠)'والبیھقی(٧/٣٠٥) اس کی اسنادضعیف ہیں اس لیے کہ اس روایت میں عبدا الرحمن المسلی ہے ، اس کے حالات معلوم نہیں جیسا کہ امام ذہبی رضی اللہ عنہ نے ' میزان '' میں بیان کیا ہے الشیخ احمد شاکر رضی اللہ عنہ نے مسند ( ١٢٢) پر اپنی تعلق میں بیان کیا ہے کہ اس کی اسناد ضعیف ہیں ،داؤدبن یزید الا ودی قوی نہیں ، یعنی ضعیف راوی ہے ، اس پر کلا م ہے ، |
|
|
|
| عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | لاسلکی (28-06-08) |
![]() |
| Tags |
| کتابوں, پہچان, پسند, لوگ, ممکن, معلوم, آج, آدمی, اللہ, امیر, اسلام, جھوٹ, حدیث, حسن, خوش, دعا, رمضان, سفر, سوری, شخص, عمران, غم, صبر, صحیح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|