![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اللہ سبحان تعالیٰ نے فر مایا :'' رسول تمہیں جو دے اسے لے لو اور جس سے تمہیں روک دے اس سے رک جاؤ۔ ''(سورۃ الحشر:٧)
او ر فر مایا :'' وہ ( رسول ) اپنی خواہش سے نہیں بولتا' وہ توو حی ہی ہے جو اس کی طرف نازل کی جاتی ہے ۔ ( سورۃ نجم :٣'٤) اللہ تعالیٰ نے فرمایا:'' کہہ دیں اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہوتو پس تم میری پیروی کرو ' اللہ تمہیں اپنا محبوب بنا لے گا ۔اور تمہارے گنا ہ بخش دے گا ۔ '' (سورۃ آ ل عمران:٣١) اور فرمایا:'' یقینا تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات میں بہترین نمونہ ہے ۔ 'اس شخص کے لیے جو اللہ پر اور یوم آخرت پر یقین رکھتا ہے ۔ '' ( سورۃ الأحزاب:٢١) اور فرمایا :'' تیرے رب کی قسم ! لوگ مومن نہیں ہوسکتے یہاں تک کہ وہ اپنے باہمی جھگڑوں میں تجھے اپنا حاکم ( ثا لث) نہ مان لیں پھر تیرے فیصلے پر وہ اپنے دلوں میں کوئی تنگی بھی محسوس نہ کریں اور خوش دلی سے اسے تسلیم کرلیں۔''(ّسورۃ النسائ٦٥) اور فرمایا:'' اگر کسی چیز کی بابت تمہارا آپس میں جھگڑاہو جائے تو تم اسے اللہ تعالیٰ اس کے رسول کی طرف لوٹا دو' اگر تم اللہ تعالیٰ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو ۔ '' علماء نے کہا کہ اس کے معنی ہیں کہ کتاب و سنت کی طرف لوٹاؤ ( یعنی اسکی روشنی میں جائز اور ناجائز کا فیصلہ کرو ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا :'' جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت کی یقینا اس نے اللہ کی اطاعت کی ۔ ''(سورۃالنسائ:٥٩) اللہ تعالیٰ نے فرمایا :'' یقینا آپ سیدھے راستے کی طر ف راہنمائی کرتے ہیں ۔ (سورۃ الشوری:٥٢'٥٣) اور فرمایا:ـ'' آپ( رسول )کے حکم کی مخالفت کرنے والوں کو اس امر سے ڈر جانا چاہیے کہ وہ کسی آزمائش سے دوچار نہ ہوجائیں یا انہیں کوئی دردناک عذاب نہ آپہنچے ۔ ''(سورۃ النور:٦٣) اللہ تعا لیٰ نے فرمایا:'' اور یاد رکھواللہ تعالیٰ کی آیتوں اورحکمت کوجو تمہارے گھروںمیںپڑھی جاتی ہیں ۔ '' (سورۃالأحزاب :٣٤) |
|
|
|
|
|
#2 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر ١٥٦
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:'' میں جو با تیں تمہیں بیان کرنے سے چھوڑ دوں تو تم مجھے ان کے بارے میں ( کرید کرنے سے) چھوڑ دو' ا س لیے کہ تم سے پہلے لوگوں کو اسی چیز نے ہلاک کیاکہ وہ کثرت سے سوال کرتے تھے ۔ اور اپنے انبیاء علیہ السلام سے اختلاف کرتے تھے ۔ پس جب میں تمہیںکسی چیز سے منع کروں تو تم اس سے اجتناب کرو اور جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں تو اسے اپنی استطاعت کے مطابق بچالاؤ۔''( متفق علیہ) توثیق الحدیث:أخرجہ البخاری (١٣/٢٥١۔ فتح)'و مسلم(١٣٣٧) |
|
|
|
|
|
#3 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر ١٥٧۔
ابونجیح عر باض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں نہایت مؤ ثر اوربلیغ خطبہ ارشاد فر مایا:'' جس سے دل ڈر گئے ۔ اورآنکھیں اشکبار ہوگئیں ۔ ہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! یہ تو گویا الوداع کہنے والے کاو عظ ہے ' لہٰذا آپ ہمیں وصیت فرمائیں ۔ آپنے فرمایا:''میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے اورسمع و طاعت کی وصیت کرتا ہوں ' اگر چہ تم پر کوئی غلام امیر مقرر ہوجائے اور تم میں سے جو شخص زندہ رہے گا وہ بہت سا اختلاف دیکھے گا ُ' پس تم میری سنت کو اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو لازم پکڑنا اور اسے داڑھوں سے مضبوطی سے پکڑلینا ' دین میں نئے نئے کام ایجا د کرنے سے بچنا ' کیونکہ دین میں ہرنیا کام گمراہی ہے ۔''( ابوداؤد،ترمذی ۔امام ترمذی نے کہا کہ حدیث حسن صحیح ہے ) توثیق الحدیث: صحیح لغیرہ 'أخرجہ أبو داود (٤٦٠٧)'و الترمذی (٢٦٧٦)'وابن ماجہ (٤٣'٤٤) |
|
|
|
|
|
#4 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
ۤحدیث نمبر ١٥٨،
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر مایا:'' میری ساری امت جنت میں جائے گی سوائے اس کے جو انکار کر دے '' ۔ پوچھا گیا : اے اللہ کے رسول ! کون انکار کرے گا ؟ آپ نے فرمایا :'' جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہو گیا اور جس نے میری نافرمانی کی تو اس نے یقینا ( جنت میں جانے سے ) انکار کر دیا ۔''(بخاری) توثیق الحدیث: (١٣/٢٤٩،فتح) |
|
|
|
|
|
#5 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
ۤحدیث نمبر ١٥٩،
ابو مسلم ، بعض نے کہا: ابوایاس سلمہ بن عمرواکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی میںاپنے بائیں ہاتھ سے کھایا تو آپ نے فر مایا:'' اپنے دائیں ہا تھ سے کھاؤ ۔ اس نے کہا :میں طاقت نہیں رکھتا ' آپ نے فرمایا :'' تو طاقت نہ ہی رکھے '' ۔ اسے ( دائیں ہاتھ سے کھانے سے ) صرف تکبر نے روکا ' پھر ( ا سکے بعد ) وہ دائیں ہاتھ کو اپنے منہ تک نہیں اٹھا سکا ۔( مسلم ) توثیق الحدیث: أخرجہ مسلم(٢٠٢١) |
|
|
|
|
|
#6 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر ١٦٠،
ابوعبد اللہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :'' تم اپنی صفیں ضرور سیدھی اور درست کرلو ۔ ورنہ اللہ تمہارے درمیان مخالفت پیدا فرمادے گا ۔ '' ( متفق علیہ) اور مسلم کی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہماری صفوں کو اس طرح برابر اورسیدھا فرماتے تھے ۔ کہ حتیٰ کہ ایسے معلوم ہوتا کہ اگر آپ ان کے ساتھ تیروں کو سیدھا فرما رہے ہیں ۔ اور آپ صفیں سیدھی فرماتے رہے حتیٰ کہ آ پ نے محسوس فرما لیا ۔ کہ ہم نے آپ سے یہ مسئلہ سمجھ لیا ہے ۔ پھر ایک روز آپ تشریف لائے اور( مصلے پر ) کھڑے ہو گئے ۔ قریب تھا کہ آپ تکبیر ( اللہ اکبر) فرماتے ' آپ نے اچانک ایک آدمی کو دیکھا کہ اس کا سینہ باہر نکلا ہو ا ہے ۔ آپ نے فرمایا :'' اللہ کے بندو!تم اپنی صفیں ضرور سیدھی کر لو ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے درمیا ن اختلاف پید افر مادے گا ۔''(یعنی تمہارے چہروں کو بدل دے گا ۔ ) توثیق الحدیث: أخرجہ البخاری(٢/٢٠٦۔٢٠٧۔فتح)'ومسلم(٤٣٦) ' والروایۃ الثانیۃ عندمسلم(٤٣٦) |
|
|
|
|
|
#7 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر ١٦١۔
ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں کہ رات کے وقت مدینے میں ایک گھر اپنے مکینو ںسمیت جل گیا 'جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان کے بارے میں بتا یا گیا ۔ تو آپ نے فر مایا:'' یہ آگ تمہاری دشمن ہے ۔ لہٰذا جب تم سونے لگو تو اسے بجا دیا کرو۔''(متفق علیہ) توثیق الحدیث:أخرجہ البخاری(١١/٨٥۔فتح) 'ومسلم(٢٠١٦) |
|
|
|
|
|
#8 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
ۤحدیث نمبر ١٦٢
ابو موسیٰ رضی اللہ عنہسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر مایا:'' اللہ تعالیٰ نے جس ہدایت او ر علم کے ساتھ مجھے بھیجا ہے ۔ اس کی مثال بارش کی مانند ہے ۔ جو زمین پر بر ستی ہے ۔ اس زمین کا کچھ حصہ تو اچھا تھا ۔ اس نے پانی کو جذب لیا او ر اس نے گھاس اور بہت سا سبزہ اگا یا جبکہ اس زمین کا ایک حصہ سخت تھا ، اس نے پانی کو اپنے اندر جذب تو نہیں کیا بلکہ روک لیا ۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعے لوگوں کو فائدہ پہنچایا ' انھوں نے ا س سے پیا پلایا اورکھیتوں کو سیلاب کیا 'اس زمین کا ایک ٹکڑ ا ایسا بھی تھا کہ وہ صرف چٹیل میدا ن تھا ' وہ پانی روکتا تھانہ گھا س اُ گا تا تھا ۔پس یہ مثال اس شخص کی ہے ۔ جس نے اللہ کے دین میں سمجھ بوجھ حاصل کی اور اللہ تعالیٰ نے جس علم کے ساتھ مجھے معبوث فرمایا اس سے نفع اٹھایاخود بھی اس علم کو سیکھااو ر دوسروں کو سکھایا اور ( یہ دوسری ) مثال اس شخص کی ہے جس نے اس ( ہدایت اور علم ) کی طرف اپنا سر بھی نہیں اٹھایا ( یعنی توجہ ہی نہیں کی ) اور اللہ تعالیٰ کی اس ہدایت کو قبول بھی نہیں کیا جس کےساتھ مجھے بھیجا گیا ۔'' (متفق علیہ) (فقہ )قاف کے پیش کے ساتھ مشہور ہے ، بعض کے نزدیک قاف کے زیر کے ساتھ ہے ، اس کا معنی ہے کہ وہ فقیہ ہو گیا ۔ توٖثیق الحدیث:أخرجہ البخاری(١/١٧٥۔فتح)ومسلم(٢٢٨٢) |
|
|
|
|
|
#9 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر ١٦٣۔
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:'' میری اورتمہاری مثال اس ایک آدمی جیسی ہے ۔ جس نے آگ جلائی تو پتنگے اور پر وانے اس میں گرنے لگے اور وہ ان کو اس ( آگ) سے دور ہٹا تاہے ۔ اور میں بھی تمہاری کمر سے پکڑ پکڑ کر تمہیں آگ سے بچا رہا ہوں۔ لیکن تم میرے ہاتھوں سے چھوڑتے جاتے(اور آگ میں گر تے جاتے ) ہو''۔ (مسلم) توثیق الحدیث:أخرجہ مسلم(٢٢٨٥) |
|
|
|
|
|
#10 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر١٦٤۔
جابر رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ( کھانے کے بعد)انگلیاں اورپیالہ ،پلیٹ چاٹنے کا حکم دیا اور فرمایا :'' تم نہیں جانتے کہ اس میںسے کس میں برکت ہے ۔ '' ( مسلم) اورمسلم کی ہی ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا :'' جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اسے چاہیے کہ اسے اٹھا لے ۔ اور اس کے سا تھ لگی ہوئی مٹی وغیرہ کو صاف کر کے کھا لے ' اسے شیطان کے لیے نہ چھوٹے اور اپنے ہاتھ کو رومال وغیرہ سے صاف نہ کرئے ۔ حتیٰ کہ اپنی انگلیو ں وغیرہ کو چاٹ لے 'کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے ۔ '' اورمسلم کی ہی ایک اور روایت میں ہے ۔ :'' شیطان تمہارے پاس ہر چیز میں حاضر ہوتا ہے ۔ حتیٰ کہ وہ کھانے کے وقت بھی حاضر ہوتا ہے ۔ اگر تم میں کسی کا لقمہ گر جائے تو وہ اس کے ساتھ لگی ہوئی مٹی وغیرہ کودور کرکے ( یعنی اسے صاف کرلے )کھا لے اور اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑدے ۔'' توثیق الحدیث:أخرجہ مسلم(٢٠٣٣)'والروایۃ الثانیۃ عندہ (٢٠٣٣)(١٣٤)'والروایۃ الثالثۃ عندہ (٢٠٣٣)(١٣٥) |
|
|
|
|
|
#11 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر١٦٥۔
ابن عباس رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں وعظ ونصیحت فرمانے کےلئے کھڑے ہوئے تو فرمایا:'' اے لوگو! تم اللہ تعالیٰ کی طرف ننگے پاؤں ، ننگے بدن اورغیر مختو ن پیدا کیے جاؤ گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:'' جس طرح ہم نے پہلی مرتبہ تخلق کی 'ہم اسے دوبارہ لوٹا ئیں گے 'یہ ہماراوعدہ ہے ۔ ہم یقینا پورا کرنے والے ہیں ۔ (الاانبیاء :١٠٣)سنو! روز قیامت سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جائے گا ۔ اور سنو! میری امت کے کچھ لوگ لائے جائیں گے 'انہیںبائیں جانب(یعنی جہنم کی طرف) لے جایا جائے گا ۔ تومیں کہوں گا :اے میرے رب ! یہ تو میرے ساتھی ہیں ۔ مجھے بتایاجائےگا آپ کومعلوم نہیں کہ انھوں نے آپ کے بعد دین میں کیا کیا بد عتیں جاری کی تھیں ' پھرمیں بھی کہوں گا جیسے اللہ کے نیک بندے ( عیسٰی ؑ )نے کہا '' میں ان پر گواہ رہا جب تک ان میں موجود رہا اور جب آ پ نے مجھے بلا لیا تو آپ ہی ان پر نگران تھے اورآپ ہر چیز پر گواہ ہیں ۔ اگر آپ ان کوعذاب دےںتو یہ آپ ہی کے بندے اور اگر انہیں بخش دیں ۔ تو یقینا آپ غلبے والے حکمت والے ہیں ۔'' ( سورۃ: المائدۃ:١١٧۔١١٨)پھر مجھے بتا یا جائے گا ۔ کہ یہ لوگ دین اسلام سے مرتد ہوتے رہے ۔ جب سے آپ ان سے جدا ہو گئے تھے ۔'' (متفق علیہ) توثیق الحدیث:أخرجہ البخاری(٦/٢٨٦/٣٨٧۔فتح)'ومسلم(٢٨٦٠)(٥٨) |
|
|
|
|
|
#12 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر١٦٦۔
ابو سعید عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خذ ف( انگلی اورانگوٹھے سے کنکری پھینکنے )سے منع فرمایاہے فر مایا:'' بے شک وہ کنکری شکار کو قتل کرتی ہے ۔ نہ دشمن کو زخمی ' البتہ وہ آنکھ کو پھوڑ دیتی ہے اور دانت کو توڑ دیتی ہے ۔'' ( متفق علیہ) ایک اور روایت میں ہے ۔ کہ ابن مغفل رضی اللہ عنہ کے قریبی رشتہ دار نے انگلی پر کنکری رکھ کر چلائی تو انہوں نے اسے اس کام سے روکا اور کہا کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس طرح کنکری پھینکنے سے منع فر مایا ہے ' آپ نے فر مایا:'' یہ کسی شکار کا شکار نہیں کرتی ۔ '' اس ( رشتہ دار)نے پھر کنکری پھینکی تو انھوں ( ابن مغفل رضی اللہ عنہ)نے فرمایا:میں تجھے بتا رہاہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس طرح کنکری پھینکنے سے منع فرمایاہے اورتم پھر یہ پھینک رہے ہو ! میں تجھ سے کبھی کلام نہیں کرو نگا ۔ توثیق الحدیث:أخرجہ البخاری(١٠/٥٩٩۔ فتح)'و مسلم ( ١٩٥٤)'والروایۃالثانیۃعند مسلم(١٩٥٤)(٥٦) |
|
|
|
|
|
#13 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر١٦٧۔
عابس بن ربیعہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو حجرِاسود کوبوسہ دیتے ہوئے دیکھا اور وہ فرمارہے تھے :میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے ' تو نفع دے سکتا ہے نہ نقصان پہنچا سکتاہے اور اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی تجھے بو سہ نہ دیتا ۔( متفق علیہ) توثیق الحدیث:أخرجہ البخاری(٣/٤٧٥۔فتح)'و مسلم(١٢٧٠) |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کمر, وصیت, لوگ, محبت, معلوم, آدمی, اکبر, ایمان, اللہ, امیر, اسلام, بہترین, حکم, حدیث, حسن, خوش, دل, رات, شخص, عمران, صاف, صحیح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|