![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اللہ تعالیٰ نے فر مایا:'' اور وہ ( اللہ کے بندے ہیں ) جو کہتے ہیں ۔ کہ اے ہمارے رب ! ہمیں ایسی بیویاں اور اولاد عطا فرما ' جو آنکھوں کی ٹھنڈک ہوں اور ہمیں متقیوں کے لیے پیشوا بنا''( سورۃ الفرقان:٧٣)
اوراللہ تعالیٰ نے فرمایا:'' اور بنا یا ہم نے ان کو پیشوا ، وہ ہمارے حکم کے ساتھ لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں ۔'' ( سورۃ الأنبیاء :٧٣) |
|
|
|
|
|
#2 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر١٧١۔
حضر ت ابو عمرو جریربن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ( ایک دفعہ)ہم دن کے شروع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس تھے کہ اتنے میں آپ کے پاس کچھ ایسے لوگ آئے جو ننگے بدن تھے ' وہ صرف دھاری دا رچادریں یا کمبل ( اوپر) ڈالے ہوئے تھے ۔ اورگلوں میں تلواریں لٹکائے ہوئے تھے ۔ ان میں سے اکثر مضر قبیلے سے تھے بلکہ وہ سب ہی مضر قبیلے سے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب ان کی اس فاقہ زدہ حالات کو دیکھا تو آپ کا چہرہ ( غم سے ) متغیر ہو گیا' آ پ ( پریشانی کے عالم میں ) گھر کے اندر تشریف لے گئے اور پھر باہر آئے ' پس آ پ نے بلا ل رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انھوںنے اذان دی پھر انھوں نے اقامت کہی ' آپ نے نماز پڑھائی پھر خطاب فرمایا' آپ نے فرمایا:'' اے لوگو! اپنے اس رب سے ڈر وجس نے تمہیں ایک جان سے پید ا فر مایا...........'' سورئہ نساء کی پہلی آیت مکمل تلاوت فرمائی 'اس کے بعد سورئہ حشرکی آیت تلاوت فرمائی ۔ :'' اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور ہر نفس کو چا ہیے کہ اس نے کل ( قیامت ) کے لیے جو آگے بھیجا ہے اسے دیکھے گا ۔''( خطبے کا سننا تھا کہ ) کسی نے دینا ر صدقہ کیا اور کسی نے درہم ' کوئی کپڑے لے کر آرہا ہے اور کوئی گندم کا صاع اور کوئی کھجور کا صاع پیش کررہا ہے ۔ پھر آ پ نے مزیدترغیب د یتے ہوئے فرمایا:'' ( صدقہ کرو) خواہ آدھی کھجور ہی کیو ں نہ ہو۔'' پس انصارمیں سے ایک شخص ایک تھیلی لے کر آیا ( جو اس قدر بھاری تھی )کہ اس کی ہتھیلی اسے اٹھانے سے عاجز آرہی تھی بلکہ عاجز ہو چکی تھی ۔ پھر لوگوں کا تانتا بندھ گیا ۔ یہاں تک کہ میں نے خوراک اور کپڑوں کے دو ڈھیر دیکھے اور پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرئہ انور کودیکھا 'وہ اس طرح چمک رہا تھا ۔ گو یا کہ وہ سونے کی ڈلی ہو ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:'' جس شخص نے اسلام میں کوئی اچھاطریقہ جاری کیا تو اس کےلئے اس کا اپنا اجر اور ان تما م لوگوںکا اجر ہوگا ۔ جو اس کے بعد اس پر عمل کریں گے بغیر اس کے کہ ان کے اجروں میں کوئی کمی کی جائے او رجس نے اسلام میں کوئی برُ اطریقہ جاری کیا تو اس پر اس کے اپنے گنا ہ کا بوجھ اور ان کے گناہوںکا بوجھ ہو گا ۔ جو اس پر اس کے بعد عمل کریں گے ' بغیر اس کے کہ ان کے گناہوں کے بوجھ میں کوئی کمی کی جائے۔'' ( مسلم) توثیق الحدیث :أخرجہ مسلم(١٠١٧) |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
جزاک اللہ بھائی
|
|
|
|
|
|
#4 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
عبداللہ حیدر بھائی اک سوال میرے ذہن میں آیا ھے کہ اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا '' جس شخص نے اسلام میں کوئی اچھاطریقہ جاری کیا تو اس کےلئے اس کا اپنا اجر اور ان تما م لوگوںکا اجر ہوگا ۔ جو اس کے بعد اس پر عمل کریں گے بغیر اس کے کہ ان کے اجروں میں کوئی کمی کی جائے او رجس نے اسلام میں کوئی برُ اطریقہ جاری کیا تو اس پر اس کے اپنے گنا ہ کا بوجھ اور ان کے گناہوںکا بوجھ ہو گا ۔ جو اس پر اس کے بعد عمل کریں گے ' بغیر اس کے کہ ان کے گناہوں کے بوجھ میں کوئی کمی کی جائے۔'' کیا یہ فرمان قیامت تک آنے والی تمام امت کے لئے ھے یا پھر صرف صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم کے لئے ھے؟ اک بات اور بھی ھے، حدیث کا مفہوم " نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے اور صحابہ رضی اللہ عنہ کے طریقے کو اپنانے والا حق پر ھے" اور خلفہ راشدین کی پیروی کرنے کا تو باقائدہ حکم ھے احادیث میں،تو ایسا کام جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذندگی میں نہیں کیا لیکن خلفہ راشدین نے کیا وہ تو دین کا حصہ بھی ھے اور حق بھی ھے، قرونِ اولین کے بعد تو کسی کا بھی جاری کیا ھوا نیا طریقہ بدعت میں شمار ھوگا ناں؟
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
|
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
حضور
کی احادیث اورقرآن قیامت تک کیلیئےہیں نہ کہ صرف صحابہ کےدور تک یہ حدیث بھی قیامت تک کےلیئےہےپس جس نےکوئی نیاطریقہ ایجاد کیااور وہ مخالف نہ ہو دین کےاسکا ثواب شروع کرنےوالےکوآخری عمل کرنےوالےتک ملےگااللہ کی رحمت محدود نہیں ہیکہ وہ صحابہ کوثواب دیدےاورہم گنھگاروں کوثواب سےمحروم رکھے تو ثابت ہوا عبدواللہ بھائی کی اس پیش کردہ حدیث سےکہ نئی ایجاد نیاطریقہ جوکہ خلافِ اسلام نہ ہوہردورمین قابلِ قبول اورثواب کاپیش خیمہ ہے
__________________
شائد کہ تِرےدل میں اترجائےمِری بات! |
|
|
|
|
|
#6 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
ایک حدیث یہ بھی ھے جناب ویرانی ، کیا اس حدیث پر بھی آپ عمل کرنا پسند فرمائیں گے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد جس نے ہمارے اس دین میں ( اپنی طرف سے ) کوئی نئی بات ایجاد کی جو اس میں سے نہیں ، تو وہ مردود ہے ۔ صحيح بخاري ، كتاب الصلح ، باب : اذا اصطلحوا على صلح جور فالصلح مردود ، حدیث : 2737 صحیح مسلم ، كتاب الاقضية ، باب : نقض الاحكام الباطلة ورد محدثات الامور ، حدیث : 4590 |
|
|
|
|
| sahj کا شکریہ ادا کیا گیا | نورالدین (10-03-10) |
|
|
#7 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,235
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
امت کا اجتماع اس بات پر بھی ہے کہ جو منع کیا گیا ہے وہ حرام ہے۔ اور جس کے بارے میں کوئی واضح حکم نہ ہو اس کو حلال تصور کیا جائے۔
والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
| منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا | muhammad asif virani (28-07-09) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
- حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُوسَى، بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ وَأَبِي الضُّحَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلاَلٍ الْعَبْسِيِّ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ، اللَّهِ قَالَ جَاءَ نَاسٌ مِنَ الأَعْرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَيْهِمُ الصُّوفُ فَرَأَى سُوءَ حَالِهِمْ قَدْ أَصَابَتْهُمْ حَاجَةٌ فَحَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ فَأَبْطَئُوا عَنْهُ حَتَّى رُئِيَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ - قَالَ - ثُمَّ إِنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ جَاءَ بِصُرَّةٍ مِنْ وَرِقٍ ثُمَّ جَاءَ آخَرُ ثُمَّ تَتَابَعُوا حَتَّى عُرِفَ السُّرُورُ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ سَنَّ فِي الإِسْلاَمِ سُنَّةً حَسَنَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا وَلاَ يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَىْءٌ وَمَنْ سَنَّ فِي الإِسْلاَمِ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كُتِبَ عَلَيْهِ مِثْلُ وِزْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا وَلاَ يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَىْءٌ " .
MUSLIM HADETH NO 6975 یہ اس حدیث کا عربی متن ھے جناب جس کا غلط ترجمع اور غلط تشریح کر کر کے بعض افراد اپنی بدعات کو جائز قرار دینے کی ناکام کوشش کر رھے ھیں اور یہ ناکام ھی رہیں گے ،انشاء اللہ میں دعوت دیتا ھو تمام مسلمان مومنین کو کہ اس حدیث میں "بدعت حسنہ" کا لفظ دکھائیں جس کا ترجمہ صاحبان نے اچھی بدعت کیا ھے؟ بس جھوٹی تشریح اور جھوٹے ترجمہ پر قائم عقائد کبھی بھی سچے ثابت نہیں ھو سکتے Last edited by sahj; 27-07-09 at 05:26 PM. |
|
|
|
| sahj کا شکریہ ادا کیا گیا | نورالدین (10-03-10) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
ـ حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلاَ تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي، وَمَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لاَ يَتَمَثَّلُ فِي صُورَتِي، وَمَنْ كَذَبَ عَلَىَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ".
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس نے جان بوجھ کر میری جانب جھوٹ منسوب کیا ، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے ۔ صحیح بخاری كتاب العلم باب : اثم من كذب على النبي صلى اللہ عليه وسلم حدیث : 110 Last edited by sahj; 27-07-09 at 04:24 PM. |
|
|
|
|
|
#11 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,975
کمائي: 276,905
شکریہ: 33,226
12,661 مراسلہ میں 37,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ساھج بھائی
آپ اپنا موقف اچھے الفاظ میں بھی پیش کرسکتے ہیں اس طرح کا طنزیہ الفاظ کا استعمال مناسب نہیں ہے اقتباس:
اس طرح کے روئے کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاسکتی امید ہے برا مانے بغیر میری بات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے شکریہ
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,975
کمائي: 276,905
شکریہ: 33,226
12,661 مراسلہ میں 37,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جی بھائی
جسکا کام اسی کو ساجھے ![]() میں تو خود ترجمے کا منتظر ہوں ویسے بھی میں عربی زبان کی زیادہ شدبد نہیں رکھتا آپ کا شکریہ جو آپ نے بات کو سمجھا اب ایک مہربانی اور کردیں اقتباس:
مشکور رہونگا اس فورم کو ساری دنیا میں پڑھا جاتا ہے مناسب اور تہزیبی گفتگو آپ کی شخصیت کے بارے میں اچھی رائے قائم کرنے کا ساتھ ساتھ قاری کو آپکے موقف پر ایک مثبت احساس بھی دیتی ہے کچھ زیادہ لکھنے کی معذرت |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() |
حدیث کا ترجمہ کرنا آپ پر ادھار ھے فیصل ناصر صاحب۔۔۔۔
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, فورم, پوسٹ, پسند, لوگ, نیا طریقہ, نماز, مکمل, معذرت, ایمان, اللہ, اسلام, بھائی, جھوٹ, حکم, حدیث, حضرات, درخواست, شخص, عالم, غم, صحیح, صحابہ, صدقہ, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|