![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اللہ تعالیٰ نے فر ما یا :'' کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی کہ جس میں نصیحت پکڑ لے جس نے نصیحت پکڑنی ہو ااورتمہارے پاس یاد د ہانی کرانے والا ، ڈرانے والا بھی آیا ۔'' ( سو رۃ فاطر :٣٧)
ابن عبا س رضی اللہ عنہ اور محققین کے نزدیک اس کا معنی ہے کہ کیا ہم نے تمہیں سا ٹھ سال کی عمر نہیں دی تھی ؟ اور اس معنی کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جسے ہم ان شاء اللہ بیان کریں گے ۔ بعض نے کہااس کے معنی اٹھارہ سال اور بعض نے کہا چالیس سال ہیں ' یہ قول حسن بصری ۔ محمد بن سائب کلبی اور اما م مسروق کا ہے اور یہ قول ابن عبا س رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے اور انھوں نے نقل کیا ہے کہ اہل مدینہ میں سے جب کوئی شخص چالیس سال کی عمر کو پہنچ جاتا تو وہ اپنے آپ کو عبادت کےلئے فارغ کر لیتا اور بعض کے نزدیک اس سے مراد بلوغت کی عمر ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے فر مان :'' تمہارے پاس ڈرانے والا آیا '' کے بارے میں ابن عبا س رضی اللہ عنہ او ر جمہور نے کہا ہے کہ اس سے مرا د نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں ۔ بعض نے کہاکہ اس سے مراد '' بڑھاپا'' ہے ' یہ قول عکر مہ اور ابن عینیہ وغیرہ کا ہے ۔ اللہ اعلم ۔ |
|
|
|
| عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | لاسلکی (28-06-08) |
|
|
#2 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر ( ١١٢)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر ما یا :'' اللہ تعالیٰ کے اس آدمی کے لئے کو ئی عذر باقی نہیں چھوڑا جس کی مو ت کو اس نے مؤخر کیا حتی ٰ کہ وہ ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ گیا ۔''( بخاری) علماء نے بیان کیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ جب اس کو اتنی مدت تک مہلت دی جائے تو پھرا س کے پاس کوئی عذر باقی نہیں رہتا ۔ توثیق الحدیث : أخرجہ البخاری (١١/٢٣٨۔فتح) |
|
|
|
| عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | لاسلکی (28-06-08) |
|
|
#3 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر (١١٣)
ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ مجھے غزوئہ بدر میں شریک ہونے والے اکابر صحابہ کرام کے ساتھ اپنی مجلس میں شریک فر ماتے ' اس سے بعض نے اپنے دل میںبرا محسوس کیا اور کہا کہ یہ ہمارے ساتھ کیوں مجلس میں شریک ہوتا ہے ۔ حالانکہ اس جیسے ( اس کے ہم عمر ) تو ہمارے بیٹے ہیں ؟ عمر رضی اللہ عنہ نے فر ما یا:'' ان کا جو مقام ہے اسے تم جانتے ہی ہو۔ پس انھوں ( عمر) نے ایک روز مجھے بلایا اور ان کبار صحابہ کرام کے ساتھ ہی مجلس میں شریک کیا ' میرا خیال ہے کہ آپ نے اس روز مجھے صرف اس لئے بلا یا کہ آپ انہیں میری قدر و منزلت او ر قابلیت ) دکھائیں ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا : تمہارا اللہ تعالیٰ کے اس فر مان : (اذاجاء نصراللَّہ والفتح)( جب اللہ تعالیٰ کی مدد او ر اس کی فتح آجائے ) کے متعلق کیا خیال ہے ؟ بعض نے کہا : ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کریں اور اس سے مغفر ت طلب کریں اور بعض خاموش رہے ' انھوں نے کچھ بھی نہ کہا ' پھر عمرنے مجھ سے کہا : اے ابن عباس ! کیا تم بھی اسی طرح کہتے ہو ؟ میں نے کہا : نہیں ' انھوں نے کہا: تو پھر تم کیا کہتے ہو؟ میں نے کہا : اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات ہے ' جس کی اللہ تعالیٰ نے آپ کے اطلاع دی ہے ( اذا جاء نصر اللَّہ والفتح)یہ آپکی وفات کی علامت ہے کہ جب یہ مدد اور فتح آجائے تو'' اپنے رب کی تسبیح اس کی خوبیوں کے ساتھ بیان کراور اس سے مغفرت طلب کر یقینا وہ بہت رجوع فر مانے والا ہے ۔'' پس عمر رضی اللہ عنہ نے فر ما یا : اس( سورت ) کے بارے میں میں بھی وہی کچھ جانتا ہوں جو تم بیان کر رہے ہو۔ ( بخاری ) توثیق الحدث: أخرجہ البخاری(٦/٦٢٨،فتح) |
|
|
|
|
|
#4 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر (١١٤)
عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ ( اذا جاء نصر اللہ والفتح )(سورئہ نصر) کے نازل ہونےکے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی ہر نماز میں یہ پڑھتے تھے ( سبحانک اللھم ربنا وبحمدک اللھم اغفرلی)'' پاک ہے تو اے ہمارے رب ! اپنی خوبیوں کے ساتھ اے اللہ !مجھے بخش دے ۔'' ( متفق علیہ) صحیحین میں عائشہ رضی اللہ عنہ ہی سے ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قرآن مجید کی تاویل کرتے ہوئے اپنے رکوع او ر سجدوں میں اکثر (( سبحانک اللھم ربناوبحمدک الھم اغفرلی))پڑھا کرتے تھے ۔ قرآن میں تاویل کرنے کا مقصد ہے قرآن کے حکم پر عمل کرتے ہوئے جو اس آیت میں ہے ۔ (فسبح بحمدربک واستغفرہ)اور مسلم کی ایک روایت میںہے کہ رسول اللہؐ اپنی وفات سے قبل اکثر یہ پڑھا کرتے تھے ((سبحانک اللھم وبحمدک استغفرک واتوب الیک ) عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول !یہ کیا ( نئے ) کلمات ہیں ۔ جنہیں میں آپ کو پڑھتے ہو ئے دیکھتی ہوں ؟ آپ نے فر مایا:'' میرے لیے میری امت میں ایک علامت مقر ر کی گئی ہے کہ جب میں اسے دیکھوں تو وہ کلما ت پڑھوں ( اذاجاء نصر اللَّہ والفتح )آخر سورت تک ۔'' مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اکثر یہ پڑھا کرتے تھے ۔ ( (سبحان اللہ وبحمد ک استغفر اللہ واتواب الیہ)) عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں آپ کو اکثر یہ پڑھتے ہوئے دیکھتی ہوں : ( سبحان اللہ وبحمدک استغفر اللہ والتوب الیہ )آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر مایا ـ'' میرے رب نے مجھے بتا یاہے کہ میں عنقریب اپنی امت میں ایک علامت دیکھوں گا پس جب میں اسے دیکھوں تو کثرت سے یہ پڑھوں ( سبحان اللہ وبحمد ہ استغفر اللہ واتوب الیہ)پس تحقیق میں نے وہ علامت دیکھ لی ہے ۔ ( اذا جاء نصر اللہ والفتح )یعنی مکہ او ر ( ورایت الناس ید خلون فی دین اللہ افواجا ) ( یعنی لوگوں کافوج درفوج اسلام میں داخل ہونا ) ''اس لیے میں (فسبح بحمدک واستغفر ہ) کے مطابق کثرت سے اپنے رب کی تسبیح وتحمید اوراستغفا رمیں مشغول رہتا ہوں ۔ توثیق الحدیث : أخرجہ البخای (٢/٢٨١۔فتح)' ومسلم (٤٨٣)(٢١٩)' والروایۃ الثانیۃ عند البخاری( ٢/٢٩٩۔فتح)' ومسلم(٤٨٤)' والروایۃ الثالثۃ عند مسلم ( ٤٨٣)(٢١٨)'والروایۃ الرابعۃلہ (٢٨٤)(٢٢٠) |
|
|
|
|
|
#5 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر( ١١٥)
انس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیا ن کرتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات سے قبل آپ پر کثر ت سے پے درپے وحی نازل فر مائی حتیٰ کہ آپ کی وفات کے وقت آپ پر پہلے سے کہیں زیادہ وحی نازل ہوئی۔ (متفق علیہ) توثیق الحدیث:أجرجہ البخاری(٩/٣۔فتح)'مسلم (٣٠١٦) |
|
|
|
|
|
#6 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
١١٦۔ جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر بندے کو اسی حالت پر اٹھایا جائے گا جس پر اس کو موت آئے ہو گی۔ (مسلم)
توثیق الحدیث :أخرجہ البخاری(٢٨٧٨)۔ |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| پاک, قرآن, نماز, مکہ, موت, مجید, آدمی, اللہ, اسلام, حکم, حدیث, حسن, دل, سال, شخص, عبادت, صحابہ, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| کم وقت میں زیادہ سے زیادہ دھاگوں تک رسائی کیسے ممکن ہو | بزم خیال | تجاویز اور شکایات | 15 | 25-11-11 09:40 PM |
| منتظر الزیدی پر تشدد کرکے زبردستی وزیراعظم کے نام معافی نامہ لکھوایا گیا ۔ عودے الزیدی | چیتا چالباز | خبریں | 4 | 02-08-11 11:06 PM |
| بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے آئر لینڈ کے مزید دو سینئر پادری مستعفی | گوہر | گپ شپ | 1 | 27-12-09 04:04 AM |
| نہ جانے ظرف زیادہ تھا کم یا انا زیادہ تھی | The Great | احمد فراز | 0 | 28-08-09 10:00 PM |
| کمر اور جوڑوں کے درد میں مبتلا افراد کو کام میں زیادہ سے زیادہ مصروف رہنا چاہئے | وجدان | دلچسپ اور عجیب | 2 | 05-11-08 02:50 AM |