واپس چلیں   پاکستان کی آواز > سائنس اور ٹیکنالوجی > دیگر تحقیقات



دیگر تحقیقات دیگر تحقیقات


چاند کی تسخیر کے بارے میں چند مغالطے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 24-09-09, 04:46 PM   #1
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Sep 2009
مقام: سعودی عرب
مراسلات: 91
کمائي: 3,759
شکریہ: 107
79 مراسلہ میں 306 بارشکریہ ادا کیا گیا
طارق اقبال کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Thumbs up چاند کی تسخیر کے بارے میں چند مغالطے

چاند کی تسخیر کے بارے میں چند مغالطے

ایسے میں جب کہ دنیا بھر میں چاند پر پہلے انسانی قدم کی چالیسویں سالگرہ منائی جارہی ہے،بعض حلقے چاند کی تسخیر پر سوالات بھی اٹھا رہے ہیں۔ شکوک وشبہات کا یہ سلسلہ نیا نہیں ہے بلکہ یہ 20 جولائی 1969ء کو اسی وقت سامنے آنا شروع ہوگئے تھے جب دنیا بھر میں ٹیلی ویژن پر نیل آرم سٹرانگ اور بز ایلڈرن کے چاند پر اترنے کے مناظر براہِ راست دکھائے جارہے تھے۔ چاند کی تسخیر پر اٹھائے جانے والے چند اہم اعتراضات کیا ہیں اور فلکیات کے ماہرین ان کے بارے میں کیا کہتے ہیں، آئیے دیکھتے ہیں۔

1۔ جب خلاباز چاند پر امریکی پرچم لگا رہے تھے تو وہ لہرا رہا تھا جب کہ چاند پر تو ہوا ہے ہی نہیں؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ پرچم ایک نازک سی المونیم کی سلاخ کے ساتھ نصب کرکے اس پول کے ساتھ لگایا گیا تھا جسے چاند کی سطح میں گاڑھنا تھا۔ سلاخ لگانے کا مقصد یہ تھا کہ پرچم کھلا رہے کیونکہ چاند پر ہوا کی عدم موجودگی میں وہ کھلی حالت میں نہیں رہ سکتاتھا۔جب پرچم کے پول کو چاند کی سطح میں گاڑھا جارہا تھا تو اس وقت المونیم کی سلاخ میں ہلکی سی تھرتھراہٹ پیدا ہوئی۔چونکہ چاند کی کشش ثقل زمین کے مقابلے میں بہت کم ہے، اس لیے وہ تھرتھراہٹ پول نصب کیے جانے کے کچھ دیر بعد بھی جاری رہی۔ جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ گویا پرچم ہوا سے لہرا رہا ہے۔

2۔ چاند کی سطح پر کھڑے ہوکر اپالو کے خلابازوں نے جو تصویریں کھینچی تھیں، ان میں کہیں بھی ستارے دکھائی نہیں دے رہے تھے جب کہ پس منظر میں سیاہ آسمان دکھائی دے رہا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چاند گاڑی اس وقت اتری تھی جب قمری حساب سے دن کا وقت تھا اور سورج پوری طرح روشن تھا۔چنانچہ اس وجہ سے تصویر کھینچنے کے لیے کیمرے کے شٹر کی رفتار بہت زیادہ رکھی گئی تھی تاکہ کیمرے کے اندر کم سے کم روشنی داخل ہو اور زیادہ فاصلے پر واقع چیزوں کی تفصیلات سے گریز کیا جائے۔چاند پر اگرچہ ستارے کھلی آنکھ سے تو دیکھے جاسکتے ہیں لیکن وہ اتنے روشن نہیں ہوتے کہ کیمرے کی اس سیٹنگ پر ان کی تصویریں کھینچی جاسکیں۔

3۔ چاند کی سطح پر اترتے وقت چاند گاڑی کی جو تصویریں کھینچی گئیں تھیں، ان میں اس جگہ پر کوئی گڑھا دکھائی نہیں دے رہا تھا جہاں چاندگاڑی اتری تھی۔

ماہرین کہتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ چاندگاڑی ایک چٹان پراتری تھی جس پر گرد کی ایک باریک تہہ تھی۔ اس لیے وہاں پر گڑھا پڑنے کا کوئی سوال نہیں تھا۔ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ جگہ نسبتاً کم سخت ہوتی تو بھی چاند کی سطح پر زمین کے مقابلے میں کشش ثقل کم ہونے کی وجہ سے اس جگہ پرچاند گاڑی کے اترتے اورپرواز کے وقت سطح پر پڑنے والا دباؤ زمین کے مقابلے میں بہت معمولی ہوتا ہے۔

4۔ چاند گاڑی کا وزن 17 ٹن تھا، لیکن پھر بھی چاند کی سطح پر اس کا کوئی نشان نہیں پڑا۔جب کہ اس کے قریب ہی خلابازوں کے قدموں کے نشان ریت پر صاف دکھائی دے رہے تھے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ چاند گاڑی اترنے کے بعد ایک سخت چٹان پر پوری طرح ٹک گئی۔چاند کی سطح پر مٹی کی ایک باریک تہہ ہے۔ چاند گاڑی کے اترتے وقت سطح پر ہلکا سا جھٹکا لگنے کے بعد اڑنے والی گرد فوراً واپس بیٹھ گئی۔ اور جب خلابازوں نے چاند کی سطح پر اپنی چہل قدمی شروع کی تو ان کے قدموں کے نیچے وہی اڑ کر سطح پر بیٹھی ہوئی مٹی موجو د تھی۔جس کی وجہ سے تصویروں میں ان کے قدموں کے نشان ظاہر ہوئے۔

5۔ چاند پر جہاں نہ تو نمی ہے، نہ ہی کوئی فضا ہے اور نہ ہی زیادہ کشش ثقل ہے، پھر بھی اس کی مٹی پر قدموں کے نشان غیر متوقع طورپر بہت اچھی طرح کیوں محفوظ ہوگئے گویا وہ کسی گیلی ریت پر بنے ہوں؟

ماہرین کہتے ہیں کہ چاند کی سطح پر ہوا کی عدم موجودگی کا مطلب یہ ہے کہ چاند کی باریک خشک مٹی پر قدموں کے جو نشان پڑیں گے، وہ اس طرح غائب نہیں ہوں گے جس طرح کہ زمین پرایسے ہی نشان ہوا سے غائب ہوجاتے ہیں۔

6۔ جب چاند گاڑی ایگل نے چاند کی سطح پر سے پرواز کی تو اس کے راکٹ سے کوئی بھی شعلہ نکلتا دکھائی نہیں دیا۔جب کہ راکٹ کے اڑتے ہوئے اس میں سے شعلہ ضرور نکلتا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ چاندگاڑی کے راکٹ انجن میں ایک خاص قسم کا ایندھن استعمال کیا گیاتھا جو ہائیڈرا زین (hydrazine)اور ڈائی نائٹروجن ٹیٹرو آکسائیڈ(dinitrogen tetroxide) کا آمیزہ تھا۔ یہ ایندھن جب جلتا ہے تو اس کا شعلہ دکھائی نہیں دیتا۔

7۔ چاند کی سطح پر چہل قدمی کرتے ہوئے خلابازوں کی فلم کو اگرآپ تیز رفتار سے چلائیں تو وہ ایسا دکھائی دیتا ہے گویا اس کی فلم بندی زمین پر کی گئی تھی اور پھر اس فلم کی رفتار کم کردی گئی تھی۔

ماہرین کہتے ہیں کہ بظاہر یہ بات کچھ درست دکھائی دیتی ہے لیکن حقیقت یہ نہیں ہے۔
8۔ خلابازوں کو چاند کے اس سفر میں زمین کے اردگرد واقع ایک انتہائی تابکار دائرے وان ایلن(Van Allen) سے گذرنا پڑا جہاں سے ان کا زندہ بچ کر زمین پر واپس آجانا ممکن نہیں ہوسکتا تھا۔

ماہرین کہتے ہیں کہ یہ اعتراض زیادہ تر ایک روسی خلاباز کے دعویٰ کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خلائی جہاز بہت کم وقت میں اس دائرے سے گذرا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ خلاباز،ایک محفوظ خلائی جہاز کے اندر موجودتھے، اس لیے ان پر تابکاری کے اثرات بہت ہی معمولی ہوئے ہوں گے۔

9۔ چاند سے لائے جانے والے پتھر بالکل انٹارکٹیکا میں سائنسی تحقیقات کے دوران اکٹھے کیے جانے والے پتھروں جیسے ہیں؟

ماہرین کہتے ہیں کہ زمین پر چاند کے کچھ پتھر ملے ہیں لیکن وہ سب کے سب خشک اور جلی ہوئی حالت میں ہیں اور ان پر آکسیجن کے اثرات موجود ہیں، جیسا کہ شہاب ثاقب کے زمین کے مدار میں داخل ہونے کے وقت ہوتا ہے۔ ارضیات کے ماہرین مکمل یقین کے ساتھ یہ تصدیق کرچکے ہیں کہ اپالو 11 کے ذریعے لائے گئے پتھر لازمی طور چاند ہی سے لائے گئے ہیں۔

10۔ چاند کی سطح پر تمام کے تمام چھ مشن نکسن انتظامیہ کے دور میں ہوئے۔ 40 سال کے دوران ٹیکنالوجی میں ہونے والی تیز تر ترقی کے باوجود کسی اور قومی لیڈر نے کبھی بھی خلابازوں کے چاند پر اترنے کا دعویٰ نہیں کیا ہے۔

نیل آرم سٹرانگ چاند کی سطح پر امریکی پرچم نصب کرنے کے بعد


ماہرین کہتے ہیں کہ یہ اس حوالے سے اٹھایا جانے والا سب سے عام اعتراض ہے۔ کیونکہ اس کے لیے کسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہے اور اس کا مقصد صرف رچرڈ نکسن کے دورِصدارت پر انگلی اٹھانا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ اپالو کی چھ پروازوں کے بعد چاند کو سرکرنے کی دوڑ جیتی جاچکی تھی اور اس مہم کے لیے فنڈز ختم ہوگئے تھے۔ سابق سویت یونین کو اس دوڑ میں کروڑوں ڈالر خرچ کر کے دوسری پوزیشن حاصل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی اور دونوں جانب کے سیاست دانوں کو یہ احساس ہوگیا تھا کہ زمین کے نچلے مدار کےمشن، چاند پر جانے کی نسبت فوجی اور تجارتی لحاظ سے کہیں زیادہ فائدہ مند ہیں۔

یہ سب باتیں اپنی جگہ لیکن چاند کی تسخیر کے بارے میں غالباً سب سے دل چسپ اعتراض کسی شخص نے یہ کیا تھا کہ یہ لوگ چودھویں کے چاند پر گئے تھے، ہم تو جب مانیں گے اگر پہلی کے چاند پر اتر کر دکھائیں۔

ہمارا خیال ہے کہ ناسا کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہو گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔

ماخذ
چاند کی تسخیر کے بارے میں چند مغالطے | سائنس و صحت | اردو

چاند پر انسانی قدم، حقیقت یا ڈرامہ | سائنس | Deutsche Welle | 20.07.2009
طارق اقبال آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے طارق اقبال کا شکریہ ادا کیا
shafresha (24-09-09), یاسر عمران مرزا (16-10-10), محمدمبشرعلی (13-06-10), مرزا عامر (16-10-10), wajee (24-09-09), عروج (16-10-10)
پرانا 24-09-09, 05:33 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,407
کمائي: 85,623
شکریہ: 4,982
4,949 مراسلہ میں 11,252 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت عمدہ معلومات پیش کی ہے ابھی جیو پر خبر آ رہی تھی کہ بھارتی سائنسدان نے چاند کی سطح پر پانی بھی تلاش کر لیا ہے اب ان سے پوچھوں کہ جو چاند پر گے تھے انہیں پانی کیوں نہیں ملا

جیو پر ہی جیومینڑی آئی تھی جس میں ثابت کیا تھا کہ ابھی تک کوئی بھی چاند پر نہیں پہنچ سکا سب جھوٹ ہے
__________________
Life is a gift given to us by Allah.Death is a gift returned to Allah.
wajee آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا
shafresha (17-10-10), محمدمبشرعلی (13-06-10), عروج (16-10-10)
پرانا 24-09-09, 06:59 PM   #3
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,396
کمائي: 261,218
شکریہ: 51,152
7,458 مراسلہ میں 21,729 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

چاند کی تسخیر کی موافقت اور مخالفت دونوں ہی پر مظبوط مواد موجود ہے، لہذا یہ بحث عبث ہے!
shafresha آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
یاسر عمران مرزا (16-10-10), عروج (16-10-10)
پرانا 16-10-10, 06:32 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 39
مراسلات: 3,699
کمائي: 42,837
شکریہ: 11,456
2,252 مراسلہ میں 5,179 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بھئی ،انڈیا کہیں کچھ بھی ممکن کرسکتا ھے۔ کشمیر میں انتخابات کا ڈھونگ بھول گئے؟
عروج آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
عروج کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (17-10-10)
جواب

Tags
com, facts, health, قدم, لوگ, مکمل, ممکن, متوقع, world, انتظامیہ, اردو, تلاش, جواب, جلتا, رفتار, سفر, سیاست, سالگرہ, ستارے, شخص, عدم, غائب, صاف, صحت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
تسبیح محبت سیپ شاعری اور مصوری 1 13-01-11 08:51 PM
ایک سردار جی کا امرتسر میں انتقال ہوگیا The Great قہقہے ہی قہقے 1 08-09-09 08:30 PM
ایک پہلوان امرتسر سے ٹرین میں The Great قہقہے ہی قہقے 1 08-09-09 08:27 PM
قومی احتساب بیورو سندھ کے ڈائریکٹر جنرل آج چارج چھوڑ دیں گے عبدالقدوس خبریں 0 16-04-08 07:56 AM
ادارہ محتسب سندھ، ایک سال میں 1393 شکایات کا ازالہ کیا گیا خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-01-08 11:12 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:18 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger