واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > شعر و شاعری > دیوان غالب



دیوان غالب کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا نقش فریادی ہےکس کی شوخئ تحریر کا مرزہ اسد اللہ خان غالب صاحب کی شاعری


ہے غنیمت کہ بہ امید گزر جائے گی عمر

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 06-10-09, 11:50 PM   #1
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,407
کمائي: 85,623
شکریہ: 4,982
4,949 مراسلہ میں 11,252 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ہے غنیمت کہ بہ امید گزر جائے گی عمر

ہے غنیمت کہ بہ امید گزر جائے گی عمر

ہے غنیمت کہ بہ امید گزر جائے گی عمر
نہ ملے داد‘ مگر روزِ جزا ہے تو سہی

غیر سے‘ دیکھیے‘ کیا خوب نباہی اس نے
نہ سہی ہم سے‘ پر اس بت میں وفا ہے تو سہی

نقل کرتا ہوں اسے نامۂ اعمال میں میں
کچھ نہ کچھ روزِ ازل تم نے لکھا ہے تو سہی

کبھی آ جائے گی‘ کیوں کرتے ہو جلدی غالبؔ!
شہرۂ تیزیِ شمشیرِ قضا ہے تو سہی
__________________
Life is a gift given to us by Allah.Death is a gift returned to Allah.
wajee آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
وفا, غنیمت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:57 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger