| دیوان غالب کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا نقش فریادی ہےکس کی شوخئ تحریر کا مرزہ اسد اللہ خان غالب صاحب کی شاعری |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,568
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
وفورِ عشق نے کاشانہ کا کیا یہ رنگ
کہ ہو گۓ مرے دیوار و در در و دیوار نہیں ہے سایہ، کہ سن کر نوید مَقدمِ یار گۓ ہیں چند قدم پیشتر در و دیوار ہوئی ہے کس قدر ارزانئ مۓ جلوہ کہ مست ہے ترے کوچے میں ہر در و دیوار جو ہے تجھے سرِ سوداۓ انتظار، تو آ کہ ہیں دکانِ متاعِ نظر در و دیوار ہجومِ گریہ کا سامان کب کیا میں نے کہ گر پڑے نہ مرے پاؤں پر در و دیوار وہ آ رہا مرے ہم سایہ میں، تو ساۓ سے ہوۓ فدا در و دیوار پر در و دیوار نظر میں کھٹکے ہے بِن تیرے گھر کی آبادی ہمیشہ روتے ہیں ہم دیکھ کر در و دیوار نہ پوچھ بے خودئِ عیشِ مَقدمِ سیلاب کہ ناچتے ہیں پڑے سر بسر در و دیوار نہ کہہ کسی سے کہ غالبؔ نہیں زمانے میں حریف رازِ محبت مگر در و دیوار |
|
|
|