| دیوان غالب کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا نقش فریادی ہےکس کی شوخئ تحریر کا مرزہ اسد اللہ خان غالب صاحب کی شاعری |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,566
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
درد مِنّت کشِ دوا نہ ہوا
میں نہ اچھا ہوا، برا نہ ہوا جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو اک تماشا ہوا، گلا نہ ہوا ہم کہاں قسمت آزمانے جائیں تو ہی جب خنجر آزما نہ ہوا کتنے شیریں ہیں تیرے لب ،"کہ رقیب گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا" ہے خبر گرم ان کے آنے کی آج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا کیا وہ نمرود کی خدائی تھی؟ بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا زخم گر دب گیا، لہو نہ تھما کام گر رک گیا، روا نہ ہوا رہزنی ہے کہ دل ستانی ہے؟ لے کے دل، "دلستاں" روانہ ہوا کچھ تو پڑھئے کہ لوگ کہتے ہیں آج غالبؔ غزل سرا نہ ہوا! |
|
|
|