| دیوان غالب کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا نقش فریادی ہےکس کی شوخئ تحریر کا مرزہ اسد اللہ خان غالب صاحب کی شاعری |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,568
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ایک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب
خونِ جگر ودیعتِ مژگانِ یار تھا اب میں ہوں اور ماتمِ یک شہرِ آرزو توڑا جو تو نے آئینہ، تمثال دار تھا گلیوں میں میری نعش کو کھینچے پھرو، کہ میں جاں دادۂ ہوائے سرِ رہگزار تھا موجِ سرابِ دشتِ وفا کا نہ پوچھ حال ہر ذرہ، مثلِ جوہرِ تیغ، آب دار تھا کم جانتے تھے ہم بھی غمِ عشق کو، پر اب دیکھا تو کم ہوئے پہ غمِ روزگار تھا |
|
|
|