واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > میرا پاکستان > دیس ہوئے پردیس



دیس ہوئے پردیس دیس ہوئے پردیس


مغرب میں مقیم مسلمانوں کو درپیش چیلنج

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 26-01-09, 03:27 PM   #1
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,262
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default مغرب میں مقیم مسلمانوں کو درپیش چیلنج

مغرب میں مقیم مسلمانوں کو درپیش چیلنج

مسائل انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہیں ۔ اور جب تک دنیا قائم ہے مسائل سے پیچھا نہیں چھڑایا جا سکتا۔
ہر معاشرے کے اپنے مسائل ہیں
مغرب میں مقیم مسلمانوں کے لئے جہاں اور بے شمار مسائل ہیں ان میں وقت کی کمی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ کیوں کہ وہاں کے معیار کےمطابق زندگی گزارنے کےلئے ہر آدمی کو کام کرنا پڑتا ہے نتیجتا والدین اپنے بچوں کو مطلوبہ اور توجہ نہیں دے سکتے۔
بچے کی پہلی تربیت گاہ ماں کی گود ہے اور اس وقت جس انداز میں تربیت کی جائے اسی پر شخصیت کی تعمیر ہوتی ہے۔
بچے چوں کہ والدین کی توجہ سے محروم ہیں‌۔ والدین ان کو اسلامی تہذیب سے روشناس نہیں کر وا سکتے جس کی وجہ سے وہاں‌بسنے والے مسلمان اس کلچر اور تہذیب میں گھل مل جاتےہیں۔
تو اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ مغرب میں مقیم مسلمانوں کو سب بڑا درپیش چیلنج "تہذیبی ارتداد " ہے۔
اس حوالے سے مسلمانوں کو ایسے ادارے قائم کرنے چاہییں جو مغربی اداروں کے نعم البدل ثابت ہو سکیں ۔
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
bas_tera_intazar (29-01-09), Kamran_Tabasum (24-08-09)
پرانا 28-01-09, 11:25 PM   #2
Senior Member
 
ماسٹر مقسود's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: Germany
مراسلات: 244
کمائي: 5,308
شکریہ: 243
175 مراسلہ میں 383 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: مغرب میں مقیم مسلمانوں کو درپیش چیلنج

مغرب میں‌متبادل ادارے کھولنا بہت مشکل امر ہے ، ویسے بھی کہاں کہاں یہ ادارے کھولیں گے ، مسلمان تو ہر طرف بکھرے ہوے ہیں -
میرے خیال میں تو عام اداروں میں تعلیم حاصل کرنے میں کوئ حرج نہیں کیونکہ رہنا بھی تو اس معاشرہ ہی میں ہے ۔
ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ سکول کے زمانہ سے ہی والدین گھر پر ساتھ ساتھ تربیت کیا کریں ۔اس سے بچوں میں خوداعتمادی پیدا ہوتی ہے اور وہ معاشرے کا مقابلہ خود کرنے کے قابل بن جاتے ہیں ۔
ماسٹر مقسود آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ماسٹر مقسود کا شکریہ ادا کیا
bas_tera_intazar (29-01-09), Kamran_Tabasum (24-08-09), راجہ اکرام (29-01-09)
پرانا 29-01-09, 11:02 AM   #3
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,262
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: مغرب میں مقیم مسلمانوں کو درپیش چیلنج

آپ نے بجا فرمایا
لیکن میری مراد تعلیمی ادارے نہیں‌بلکہ ایسے تربیتی مراکز جہاں بچہ اسکول سے پہلے کا زمانہ گزارتا ہے۔
یا اسکول کے بعد کا وقت۔۔
کیوں کہ والدین کے پاس تو اتنا وقت ہی نہیں کہ وہ انہیں بنیادی اسلامی روایات کی گھٹی پلا سکیں
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
bas_tera_intazar (29-01-09), Kamran_Tabasum (25-08-09)
پرانا 29-01-09, 02:18 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مراسلات: 665
کمائي: 7,263
شکریہ: 0
370 مراسلہ میں 826 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: مغرب میں مقیم مسلمانوں کو درپیش چیلنج

صحیح ، والدین کی صحیح سر پرستی نہ ہونے کے سبب مشرقی مسلمان غربت اور مغربی مسلمان بدمعاشی کا شکار ہیں!
arifkarim آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے arifkarim کا شکریہ ادا کیا
bas_tera_intazar (29-01-09), Kamran_Tabasum (24-08-09)
پرانا 31-01-09, 05:39 AM   #5
Senior Member
 
ماسٹر مقسود's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: Germany
مراسلات: 244
کمائي: 5,308
شکریہ: 243
175 مراسلہ میں 383 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: مغرب میں مقیم مسلمانوں کو درپیش چیلنج

تربیت کا بنیادی فرض والدین کا ہی ہوتا ہے ، کیونکہ وہی بچے کے لیے پہلا نمونہ اور پہلے استاد ہوتے ہیں۔ اگر گھر کا ماحول باہر سے حاصل کی ہوی تربیت سے مختلف ہو گا تو بچے کو یا تو گھر سے نفرت ہو جاے گی یا اس میں دوگلا پن آ جاے گا ۔
ماسٹر مقسود آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
ماسٹر مقسود کا شکریہ ادا کیا گیا
Kamran_Tabasum (24-08-09)
پرانا 21-08-09, 02:38 AM   #6
Senior Member
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,081
کمائي: 110,123
شکریہ: 12,556
4,514 مراسلہ میں 15,389 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rajaikram مراسلہ دیکھیں
مسائل انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہیں ۔ اور جب تک دنیا قائم ہے مسائل سے پیچھا نہیں چھڑایا جا سکتا۔
ہر معاشرے کے اپنے مسائل ہیں
مغرب میں مقیم مسلمانوں کے لئے جہاں اور بے شمار مسائل ہیں ان میں وقت کی کمی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ کیوں کہ وہاں کے معیار کےمطابق زندگی گزارنے کےلئے ہر آدمی کو کام کرنا پڑتا ہے نتیجتا والدین اپنے بچوں کو مطلوبہ اور توجہ نہیں دے سکتے۔
بچے کی پہلی تربیت گاہ ماں کی گود ہے اور اس وقت جس انداز میں تربیت کی جائے اسی پر شخصیت کی تعمیر ہوتی ہے۔
بچے چوں کہ والدین کی توجہ سے محروم ہیں‌۔ والدین ان کو اسلامی تہذیب سے روشناس نہیں کر وا سکتے جس کی وجہ سے وہاں‌بسنے والے مسلمان اس کلچر اور تہذیب میں گھل مل جاتےہیں۔
تو اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ مغرب میں مقیم مسلمانوں کو سب بڑا درپیش چیلنج "تہذیبی ارتداد " ہے۔
اس حوالے سے مسلمانوں کو ایسے ادارے قائم کرنے چاہییں جو مغربی اداروں کے نعم البدل ثابت ہو سکیں ۔
آپ کی انفارمیشن میں کوئی صداقت نہیں۔
کنعان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
Kamran_Tabasum (24-08-09), راجہ اکرام (21-08-09)
پرانا 21-08-09, 09:42 AM   #7
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,262
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
آپ کی انفارمیشن میں کوئی صداقت نہیں۔
السلام علیکم و رحمۃ اللہ کنعان بھائی

میر معلومات ذاتی تجربے کی بنیاد پر نہیں بلکہ کتابی ذریعے سے ہیں، اس میں اگر صداقت نہیں تو آپ درست صورتحال سے آگاہ کر دیجئے۔
ہم نے جو پڑھا سنا اس کا خلاصہ تو یہی نکلتا ہے

محتاج دعا
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
Kamran_Tabasum (24-08-09)
پرانا 21-08-09, 07:44 PM   #8
Senior Member
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,081
کمائي: 110,123
شکریہ: 12,556
4,514 مراسلہ میں 15,389 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم راجہ صاحب

آپ کا جواب پڑھ کے بہت خوشی ہوئی نہیں تو یہاں جو بھی بندہ جب کوئی دھاگہ بناتا ھے وہ نہ جانتے ہوئے بھی بضد ہوتا ھے کہ اس نے جو لکھا ھے وہ پتھر پر لکیر ھے۔ کوئی اپنے دوستوں ، رشتہ داروں کی مثالیں دیتا ھے تو کوئی کچھ ۔
ایک بار پھر آپ کے خوش اخلاقی سے جواب پوچھنے پر آپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے آپ کو کچھ انفارمیشن مہیا کرنے کی کوشش کرتا ہوں اگر آپ کے دل میں کوئی بھی سوال کٹھک رہا ہوں تو آپ بلا جھجک پوچھ سکتے ہیں۔


مغرب ممالک میں مسلمانوں کو کسی بھی قسم کی مشکلات کا سامنا نہیں ھے سب آرام کی زندگی گزار رہے ہیں۔

میں یو۔ کے میں ہوں اسی لئے میں آپ کو یو۔کے کی انفارمیشن دے دیتا ہوں۔

ہر فیملی کو بچوں کے 2 قسم کے بینیفٹ ملتے ہیں وہ بچوں کی 18 سال کی عمر تک ملتے رہتے ہیں۔ اور اگر بچے 18 سال سے زیادہ کی عمر میں پہنچتے ہیں تو وہ اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتے ہیں تو ان بینیفٹ کے ساتھ تعلیم کے بینیفٹ بھی شروع ہو جاتے ہیں۔ اور یونیورسٹی میں جانے سے سکالر شپ ، بینک لون، یونیورسٹی لون بھی ملتا ھے بغیر سود کے آرام سے، تعلیم مکمل کرنے کے بعد اگر بچے کو نوکری ملتی ھے اور اس میں اس کی تنخواہ سال کی 25000 پونڈز سے زیادہ ھے تو وہ لون ادا کرنا ہوتا ھے ہفتہ کی قسط 5 پونڈ کروا لو کوئی زبردستی نہیں۔ اور اگر 25000 پونڈز سے کم کی نوکری ملتی ھے تو وہ لون نہیں دینا پڑتا۔ یونیورسٹی کا لون ادا کرنے کے وقت 1000 پونڈز کی ڈسکونٹ ہے۔


اس ملک میں جب بندہ نوکری پر ہوتا ھے تو 100 پونڈر پر 5۔17 ٹیکس دینا پڑتا ھے اور جب بندے کی نوکری چھوٹ جائے تو اس کی بھی کوئی مشکل نہیں اسی دن سے بےروزگارہ الاؤنس ملنا شروع ہو جات ھے اور اگر وہ کونسل کے گھر میں رہتا ھے تو اس کا کرایہ اور گھر کا ٹیکس بھی گورنمنٹ دیتی ھے ، یعنی کل کی کوئی فکر نہیں ھے۔

اب بہت پاکستانی اس ملک میں خود بھی کام کرتے ہیں اپنی بیوی سے بھی کام کرواتے ہیں اور بچوں سے بھی، اس کو آپ ان کی مجبوری سمجھ لیں یا لالچ سمجھ لیں مگر مجھے ان کی کوئی ضرورت نہیں میں اکیلا ہی کام کرتا ہوں اور تنخواہ بھی ماشا اللہ بہت اچھی ھے اور کوئی لالچ بھی نہیں۔
بیوی صبح کام پر جاتی ھے کام کیا کرتی ہیں، سٹوروں میں پیکنگ، فیکٹریوں میں سلائی کا، پاکستانی ریسٹورنٹوں میں کھانا بنانے کا وغیرہ وغیرہ
جب بیوی گھر آتی ھے تو شام کو خاوند حضرات ٹیکسی چلاتے ہیں ، حلال گوشت کی فکٹریوں میں، رات کو ٹیک اوے میں وغیرہ وغیرہ کام کرتے ہیں۔
دونوں میں سے ایک بچوں کی دیکھ بال کے لئے گھر ضرور رہتا ھے۔
اب آپ خود سوچیں اتنا کچھ ملنے کے بعد بیوی کو کام کرنے کا کوئی جواز باقی رہ جاتا ھے کیا ۔


بچوں کو دینی تعلیم کے لئے جتنا ان ملکوں میں دینی تعلیم پر زور دیا جاتا ھے شائد ہی پاکستان میں ہو۔
3:00 بجے سکولوں سے بچوں کو چھٹی ہوتی ھے اور 4:30 بجے پورے یو۔ کے کی ہر مسجد میں قرآن کی تعلیم عربی میں دی جاتی ھے جس جگہ پر مسجدیں دور ہوتی ہیں وہاں گھروں میں پاکستانی عورتیں قرآن کی تعلیم دیتی ہیں۔ ہر مسلمان کا بچہ یہاں قرآن مجید عربی میں ہی سیکھتا ھے۔
ایک بات ذہن نشین رکھیں کہ پاکستانی بہت غیرت مند قوم ھے دنیا کے جس بھی حصے میں ہو اپنا تہذیب تمدن ، دین و دانش پر قسم کی تعلیم اپنے بچوں کو دلواتا ھے۔


اب کچھ مشکلات ہمارے لوگوں کی خود کی پیدا کی ہوئی ہیں یو۔ کے گورنمنٹ کی طرف سے کوئی مشکلات کا سامنا نہیں ھے
مثلاً برائی تو سب جگہ ھے پاکستان میں بھی بہت ھے اب یہاں کچھ لوگ جو خود کسی بری صحبت میں پڑے ہوتے ہیں تو پھر ان کی گھریلو زندگی بھی خراب ہو جاتی ھے۔ اس میں کسی کا کوئی قصور نہیں ، ان کا اپنا پیدا کیا ہوا نظام ہوتا ھے۔


-----------------------------------

اب جو آپ نے انفارمیشن لکھی ہیں ان کی بھی ایک وجہ میں آپ کو بتا دیتا ہوں
مغرب ممالک میں پکڑ پکڑائی والا نظام نہیں جب تک کوئی رپورٹ نہ کرے،
پاکستان سے سب یہاں وزٹ ویزہ پر آتے ہیں اور اپنے اور بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح یہاں لیگل ہو جائیں اور جب وہ ان حربوں کو آزما آزما کے ناکام ہو جاتے ہیں تو پھر میاں بیوی دونوں کام کرتے ہیں یا اگر کوئی اکیلا آیا ہوا ھے تو بھی آرام سے اللیگل کام کرتے ہیں اور اپنا وقت پورا کرتے ہیں اور انتظار میں رہتے ہیں کہ شائد گورنمنٹ کوئی سکیم کھولے اور وہ لیگل ہو جائیں خیر یہ بہت لمبا پروسیس ھے 10 ، 10 سال سے فیملیاں لے کے یہاں بیٹھے ہوئے ہیں مگر کوئی کامیابی نہیں، تو ایسے لوگوں کے لئے اس ملک میں بہت مشکلات ہیں لیکن وہ عرب ملکوں سے پھر بھی 100 درجے اچھے ہیں کیونکہ ان کو یہاں سے نکلنے کا کوئی خطرہ نہیں۔ یہاں اللیگل امیگرینٹ بچوں کو بھی تعلیم فری ملتی ھے۔ لیکن ان کو کسی بھی قسم کی کوئی سپورٹ نہیں ملتی کیونکہ ان کے پاس اللیگل سٹیٹس ہوتا ھے۔


یہ ایک لنک دے رہا ہوں اس میں آپ پورے یو۔ کے میں ہر شہر میں پاکستانی مسجدیں دیکھ سکتے ہیں یہ صرف پاکستانیوں کی مسجدیں ہیں

Welcome to The Muslim Directory +++ The Essential Guide of services for the Muslim Community

ان کے علاوہ بنگالی، انڈین، ترکی، شمالی، عراقی، ایرانی، وغیرہ وغیرہ مسجدیں بھی ہیں

--------------------------------------------

ہر کالج اور یونیورسٹی میں جہاں مسلم سٹوڈنٹ پڑھتے ہیں وہاں کالج/ یونی والوں نے مسلمانوں کی نماز پڑھنے کے لئے ایک بڑا حال روم وقف کیا ہوتا ھے ، اور جمعہ کی نماز کے لئے ان کو 12 بجے سے 2 بجے تک اوف ہوتی ھے

پاکستان میں کبھی ہم نے کسی کالج میں نماز پڑھنے والا پرے روم نہیں دیکھا ہوا۔

یہ تھا مختصر سا جواب آپ کوئی بھی اس پر یا کسی بھی قسم کا کراس کویسچن کر سکتے ہیں


والسلام
کنعان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
Kamran_Tabasum (24-08-09), راجہ اکرام (22-08-09)
پرانا 22-08-09, 11:53 AM   #9
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,262
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت خوب برادرم
واقعی بہت اچھی معلومات دی ہیں اور انداز بھی اچھا ہے
لیکن اس کے باوجود صرف پاکستانی ہی نہیں بلکہ دیگر ممالک کے مسلمان بھی وہاں رہ کر اپنی تہذیب سے وہ وابستگی نہیں رکھ سکتے
رہن سہن، طور طریقے، اوڑھنا بچھونا، پہننے کے انداز، اور نہ جانے کیا کیا بدل جاتا ہے

اسی لئے بعض لوگ اس تہذہبی ارتداد سے خائف ہیں

اللہ ہمیں نیک بننے اور نیکی پھیلانے کی توفیق عطا فرمایے
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
Kamran_Tabasum (24-08-09), کنعان (22-08-09)
پرانا 22-08-09, 06:02 PM   #10
Senior Member
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,081
کمائي: 110,123
شکریہ: 12,556
4,514 مراسلہ میں 15,389 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم

برادر میں آپ کو کتنے بھی اچھے طریقے سے سمجھانے کی کوشش کروں لیکن آپ پھر بھی نہیں سمجھ سکو گے کیونکہ آپ کے ذہن میں یا دوسرے بھی جو پاکستان میں ہیں ان کے ذہنوں میں جو کنسیپٹ ھے وہ بن دیکھے کا ھے۔
ایک بار پھر تھوڑی کوشش کرتا ہوں۔ یا تو آپ اپنا ویو جو آپ کے مائنڈ میں کوئی غلط فہمی کا شکار ھے وہ بتائیں تو شائد کچھ جاننے کا موقع ملے۔

دیکھیں یہاں پر دنیا داری کی تمام ضروریات کا وقت شام 5 بنے تک کا ھے۔ اس کے بعد 6 بجے کلبوں کا وقت شروع ہو جاتا ھے۔

پاکستانی بہت غیرت مند قوم ھے کوئی بھی فیملی یا اس کے بچے شام کو 5 بجے کے بعد گھروں سے باہر نہیں نکلتے اور نہ ہی کوئی ضرورت ھے۔

برائی پاکستان میں بھی کچھ کم نہیں ھے۔ کچھ لوگ جو اپنی کمزوریوں کی وجہ سے برائی میں ملوث ہوتے ہیں تو ان پر اس کا برا اثر ضرور پڑتا ھے یا ایک خاص قسم بھی ھے اس کے لئے آپ کو کچھ بھی سمجھ نہیں آئے گی اگر میں بتانا بھی چاہوں تو کیونکہ اس کو سمجھنے کے لئے آپ کو اور بھی بہت کچھ بتانا ہو گا۔
اسی لئے یہیں تک ٹھیک ھے جو آپ کی دھاگہ سے ریلیٹڈ ھے۔

اگر آپ کو آپ کے کسی رشتہ دار نے کچھ ایسا بتایا ھے تو آپ وہ کہو میں اس کے بارے میں آپ کو انفارمیشن ضرور دوں گا۔

یہاں پر کوئی فیشن نہیں ھے، کوئی رہن سہن نہیں بدلتا، کوئی اوڑھنا بچھونا، کوئی پہننے کا انداز نہیں بدلتا۔

یہاں پر بھی لوگ بیڈ پر گدا دال کے سوتے ہیں
پاکستانی/انڈیں سٹوروں سے اوڑھنا بچھونا خریتے ہیں کیونکہ وہاں سے سستا مل جاتا ھے
جنہوں نے پیوں کی سیونگ کرنی ھے وہ پاکستان سے ہی کپڑے منگواتے ہیں
طور طریقہ صرف یہ بدلتا ھے کہ ڈسپلن سیکھتے ہیں ۔ اپنا کام خود کرنا ھے لیکن سب نہیں کچھ کچھ ۔

اب اگر آپ کا کوئی رشتہ دار نے پاکستان آ کے آپ کے ساتھ اپنی عزت بچانے کے لئے جھوٹ بولے ہوئے ہیں تو ان کے بارے میں لکھیں میں وہ بھی بتانے کی کوشش کروں گا

والسلام
کنعان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
Kamran_Tabasum (24-08-09), راجہ اکرام (22-08-09)
پرانا 22-08-09, 06:12 PM   #11
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,262
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

برادرم السلام علیکم
میں ایک بار پھر آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں
پیارے بھائی میں آپ کی بات سمجھ چکا ہوں اور مجھے فخر ہے کہ آپ اور آپ جسیے دیگر پاکستانی اپنے ملک و ملت اور مذہب کے ساتھ مخلص ہیں اور میں تو یہ کہنے میں بالکل عار محسوس نہیں کرتا کہ آپ مجھ سے بہتر ہیں

لیکن یہاں تہذیبی ارتداد کی جو بات ہو رہی ہے وہ میں آپ کو ایک طبقے کی رائے سے آگاہ کر رہا ہوں۔

میں آپ کی باتوں سے بالکل متفق ہوں ، آپ ہر گز یہ مت سمجھیں کہ آپ نےسمجھانے میں کوئی کسر چھوڑی ہے
اللہ آپ کو جزائے خیر دے
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
Kamran_Tabasum (24-08-09), muhammad asif virani (22-08-09), کنعان (22-08-09), ماسٹر مقسود (24-08-09)
پرانا 22-08-09, 09:40 PM   #12
Senior Member
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,081
کمائي: 110,123
شکریہ: 12,556
4,514 مراسلہ میں 15,389 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rajaikram مراسلہ دیکھیں
برادرم السلام علیکم
اور میں تو یہ کہنے میں بالکل عار محسوس نہیں کرتا کہ آپ مجھ سے بہتر ہیں
اللہ آپ کو جزائے خیر دے
السلام علیکم برادر

میں آپ سے بہتر نہیں ہوں یہ آپ کی زرنوازش ھے ہم سب آپس میں بھائی ہیں اور ایک دوسرے کی ضرورت ہیں۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
Kamran_Tabasum (24-08-09), راجہ اکرام (22-08-09)
پرانا 24-08-09, 01:28 AM   #13
Senior Member
 
ماسٹر مقسود's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: Germany
مراسلات: 244
کمائي: 5,308
شکریہ: 243
175 مراسلہ میں 383 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : arifkarim مراسلہ دیکھیں
صحیح ، والدین کی صحیح سر پرستی نہ ہونے کے سبب مشرقی مسلمان غربت اور مغربی مسلمان بدمعاشی کا شکار ہیں!
مجھے اس سے اتفاق نہیں -
کیونکہ پاکستان جا کر کچھ مختلف صورتحال سامنے آتی ہے ، جس کو یورپ سے جانے والے بچے بھی محصوص کرتے ہیں -
ماسٹر مقسود آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ماسٹر مقسود کا شکریہ ادا کیا
Kamran_Tabasum (24-08-09), فیصل ناصر (24-08-09)
پرانا 24-08-09, 01:49 AM   #14
Senior Member
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,081
کمائي: 110,123
شکریہ: 12,556
4,514 مراسلہ میں 15,389 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ماسٹر مقسود مراسلہ دیکھیں
مجھے اس سے اتفاق نہیں -
کیونکہ پاکستان جا کر کچھ مختلف صورتحال سامنے آتی ہے ، جس کو یورپ سے جانے والے بچے بھی محصوص کرتے ہیں -
السلام علیکم مقصود صاحب

راجہ صاحب کی آپ نے ساری پوسٹ نہیں پڑھیں انہوں نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ یہ جو انفارمیشن ھے وہ کتابوں سے اور سنی سنائی ھے۔ اگر آپ اس کی حقیقت بتا دین تو شکریہ

راجہ صاحب نے کوئی بھی بات سٹیپڈ نہیں کی جو انہوں نے سنا بیان کر دیا۔ جو مجھے انفارمیشن تھی وہ میں نے ان کو بتا دی اور وہ اس سے متفق بھی ہیں

والسلام
کنعان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
Kamran_Tabasum (24-08-09), ماسٹر مقسود (28-08-09), راجہ اکرام (25-08-09)
پرانا 24-08-09, 02:04 AM   #15
Senior Member
 
Kamran_Tabasum's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مقام: rawalpindi
مراسلات: 1,088
کمائي: 13,372
شکریہ: 12,431
974 مراسلہ میں 2,846 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rajaikram مراسلہ دیکھیں
مسائل انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہیں ۔ اور جب تک دنیا قائم ہے مسائل سے پیچھا نہیں چھڑایا جا سکتا۔
ہر معاشرے کے اپنے مسائل ہیں
مغرب میں مقیم مسلمانوں کے لئے جہاں اور بے شمار مسائل ہیں ان میں وقت کی کمی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ کیوں کہ وہاں کے معیار کےمطابق زندگی گزارنے کےلئے ہر آدمی کو کام کرنا پڑتا ہے نتیجتا والدین اپنے بچوں کو مطلوبہ اور توجہ نہیں دے سکتے۔
بچے کی پہلی تربیت گاہ ماں کی گود ہے اور اس وقت جس انداز میں تربیت کی جائے اسی پر شخصیت کی تعمیر ہوتی ہے۔
بچے چوں کہ والدین کی توجہ سے محروم ہیں‌۔ والدین ان کو اسلامی تہذیب سے روشناس نہیں کر وا سکتے جس کی وجہ سے وہاں‌بسنے والے مسلمان اس کلچر اور تہذیب میں گھل مل جاتےہیں۔
تو اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ مغرب میں مقیم مسلمانوں کو سب بڑا درپیش چیلنج "تہذیبی ارتداد " ہے۔
اس حوالے سے مسلمانوں کو ایسے ادارے قائم کرنے چاہییں جو مغربی اداروں کے نعم البدل ثابت ہو سکیں ۔
yesssssssssssssssss u right
Kamran_Tabasum آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے Kamran_Tabasum کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (24-08-09), راجہ اکرام (25-08-09)
جواب

Tags
color, فرض, کنعان, کالج, پاکستان, پاکستانی, نفرت, نماز, مقابلہ, ماں, مسائل, مسجد, معاشرہ, آدمی, اسلامی, استاد, بھائی, بچوں, تعلیم, جواب, زندگی, زمانہ, صورتحال, صحیح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
مغربی ممالک خیراتی کاموں میں پیش پیش۔ ابن جمال متفرقات 0 07-02-11 02:42 PM
ہاکی کے ”گلابوں “ کا پیر محل میں منوں پھولوں سے استقبال جاویداسد خبریں 1 20-12-10 07:51 PM
’جانوروں کے ناپید ہونے میں شکار اہم‘ وجدان دلچسپ اور عجیب 0 12-08-08 11:13 AM
لوگوں میں آسانیاں پیدا کرو ابو عمار علوم حدیث 1 18-06-08 11:00 AM
پیشہ ورگروہوں سے بچنے والے لڑکے لڑکیاں دوبارہ سمگل کرلئے جاتے ہیں خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-01-08 10:20 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:04 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger