مریخ!!!!!!!!
مریخ!!!!!!!!
ناسا ۔ مریخ کی سطح پر مٹی میں بظاہر ایسے اجزاء ضروری مقدار میں موجود ہیں جن سے زندگی کی نشو نما ہو سکے۔ ناسا کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کم سے کم ایسپیراگس (موصلی سفید) تو شاید اس مٹی میں بچ جائے گا۔ فِینکس مارز لینڈر مِشن کی ابتدائی تحقیق سے معلوم ہوا ہے مریخ کی مٹی میں القلی کی شرح ماہرین کے اندازے سے زیادہ ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وہ ان نتائج سے حیرت زدہ رہ گئے ہیں۔ تازہ ترین تحقیق سے مریخ پر زندگی کے لیے سازگار حالات کی موجودگی کے امکان کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔ جامع ایرِیزونا کے سیم کوناویز نے جو اس منصوبے کے چیف کیمیادان ہیں کہا کہ ’ہمیں بنیادی طور پر ایسے عناصر ملے ہیں جو ماضی، حال یا مستقبل میں زندگی کی بقاء کے لیے ناگزیر ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ مٹی کے نمونوں پر مزید تجربات کرنے پڑیں گے لیکن یہ ’بہت سازگار ہے۔ اور اس میں کوئی زہریلی خصوصیت نہیں ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس طرح کی مٹی ہے جو آپ کو گھر کے پِچھواڑے میں مل سکتی ہے۔ مٹی میں نہ صرف تیزابیت اندازے سے کم ہے بلکہ اس میں میگنیشیم، سوڈیم، پوٹیشیم اور دیگر عناصر کے آثار موجود ہیں۔ مریخ کی مٹی کے بارے میں اس رپورٹ کی بنیاد مارز لینڈر کے مشینی بازو سے سیارے کی سطح سے ڈھائی سنٹی میٹر نیچے سے حاصل کی گئی ایک مکعب سنٹی میٹر مِٹی ہے۔ اس مٹی کو پھر زمین سے بھیجے گئے پانی میں مِلا کر خلائی مشین کے آٹھ میں سے ایک اوون میں گرم کیا گیا۔
نیویارک ۔ زمین پر کی جانے والی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ تقریباً چار ارب برس قبل مریخ سے ایک بہت بڑا سیارچہ ٹکرایا تھا، جس کی شدت کی وجہ سے مریخ کے دونوں نصف کرے ایک دوسرے سے مختلف ہو گئے ہیں۔ ماہرینِ فلکیات گذشتہ تیس برس سے یہ جانتے تھے کہ مریخ کے بڑے حصے میں اوپری سطح کی موٹائی 50 کلومیٹر سے کم ہو کر 20 کلومیٹر ہو جاتی ہے، اور دونوں حصوں کی مٹی کی خصوصیات بھی مختلف ہیں اور ان کے اندر پائی جانے والی مقناطیسیت بھی مختلف ہے۔ امریکہ کی ایم آئی ٹی یونی ورسٹی اور ناسا کے سائنس دانوں اس پتلی سطح والے حصے کا مشاہدہ کیا اور انھیں معلوم ہوا کہ یہ حصہ ساڑھے دس ہزار کلومیٹر لمبا اور ساڑھے آٹھ ہزار کلومیٹر چوڑا ہے۔ واضح رہے کہ چوں کہ مریخ زمین سے بہت چھوٹا ہے، اس لیے یہ رقبہ اس کی کل سطح کا 42 فی صد بنتا ہے۔ ایم آئی ٹی کے سائنس دان کہتے ہیں کہ مریخ پر دو مختلف قسم کی سطحوں کی صرف ایک ہی وجہ ہو سکتی ہے، اور وہ ہے کہ ایک بڑے سیارچے سے ٹکر۔کمپیوٹر ماڈل کی مدد سے اس سیارچے کی جسامت کا اندازہ 16 سوسے 27 سو کلومیٹر کے درمیان لگایا گیا ہے اور یہ تصادم کے وقت چھ سے لے کر دس کلومٹیر فی سیکنڈ کی رفتار سے حرکت کر رہا تھا۔یہ بات اتنی حیران کن نہیں ہے کہ مریخ سے اس قدر بڑا سیارچہ ٹکرایا ہو۔ اس زمانے میں نظامِ شمسی نیا نیا بنا تھا اور تمام اندرونی سیاروں پر شہابِ ثاقب اور دم دار ستاروں کی بم باری معمول کی بات تھی۔ لگ بھگ اسی زمانے میں زمین سے اس سے بھی بڑا سیارچہ ٹکرایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ہمارا چاند اسی ٹکراؤ کے نتیجے میں وجود میں آیا تھا۔
|