واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > گپ شپ > دلچسپ اور عجیب



دلچسپ اور عجیب کوئی بھی ایسی چیز جو دلچسپ اور عجیب ہو یہاں پوسٹ کریں


بہترین ماں کون ہے ؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 17-03-10, 05:15 PM   #46
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,585
کمائي: 157,656
شکریہ: 8,066
5,020 مراسلہ میں 19,297 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شاہ جی 90 مراسلہ دیکھیں
جیتی رہئیے بہنا
ہمیشہ خوش رہئیے
یہی بات ہم یہاں سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے
شاہ جی بھائی
آپ صرف اپنی اسی بہنا کو دعائیں دیں گے جو آپ کی بات سے متفق ہو
جس نے اختلاف کیا وہ دعاؤں سے بھی محروم ۔۔۔۔۔۔
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
کنعان (17-03-10), نورالدین (29-03-10), ام طلحہ (19-03-10), راجہ اکرام (18-03-10), شاہ جی 90 (17-03-10), عبداللہ حیدر (19-03-10)
پرانا 17-03-10, 10:03 PM   #47
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ام طلحہ مراسلہ دیکھیں
اف بھائی اب اپنی مختصر نویسی پر سر پیٹ لینے کو جی چاہ رہا ہے بار بار غلط فہمیاں جنم لے رہی ہیں۔اصل میں یہاں میں بہت عرصے سے ہوں اور اکثر بہن بھائی میرے بثوں کے بارے میں اچھی طرح جانتے ہیں اسلئے مجھے احساس ہی نہیں ہوتا کہ جو نہیں جانتے وہ غلط تاثر لے سکتے ہیں ۔میں یہی سوچ کر مبہم لکھ جاتی ہوں کہ سب کو سب پتہ ہے۔
تو میرے بھائی پہلی وضاحت یہ شاید آپ نے غور نہیں کیا کہ میں ام طلحہ ہوں، یعنی طلحہ کی ماں۔اس سے بڑی دو بیٹیاں ہیں۔ اب طلحہ کا ذکر اسلئے نہیں آیا کہ وہ ابھی بہت چھوٹا یعنی شیر خوار ہے۔ ابھی سمجھنے سمجھانے کی عمر میں نہیں آیا۔بچیوں کا ذکر یوں آیا کہ وہ بڑی ہیں سمجھدار، 9 سال اور 5 سال کی۔
اب انکے رونے کا ذکر انکے تکلیف میں رونے اور ماں کی ضرورت ہونے کے حوالے سے نہیں ہوا۔ بعض اوقات بچے ہر مطالبہ کیلئے رونے کے عادی ہو جاتے ہیں۔ اگر ہر جائز نا جائز مطالبہ رو کر منوانے کی عادت ہو جائے تو یہ بچے کے مستقبل کیلئے ٹھیک نہیں ہے، کم از کم میرے نزدیک۔دوسری بات کبھی کبھی بچے ذرا سا ہوا کا جھونکا لگنے پر بھی روتے ہیں۔اگر انکی اس بات پر حوصلہ افزائی کی جائے تو بڑے ہوکر زمانے کی گرمی سردی کیسے برداشت کریں گے، خاصکر بچیاں روتی دھوتی اچھی نہیں لگتیں۔ جو روتا ہے اسے سب رلاتے ہیں۔ انہیں آزمائشیں سہنے کی ہمت ہونی چاہئے۔
میری چھوٹی بیٹی جب نئی نئی سکول گئی تو گھر میں لاڈلی ہونے کے باعث سکول میں بات بے بات روتی تھی۔ تب طلحہ نہیں ایا تھا اور اسکا راج تھا۔بچوں نے اسکی عادت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے چڑانا شروع کر دیا اور یہ حال ہو گیا کہ کوئی بچہ چھو کر بھی بھاگ جائے تو وہ روتی رہتی تھی۔ میں نے اسی طرح اسکی عادت ختم کی کہ اگر بات بات پر روئے گی تو کوئی بات نہیں سنے گا۔نارمل بولو۔بہت مشکل تھا مگر اب وہ بچی خوش ہے اور سکول کے نمایاں بچوں میں سے ہے۔
اب اس بات میں اس کا بالکل دخل نہیں ہے کہ رونے دو خود ہی چپ ہو جائیں گی۔نہ ہی اس بات کا کہ بچیوں کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔خواتین کے استحصال کے اس زمانے میں میں اپنی بچیوں کو اعلیٰ ترین تعلیم یافتہ، پر اعتماد اور مضبوط دیکھنا چاہتی ہوں۔ روتی دھوتی کمزور بچیاں نہیں۔
ویسے آپس کی بات ہے، میں نے آج تک آپ کے بھائی صاحب کو بچوں کا کوئی کام ہاتھ نہیں لگانے دیا۔ حتیٰ کہ انکی پڑھائی بھی، آفس سے فارغ ہو کر میں خود ہی انہیں پڑھاتی ہوں۔ٹیوشن پر بھی بھروسہ نہیں کرتی۔آگے آپ جو بھی فیصلہ کر لیں کہ میں کیسی ماں ہوں۔ 
یہ تو وہ صفت ہے جو کہ ہر آئیڈیل ماں میں‌ہونی چاہئیے
شاہ جی 90 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا
کنعان (17-03-10), نورالدین (29-03-10), ام طلحہ (19-03-10), راجہ اکرام (18-03-10)
پرانا 17-03-10, 10:27 PM   #48
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
شاہ جی بھائی
آپ صرف اپنی اسی بہنا کو دعائیں دیں گے جو آپ کی بات سے متفق ہو
جس نے اختلاف کیا وہ دعاؤں سے بھی محروم ۔۔۔۔۔۔
ارررےےےےےےےےے
یہ کیا
دیکھئیے ہم پر اگر دعا نہ دینے کا الزام ہو تو بہت غلط ہو گا
ہماری تو ہر وقت کی دعائیں‌آپ کے ساتھہ ہیں انشااللہ
اللہ تعالی آپ کو ہمیشہ خوش رکھے کبھی کوئی پریشانی آپ کے قریب بھی نہ آئے ، اور آپ کی تمام حاجات و خواہشات اللہ تعالی پوری فرمائے آمین ثم آمین ۔
ویسے دعا سے ہمیں ایک واقعہ یاد آ گیا
نکاح کے بعد ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی اور ہمارے ذہن میں یہ خناس داخل ہو گیا کہ آپ کی بھابی " جو کہ اس وقت رخصت ہو کر ہمارے گھر نہیں آئی تھیں " ہماری ذمہ داری ہیں اس لیئے ہم انہیں گھر سے سکول اور سکول سے گھر ، یعنی ان کے گھر چھوڑنے جاتے تھے ، لیکن ہم بھول گئے تھے کہ ہمارے معاشرے کے دستور و رواج کچھہ اور کہتے ہیں ، کچھہ احساس تھا شاید اسی لیئے ہم ان کے ساتھہ نہیں چلتے تھے بلکہ بہت فاصلہ سے پیچھے پیچھے چلتے جاتے ، لیکن تاڑنے والے بھی قیامت کی نظر رکھتے ہیں ، اٹک کے باسیوں کی اکثریت نے ہمیں اس عمل میں مصروف دیکھا اور شہر میں چہ مگویاں شروع ہو گئیں ،
اس پر آپ کی بھابی نے ایک دن چلتے چلتے ہمارے ہاتھہ میں ایک رقعہ پکڑا دیا ، ہم نے انہیں سکول چھوڑا اور گورنمنٹ کالج اٹک کے لان میں اکیلے بیٹھہ کروہ رقعہ پڑھنا شروع کیا ، جیسے جیسے پڑھتے گئے ہمارا بلڈ پریشر بڑھتا گیا ، در اصل اس خط میں ہم سے یہی گزارش کی گئی تھی کہ ان کی اس شہر میں عزت ہے اور ہم ان کو جو سکول چھوڑنے اور لینے جاتے ہیں اس سے ان کی بدنامی ہو رہی ہے ، خدا اور رسول کے واسطے دے کر ہمیں کہا گیا تھا کہ ہم اس معمول سے باز آ جائیں ،
ہمیں غصہ تو بہت آیا ، لیکن ہم نے صبر کیا اور چپ سادھ لی ، نہ کوئی فون کیا اور نہ کسی اور زریعہ سے رابطے کی کوشش کی اس دوران جب دل بہت بے چین ہوا تو ہم نے غصے میں ایک غزل لکھہ ڈالی ۔
جب پندرہ بیس دن تک ہماری جانب سے بالکل خاموشی رہی تو آپ کی بھابی کو تشویش ہوئی اور انہوں نے اپنی ایک سہیلی کو ہمارے سٹور پر خیریت دریافت کرنے بھیجا ، ان کی بات سنتے ہی ، ہمیں‌تو پتنگے لگ گئے ، ہم نے ان کے سامنے ہی ایک پرچی پر دو شعر گھسیٹے جو کہ اسی غزل کے تھے اور پرچی فولڈ کر کے ان خاتون کے حوالے کر دی کہ یہی ہمارا جواب ہے ، جا کر ہماری " ان " کو دے دیجئیے گا ۔
شعر کچھہ یوں تھے
جو ٹوٹ جائے ، تعلق ، دعا بھی کیا دینا
نہیں کریں گے تمہیں ہم سلام آج کے بعد

ہمارے نام سے مجروح اب نہیں ہو گی
تمہاری ، عفت عالی مقام ، آج کے بعد

بس ان شعروں کا پہنچنا تھا کہ ہمیں ایک فون آیا اور پھر صرف اور صرف سسکیاں اور رونا ہی تھا جو کہ ہم نے قریب بیس منٹ تک سنا ، وہ دن اور آج کا دن ، ہم آپ کی بھابی سے ناراض ہونے کی جرات کبھی نہ کر سکے ۔
شاہ جی 90 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا
کنعان (17-03-10), نورالدین (29-03-10), ام طلحہ (19-03-10), سحر (17-03-10), عبداللہ حیدر (19-03-10)
پرانا 17-03-10, 11:12 PM   #49
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,080
کمائي: 110,096
شکریہ: 12,552
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ام طلحہ مراسلہ دیکھیں
اف بھائی اب اپنی مختصر نویسی پر سر پیٹ لینے کو جی چاہ رہا ہے بار بار غلط فہمیاں جنم لے رہی ہیں۔اصل میں یہاں میں بہت عرصے سے ہوں اور اکثر بہن بھائی میرے بثوں کے بارے میں اچھی طرح جانتے ہیں اسلئے مجھے احساس ہی نہیں ہوتا کہ جو نہیں جانتے وہ غلط تاثر لے سکتے ہیں ۔ میں یہی سوچ کر مبہم لکھ جاتی ہوں کہ سب کو سب پتہ ہے۔

ویسے آپس کی بات ہے، میں نے آج تک آپ کے بھائی صاحب کو بچوں کا کوئی کام ہاتھ نہیں لگانے دیا۔ حتیٰ کہ انکی پڑھائی بھی، آفس سے فارغ ہو کر میں خود ہی انہیں پڑھاتی ہوں۔ٹیوشن پر بھی بھروسہ نہیں کرتی۔ آگے آپ جو بھی فیصلہ کر لیں کہ میں کیسی ماں ہوں۔
 
السلام علیکم سسٹر

آپ بالکل فکر نہ کریں، کوئی غلط فہمی نہیں جنم لے رہی، بات سے بات ھے ایک دوسرے کے بارے میں جاننے کا موقعہ ملتا ھے اور دنیا کے حالات سے آگاہی ہوتی ھے اور جو اس سٹیج میں نہیں ہیں انہیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ھے۔

واقعی ہی میں آپ کے تو کیا کسی کے بارے میں بھی اتنا کچھ نہیں جانتا، رہی بات ام طلحہ یوزر نیم سے جاننے کی تو یوزر نیم سے بھی کوئی بات اس وقت تک کنفرم نہیں ہوتی جب تک جانی نہ جائے۔ الحمداللہ ، اللہ آپ کے بچوں کو فرمانبردار بنائے آمین۔

اب آتے ہیں اصل سٹوری کی طرف آپ نے یہ سٹوری لکھ کر سب کچھ آسان کر دیا۔
یہی بات میں بھی آپ کو سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا، بچوں کو رلا کر بہادر بنانے پر پہلے آپ نے قصہ تمام کر دیا تھا مگر جب میں نے اس پر تھوڑی ضرب لگائی تو آپ نے دوبارہ اس کی تفصیل بیان کر کے سب کچھ ثابت کر دیا کہ آپ بہت محبت کرتی ہیں اپنے بچوں سے ٹھیک اسی طرح بچے کو مالش کرنا یا الٹا سیدھا کرنا یا ویسے ہی الٹا سیدھا کرنا بچے سے نفرت ثابت نہیں کرتا۔

بچے سے نفرت کسی بھی صورت میں ثابت نہیں کی جا سکتی کیونکہ آپ اور سحر سسٹر اور دنیا کی ہر ماں عظیم ھے بس طریقہ کار سب کا الگ الگ ہوتا ھے، اگر کوئی ماں اپنے بچے کو مار کر کچھ سمجھاتی ھے تو وہ بھی اس کی تربیت میں شامل ھے، نفرت یہاں پر بھی ثابت نہیں ہوتی۔

باقی آپ فکر نہ کریں مجھے اب آپ کے بارے میں کچھ معلومات حاصل ہو گئی ھے آئندہ یاد رکھوں گا۔ ہمارے بھائی صاحب اس وقت کچن میں کیا کھانا بنا رہے ہیں۔

والسلام
__________________



Last edited by کنعان; 18-03-10 at 12:28 AM. وجہ: CORRECTION ABOUT NAME OF UM' TALHA
کنعان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (29-03-10), ام طلحہ (19-03-10), راجہ اکرام (18-03-10), شاہ جی 90 (17-03-10), عبداللہ حیدر (19-03-10)
پرانا 17-03-10, 11:43 PM   #50
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم سسٹر

آپ بالکل فکر نہ کریں، کوئی غلط فہمی نہیں جنم لے رہی، بات سے بات ھے ایک دوسرے کے بارے میں جاننے کا موقعہ ملتا ھے اور دنیا کے حالات سے آگاہی ہوتی ھے اور جو اس سٹیج میں نہیں ہیں انہیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ھے۔

واقعی ہی میں آپ کے تو کیا کسی کے بارے میں بھی اتنا کچھ نہیں جانتا، رہی بات ابوطلحہ یوزر نیم سے جاننے کی تو یوزر نیم سے بھی کوئی بات اس وقت تک کنفرم نہیں ہوتی جب تک جانی نہ جائے۔ الحمداللہ ، اللہ آپ کے بچوں کو فرمانبردار بنائے آمین۔

اب آتے ہیں اصل سٹوری کی طرف آپ نے یہ سٹوری لکھ کر سب کچھ آسان کر دیا۔
یہی بات میں بھی آپ کو سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا، بچوں کو رلا کر بہادر بنانے پر پہلے آپ نے قصہ تمام کر دیا تھا مگر جب میں نے اس پر تھوڑی ضرب لگائی تو آپ نے دوبارہ اس کی تفصیل بیان کر کے سب کچھ ثابت کر دیا کہ آپ بہت محبت کرتی ہیں اپنے بچوں سے ٹھیک اسی طرح بچے کو مالش کرنا یا الٹا سیدھا کرنا یا ویسے ہی الٹا سیدھا کرنا بچے سے نفرت ثابت نہیں کرتا۔

بچے سے نفرت کسی بھی صورت میں ثابت نہیں کی جا سکتی کیونکہ آپ اور سحر سسٹر اور دنیا کی ہر ماں عظیم ھے بس طریقہ کار سب کا الگ الگ ہوتا ھے، اگر کوئی ماں اپنے بچے کو مار کر کچھ سمجھاتی ھے تو وہ بھی اس کی تربیت میں شامل ھے، نفرت یہاں پر بھی ثابت نہیں ہوتی۔

باقی آپ فکر نہ کریں مجھے اب آپ کے بارے میں کچھ معلومات حاصل ہو گئی ھے آئندہ یاد رکھوں گا۔ ہمارے بھائی صاحب اس وقت کچن میں کیا کھانا بنا رہے ہیں۔

والسلام
کنعان بھائی ابو طلحہ نہیں ام طلحہ
اور میرا نقطہ نظر تو یہ تھا کہ اگر ماں نیک ہے اور مخلص ہے تو اسے اپنے بچوں سے محبت ہو گی اور اگر وہ بدی کی راہوں پر چل رہی ہے تو اسے اپنے بچوں کی زرا برابر پروا نہیں ہو گی ، کیوں کہ اسے تو اپنی عیاشیوں سے ہی فرست نہیں ملتی ،
اب محبت کا ہر ایک کا پیمانہ الگ ہے اور اسی طرح تریبیت کا طریقہ بھی
لیکن ایک بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے
اگر کسی ماں کے اپنے پہنے ہوے کپڑے انتہائی اچھے ہیں اور اس نے بنائو سنگھار بھی خوب کیا ہوا ہے اور اس کا بچہ گندے سندے کپڑوں میں ہے ۔
اگر ایک عورت کا بچہ بخار میں پھنک رہا ہے اور اسے شاپنگ کے لیئے بازار جانے کی پڑی ہے ۔
اگر ایک عورت کا شیر خوار بچہ ہے اور وہ اسے چھوڑ کر اپنے میاں کو چھوڑ کر کسی کے ساتھہ بھاگ جاتی ہے اور عدالت میں خلع کے لیئے درخواست دیتی ہے
تو ایسی خواتین کے بارے میں آپ کیا کہیں گے ، روز مرہ کی ایسی کئی مثالیں ‌بھری پڑی ہیں ۔
شاہ جی 90 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا
کنعان (18-03-10), نورالدین (29-03-10), ام طلحہ (19-03-10), راجہ اکرام (18-03-10), عبداللہ حیدر (19-03-10)
پرانا 18-03-10, 12:38 AM   #51
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,080
کمائي: 110,096
شکریہ: 12,552
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم شاہ جی بھائی صاحب

ماں عظیم ھے ہر حال میں مگر کچھ جو قسمیں آپ نے بیان کی ہیں اس پر میں کچھ بھی لکھنے سے معذرت چاہتا ہوں۔ ماں عظیم ہوتی ھے چاہے جیسی بھی ہو میں آپکی طرف سے لکھی ہوئی ان باتوں سے اتفاق نہیں کرتا اور نہ ہی یہ اس دھاگہ کا حصہ ھے، سوری بھائی۔
کبھی کوئی میاں بیوی کا موضوع ہوا تو ضرور لکھوں گا۔

شکریہ

والسلام
کنعان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (29-03-10), شاہ جی 90 (18-03-10), عبداللہ حیدر (19-03-10)
پرانا 18-03-10, 01:07 AM   #52
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,969
کمائي: 276,744
شکریہ: 33,206
12,657 مراسلہ میں 36,995 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میرا خیال ہے اس تصویر میں نامناسب تو کوئی بات نہیں ماں اور بچے کا رشتہ اور خاص طور پر اس عمر میں جس عمر کے بچے کی یہ تصویر ہے بہت ذاتی سا ہوتا ہے اور بچہ کسی کی بات سمجھے نا سمجھے لیکن ماں کے اشاروں اور باتوں کو خوب سمجھتا ہے
اس تصویر میں ہوسکتا ہے بچہ کوئی شرارت کررہا ہو اور ماں نے سزا کے طور پر اسکو اس طرح اٹھا رکھا ہو بچہ اس طرح لٹکا ہوا بھی کافی مطمئن دکھائی دے رہا ہے اور ماں کے چہرے پر بھی کوئی خاص تناؤ نظر نہیں آتا لگتا یہ ان دونوں کی خاصی پریکٹس ہے
ویسے راجہ بھائی تصویر خوب لائے آپ بہت اچھی لگی
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
کنعان (18-03-10), ام طلحہ (19-03-10), راجہ اکرام (18-03-10), سحر (18-03-10), شاہ جی 90 (18-03-10), عبداللہ حیدر (19-03-10)
پرانا 18-03-10, 07:18 AM   #53
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,585
کمائي: 157,656
شکریہ: 8,066
5,020 مراسلہ میں 19,297 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شاہ جی 90 مراسلہ دیکھیں
کنعان بھائی ابو طلحہ نہیں ام طلحہ
اور میرا نقطہ نظر تو یہ تھا کہ اگر ماں نیک ہے اور مخلص ہے تو اسے اپنے بچوں سے محبت ہو گی اور اگر وہ بدی کی راہوں پر چل رہی ہے تو اسے اپنے بچوں کی زرا برابر پروا نہیں ہو گی ، کیوں کہ اسے تو اپنی عیاشیوں سے ہی فرست نہیں ملتی ،
اب محبت کا ہر ایک کا پیمانہ الگ ہے اور اسی طرح تریبیت کا طریقہ بھی
لیکن ایک بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے
اگر کسی ماں کے اپنے پہنے ہوے کپڑے انتہائی اچھے ہیں اور اس نے بنائو سنگھار بھی خوب کیا ہوا ہے اور اس کا بچہ گندے سندے کپڑوں میں ہے ۔
اگر ایک عورت کا بچہ بخار میں پھنک رہا ہے اور اسے شاپنگ کے لیئے بازار جانے کی پڑی ہے ۔
اگر ایک عورت کا شیر خوار بچہ ہے اور وہ اسے چھوڑ کر اپنے میاں کو چھوڑ کر کسی کے ساتھہ بھاگ جاتی ہے اور عدالت میں خلع کے لیئے درخواست دیتی ہے
تو ایسی خواتین کے بارے میں آپ کیا کہیں گے ، روز مرہ کی ایسی کئی مثالیں ‌بھری پڑی ہیں ۔
شاہ جی بھائی
میں آپ کی بات سے متفق نہیں ۔ کہ اگر عورت برائی کا شکار ہوگی تو اس کو اپنی اولاد کی پرواہ نہیں
ہوگی ۔
میں نے یورپ میں ایسی خواتین دیکھی ہیں جو خود غیر شادی شدہ ہوکر بچے کی ماں بن گئی اور اپنے بچے کو بہت محبت سے پال رہی ہوتی تھی ۔ مجھے تو ایسی لڑکیوں پر ترس آتا تھا ۔ کہ ان کو کوئی سمجھانے والا نہیں ۔ لیکن ہمارے معاشرے میں ایسی خواتین کو سوائے برا بھلا بولنے کے لوگ کچھ نہیں کرتے ہیں ۔
خواتین چاہے کیسی بھی ہوں اپنی اولاد سے محبت بہت کرتی ہیں ۔ چاہے اس کا اظہار کریں یا نہیں ۔
ماں کے دل میں محبت اللہ کی طرف سے ہوتی ہے وہ خود اس کے بھی اختیار میں نہیں کہ بچے سے محبت کرے یا نہیں ۔
شکریہ
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (18-03-10), کنعان (18-03-10), نورالدین (29-03-10), ام طلحہ (22-03-10), شاہ جی 90 (18-03-10), عبداللہ حیدر (19-03-10)
پرانا 18-03-10, 09:30 PM   #54
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ok
مراسلات: 1,247
کمائي: 27,484
شکریہ: 4,250
979 مراسلہ میں 2,924 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

راجہ بھائی آپ کے دھاگہ کو میں نے سنجیدگی سے نہیں لیا تھا مگر یہاں ہونے والی گفتگو کافی سنجیدہ ہے اور خاص طور پر خواتین کا رد عمل ۔ آج غور سے دھاگہ کا جائزہ لیا گپ شپ کے فورم میں بہترین ماں کون ہے ؟ کا دھاگہ ایسے شروع کیا گیا کہ سسپنس بڑھتا گیا یا یا یا یا یا یا یا یا یا یا یا یا یا یا یا یا سے ہوتا ہوا یاااااااااااااااااااااااا ااااااااااااااااااااااااا اااااااا تک پہنچا اور یا آپ کے خیال میں سب سے بہترین ماں یہ ہے پر ختم ہوا ۔ پھر اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں ۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ ان جانوروں اور پرندوں کی ماؤں کا تعلق بچپن تک ہے پھر تو وہ پہچانتے بھی نہیں اور ایک مشہور مثال ہے کہ بلی کے پاؤں جلیں تو وہ بچوں کو پاؤں کے نیچے لے لیتی ہے ۔ ایسے جانوروں کا ذکر کہیں نہیں کیا گیا ۔انسانوں کو جانوروں سے ملانا مذاق میں بھی ٹھیک نہیں ہو گا ۔ کیونکہ سب اپنی اپنی فطرت میں رہتے ہیں ۔مامتا کا جو اظہار انسانی فطرت میں ہے وہ کسی بھی دوسری ماں میں نہیں ہو سکتا ۔میری والدہ بہت اصول پسند سخت مزاج تھیں ۔ نہایت حوصلہ مند اور باوقار شخصیت کی مالک تھیں ۔ دوسروں کی ماؤں کی طرح صدقے واری نہیں جاتی تھیں مگر میں ہر عورت میں اپنی ماں کی جھلک دیکھنا پسند کروں گا حالات سے کیسے لڑا جاتا ہے ۔ میں نے انہی سے سیکھا ۔ ماں کی محبت ترازو سے تولی نہیں جاتی ۔ ماں اور اولاد کا رشتہ سخت رویہ یا ہر وقت محبت کے آنسو بہانے کا محتاج نہیں ہوتا ۔ جب میری ماں کا انتقال ہوا میری زندگی کا پہلا دن تھا کہ مجھے اپنا آپ ادھورا محسوس ہوا جیسے آسمان پر چھت نہ ہو اور واقعی ایسا لگ رہا تھا جیسے میں اکیلا رہ گیا ہوں حالانکہ میں اس وقت دو بچوں کا باپ تھا ۔ اگر ایک دو بری مثالیں کہیں مل بھی جائیں تو وہ ماں کی مامتا کی نمائندگی کا حق نہیں رکھتیں ۔
چلیں آپ کو اس موضوع سے ہٹ کر جنگل کا دلچسپ قانون دکھائیں ۔
میں نے ایک بار دستاویزی فلم شیروں کے متعلق دیکھی تھی اس کے بارے میں کیا کہیں گے وہ جانور ہیں ان کی اپنی فطرت ہے بہت سے لوگ یہ جانتے ہوں گے کہ جنگل کا قانون الگ ہوتا ہے۔ ایک شیر دو نومولود بچوں کو جنم دینے والی اکیلی ماں شیرنی کو پانے کے لئے ان کا پیچھا کرتا ہے ماں بچوں کو پناہ دیتی ہے مگر چند روز بعد جب وہ خوراک کی تلاش میں نکلتی ہے تو شیر ان دونوں کو مار دیتا ہے اور شیرنی بالاخر ہتھیار ڈال دیتی ہے اور اس کے پیچھے پیچھے چل پڑتی ہے ۔ جو شیرنی جنگل میں اکیلی بچوں کے ساتھ رہتی ہے وہاں یہی فارمولہ ہے ۔ عاشق شیر کو بچے مارنا ہوتے ہیں ۔
__________________
آپۖ ہی کی طریقت ہو میری اِتِّباع پَیراہَن
میرا قلب پڑھے لا الہ الااَللہ نظر آوں گدا

بزم خیال آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (29-03-10), راجہ اکرام (19-03-10), شاہ جی 90 (18-03-10)
پرانا 18-03-10, 11:31 PM   #55
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس موضوع پر ہم نے جو بات کی وہ ہمارا مشاہدہ تھا
اس 35 سالہ زندگی کا نچوڑ تھا
روزانہ پاکستان کی کچہریوں اور تھانوں میں کیا ہوتا ہے ، کیسے کیسے مناظر سامنے آتے ہیں ، اور جیل میں قید مجرم اور حوالاتی ملزم کس کس قسم کی کہانیاں لیئے ہوتے ہیں یہ ظاہر ہے کہ ہر ایک کے مشاہدے میں آنے والی بات نہیں ہے ،
کہتے ہیں نا کہ جو کچھہ جال دیکھتا ہے ماچھی دیکھے تو پھوٹ مرے
اس موضوع پر میرے پاس کافی مواد ہے
لیکن کنعان بھائی اور سحر بہن کے مراسلوں کے بعد کم از کم یہاں شئیر کرنا پسند نہیں کروں گا ، ویسے بھی اپنے بہن بھائیوں کے معصوم ذہنوں میں انسان کی عظمت کا جو عظیم خاکہ بنا ہوا ہے اس کو مٹانے کی میرے اندر ہمت نہیں ہے ،
اللہ سے دعا ہے کہ جیسا آپ دونوں نے کہا ہے انسان ویسا ہو جائے آمین
شاہ جی 90 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا
کنعان (18-03-10), ام طلحہ (19-03-10), راجہ اکرام (19-03-10), عبداللہ حیدر (19-03-10)
پرانا 19-03-10, 12:52 AM   #56
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,080
کمائي: 110,096
شکریہ: 12,552
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم

یہاں پر کوئی بھی انگلش ماں اپنے بچوں کو مار نہیں سکتی، مگر مار کھاتی ضرور ھے، اس کے لئے بچوں کو کس طرح تربیت کرنی ھے ان کے لئے NANNY ہوتی ہیں مگر یہ ایک SUPERNANNY ھے جو بگڑے سے بگڑے بچوں کو کچھ دن میں ٹھیک کر دیتی ھے۔
اگر آپ نے ماؤں کا پیار دیکھنا ھے تو YOUTUBE میں SUPERNANNY لکھیں اور بےشمار فیملیوں کے کلپ آپ کو ملیں گے آپ ہر پہلے دو کلپ دیکھیں تو جان جائیں گے کہ انگلش ماؤں کا پیار کیسا ہوتا ھے اور اگر پوری ٹریننگ دیکھنی ھے تو پھر سارے کلپ دیکھ سکتے ہیں

والسلام




کنعان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 19-03-10, 01:30 AM   #57
ذیلی ناظم

 
عدنان دانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 21
مراسلات: 6,268
کمائي: 152,336
شکریہ: 4,794
4,340 مراسلہ میں 10,885 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ہمارا کوئی بچہ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی تجربہ
ہم تو خود یہ بچے ہے
اسی لئے کچھ بھی لکھنے سے معذرت، اس موضوع پر صرف والدیں ہی بحث
کرسکتے ہیں۔شکریہ
عدنان دانی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا گیا
شاہ جی 90 (19-03-10)
پرانا 19-03-10, 07:32 AM   #58
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,585
کمائي: 157,656
شکریہ: 8,066
5,020 مراسلہ میں 19,297 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شاہ جی 90 مراسلہ دیکھیں
اس موضوع پر ہم نے جو بات کی وہ ہمارا مشاہدہ تھا
اس 35 سالہ زندگی کا نچوڑ تھا
روزانہ پاکستان کی کچہریوں اور تھانوں میں کیا ہوتا ہے ، کیسے کیسے مناظر سامنے آتے ہیں ، اور جیل میں قید مجرم اور حوالاتی ملزم کس کس قسم کی کہانیاں لیئے ہوتے ہیں یہ ظاہر ہے کہ ہر ایک کے مشاہدے میں آنے والی بات نہیں ہے ،
کہتے ہیں نا کہ جو کچھہ جال دیکھتا ہے ماچھی دیکھے تو پھوٹ مرے
اس موضوع پر میرے پاس کافی مواد ہے
لیکن کنعان بھائی اور سحر بہن کے مراسلوں کے بعد کم از کم یہاں شئیر کرنا پسند نہیں کروں گا ، ویسے بھی اپنے بہن بھائیوں کے معصوم ذہنوں میں انسان کی عظمت کا جو عظیم خاکہ بنا ہوا ہے اس کو مٹانے کی میرے اندر ہمت نہیں ہے ،
اللہ سے دعا ہے کہ جیسا آپ دونوں نے کہا ہے انسان ویسا ہو جائے آمین
شاہ جی بھائی
آپ کی بات درست ہے ۔ ہم پوزیٹو ضرور سوچتے ہیں لیکن رہتے اسی دنیا میں ہیں ہم کو بھی علم ہے کہ دنیا میں کیا کچھ ہورہا ہے ۔
ویسے آپ نے پولیس کچہری کی بات کی ۔ عورتوں کے ذیادہ تر معاملات پولیس کچہری تک پہنچتے ہی نہیں اور جو پہنچتے ہیں ان میں جو واقعات وہاں بیان ہوتے ہیں ضروری نہیں وہ سب سچائی پر مبنی ہوں ۔
میں ایک ڈاکٹر ہونے کی حیثیت سے عام لوگوں کے کافی قریب رہی ہوں ۔ اور ایک این جی او سے بھی منسلک رہی ہوں ۔ میرا تجربہ ہے کہ خواتین کو ان کی بنیادی ضروریات جن میں تفریح بھی آتی ہے سے محروم رکھا جاتا ہے اس لیے وہ سانس لینے کے لیے غلط راہ پر نکل جاتی ہیں ۔
لیکن یہ بھی اقلیت میں ہے ہر عورت ایسا نہیں کرتی ۔
اگر شوہر ظلم کرتا ہو تو ماں کو اولاد سے بھی چڑ ہونے لگتی ہے ۔ وہ اولاد اس کو اپنے پاؤں کی زنجیر معلوم ہونے لگتی ہے ۔ اور اپنے آپ کو شوہر کے بچوں کی ملازمہ سمجھتی ہے اپنے اپ کو ماں کا درجہ نہیں دیتی ۔ مثائل یہاں جنم لیتے ہیں ۔
لیکن ہمارے معاشرے میں خواتین اتنا نہیں بگڑتی جتنا ان پر تہمت لگتی ہے ۔ یہ بھی ہمارے معاشرے کا بہت بڑا المیہ ہے ۔
اور اگر کسی عورت پر ایک بار تہمت لگ جائے تو اس کی زندگی ختم ۔
اسی لیے اسلام میں پاکدامن عورت پر تہمت لگانے پر سخت وعید ہے اور خواتین کے لیے الگ آیات نازل کی ہیں ۔
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (19-03-10), کنعان (19-03-10), نورالدین (29-03-10), راجہ اکرام (19-03-10), شاہ جی 90 (19-03-10), عبداللہ حیدر (19-03-10)
پرانا 19-03-10, 11:49 PM   #59
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
شاہ جی بھائی
آپ کی بات درست ہے ۔ ہم پوزیٹو ضرور سوچتے ہیں لیکن رہتے اسی دنیا میں ہیں ہم کو بھی علم ہے کہ دنیا میں کیا کچھ ہورہا ہے ۔
ویسے آپ نے پولیس کچہری کی بات کی ۔ عورتوں کے ذیادہ تر معاملات پولیس کچہری تک پہنچتے ہی نہیں اور جو پہنچتے ہیں ان میں جو واقعات وہاں بیان ہوتے ہیں ضروری نہیں وہ سب سچائی پر مبنی ہوں ۔
میں ایک ڈاکٹر ہونے کی حیثیت سے عام لوگوں کے کافی قریب رہی ہوں ۔ اور ایک این جی او سے بھی منسلک رہی ہوں ۔ میرا تجربہ ہے کہ خواتین کو ان کی بنیادی ضروریات جن میں تفریح بھی آتی ہے سے محروم رکھا جاتا ہے اس لیے وہ سانس لینے کے لیے غلط راہ پر نکل جاتی ہیں ۔
لیکن یہ بھی اقلیت میں ہے ہر عورت ایسا نہیں کرتی ۔
اگر شوہر ظلم کرتا ہو تو ماں کو اولاد سے بھی چڑ ہونے لگتی ہے ۔ وہ اولاد اس کو اپنے پاؤں کی زنجیر معلوم ہونے لگتی ہے ۔ اور اپنے آپ کو شوہر کے بچوں کی ملازمہ سمجھتی ہے اپنے اپ کو ماں کا درجہ نہیں دیتی ۔ مثائل یہاں جنم لیتے ہیں ۔
لیکن ہمارے معاشرے میں خواتین اتنا نہیں بگڑتی جتنا ان پر تہمت لگتی ہے ۔ یہ بھی ہمارے معاشرے کا بہت بڑا المیہ ہے ۔
اور اگر کسی عورت پر ایک بار تہمت لگ جائے تو اس کی زندگی ختم ۔
اسی لیے اسلام میں پاکدامن عورت پر تہمت لگانے پر سخت وعید ہے اور خواتین کے لیے الگ آیات نازل کی ہیں ۔
سحر بہن یہی تو عرض کر رہا ہوں کہ برائیوں میں ڈوبا ہوا مرد یا عورت اپنے بچوں سے محبت کر ہی نہیں سکتے ، شاید اللہ ان سے یہ نعمت چھین لیتا ہے سزا کے طور پر ، ایک مثال آپ یہاں دیکھ سکتی ہیں

اٹک : اٹک کی تحصیل حضرو کے گاؤں کالوکلاں میں قتل کئے گئے تین بچوں اور دوخواتین سمیت ایک ہی خاندان کے سات افراد کو کالوکلاں میں آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا ۔

تمام افراد کو کالوکلاں کے قبرستان میں ہی سپردخاک کیا گیا۔ قتل کئے گئے افراد کے رشتہ داروں نے وزیراعلٰی پنجاب شہبازشریف سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو گرفتار کرکے کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔ پولیس کے مطابق تین ملزمان کو گرفتار کرکے آلہ قتل برآمد کرلیا گیا ہے۔

ملزمان نے تفتیشن کے دوران اعتراف جرم کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ذاتی جھگڑے کی وجہ سے ان لوگوں کو قتل کیا تھا۔ ملزمان نے اطلس کے گھر میں گھس کر اسے، اس کی اہلیہ صائقہ، بیٹے محمد آصف، بہو، پوتے، نواسے اور نواسی کو قتل کردیا تھا۔ واقعے کے بعد اٹک میں فضاء سوگوار ہے ۔ اور لوگوں میں خوف و ہراس ہے۔

آپ کو پتا ہے کہ اس ہولناک واقعہ کے پیچھے زاتی جھگڑا کیا تھا
اطلس بابا کی ایک بہو کے کردار کی وجہ سے گائوں والے باتیں بنانے لگے تھے ، اطلس بابا نے اپنی بہو کو سمجھانے کی کوشش کی یہ وہ ان کی عزت کا کچھ خیال کرے تو اس کا جواب تھا کہ میں تمہیں ایسا مشہور کروں گی کہ سارا علاقہ تمہیں دیکھنے آئے گا ۔
اس واقعہ کی ایک ویڈیو میں اس کی تفصیل موجود ہے



ملزمہ نے اپنے آشنا اور اس کے دوستوں کے ساتھ مل کر یہ جرم کیا
شاہ جی 90 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 20-03-10, 08:52 AM   #60
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,585
کمائي: 157,656
شکریہ: 8,066
5,020 مراسلہ میں 19,297 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس واقعے میں آپ نے غور کیا کہ اصل وجہ کیا تھی ۔
اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ بہو کا کردار ٹھیک نہیں تھا ویسے ایسی بات بغیر ثبوت کے کرنا ٹھیک نہیں ۔
لیکن ایک شادی شدہ عورت کو شوہر چھوڑ کر ملک سے باہر چلا جاتا ہے اور اس کا حق ادا نہیں کرتا اور بیوی سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ فرشتہ بن کر رہے ۔
یہ کام ایک نفسیاتی مریض کا ہی ہوسکتا ہے اور انسان کو نفسیاتی مریض ایسی ہی باتیں بناتی ہیں ۔
یہ ہمارے معاشرے میں بہت عام بات سمجھی جاتی ہے لیکن اسلامی لحاظ سے بہت بڑی کہ شوہر اپنی بیوی کا حق ادا
نہ کرے کیونکہ اس سے بہت مسائل جنم لیتے ہیں
ذرا اس پر بھی غور کریں ۔
شکریہ
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (20-03-10), کنعان (20-03-10), نورالدین (29-03-10), ام طلحہ (22-03-10), راجہ اکرام (20-03-10), شاہ جی 90 (20-03-10), عبداللہ حیدر (20-03-10)
کمائي نے سحر کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
20-03-10 کنعان دستیاب نہیں 10
جواب

Tags
ہوں۔, ہے۔, کوئی, کرتی, ٹانگ, یا, ویسے, نہیں،, ماں, ؟؟, ایسے, اتفاق, بہتر, بہترین, بچہ, بچے, بس, جیسا, خیال, دیکھ, روئے, زیادہ, سحر, عنوان, عادی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:36 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger