| دلچسپ اور عجیب کوئی بھی ایسی چیز جو دلچسپ اور عجیب ہو یہاں پوسٹ کریں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#46 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,585
کمائي: 157,656
شکریہ: 8,066
5,020 مراسلہ میں 19,297 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
آپ صرف اپنی اسی بہنا کو دعائیں دیں گے جو آپ کی بات سے متفق ہو جس نے اختلاف کیا وہ دعاؤں سے بھی محروم ۔۔۔۔۔۔
__________________
اے اللہ میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے |
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | کنعان (17-03-10), نورالدین (29-03-10), ام طلحہ (19-03-10), راجہ اکرام (18-03-10), شاہ جی 90 (17-03-10), عبداللہ حیدر (19-03-10) |
|
|
#47 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#48 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
یہ کیا دیکھئیے ہم پر اگر دعا نہ دینے کا الزام ہو تو بہت غلط ہو گا ہماری تو ہر وقت کی دعائیںآپ کے ساتھہ ہیں انشااللہ اللہ تعالی آپ کو ہمیشہ خوش رکھے کبھی کوئی پریشانی آپ کے قریب بھی نہ آئے ، اور آپ کی تمام حاجات و خواہشات اللہ تعالی پوری فرمائے آمین ثم آمین ۔ ویسے دعا سے ہمیں ایک واقعہ یاد آ گیا نکاح کے بعد ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی اور ہمارے ذہن میں یہ خناس داخل ہو گیا کہ آپ کی بھابی " جو کہ اس وقت رخصت ہو کر ہمارے گھر نہیں آئی تھیں " ہماری ذمہ داری ہیں اس لیئے ہم انہیں گھر سے سکول اور سکول سے گھر ، یعنی ان کے گھر چھوڑنے جاتے تھے ، لیکن ہم بھول گئے تھے کہ ہمارے معاشرے کے دستور و رواج کچھہ اور کہتے ہیں ، کچھہ احساس تھا شاید اسی لیئے ہم ان کے ساتھہ نہیں چلتے تھے بلکہ بہت فاصلہ سے پیچھے پیچھے چلتے جاتے ، لیکن تاڑنے والے بھی قیامت کی نظر رکھتے ہیں ، اٹک کے باسیوں کی اکثریت نے ہمیں اس عمل میں مصروف دیکھا اور شہر میں چہ مگویاں شروع ہو گئیں ، اس پر آپ کی بھابی نے ایک دن چلتے چلتے ہمارے ہاتھہ میں ایک رقعہ پکڑا دیا ، ہم نے انہیں سکول چھوڑا اور گورنمنٹ کالج اٹک کے لان میں اکیلے بیٹھہ کروہ رقعہ پڑھنا شروع کیا ، جیسے جیسے پڑھتے گئے ہمارا بلڈ پریشر بڑھتا گیا ، در اصل اس خط میں ہم سے یہی گزارش کی گئی تھی کہ ان کی اس شہر میں عزت ہے اور ہم ان کو جو سکول چھوڑنے اور لینے جاتے ہیں اس سے ان کی بدنامی ہو رہی ہے ، خدا اور رسول کے واسطے دے کر ہمیں کہا گیا تھا کہ ہم اس معمول سے باز آ جائیں ، ہمیں غصہ تو بہت آیا ، لیکن ہم نے صبر کیا اور چپ سادھ لی ، نہ کوئی فون کیا اور نہ کسی اور زریعہ سے رابطے کی کوشش کی اس دوران جب دل بہت بے چین ہوا تو ہم نے غصے میں ایک غزل لکھہ ڈالی ۔ جب پندرہ بیس دن تک ہماری جانب سے بالکل خاموشی رہی تو آپ کی بھابی کو تشویش ہوئی اور انہوں نے اپنی ایک سہیلی کو ہمارے سٹور پر خیریت دریافت کرنے بھیجا ، ان کی بات سنتے ہی ، ہمیںتو پتنگے لگ گئے ، ہم نے ان کے سامنے ہی ایک پرچی پر دو شعر گھسیٹے جو کہ اسی غزل کے تھے اور پرچی فولڈ کر کے ان خاتون کے حوالے کر دی کہ یہی ہمارا جواب ہے ، جا کر ہماری " ان " کو دے دیجئیے گا ۔ شعر کچھہ یوں تھے جو ٹوٹ جائے ، تعلق ، دعا بھی کیا دینا نہیں کریں گے تمہیں ہم سلام آج کے بعد ہمارے نام سے مجروح اب نہیں ہو گی تمہاری ، عفت عالی مقام ، آج کے بعد بس ان شعروں کا پہنچنا تھا کہ ہمیں ایک فون آیا اور پھر صرف اور صرف سسکیاں اور رونا ہی تھا جو کہ ہم نے قریب بیس منٹ تک سنا ، وہ دن اور آج کا دن ، ہم آپ کی بھابی سے ناراض ہونے کی جرات کبھی نہ کر سکے ۔ |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#49 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,080
کمائي: 110,096
شکریہ: 12,552
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
آپ بالکل فکر نہ کریں، کوئی غلط فہمی نہیں جنم لے رہی، بات سے بات ھے ایک دوسرے کے بارے میں جاننے کا موقعہ ملتا ھے اور دنیا کے حالات سے آگاہی ہوتی ھے اور جو اس سٹیج میں نہیں ہیں انہیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ھے۔ واقعی ہی میں آپ کے تو کیا کسی کے بارے میں بھی اتنا کچھ نہیں جانتا، رہی بات ام طلحہ یوزر نیم سے جاننے کی تو یوزر نیم سے بھی کوئی بات اس وقت تک کنفرم نہیں ہوتی جب تک جانی نہ جائے۔ الحمداللہ ، اللہ آپ کے بچوں کو فرمانبردار بنائے آمین۔ اب آتے ہیں اصل سٹوری کی طرف آپ نے یہ سٹوری لکھ کر سب کچھ آسان کر دیا۔ یہی بات میں بھی آپ کو سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا، بچوں کو رلا کر بہادر بنانے پر پہلے آپ نے قصہ تمام کر دیا تھا مگر جب میں نے اس پر تھوڑی ضرب لگائی تو آپ نے دوبارہ اس کی تفصیل بیان کر کے سب کچھ ثابت کر دیا کہ آپ بہت محبت کرتی ہیں اپنے بچوں سے ٹھیک اسی طرح بچے کو مالش کرنا یا الٹا سیدھا کرنا یا ویسے ہی الٹا سیدھا کرنا بچے سے نفرت ثابت نہیں کرتا۔ بچے سے نفرت کسی بھی صورت میں ثابت نہیں کی جا سکتی کیونکہ آپ اور سحر سسٹر اور دنیا کی ہر ماں عظیم ھے بس طریقہ کار سب کا الگ الگ ہوتا ھے، اگر کوئی ماں اپنے بچے کو مار کر کچھ سمجھاتی ھے تو وہ بھی اس کی تربیت میں شامل ھے، نفرت یہاں پر بھی ثابت نہیں ہوتی۔ باقی آپ فکر نہ کریں مجھے اب آپ کے بارے میں کچھ معلومات حاصل ہو گئی ھے آئندہ یاد رکھوں گا۔ ہمارے بھائی صاحب اس وقت کچن میں کیا کھانا بنا رہے ہیں۔ ![]() والسلام
__________________
Last edited by کنعان; 18-03-10 at 12:28 AM. وجہ: CORRECTION ABOUT NAME OF UM' TALHA |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | نورالدین (29-03-10), ام طلحہ (19-03-10), راجہ اکرام (18-03-10), شاہ جی 90 (17-03-10), عبداللہ حیدر (19-03-10) |
|
|
#50 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اور میرا نقطہ نظر تو یہ تھا کہ اگر ماں نیک ہے اور مخلص ہے تو اسے اپنے بچوں سے محبت ہو گی اور اگر وہ بدی کی راہوں پر چل رہی ہے تو اسے اپنے بچوں کی زرا برابر پروا نہیں ہو گی ، کیوں کہ اسے تو اپنی عیاشیوں سے ہی فرست نہیں ملتی ، اب محبت کا ہر ایک کا پیمانہ الگ ہے اور اسی طرح تریبیت کا طریقہ بھی لیکن ایک بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے اگر کسی ماں کے اپنے پہنے ہوے کپڑے انتہائی اچھے ہیں اور اس نے بنائو سنگھار بھی خوب کیا ہوا ہے اور اس کا بچہ گندے سندے کپڑوں میں ہے ۔ اگر ایک عورت کا بچہ بخار میں پھنک رہا ہے اور اسے شاپنگ کے لیئے بازار جانے کی پڑی ہے ۔ اگر ایک عورت کا شیر خوار بچہ ہے اور وہ اسے چھوڑ کر اپنے میاں کو چھوڑ کر کسی کے ساتھہ بھاگ جاتی ہے اور عدالت میں خلع کے لیئے درخواست دیتی ہے تو ایسی خواتین کے بارے میں آپ کیا کہیں گے ، روز مرہ کی ایسی کئی مثالیں بھری پڑی ہیں ۔ |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا | کنعان (18-03-10), نورالدین (29-03-10), ام طلحہ (19-03-10), راجہ اکرام (18-03-10), عبداللہ حیدر (19-03-10) |
|
|
#51 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,080
کمائي: 110,096
شکریہ: 12,552
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم شاہ جی بھائی صاحب
ماں عظیم ھے ہر حال میں مگر کچھ جو قسمیں آپ نے بیان کی ہیں اس پر میں کچھ بھی لکھنے سے معذرت چاہتا ہوں۔ ماں عظیم ہوتی ھے چاہے جیسی بھی ہو میں آپکی طرف سے لکھی ہوئی ان باتوں سے اتفاق نہیں کرتا اور نہ ہی یہ اس دھاگہ کا حصہ ھے، سوری بھائی۔ کبھی کوئی میاں بیوی کا موضوع ہوا تو ضرور لکھوں گا۔ شکریہ والسلام |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#52 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,969
کمائي: 276,744
شکریہ: 33,206
12,657 مراسلہ میں 36,995 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میرا خیال ہے اس تصویر میں نامناسب تو کوئی بات نہیں ماں اور بچے کا رشتہ اور خاص طور پر اس عمر میں جس عمر کے بچے کی یہ تصویر ہے بہت ذاتی سا ہوتا ہے اور بچہ کسی کی بات سمجھے نا سمجھے لیکن ماں کے اشاروں اور باتوں کو خوب سمجھتا ہے
اس تصویر میں ہوسکتا ہے بچہ کوئی شرارت کررہا ہو اور ماں نے سزا کے طور پر اسکو اس طرح اٹھا رکھا ہو بچہ اس طرح لٹکا ہوا بھی کافی مطمئن دکھائی دے رہا ہے اور ماں کے چہرے پر بھی کوئی خاص تناؤ نظر نہیں آتا لگتا یہ ان دونوں کی خاصی پریکٹس ہے ویسے راجہ بھائی تصویر خوب لائے آپ بہت اچھی لگی
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | کنعان (18-03-10), ام طلحہ (19-03-10), راجہ اکرام (18-03-10), سحر (18-03-10), شاہ جی 90 (18-03-10), عبداللہ حیدر (19-03-10) |
|
|
#53 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,585
کمائي: 157,656
شکریہ: 8,066
5,020 مراسلہ میں 19,297 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
میں آپ کی بات سے متفق نہیں ۔ کہ اگر عورت برائی کا شکار ہوگی تو اس کو اپنی اولاد کی پرواہ نہیں ہوگی ۔ میں نے یورپ میں ایسی خواتین دیکھی ہیں جو خود غیر شادی شدہ ہوکر بچے کی ماں بن گئی اور اپنے بچے کو بہت محبت سے پال رہی ہوتی تھی ۔ مجھے تو ایسی لڑکیوں پر ترس آتا تھا ۔ کہ ان کو کوئی سمجھانے والا نہیں ۔ لیکن ہمارے معاشرے میں ایسی خواتین کو سوائے برا بھلا بولنے کے لوگ کچھ نہیں کرتے ہیں ۔ خواتین چاہے کیسی بھی ہوں اپنی اولاد سے محبت بہت کرتی ہیں ۔ چاہے اس کا اظہار کریں یا نہیں ۔ ماں کے دل میں محبت اللہ کی طرف سے ہوتی ہے وہ خود اس کے بھی اختیار میں نہیں کہ بچے سے محبت کرے یا نہیں ۔ شکریہ |
|
|
|
|
|
|
#54 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ok
مراسلات: 1,247
کمائي: 27,484
شکریہ: 4,250
979 مراسلہ میں 2,924 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
راجہ بھائی آپ کے دھاگہ کو میں نے سنجیدگی سے نہیں لیا تھا مگر یہاں ہونے والی گفتگو کافی سنجیدہ ہے اور خاص طور پر خواتین کا رد عمل ۔ آج غور سے دھاگہ کا جائزہ لیا گپ شپ کے فورم میں بہترین ماں کون ہے ؟ کا دھاگہ ایسے شروع کیا گیا کہ سسپنس بڑھتا گیا یا یا یا یا یا یا یا یا یا یا یا یا یا یا یا یا سے ہوتا ہوا یاااااااااااااااااااااااا ااااااااااااااااااااااااا اااااااا تک پہنچا اور یا آپ کے خیال میں سب سے بہترین ماں یہ ہے پر ختم ہوا ۔ پھر اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں ۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ ان جانوروں اور پرندوں کی ماؤں کا تعلق بچپن تک ہے پھر تو وہ پہچانتے بھی نہیں اور ایک مشہور مثال ہے کہ بلی کے پاؤں جلیں تو وہ بچوں کو پاؤں کے نیچے لے لیتی ہے ۔ ایسے جانوروں کا ذکر کہیں نہیں کیا گیا ۔انسانوں کو جانوروں سے ملانا مذاق میں بھی ٹھیک نہیں ہو گا ۔ کیونکہ سب اپنی اپنی فطرت میں رہتے ہیں ۔مامتا کا جو اظہار انسانی فطرت میں ہے وہ کسی بھی دوسری ماں میں نہیں ہو سکتا ۔میری والدہ بہت اصول پسند سخت مزاج تھیں ۔ نہایت حوصلہ مند اور باوقار شخصیت کی مالک تھیں ۔ دوسروں کی ماؤں کی طرح صدقے واری نہیں جاتی تھیں مگر میں ہر عورت میں اپنی ماں کی جھلک دیکھنا پسند کروں گا حالات سے کیسے لڑا جاتا ہے ۔ میں نے انہی سے سیکھا ۔ ماں کی محبت ترازو سے تولی نہیں جاتی ۔ ماں اور اولاد کا رشتہ سخت رویہ یا ہر وقت محبت کے آنسو بہانے کا محتاج نہیں ہوتا ۔ جب میری ماں کا انتقال ہوا میری زندگی کا پہلا دن تھا کہ مجھے اپنا آپ ادھورا محسوس ہوا جیسے آسمان پر چھت نہ ہو اور واقعی ایسا لگ رہا تھا جیسے میں اکیلا رہ گیا ہوں حالانکہ میں اس وقت دو بچوں کا باپ تھا ۔ اگر ایک دو بری مثالیں کہیں مل بھی جائیں تو وہ ماں کی مامتا کی نمائندگی کا حق نہیں رکھتیں ۔ چلیں آپ کو اس موضوع سے ہٹ کر جنگل کا دلچسپ قانون دکھائیں ۔ میں نے ایک بار دستاویزی فلم شیروں کے متعلق دیکھی تھی اس کے بارے میں کیا کہیں گے وہ جانور ہیں ان کی اپنی فطرت ہے بہت سے لوگ یہ جانتے ہوں گے کہ جنگل کا قانون الگ ہوتا ہے۔ ایک شیر دو نومولود بچوں کو جنم دینے والی اکیلی ماں شیرنی کو پانے کے لئے ان کا پیچھا کرتا ہے ماں بچوں کو پناہ دیتی ہے مگر چند روز بعد جب وہ خوراک کی تلاش میں نکلتی ہے تو شیر ان دونوں کو مار دیتا ہے اور شیرنی بالاخر ہتھیار ڈال دیتی ہے اور اس کے پیچھے پیچھے چل پڑتی ہے ۔ جو شیرنی جنگل میں اکیلی بچوں کے ساتھ رہتی ہے وہاں یہی فارمولہ ہے ۔ عاشق شیر کو بچے مارنا ہوتے ہیں ۔
__________________
آپۖ ہی کی طریقت ہو میری اِتِّباع پَیراہَن
میرا قلب پڑھے لا الہ الااَللہ نظر آوں گدا |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#55 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اس موضوع پر ہم نے جو بات کی وہ ہمارا مشاہدہ تھا
اس 35 سالہ زندگی کا نچوڑ تھا روزانہ پاکستان کی کچہریوں اور تھانوں میں کیا ہوتا ہے ، کیسے کیسے مناظر سامنے آتے ہیں ، اور جیل میں قید مجرم اور حوالاتی ملزم کس کس قسم کی کہانیاں لیئے ہوتے ہیں یہ ظاہر ہے کہ ہر ایک کے مشاہدے میں آنے والی بات نہیں ہے ، کہتے ہیں نا کہ جو کچھہ جال دیکھتا ہے ماچھی دیکھے تو پھوٹ مرے اس موضوع پر میرے پاس کافی مواد ہے لیکن کنعان بھائی اور سحر بہن کے مراسلوں کے بعد کم از کم یہاں شئیر کرنا پسند نہیں کروں گا ، ویسے بھی اپنے بہن بھائیوں کے معصوم ذہنوں میں انسان کی عظمت کا جو عظیم خاکہ بنا ہوا ہے اس کو مٹانے کی میرے اندر ہمت نہیں ہے ، اللہ سے دعا ہے کہ جیسا آپ دونوں نے کہا ہے انسان ویسا ہو جائے آمین |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#56 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,080
کمائي: 110,096
شکریہ: 12,552
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
یہاں پر کوئی بھی انگلش ماں اپنے بچوں کو مار نہیں سکتی، مگر مار کھاتی ضرور ھے، اس کے لئے بچوں کو کس طرح تربیت کرنی ھے ان کے لئے NANNY ہوتی ہیں مگر یہ ایک SUPERNANNY ھے جو بگڑے سے بگڑے بچوں کو کچھ دن میں ٹھیک کر دیتی ھے۔ اگر آپ نے ماؤں کا پیار دیکھنا ھے تو YOUTUBE میں SUPERNANNY لکھیں اور بےشمار فیملیوں کے کلپ آپ کو ملیں گے آپ ہر پہلے دو کلپ دیکھیں تو جان جائیں گے کہ انگلش ماؤں کا پیار کیسا ہوتا ھے اور اگر پوری ٹریننگ دیکھنی ھے تو پھر سارے کلپ دیکھ سکتے ہیں والسلام |
|
|
|
|
|
#57 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 21
مراسلات: 6,268
کمائي: 152,336
شکریہ: 4,794
4,340 مراسلہ میں 10,885 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہمارا کوئی بچہ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی تجربہ
ہم تو خود یہ بچے ہے اسی لئے کچھ بھی لکھنے سے معذرت، اس موضوع پر صرف والدیں ہی بحث کرسکتے ہیں۔شکریہ |
|
|
|
| عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا گیا | شاہ جی 90 (19-03-10) |
|
|
#58 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,585
کمائي: 157,656
شکریہ: 8,066
5,020 مراسلہ میں 19,297 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
آپ کی بات درست ہے ۔ ہم پوزیٹو ضرور سوچتے ہیں لیکن رہتے اسی دنیا میں ہیں ہم کو بھی علم ہے کہ دنیا میں کیا کچھ ہورہا ہے ۔ ویسے آپ نے پولیس کچہری کی بات کی ۔ عورتوں کے ذیادہ تر معاملات پولیس کچہری تک پہنچتے ہی نہیں اور جو پہنچتے ہیں ان میں جو واقعات وہاں بیان ہوتے ہیں ضروری نہیں وہ سب سچائی پر مبنی ہوں ۔ میں ایک ڈاکٹر ہونے کی حیثیت سے عام لوگوں کے کافی قریب رہی ہوں ۔ اور ایک این جی او سے بھی منسلک رہی ہوں ۔ میرا تجربہ ہے کہ خواتین کو ان کی بنیادی ضروریات جن میں تفریح بھی آتی ہے سے محروم رکھا جاتا ہے اس لیے وہ سانس لینے کے لیے غلط راہ پر نکل جاتی ہیں ۔ لیکن یہ بھی اقلیت میں ہے ہر عورت ایسا نہیں کرتی ۔ اگر شوہر ظلم کرتا ہو تو ماں کو اولاد سے بھی چڑ ہونے لگتی ہے ۔ وہ اولاد اس کو اپنے پاؤں کی زنجیر معلوم ہونے لگتی ہے ۔ اور اپنے آپ کو شوہر کے بچوں کی ملازمہ سمجھتی ہے اپنے اپ کو ماں کا درجہ نہیں دیتی ۔ مثائل یہاں جنم لیتے ہیں ۔ لیکن ہمارے معاشرے میں خواتین اتنا نہیں بگڑتی جتنا ان پر تہمت لگتی ہے ۔ یہ بھی ہمارے معاشرے کا بہت بڑا المیہ ہے ۔ اور اگر کسی عورت پر ایک بار تہمت لگ جائے تو اس کی زندگی ختم ۔ اسی لیے اسلام میں پاکدامن عورت پر تہمت لگانے پر سخت وعید ہے اور خواتین کے لیے الگ آیات نازل کی ہیں ۔ |
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (19-03-10), کنعان (19-03-10), نورالدین (29-03-10), راجہ اکرام (19-03-10), شاہ جی 90 (19-03-10), عبداللہ حیدر (19-03-10) |
|
|
#59 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اٹک : اٹک کی تحصیل حضرو کے گاؤں کالوکلاں میں قتل کئے گئے تین بچوں اور دوخواتین سمیت ایک ہی خاندان کے سات افراد کو کالوکلاں میں آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا ۔ تمام افراد کو کالوکلاں کے قبرستان میں ہی سپردخاک کیا گیا۔ قتل کئے گئے افراد کے رشتہ داروں نے وزیراعلٰی پنجاب شہبازشریف سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو گرفتار کرکے کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔ پولیس کے مطابق تین ملزمان کو گرفتار کرکے آلہ قتل برآمد کرلیا گیا ہے۔ ملزمان نے تفتیشن کے دوران اعتراف جرم کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ذاتی جھگڑے کی وجہ سے ان لوگوں کو قتل کیا تھا۔ ملزمان نے اطلس کے گھر میں گھس کر اسے، اس کی اہلیہ صائقہ، بیٹے محمد آصف، بہو، پوتے، نواسے اور نواسی کو قتل کردیا تھا۔ واقعے کے بعد اٹک میں فضاء سوگوار ہے ۔ اور لوگوں میں خوف و ہراس ہے۔ آپ کو پتا ہے کہ اس ہولناک واقعہ کے پیچھے زاتی جھگڑا کیا تھا اطلس بابا کی ایک بہو کے کردار کی وجہ سے گائوں والے باتیں بنانے لگے تھے ، اطلس بابا نے اپنی بہو کو سمجھانے کی کوشش کی یہ وہ ان کی عزت کا کچھ خیال کرے تو اس کا جواب تھا کہ میں تمہیں ایسا مشہور کروں گی کہ سارا علاقہ تمہیں دیکھنے آئے گا ۔ اس واقعہ کی ایک ویڈیو میں اس کی تفصیل موجود ہے ملزمہ نے اپنے آشنا اور اس کے دوستوں کے ساتھ مل کر یہ جرم کیا |
|
|
|
|
|
|
#60 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,585
کمائي: 157,656
شکریہ: 8,066
5,020 مراسلہ میں 19,297 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اس واقعے میں آپ نے غور کیا کہ اصل وجہ کیا تھی ۔
اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ بہو کا کردار ٹھیک نہیں تھا ویسے ایسی بات بغیر ثبوت کے کرنا ٹھیک نہیں ۔ لیکن ایک شادی شدہ عورت کو شوہر چھوڑ کر ملک سے باہر چلا جاتا ہے اور اس کا حق ادا نہیں کرتا اور بیوی سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ فرشتہ بن کر رہے ۔ یہ کام ایک نفسیاتی مریض کا ہی ہوسکتا ہے اور انسان کو نفسیاتی مریض ایسی ہی باتیں بناتی ہیں ۔ یہ ہمارے معاشرے میں بہت عام بات سمجھی جاتی ہے لیکن اسلامی لحاظ سے بہت بڑی کہ شوہر اپنی بیوی کا حق ادا نہ کرے کیونکہ اس سے بہت مسائل جنم لیتے ہیں ذرا اس پر بھی غور کریں ۔ شکریہ |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (20-03-10), کنعان (20-03-10), نورالدین (29-03-10), ام طلحہ (22-03-10), راجہ اکرام (20-03-10), شاہ جی 90 (20-03-10), عبداللہ حیدر (20-03-10) |
| کمائي نے سحر کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 20-03-10 | کنعان | دستیاب نہیں | 10 |
![]() |
| Tags |
| ہوں۔, ہے۔, کوئی, کرتی, ٹانگ, یا, ویسے, نہیں،, ماں, ؟؟, ایسے, اتفاق, بہتر, بہترین, بچہ, بچے, بس, جیسا, خیال, دیکھ, روئے, زیادہ, سحر, عنوان, عادی |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|