| دلچسپ اور عجیب کوئی بھی ایسی چیز جو دلچسپ اور عجیب ہو یہاں پوسٹ کریں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#31 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 35
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,384
شکریہ: 8,154
3,795 مراسلہ میں 11,122 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہو سکتا ہے بے بی کیری سے نکال کر پرام میں ڈالنا ہو اور خود چٹائی پر بیٹھنا ہے۔ ویسے کیا زبردست آپریشن کیا ہے آپ نے کنعان بھائی۔ داد دیتی ہوں آپکی نظر کی۔
بہرحال، دو باتیں نمبر ایک، اس تصویر سے یہ ثابت نہیں کہ یہ ماں ہے۔ نمبر دو، آپکی بات درست لگتی ہے۔ یہ سچویشن تصویر کشی کیلئے بنائی گئی ہے۔ تیسری بات اسکے علاوہ، یہ میرا بچہ نہیں لیکن اس تصویر کو دیکھ کر میرے اندر ایک ابال اٹھتا ہے اور میرے ہاتھ بے اختیاراس تصویر کی طرف بڑھتے ہیں کہ کیسے میں اسے سیدھا کر دوں۔یہ اس خاتون کا بچہ ہو ہی نہیں سکتا۔
__________________
یا اللہ!! تمام دنیا سے قوم یہود کو اپنی ناپاک سوچ سمیت نیست و نابود کر دے۔ اس قوم کا نام و نشان ہی مٹا دے۔ آمین ثم آمین |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#32 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ام طلحہ بہن میں ایک بار پھر کہوں گا کہ ہر نیک اور صاحب ایمان ماں ایسا ہی محسوس کرے گی ۔ لیکن اگر وہ ایسی نہیں تو یقین جانئیے اسے بالکل اپنے بچے کی پروا نہیں ہو گی ۔ |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#33 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,585
کمائي: 157,651
شکریہ: 8,066
5,019 مراسلہ میں 19,296 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
چاہے آپ لوگ مجھے ظالم کہیں لیکن مجھے یہ تصویر اتنی ظالمانہ نہیں لگی ۔
میں نے اپنے بچوں کو بہت rough and tough طریقے سے پالا ہے ۔ بچوں کو پاؤں سے پکڑ کر الٹا کرنا کوئی غیر معمولی بات نہیں ۔ یہ بچوں کی ورزش میں شامل ہوتا ہے ۔ بس ٹائمنگ اور ٹیکنیک کا خیال رکھنا پڑتا ہے ۔ ۔ میرا اپنا ذاتی خیال ہے کہ بچوں کو ذیادہ چھوئی موئی نہیں بنانا چاہیے خاص طور پر لڑکوں کو ۔ شکریہ
__________________
اے اللہ میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | کنعان (16-03-10), نورالدین (29-03-10), ام طلحہ (17-03-10), راجہ اکرام (16-03-10), شاہ جی 90 (16-03-10), عبداللہ حیدر (19-03-10) |
|
|
#34 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,080
کمائي: 110,096
شکریہ: 12,552
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
یہ جو معلومات آپ نے لگائی ھے میں نہیں لگا رہا تھا کہ کہیں مجھے بھی ظالم نہ کہہ دیا جائے اور انتظار کر رہا تھا کہ شائد کوئی ایسا وٹنس مل جائے تو آپ نے جو بھی لکھا ٹھیک لکھا ھے ایسا ہی ہوتا ھے، میرے بچے تو اب بڑے ہو گئے ہیں، بچوں کو تیل مالش کرتے وقت اکثر ان کو دونوں ٹانگوں سے پکڑ کر اونچا کرنا یہ میرے معمول میں شامل تھا کیونکہ ایسا کرنے سے بچے قدآور ہوتے ہیں، پھر ان کو دونوں بازؤں سے پکڑ کر گول چکر لگانے اور کبھی ان کو دونوں ٹانگوں سے پکڑ کر گول چکر لگانے، اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ اس میں ٹیکنیک اور ٹائمنگ بہت اہم ھے، ٹیکنیک یہ کہ ان کا کوئی جوڑ نہ نکل جائے، اور ٹائمنگ کہ انہوں نے دودھ یا کچھ کھایا پیا نہ پیا ہو۔ یہ بھی ٹھیک ھے کہ جو بچے چھوئی موئی ہوتے ہیں ان میں احساس کمتری بھی بہت زیادہ ہوتی ھے اور دوسرں سے بات کرتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں کیونکہ کانفیڈنس نہیں بن پاتا۔ اور ڈرپوک بھی ہوتے ہیں۔ والسلام
__________________
|
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | ام طلحہ (17-03-10), راجہ اکرام (16-03-10), سحر (16-03-10), شاہ جی 90 (16-03-10), عبداللہ حیدر (19-03-10) |
|
|
#35 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اب یہاں بھی ہم آپ سے اختلاف نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن اس زبان کا کیا کروں کم بخت پھسل پڑتی ہے ، اس تصویر میں تو کوئی بھی ایسا تاثر نہیں کہ ماں اپنے بچے کو ورزش کروا رہی ہے ، بچوں کو چھوٹی عمر میں ہی سیلٍ ڈیفینس تک سے روشناس کروانا چاہئیے صرف ورزش تک محدود نہیں رکھنا چاہئیے ، مجھے خود آپ بچوں کو مارشل آرٹ سکھاتے ہوے دیکھیں تو شاید میرے بارے میں آپ کا تاثر بدل جائے ، لیکن کھیل یا ورزش کا انداز ہی دوسرا ہوتا ہے ، یہ تو بچے کو کسی شاپر کی طرح اٹھا رہی ہیں
|
|
|
|
| شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا گیا | کنعان (16-03-10) |
|
|
#36 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,080
کمائي: 110,096
شکریہ: 12,552
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم شاہ جی کوئی بات نہیں اس کا جواب بھی ھے لیکن آپ نے پہلے غور نہیں کیا خیر پھر آپ کو توجہ دلاتا ہوں۔
اقتباس:
شاہ جی اگر rough and tough سمجھ لیں تو مزید کچھ بھی سمجھنا مشکل نہیں، کیونکہ میں نے جتنا لکھا ھے اس کے بعد بھی لکھنا بہت کچھ باقی ھے لیکن وہ لکھنا مناسب نہیں ہو گا اس لئے اس کے لئے یہی ایک لفظ کافی ھے rough and tough۔ یہ بھی محبت کا ایک خاص انداز ہوتا ھے جو ہر کوئی نہیں سمجھ سکتا، کچھ باتوں پر پردہ پڑا رہنا ہی اچھا ہوتا ھے۔ والسلام |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#37 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مانا بھیا
رف اینڈ ٹف کی حدود کا اپنا اپنا تعین ہے اللہ ہم سب کو اپنے بچوں کی شفقت کے ساتھہ بہترین تربیت کی توفیق عطا فرمائے |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا | کنعان (17-03-10), راجہ اکرام (18-03-10) |
|
|
#38 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 35
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,384
شکریہ: 8,154
3,795 مراسلہ میں 11,122 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
رف اینڈ ٹف تو اچھی بات ہے لیکن میں معظم بھائی سے اتفاق کروں گی کہ تصویر والی سچویشن ایکسرسائز وغیرہ کو ظاہر نہیں کر رہی۔ ویسے میں اس حق میں ہوں کہ بچوں کو شروع سے نازک مزاج نہیں بنانا چاہئے۔ میری یہ عادت ہے کہ اگر بچیاں روئیں تو میں بالکل لاڈ نہیں کرتی بلکہ توجہ نہیں دیتی۔ اب وہ یہ سمجھتی ہیں کہ کسی بھی سچویشن کا حل رونا نہیں ہے بلکہ اسے بہادری سے فیس کرنا ہے۔انہیں پتہ ہونا چاہئے کہ رو دھو کر کچھ نہیں ملے گا۔ ہر مسئلہ کو حل کرنا سیکھیں۔
|
|
|
|
|
|
#39 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,080
کمائي: 110,096
شکریہ: 12,552
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم سسٹر
یہاں رونے والا کوئی بھی مسئلہ پر بات نہیں ہو رہی اس کے لئے بچوں کی تربیت پر اگر الگ دھاگہ بنائیں تو اس میں ہر قسم کا مسئلہ آ جائے گا۔ اس میں اگر آپ کے بچے ہیں تو اس پر آپ ڈبیٹ کر سکتی ہیں کہ آپ اپنے بچوں کے ساتھ کیا کرتی ہیں اور اگر نہیں تو پھر جب تک آپ پریکٹیکل لائف میں نہیں آئیں گی تب تک آپ کسی بھی نتیجے پر نہیں پہنچ سکتیں۔ رہی بات بچوں کے ساتھ شفقت کی تو میں نے آج تک اپنے بچوں کو تو کیا کسی اور کے بچوں کو بھی آج تک نہیں مارا اور میرے منع کرنے پر میری وائف کبھی کبھی ان کو میری غیر موجودگی میں ڈانٹ دیتی ھے۔ ہر گھر کا اپنا اپنا ایک ماحول ہوتا ھے اس کے مطابق ہی عورت کو چلنا پڑتا ھے والسلام |
|
|
|
| کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا | ام طلحہ (17-03-10) |
|
|
#40 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ہمیشہ خوش رہئیے یہی بات ہم یہاں سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#41 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 35
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,384
شکریہ: 8,154
3,795 مراسلہ میں 11,122 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ویسے میرے الحمد للہ تین بچے ہیں (جنہیں اس فورم پر سب جانتے ہیں، اتفاقاً شاید آپ نہیں جانتے)۔ اسی لئے اپنے تجربے کی بنیاد پر ہی بات کر رہی ہوں۔۔ |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#42 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,080
کمائي: 110,096
شکریہ: 12,552
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
معذرت کے ساتھ ایک مرتبہ پھر آپ کے اس سوال پر آتا ہوں جو پہلے میری اس بات پر نظر نہیں گئی "میری" والی بات پر میری توجہ کسی اور پر چلی گئی۔ خیر سب سے پہلے دعا کروں گا کہ اللہ آپ کو لڑکوں سے بھی نوازے آمین اگر آپ بچیوں کو رونے دیتی ہیں کہ وہ خود ہی رو کر خاموش ہو جائیں گی تو یہ پھر ان سے زیادتی اور ظلم ھے۔ یہ نہ تو ان سے محبت کی کوئی قسم ھے اور نہ ہی ان کو بہادر کرنے کی۔ میرا ایک بھائی ویل سیٹ ھے اس کی 3 بیٹیاں تھیں۔ بھائی ان تینوں سے بہت پیار کرتا تھا یہاں تک کے ان تینوں کو ٹوئلٹ سے لے کر باتھ روم تک کی ذمہ داری بھی بھائی کی ہی تھی۔ ان کو نہانا دھلانا کپڑے پیمپرز، آدھی رات کو دودھ، دن کا کھانا ہر چیز بھائی کی ذمہ داری تھی بھابھی صاحبہ پہلی لڑکی سے لے کر تیسری لڑکی تک پیدائش کے بعد لڑکیوں کے منہ تک نہیں دیکھتی تھی۔ اور ان کا بچیوں کے ساتھ رویہ میں بیان نہیں کر سکتا۔ اللہ کا شکر ڈھیر سال پہلے انہیں لڑکے سے نوازا اور بھائی اس لڑکے اور لڑکیوں کے ساتھ بے انتہا محبت کرتا ھے کوئی فرق نہیں، مگر بھابھی صاحبہ بھائی کی غیر موجودگی میں لڑکے کو اتنا بہادر بنا رہی ھے کہ بہنوں کو سارا دن مارتا پھرتا ھے کہ اسے کوئی روکنے والا نہیں اور اگر کوئی بہن اس کو کچھ کہہ دے تو اس کو ڈراؤنی شکل بنا کر سنا سنا کے حشر کر دیتی ھے۔ اکثر لڑکیوں کے ساتھ ہی زیادتی کیوں ہوتی ھے۔ میں تو اپنے بیٹوں کو نہ کچھ کہتا ہوں اور نہ بیٹیوں کو۔ اور نہ ہی میری وائف کو اس بات کی اجازت ھے کہ وہ بیٹیوں کو کچھ بھی کہے اور نہ ان کے بھائیوں کو اجازت ھے کہ وہ ان کو کچھ کہیں۔ بچہ روتا تب ہی ھے جب اسے بھوک لگے یا کسی چیز کی طلب ہو۔ اگر اس قابل ہیں تو انہیں لے دیں اگر نہیں تو انہیں رونے نہ دیں بلکہ اچھے الفاظ میں مینج کریں، یہ نہیں کہ رو رہا ھے تو روئے کچھ دیر بعد خود ہی خاموش ہو جائے گا۔ یہ تو پھر آپ میں کمزوری ھے اس میں بہادر بنانے والی کوئی بھی بات نہیں۔ والسلام |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | شاہ جی 90 (17-03-10), عبداللہ حیدر (19-03-10) |
|
|
#43 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 35
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,384
شکریہ: 8,154
3,795 مراسلہ میں 11,122 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اف بھائی اب اپنی مختصر نویسی پر سر پیٹ لینے کو جی چاہ رہا ہے بار بار غلط فہمیاں جنم لے رہی ہیں۔اصل میں یہاں میں بہت عرصے سے ہوں اور اکثر بہن بھائی میرے بثوں کے بارے میں اچھی طرح جانتے ہیں اسلئے مجھے احساس ہی نہیں ہوتا کہ جو نہیں جانتے وہ غلط تاثر لے سکتے ہیں ۔میں یہی سوچ کر مبہم لکھ جاتی ہوں کہ سب کو سب پتہ ہے۔
تو میرے بھائی پہلی وضاحت یہ شاید آپ نے غور نہیں کیا کہ میں ام طلحہ ہوں، یعنی طلحہ کی ماں۔اس سے بڑی دو بیٹیاں ہیں۔ اب طلحہ کا ذکر اسلئے نہیں آیا کہ وہ ابھی بہت چھوٹا یعنی شیر خوار ہے۔ ابھی سمجھنے سمجھانے کی عمر میں نہیں آیا۔بچیوں کا ذکر یوں آیا کہ وہ بڑی ہیں سمجھدار، 9 سال اور 5 سال کی۔ اب انکے رونے کا ذکر انکے تکلیف میں رونے اور ماں کی ضرورت ہونے کے حوالے سے نہیں ہوا۔ بعض اوقات بچے ہر مطالبہ کیلئے رونے کے عادی ہو جاتے ہیں۔ اگر ہر جائز نا جائز مطالبہ رو کر منوانے کی عادت ہو جائے تو یہ بچے کے مستقبل کیلئے ٹھیک نہیں ہے، کم از کم میرے نزدیک۔دوسری بات کبھی کبھی بچے ذرا سا ہوا کا جھونکا لگنے پر بھی روتے ہیں۔اگر انکی اس بات پر حوصلہ افزائی کی جائے تو بڑے ہوکر زمانے کی گرمی سردی کیسے برداشت کریں گے، خاصکر بچیاں روتی دھوتی اچھی نہیں لگتیں۔ جو روتا ہے اسے سب رلاتے ہیں۔ انہیں آزمائشیں سہنے کی ہمت ہونی چاہئے۔ میری چھوٹی بیٹی جب نئی نئی سکول گئی تو گھر میں لاڈلی ہونے کے باعث سکول میں بات بے بات روتی تھی۔ تب طلحہ نہیں ایا تھا اور اسکا راج تھا۔بچوں نے اسکی عادت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے چڑانا شروع کر دیا اور یہ حال ہو گیا کہ کوئی بچہ چھو کر بھی بھاگ جائے تو وہ روتی رہتی تھی۔ میں نے اسی طرح اسکی عادت ختم کی کہ اگر بات بات پر روئے گی تو کوئی بات نہیں سنے گا۔نارمل بولو۔بہت مشکل تھا مگر اب وہ بچی خوش ہے اور سکول کے نمایاں بچوں میں سے ہے۔ اب اس بات میں اس کا بالکل دخل نہیں ہے کہ رونے دو خود ہی چپ ہو جائیں گی۔نہ ہی اس بات کا کہ بچیوں کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔خواتین کے استحصال کے اس زمانے میں میں اپنی بچیوں کو اعلیٰ ترین تعلیم یافتہ، پر اعتماد اور مضبوط دیکھنا چاہتی ہوں۔ روتی دھوتی کمزور بچیاں نہیں۔ ویسے آپس کی بات ہے، میں نے آج تک آپ کے بھائی صاحب کو بچوں کا کوئی کام ہاتھ نہیں لگانے دیا۔ حتیٰ کہ انکی پڑھائی بھی، آفس سے فارغ ہو کر میں خود ہی انہیں پڑھاتی ہوں۔ٹیوشن پر بھی بھروسہ نہیں کرتی۔آگے آپ جو بھی فیصلہ کر لیں کہ میں کیسی ماں ہوں۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#44 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 35
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,384
شکریہ: 8,154
3,795 مراسلہ میں 11,122 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اف بھائی اب اپنی مختصر نویسی پر سر پیٹ لینے کو جی چاہ رہا ہے بار بار غلط فہمیاں جنم لے رہی ہیں۔اصل میں یہاں میں بہت عرصے سے ہوں اور اکثر بہن بھائی میرے بثوں کے بارے میں اچھی طرح جانتے ہیں اسلئے مجھے احساس ہی نہیں ہوتا کہ جو نہیں جانتے وہ غلط تاثر لے سکتے ہیں ۔میں یہی سوچ کر مبہم لکھ جاتی ہوں کہ سب کو سب پتہ ہے۔
تو میرے بھائی پہلی وضاحت یہ شاید آپ نے غور نہیں کیا کہ میں ام طلحہ ہوں، یعنی طلحہ کی ماں۔اس سے بڑی دو بیٹیاں ہیں۔ اب طلحہ کا ذکر اسلئے نہیں آیا کہ وہ ابھی بہت چھوٹا یعنی شیر خوار ہے۔ ابھی سمجھنے سمجھانے کی عمر میں نہیں آیا۔بچیوں کا ذکر یوں آیا کہ وہ بڑی ہیں سمجھدار، 9 سال اور 5 سال کی۔ اب انکے رونے کا ذکر انکے تکلیف میں رونے اور ماں کی ضرورت ہونے کے حوالے سے نہیں ہوا۔ بعض اوقات بچے ہر مطالبہ کیلئے رونے کے عادی ہو جاتے ہیں۔ اگر ہر جائز نا جائز مطالبہ رو کر منوانے کی عادت ہو جائے تو یہ بچے کے مستقبل کیلئے ٹھیک نہیں ہے، کم از کم میرے نزدیک۔دوسری بات کبھی کبھی بچے ذرا سا ہوا کا جھونکا لگنے پر بھی روتے ہیں۔اگر انکی اس بات پر حوصلہ افزائی کی جائے تو بڑے ہوکر زمانے کی گرمی سردی کیسے برداشت کریں گے، خاصکر بچیاں روتی دھوتی اچھی نہیں لگتیں۔ جو روتا ہے اسے سب رلاتے ہیں۔ انہیں آزمائشیں سہنے کی ہمت ہونی چاہئے۔ میری چھوٹی بیٹی جب نئی نئی سکول گئی تو گھر میں لاڈلی ہونے کے باعث سکول میں بات بے بات روتی تھی۔ تب طلحہ نہیں ایا تھا اور اسکا راج تھا۔بچوں نے اسکی عادت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے چڑانا شروع کر دیا اور یہ حال ہو گیا کہ کوئی بچہ چھو کر بھی بھاگ جائے تو وہ روتی رہتی تھی۔ میں نے اسی طرح اسکی عادت ختم کی کہ اگر بات بات پر روئے گی تو کوئی بات نہیں سنے گا۔نارمل بولو۔بہت مشکل تھا مگر اب وہ بچی خوش ہے اور سکول کے نمایاں بچوں میں سے ہے۔ اب اس بات میں اس کا بالکل دخل نہیں ہے کہ رونے دو خود ہی چپ ہو جائیں گی۔نہ ہی اس بات کا کہ بچیوں کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔خواتین کے استحصال کے اس زمانے میں میں اپنی بچیوں کو اعلیٰ ترین تعلیم یافتہ، پر اعتماد اور مضبوط دیکھنا چاہتی ہوں۔ روتی دھوتی کمزور بچیاں نہیں۔ ویسے آپس کی بات ہے، میں نے آج تک آپ کے بھائی صاحب کو بچوں کا کوئی کام ہاتھ نہیں لگانے دیا۔ حتیٰ کہ انکی پڑھائی بھی، آفس سے فارغ ہو کر میں خود ہی انہیں پڑھاتی ہوں۔ٹیوشن پر بھی بھروسہ نہیں کرتی۔آگے آپ جو بھی فیصلہ کر لیں کہ میں کیسی ماں ہوں۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#45 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,080
کمائي: 110,096
شکریہ: 12,552
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
جزاک اللہ خیر میں ابھی کسی بزنس میٹنگ میں جا رہا ہوں، شام کو آؤں گا تو پھر باقی باتیں اس مراسلہ پر ہونگی۔ والسلام |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | راجہ اکرام (18-03-10), شاہ جی 90 (17-03-10) |
![]() |
| Tags |
| ہوں۔, ہے۔, کوئی, کرتی, ٹانگ, یا, ویسے, نہیں،, ماں, ؟؟, ایسے, اتفاق, بہتر, بہترین, بچہ, بچے, بس, جیسا, خیال, دیکھ, روئے, زیادہ, سحر, عنوان, عادی |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|