| دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات اس حصے میں کسی بھی قسم کی منافرت پھیلانے والے کو بلاتفریق بین کر دیا جائے گا۔ اس لیے احتیاط برتیں! |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
نور الدین زنگی
مسلمانوں نے حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کے زمانے میں عیسائیوں سے مسجد الاقصا بغیر کسی جنگ کے حاصل کی اور اسکے بعد مسجد مسلمانوں کی بھرپور طاقت کے زیر اثر رہی۔ سلجوق ایمپائر کے زمانے میں فرانس، اٹلی، جرمنی اور دیگر یورپین ریاستوں کی متحدہ افواج نے مسلمانوں کی ریاست پر حملہ کیا۔ ابتدا میں متحدہ جارح کو شکست کی منہ دیکھنا پڑا۔ مگر بعد میں جب سلجوق اپنی طاقت قائم نہ رکھ سکے تو بزدل عیسائی جارح یورپین ریاستوں نے متحد ہوکر دوبارہ حملہ کیا۔ اس وقت تک مسلمان عملاً کئی چھوٹی ریاستوں میں بٹے ہوئے تھے اور کچھ اپس میں ہی دستِ گریبان تھیں ۔ سلجوق بھی اپنی بھرپور طاقت کھو چکے تھے لہذا عیسائی جارح نے 492 ھ میں یروشلم فتح کرلیا۔ جب کم ظرف عیسائی مسجد القصا پر فتح کا جھنڈا لہرانے ائے تو انھوں نے بے تحاشا مسلمان مرد،عورتوں اور حتٰی کہ بچوں کو بھی بے دریغ قتل کیا۔ کہا جاتا ہے کہ ستر ھزار معصوم لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ مسلمان حالت غم میں تھے مگر پھر بھی اپس میں لڑرہے تھے اور اتنے کمزور تھے کہ وہ عیسائی طاقت کا سامنا کرنے کی ہمت نہ پاسکے۔ اس وقت ایک بہادر مسلمان حکمران سامنے ایا۔ اس کا نام عماد الدین زنگی تھا۔ وہ سلجوقی دور میں موصل کا حکمران تھا۔ جب سلجوق کمزور ہوئے تو وہ طاقت پاگیا کیونکہ اس نے دوسری مسلمان طاقتوں سےنہ لڑنے کہ پالیسی اپنائی۔ عماد الدین زنگی عیسائیوں سے لڑنے کے لیے اکیلا سامنے ایا۔ اُس نے عیسائیوں کے کئی قلعے فتح کرلیے۔ اس نے مسجد الاقصا کو عیسائیوں کے ناپاک قبضے سے نجات دلانے کا عزم کررکھا تھا لہذا وہ عیسائیوں کو پے درپے شکست دیتا ہوا یروشلم کی طرف بڑھتا رہا۔ مگر اس کی قسمت میں فاتح بیت المقدس بننانہیں لکھا تھا۔وہ بیمار ہوگیا اور بالاخر انتقال فرماگیا۔ اناللہ و اناالیہ راجعون۔ اس نے 521ھ سے 541 ھ تک حکمرانی کی۔ عماد الدین کے بعد اسکا بیٹا نور الدین زنگی کے سر پر تاج ِحکمرانی سجایا گیا۔ نورالدین نے عیسائیوں سے جہاد جاری رکھا اور 541-568 ھ تک ان سے جنگ کرتا رہا مگر جب نور الدین نے دیکھا کہ عیسائی بٹی ہوئی مسلمان ریاستوں سے کہیں زیادہ طاقتور ہیں لہذا مسلمان ریاستیں نور الدین کی عیسائیوں کے خلاف کوئی مدد نہیں کررہی ہیں تو اس نے مسلمان ریاستوں کو متحد کرنے کی ٹھانی۔ مسلمان حکمرانوں کے سر پر حسب روایت کوئی جوں نہ رینگی۔ لہذا نور الدین نے اپنا طریقہ کار میں تبدیلی کی اور بے حس مسلم حکمرانوں کے خلاف جنگ کا سلسلہ شروع کیا جس کے نتیجے میں مسلم ریاستوں کے متحد ہونے کا کام انجام پاسکا۔ مصر ان دنوں فاطمی حکمران کے زیر اثر تھا جو کہ بے حد کمزور حکمران تھے۔ مصر کی فلسطین کے ساتھ سرحد مشترکہ تھی۔ عیسائیوں نے مصر پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بھی بنالیا۔ مگر نورالدین نے عیسائیوں کا خواب پورا نہ ہونے دیا۔ اس نے عیسائیوں کےمصر پر قبضہ سے پہلے ہی مصر پر اپنی حکومت قائم کرلی۔ اس کے بعد کسی دوسرے مسلم حکمران کو جرات نہ ہوئ کہ نور الدین سے لڑ سکے۔ اسکے بعد نور الدین نے فلسطین پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایامگر قضا نے اسے مہلت نہ تھی اور وہ 48 سال کی عمر میں انتقال فرماگیا۔ اناللہ واناالیہ راجعون۔ بہادر باپ اور بیٹا دونوں سچے مسلمان تھے اور اللہ پر ہی یقین رکھتے تھے۔ دونوں اتنے بہادر تھے کہ دشمن سے لڑتے ہوئے اپنی جانوں کی بھی پرواہ نہیں کرتے تھے۔ ایک مرتبہ نور الدین بہت بہادری سے دادِشجاعت دے رہا تھا اسکے ایک کمان دار نے اس سے کہا " اگر اپ کو کچھ ہوگیا تو عیسائیوں کا حوصلہ بڑھ جائے گا اور وہ مسلمانوں کا تباہ کردیں گے" نور الدین نے اسکے جواب میں کہا " پہلے تولو پھر بولو! اپ اللہ کی قدر و قدرت کے خلاف بول رہے ہیں۔ بتائیے مجھ سے پہلے کس نے اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت کی؟" نور الدین ایک ذہین فرماروا تھا۔ اسنے لاتعداد مدرسہ، ھسپتال، اور کئی اقسام کی عمارات لوگوں کی خدمت کے لیے تعمیر کیں۔ وہ ایک منصف مزاج حکمران تھا۔ اس نے اسلامی بیت المال قائم کیا اور خزانے سے اپنے لیے ایک ٹیڈی پائی بھی نہیں لی۔ زیادہ تر وہ جنگی معرکوں میں مصروف رہا اور اس نے مال غنیمت سے اتنا ہی وصول کیا جتنا دوسرے سپاہیوں کے لیے مخصوص تھا۔ تمام بیت المال کے اساسے فلاحی کاموں کے لیے مخصوص تھے۔ اس کے دور حکمرانی میں مہمانوں کو سرائے میں اور مریضوں کو ھسپتالوں میں مفت سہولتیں دی جاتی تھیں۔ نور الدین زنگی کا اندازِحکمرانی ہمیں 'عمربن عبدلعزیز' کی یاد دلاتا ہے۔ نور الدین نے عوام پر کوئی ناجائز تیکس نہیں لگایا۔ وہ اتنا منصف تھا کہ ایک دفعہ ایک ادمی نے نورالدین کے خلاف مقدمہ دائر کردیا۔ جب نور الدین نے سنا اس وقت وہ پولو کھیل رہا تھا جو کہ اس کا پسندیدہ کھیل تھا۔ نورالدین اسی وقت میدان ِکھیل سے باھر ایا اور عدالت کی طرف دوڑ لگادی اور عدالت میں اپنی صفائی پیش کی۔ ایک دفعہ اس کی بیوی نے کچھ مزید رقم کا تقاضا کیا اور کہا کہ جو وظیفہ اسکو ملتا ہے وہ گزارے کے لیے کافی نہیں۔ نورالدین نے جواب دیا " میں کہاں سے رقم حاصل کروں۔ بیت المال مسلمان عوام کے لیےہے اور میں صرف اسکا رکھوالا ہوں" اس کی حکمرانی دراصل شریعت کی حکمرانی تھی۔ شراب نوشی اور کاروبار اس دور میں ممنوع تھے۔ وہ اپنی ذاتی زندگی میں بھی شریعت کا پابند تھا۔ اللہ نور الدین زنگی پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔ امین۔ Last edited by میاں شاہد; 04-08-10 at 01:43 PM. وجہ: نور الدین زنگی کے والد کے نام کی درستگی امام الدین کے بجائے عماد الدین |
|
|
|
| 15 قاری/قارئین نے میاں شاہد کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (31-07-10), کنعان (02-08-10), ھارون اعظم (06-08-10), قاسم شاہ (19-08-10), نورالدین (31-07-10), محمد عاصم (05-08-10), مرزا عامر (03-08-10), ابن جلال (06-08-10), احمد بلال (17-09-10), بلال اویسی (31-07-10), راجہ اکرام (06-08-10), شمشاد احمد (19-08-10), طارق راحیل (31-07-10), عبداللہ آدم (31-07-10), عبداللہ حیدر (19-08-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
ایسی باتیں دل میں ایک درد پیدا کرتی ہیںکہ اجکل یہ سب کیوںنیںہوتا مسلمان کیا جوتے کھانے کیلئے رہ گئے ہیں۔
__________________
اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب! تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔النساء:64 ترجمعہ:امام احمدرضابریلوی |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے بلال اویسی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
السلام و علیکم میاں صاحب
سب سے پہلے تو بہت شکریہ کہ میری پسندیدہ شخصیت کے متعلق ایک تھریڈ شروع کیا میں بھی ان سے بچپن سے متاثر ہوں کیوں! یہ آپ خود ہی سمجھ سکتے ہيں ۔ فی الحال ایک وضاحت چاہتا ہوں کہ نورالدین زنگی کے والد جو کہ خود بھی ایک دلیر مجاہد تھے ان کانام آپ نے امام الدین لکھا ہے جب کہ میری معلومات کے مطابق ان کا نام عماد الدین تھا امید ہے آپ توجہ فرمائیں گے اللہ آپ کے علم میں اضافہ فرمائے اور اور آپ کو ہمارے علم میں اضافے کا باعث بنائے
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔ Last edited by نورالدین; 05-08-10 at 12:09 PM. وجہ: زندگی |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() ![]() |
اقتباس:
توجہ دلانے کا بے حد شکریہ |
|
|
|
|
| میاں شاہد کا شکریہ ادا کیا گیا | نورالدین (04-08-10) |
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 35
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,384
شکریہ: 8,154
3,795 مراسلہ میں 11,122 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت بہت شکریہ شاہد بھائی!! میں آپکی دھماکے دار واپسی پر آپکی بیحد ممنون ہوں اور آپکو دوبارہ خوش آمدید کہتی ہوں۔ آپکے اس ویلکم کا قرض بھی تو ہے مجھ پر جو آپ نے مجھے دیا تھا
__________________
یا اللہ!! تمام دنیا سے قوم یہود کو اپنی ناپاک سوچ سمیت نیست و نابود کر دے۔ اس قوم کا نام و نشان ہی مٹا دے۔ آمین ثم آمین |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Dec 2008
مراسلات: 90
کمائي: 1,839
شکریہ: 336
55 مراسلہ میں 125 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
نور الدین زنگی کے خواب کے متعلق آپ نے ذکر نہیں کیا
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے سیلانی کا شکریہ ادا کیا | کنعان (07-08-10), میاں شاہد (07-08-10), اویسی (06-08-10), ام طلحہ (09-08-10), عبداللہ آدم (20-08-10) |
|
|
#12 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,246
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
نور الدین کے بعد اس کا جو بیٹا جانشین بنا وہ بھی بہت با کمال شخصیت تھی، اس حوالے سے بھی تحریر آنی چاہیئے شاہد بھائی۔۔
اور پھر اس کے بعد کیسے صلاح الدین امیر بنا اور بیت المقدس کو فتح کیا
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
اچھی تحریر ہے۔ میں نے اس کو سرورق کے لئے اپلائی کردیا ہے۔
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا | نورالدین (19-08-10), میاں شاہد (07-08-10), ام طلحہ (09-08-10), راجہ اکرام (09-08-10), عبداللہ آدم (20-08-10) |
![]() |
| Tags |
| پسندیدہ, لوگ, مفت, منصوبہ, مسجد, اللہ, اسلام, اسلامی, بیوی, بے, بچوں, تاج, جواب, خلاف, زندگی, سال, طاقتور, عیسائیوں, عوام, عمارات, عدالت, عزم, غنیمت, غم, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|