| دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات اس حصے میں کسی بھی قسم کی منافرت پھیلانے والے کو بلاتفریق بین کر دیا جائے گا۔ اس لیے احتیاط برتیں! |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 95
|
||||
| میاں شاہد کا شکریہ ادا کیا گیا | sahj (31-07-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
قبولِ اسلام کے بعد:
اس کے بعد سے ابودردا رضی اللہ عنہ نے مکمل طور پر اپنے اپ کو اسلام کے لیے وقف کردیا۔ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم)پر ایمان ان کے ریشے ریشے میں لہو بن کر دوڑنے لگا۔ ان کو اپنی پرانی حالت زار پر احد افسوس ہوتا تھا جب انھوں نے مشرکانہ زندگی اپنارکھی تھی اور اسلام قبول کرنے میں جلدی نہ کی۔ انھیں محسوس ہوا کہ ان پچھلے دو تین سالوں میں ان کے دوستوں نے اسلام کو سیکھنے اور اپنانے میں کافی تیزی دکھائی ہے۔ اور دوسرے صحابہ کرام نے قران شریف کو سیکھنے اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے جو مواقع دوسرے صحابہ کو ملیں تھے اور کچھ عرصہ تک اس سے محروم تھے۔ پھر انکے دن اور رات عبادتوں میں گزرنے لگے۔ انھوں نے تہیہ کرلیا کہ وہ اپنی پوری کوشش کریں گے کہ دوسرے صحابہ کرام کے برابر دین سیکھ لیں اور اپنالیں تاکہ پچھلے کسر پوری ہوسکے۔ ان کا زیادہ تر وقت قران کو یاد کرنے اور قران کے پیغام کی گہرائی کو سمجھنے اور اپنانے میں لگنے لگا اور جب انھوں نے محسوس کیا کہ کاروبار ان کی عبادتوں میں خلل انداز ہورہا ہے تو انھوں نے کاروبار میں بھی کمی کردی۔ جب کسی نے اس کی وجہ پوچھی تو انھوں نے کہا " اللہ اور اس کے رسول (ص) پر ایمان لانے سے قبل میں ایک تاجر تھا۔ جب میں مسلمان ہوگیا تو میں نے تجارت اور عبادت کو ساتھ ساتھ چلانے کی کوشش کی مگر میں وہ حاصل نہ کرسکا جو میں چاہتا تھا۔ لہذا میں نے تجارت کو چھوڑ دیا اور عبادت کو اپنا لیا۔" "اللہ کی قسم جس کے اختیار میں ابودردا کی جان ہے، میں ایک دکان مسجد کے قریب چاہتا ہوں تاکہ میری کوئی باجماعت نماز رہ نہ جائے ۔ اور پھر میں معمولی منافع پر خرید و فروخت کروں" " میں یہ نہیں کہ رہا ہوں کہ اللہ تبارک تعالیٰ نے تجارت سے منع کیا ہے" ابودردا نے سوال پوچھنے والے سے کہا " بلکہ میں تو ان لوگوں میں ہونا چاہتا ہوں جن کو اللہ کی یاد میں تجارت مخل نہیں ہوتی" ابودردا رضی اللہ عنہ نے نہ صرف تجارت میں کمی کردی بلکہ انہوں نے اپنا ارام دہ شاندار طرز زندگی کو بھی خیر باد کہہ دیا۔ وہ صرف اتنا کھاتے تھے جو کہ ان کو زندہ رکھنے کے لیے کافی ہو اور وہ پہنتے تھے جو کہ بہت سادہ ہوتا تھا اور صرف تن ڈھکنے کے لیے ہوتا تھا۔ ایک مرتبہ مسلمانوں کا ایک گروہ ایک رات گزارنے ابوردا (ر) کے پاس ائے۔ وہ ایک نہایت سرد رات تھی۔ ابودردا نے مہمانوں کو گرم گرم کھانا پیش کیا جس کو نہایت پسند کیا گیا۔ اسکے بعد وہ خود سونے کے لیے تشریف لے گئے مگر مہمانوں کو کمبل نہ دیے۔ مہمانوں نے بے حد بےچینی محسوس کی کہ اس سرد رات میں کمبلوں کے بغیر کیسے گزارا ہوگا۔ پھر ایک مہمان نے کہا کہ " میں جاتا ہوں اور ابو دردا سے بات کرتا ہوں"۔ " ان کو تکلیف مت دو" دوسرے نے جواب دیا۔ مگر بالاخر ایک مہمان ابودردا کے پاس پہنچ ہی گیا اور ان کے دروازے کے اگے کھڑا ہوگیا۔ اس نے دیکھا کہ ابودردا لیٹے ہوئے ہیں۔ اور ان کی شریک حیات ان کے پاس بیھٹی ہوئی ہیں۔ ان دونوں نے نہایت ہلکے کپڑے پہنے ہوئے ہیں جو کہ سرد کی شدت برداشت کرنے کے لیے ناکافی تھے اور ان کے پاس کوئی کمبل نہ تھے۔ ابودردا نے مہمان سے کہا " اگر ہمارے پاس کچھ ہوتا تو ہم اپ کو پہلے ہی دے دیتے"۔ حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کی خلافت کے دور میں خلیفہ حضرت عمر ابودردا کو شام کا گورنر مقرر کرنا چاہتے تھے مگر ابودردا نے اس پیشکش کو رد کردیا۔ حضرت عمر (ر) نے زور دیا تو ابودردا نے کہا " اگر اپ مطمئمن ہیں کہ مجھے ان کے پاس اللہ کی کتاب اور اس کے رسول (ص) کی سنت سکھانے اور ان کے ساتھ اللہ کی عبادت کروں تو میں یہ ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار ہوں"۔ عمر راضی ہوگے اور ابودردا دمشق روانہ ہوگئے۔ ابودردا نے دیکھا کہ وہاں لوگ تن اسانی اور عیاشی میں پڑے ہوئے ہیں۔ اس بات سے وہ پریشان ہوگئے اور انھوں نے لوگوں کو مسجد میں بلایا اور یوں مخاطب ہوئے: " او دمشق کے لوگوں! اپ میرے دینی بھائی ہیں میرے پڑوسی جو دشمن کے خلاف میرے ساتھ صف ارا ہیں۔ او دمشق کے لوگوں! اپ کو کس بات نے میری طرف راغب ہونے اور میری ہدایت سننے سے روکا ہے جبکہ میں اپ سے صلہ میں کچھ نہیں چاہتا۔ کیا درست نہیں ہے کہ اہل علم حضرات اپ سے (دنیا سے) رخصت ہورہے ہیں اور عام لوگ علم حاصل نہیں کررہے ہیں۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ اپ لوگ اس چیز کی طرف متوجہ ہورہے ہیں جس کا حساب اللہ کو دینا ہے جبکہ اس چیز کو چھوڑ رہے ہیں جس کی طرف اللہ نے اپ کو حکم دیا ہے۔ " کیا یہ بات مطابق حق ہے کہ میں دیکھوں کہ اپ وہ چیز جمع کررہے ہیں جو کہ اپ استعمال نہیں کرتے، اور عمارتیں بنارہے ہیں جن میں اپ نہیں رہتے، اور ان خواہشوں کو پال رہے ہیں جن کو اپ حاصل نہیں کرسکتے۔ "آپ سے پہلے بھی لوگوں نے دولت جمع کی، بڑے بڑے منصوبے بنائے اور بڑی امیدیں قائم کیں۔ مگر کچھ وقت نہیں گزراتھا کہ جو کچھ انہوں نے جمع کیاتھا وہ تباہ ہوگیا، اور ان کی امیدیں ناتمام رہیں اور ان کے گھر قبرستان میں بن گئے۔ ایسے ہی لوگ عاد کی قوم کے تھے۔ او دمشق کے لوگوں۔ انھون نے زمین کو اپنی ملکیت اور اپنی اولادوں سے بھردیا۔ "کون ہے جو مجھ سے عاد کی تمام وراثت دو درھم کے عوض ہی خرید لے؟" لوگوں نے یہ سن کر اہ وازاری شروع کردی اور ان کی اہیں مسجد سے باہر تک سنائی دے رہی تھیں۔ اس دن کے بعد ابو دردا لوگوں سے دمشق میں مختلف مقامات پر ملنا شروع کردیا۔ وہ ان کے بازاروں میں جاتے اور تعلیم دیتے اور ان کے سوالات کے جوابات دیتے اور ہر ایک کو باعمل بنانے کی کوشش کرتے جو بے پرواہ ہوتے جارہے تھے۔ وہ ہر موقع استعمال کرتے تاکہ لوگوں کو جگاسکیں اور انھیں سیدھی راہ پر لگاسکیں۔ ایک مرتبہ وہ لوگوں کے ایک گروہ کے قریب سے گزررہے تھے جو کہ ایک ادمی کے گرد جمع تھا۔ لوگوں نے اس ادمی کے بے عزتی کرنی شروع کردی اور مارنا شروع کردیا۔ ابودردا ان کے قریب ائے اور پوچھا:" کیا معاملہ ہے؟" " یہ شخص ہے جس نے گناہِ کبیرہ کیا ہے"۔ جواب ملا۔ " اپ کیا کریں گے اگر یہ ایک کنویں میں گرجائے؟" ابودردا نے پوچھا۔ " کیا اپ اس کو نہیں نکالیں گے؟" " کیوں نہیں" انھوں نے جواب دیا۔" اس کو نہیں ماریں نہ اس کی بےعزتی کریں۔ بلکہ اس کی تصحیح کریں اور یہ بتایں کہ اس گناہ کے کتنے برے اثرات ہوتے ہیں اور پھر اللہ کی حمد و ثنا کریں کہ اللہ نے اپ کو اس گناہ میں مبتلا ہونے سے بچایا۔" " کیا اپ اس سے نفرت نہیں کرتے " انھوں نے پوچھا۔ " میں صرف اس گناہ سے نفرت کرتا ہوں جس کا یہ مرتکب ہو اور اگر یہ توبہ کرلے تو میرا بھائی ہے۔" وہ شخص رونا شروع ہوگیا اور سب لوگوں کی موجودگی میں توبہ کااقرار کیا۔ ایک نوجوان ایک مرتبہ ابودردا (ر) کے پاس ایا اور کہا: " او اللہ کے رسول (ص) کے صحابی مجھے نصیحت کیجیے"۔ ابودردا نے اس سے کہا: "میرے بیٹے، اللہ کو اپنے اچھے وقت میں یاد کرو وہ تمھیں تھمارے برے وقت میں یاد رکھے گا" میرے بیٹے، صاحب علم بنو اور علم حاصل کرو، اچھے سامع بنو اور جاہل نہ رہ جاو ورنہ تباہ ہوجاؤ گے" " میرے بیٹے، مسجد کو اپنا مسکن بنالو کہ میں نے اللہ کے رسول سے سنا ہے کہ: مسجد اللہ سے ڈرنے والوں کا گھر ہے۔ اور اللہ سبحانہ تعالیٰ اطمینان، ارام اور رحمت ، اپنی راہ میں رکھنے کا یہاں تک کہ اللہ کی رضا حاصل ہوجائے کا وعدہ ان لوگوں سے کرتا ہے جو اللہ کے گھر یعنی مساجد کو اپنا مسکن بنالیں" ایک اور مرتبہ لوگوں کے گروہ سے جو کہ ایک راہگزر پر بیٹھے ہوئے تھے، اور اپس میں ہنسی مذاق اور لوگوں کو گزرتا دیکھ رہےتھے ابو دردا نے کہا: "ایک مسلمان کا راحت کدہ اس کا گھر ہے جہاں وہ اپنے اپ کو قابو میں رکھتا ہے اور باحیا رہتا ہے۔ بازاروں میں بیٹھنے سے باز رہو کیونکہ اس سے وقت فضول کاموں میں ضائع ہوجاتا ہے۔" ابودردا ابھی دمشق میں تھے کہ معاویہ ابن ابی سفیان نے ان سے اپنے بیٹے یزید کے لیے اپ کی بیٹی کا رشتہ مانگا۔ ابودردا راضی نہ ہوئے۔ اور ابودردا نے اپنی بیٹی کا رشتہ ایک غریب نوجوان مگر جس کا کردار اور اسلامی مزاج ابودردا کو پسند تھا کودےدیا۔ لوگوں نے یہ سنا تو چہ مگوئیاں کرنے لگے کہ ابو دردا نے یزید کا رشتہ کیوں قبول نہیں کیا۔ اور یہ سوال بالاخر ابودردا سےکیا گیا۔ انھوں نے کہا :" میں صرف وہ چیز پیش نظر رکھی جو دردا کے لیے بہترین ہے" (دردا ان کی صاحبزادی کا نام تھا)۔ " وہ کیسے؟" سوالی نے کہا۔ " کیا اپ نہیں چاہتے کہ نوکر اپ کی صاحبزادی کے اگے ہاتھ باندھے حکم بجالانے کے لیے کھڑے ہوں اور وہ محلات میں رہے جس کی چکاچوند سے انکھیں خیرہ ہوجائیں؟"۔ " مگر پھر اس کا دین کیا رہ جائے گا" ابو دردا نے جواب دیا۔ ابھی ابودردا مصر میں ہی تھے کہ خلیفہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ معائنہ کے لیے تشریف لائے۔ ایک رات وہ ابودردا سے ملنے ان کے گھر ائے۔ گھر میں کوئی روشنی نہیں تھی۔ ابو دردا نے خلیفہ کو خوش امدید کہا اور ان کے ساتھ بیٹھ گئے۔ دونوں نے اندھیرے میں بات چیت شروع کی۔ اسی دوران عمر نے محسوس کیا کہ ابو دردا کی تکیہ کسی جانور کی زین کی بنی ہوئی ہے۔ عمر نے وہ جگہ کو چھوا جہاں ابودردا تشریف فرما تھے تو محسوس ہوا کہ وہ جگہ سنگریزوں سے پر ہے۔ انھوں نے اس چادر کو بھی چھو کر محسوس کیا جو وہ اوڑھے ہوئے تھے اور یہ جان کر حیران رہ گئے کہ وہ اتنی پتلی تھی کہ دمشق کی سردی برداشت کرنے کے قابل نہ تھی۔ عمر نے پوچھا: " کیا میں کچھ چیزیں اپ کی اسانی کے کے نہ بھجوادوں؟" " کیا اپ کو یاد ہے؟ عمر" ابودردا نے کہا "ایک حدیثِ رسول (اللہ کی رحمت و سلام ان پر ہو)۔ "کونسی؟" عمر نے پوچھا۔ " کیا انھوں نے نہیں کہا: اپنے لیے اس دنیا میں صرف وہ چیز ہی رہنے دو جو ایک مسافر کی زادِراہ ہوتی ہے؟ " " ہاں"، عمر نے جواب دیا "اور ہم نے اپ (ص) کے بعد کی کیا؟" ابودردا نے پوچھا۔ آنسو دونوں صحابہ کی انکھوں سے رواں ہوگئے اور اس دولت کے بارے میں سوچنے لگے جو اللہ نے مسلمانوں کو عنایت کردی تھی اور جس کو جمع کرنےمیں مسلمان مصروف ہوگئے تھے۔ سخت افسوس اور دکھ کا اظہار دونوں صبح تک کرتے رہے۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے میاں شاہد کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| فروخت, لمحوں, نظر, مکمل, مجمع, اللہ, انداز, اسلام, بھائی, بچوں, بدر, جواب, حال, خدا, دوست, دریافت, درخواست, زمانہ, شاندار, علی, علاقے, عبداللہ, غصہ, غصے, صحن |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|